یہ مضمون ڈاکٹر
نسیم نگہت صاحبہ نے میرے بلاگ نسلی تعصب پر تبصرہ ی
ااضافہ کے طور پر اپنے اخبار کا لنک بھیجا تھا ہم ان کی
صحافتی قدرو قیمت کو دیکھتے ہوئے اسے ہوم پیج پر
مہمان کالم کے طور پر شائع کر رہے ہیں۔
نسلی تعصب
کسی عہد کسی قوم تک محدود نہیں؟ از۔ ڈاکٹر نگہت
نسیم
ڈاکٹر نگہت
نسیم۔سڈنی
نائب
مدیراعلیٰ ‘‘ عالمی اخبا ر ‘‘
نسلی تعصب آج کل
کسی ایک علاقے یا کسی ایک قوم کا مسلہ نہیں
رھا بلکہ ھر جگہ ھر نسل میں کسی نہ کسی شکل میں
پایا جاتا رھا ھے اور پایا جا رھاھے ۔
پچھلی کسی
ملک کی بھی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں نسلی و
قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر
قوم میں پائے گئے ہیں۔ آج بھی ہر کوئی اپنی
قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا
ہے۔ یہی تفاخر اور غرورھے جوآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں ،
مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے
میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔
اس نسلی تعصب کو
ختم کرناجتنا ضروری ھے اتنا ھی اس پیچیدہ
صورتحال کو سمجھنا ضروری ھے ۔ آج کل آسٹریلیا جیسے
امن امان اور سکون کی باتیں کرنے والا ملک بھی اس کی لپیٹ
میں آ گیا ھے اور تھوڑی سی مدت میں نسل پرستی
کے جو واقعات سامنے آئے ھیں ۔اور جس طرح سے اقلیتی
انڈین کیمیونٹی سڑکوں پر احتجاج کر تی نظر
آرھی ھے ، اس نے ھر فرد کوچونکا دیا ھے اور ھم سب کو بہت
کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ھے ۔
نسلی تعصب کو
سمجھنے کے لیئے اس بات کو جاننا بہت ضروری ھے کہ
نسلی امتیاز دراصل تہذیب اور
تمدن کے آپس میں ٹکراؤ کی وجہ سے زیادہ تر پیدا ھوتا ھے
۔ تہذیب یعنی (Culture) کے
معنی کسی گروہ کے عادات و اخلاق، عقائد، علوم و فنون اور
اس کے رہن سہن کے طور طریق اور رسم و رواج، ثقافت کے ھیں
۔اور تمدن (Civilization) کے معنی شہری بود و باش، (کسی
ایک جگہ) مل جل کر رہنا، سماجی زندگی کو کہتے ھیں
۔جیسا کہ ھم سب جانتے ھیں کہ کسی بھی ملک کی
پہچان کے لیئے اس کا تہذیب اور تمدن ایک دوسرے کے لیئے
لازم و ملزوم ھے ۔ تہذیب و تمدن کے
نمایاں فرق کی وجہ سے ایک گروہ کے عادی لوگوں کو
دوسرے گروہ کے عادی لوگو ں کے ساتھ ملبیٹھنے میں دقت ھوتی
ھے ۔ یہی وجہ ھے کہ باوجود اس کے کہ آج کل دنیا کا ھر شخص
وسعت خیالی کا دعویدار ھے مگر کہیں نہ کہیں کسی
نہ کسی تعصب کا شکار رھتاھے ۔ اگر ھم نسلی تعصب
کی صد سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ھو گا
کہ اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی
جنگوں میں کروڑوں انسانوں کا جانی اور مالی نقصان ھوا ھے
۔ خاص طور پر افریقہ نسلی تعصب کا سب سے زیادہ شکار رھا
ھے ۔ یورپ کو جاپان اور چین غیر تہذیب یافتہ
سمجھتا رھا ھے ۔شمالی یورپ میں گوری نسل کو
امتیازی حثیت حاصل تھی ۔انگریزوں کے اس
رویے سے اٹلی اور جرمنی نے بھی بہت فائدہ اٹھایا
اور جنگیں کر ڈالی ۔ آپ سب کو یاد ھو گا کئی
عرصہ تک برطانیہ نے ھندوستانیوں کا اور آسٹریلیا اور
امریکہ نے جاپانیوں کاداخلہ اپنے ملکوں میں صرف نسلی تعصب
کے باعث منع کر رکھاتھا۔ یوں یہ بات
کھل کر سامنے آگئی کہ امریکہ سارے ایشیا اور افریقہ
پر اپناتسلط چاھتا تھا اور اسی لیئے اس نے تمام اقوام سے نسلی
امتیاز برقرار رکھا اور انہیں بھی آپس میں کبھی
گھلنے ملنے نہیں دیا۔ جس کے نتیجے میں غیر
یورپین قومیں یورپین قوموں کے علاوہ کسی سے
نہ بنا کر رکھ سکی اور سیاسی اور اقتصادی بحران کا شکار
ھو گیئں ۔
ا ب اگر نسل پرستی
کے مظالم کی بات کی جائے تو سترویں صدی میں جب
امریکہ دریافت ھواتھااور امریکہ کے ساتھ ساتھ شمالی
امریکہ اور جنوبی امریکہ پر بھی قبضہ کر لیا تھااور
جس طرح امریکیوں نے وہاں کے مقامی باشندوں “ریڈ
انڈین“ کی نسل کشی کی تھی اس کی تو
تاریخ گواہ ھے ۔ پھر یکے بعد دیگرے افریقہ پر
یورپین قوموں کے حملے اور قبضے اور پھر ان پر مظالم کی انتہا جس
میں ان کی “ خرید و فروخت “ تک شامل ھے ۔وہ بھی
تاریخ میں لکھا ھوا ھے۔
ان نفرتوں کی
جڑیں بہت گہری اور پرانی ھیں ۔اب یہی
دیکھیئے کہ امریکہ میں چالیس سال قبل کالے رنگ کے
لوگوں کو ووٹ دینے کا حق نہ تھا ۔ امریکہ ھی کی
سرزمین پر اپنی غلام قوم کی آزادی کا خواب “مارٹن لوتھر“
نے دیکھا تھا جسے اوباراک اوباما کی جدوجہد نے پورا کیا۔
نسلی تعصب کا
مسلہ اس لیئے اھم نہیں کہ آج آسٹریلیا میں
انڈین کیمیونٹی کو ٹارگٹ کیا جا رھا ھے
بلکہ آسٹریلیا ھی میں کبھی آئرش لوگ بھی اس
ستم کا شکار رھے ھیں ۔ اور تو اور یہاں کے اپنے
“ Natives “ یعنی
“Ab-Originals “ بھی اس ستم کا شکار رھے ھیں نسلی تعصب
دراصل “ تعصب“ کی ایک قسم ھے جس
میں بہت کچھ چھپا
ھوا ھے ۔۔اس کے علاوہ بھی تعصب کی مختلف
قسمیں ھیں
1.نسلی
امتیاز (Race Discrimination)
2.معاشی تفاوت
کی بنیاد پر امتیاز(Economic Discrimination)
3.مذہب کی
بنیاد پر امتیاز(Religious
Discrimination)
4.رنگ کی
بنیاد پر امتیاز(Colour
Discrimination)
5.زبان اور علاقے
کی بنیاد پر امتیاز (Geograhpic
& Ethnic Discrimination)
اب صرف یہی
خیال نہ کیا جائے کہ یہ غرور یہ نسلی
تعصب صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت
یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے
ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ ایسا مسلمانوں کے ساتھ
کیوں ھوا ؟ جبکہ ھم تو اپنے اس رب کو ماننے والے ھیں جو کہتا ھے
“یا ایھا
الناس! انا خلقنٰکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا
۔ ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقٰکم۔ (الحجرات 49:13)
’’اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور
تمہیں گروہ اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان
سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ
پرہیز گار ہے۔‘‘
اسی اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع
میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’تمام لوگ آدم کی
اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا
کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک ہے، کسی عربی
کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی
عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ
کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔
فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘
جب یہ بات طے ھے کہ
اسلام کسی ذات پات، رنگ، نسل اور قومیت کو فضیلت کی
بنیادنہیں مانتا بلکہ صرف اور صرف تقوی اور پرہیز
گاری کو ہی فضیلت کا معیار قرار دیتا ہے تو پھر
یہ غرور اور تکبر میں کیوں مبتلا ھوئے ۔ تاریخ کے
حوالوں سے یہ بھی پتہ چلتا ھے کہ مسلمانوں میں قومی
و نسلی تفاخر کے اثرات دوسری اقوام سے آئے۔ اس میں
دین اسلام کا ہرگز ہرگز کوئی قصور نہیں ہے۔
مسلمانوں کے ھاں
بھی ذات پات کے نظام میں بعض ذاتوں کو اعلیٰ اور بعض کو
ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے لوگ
دوسری ذات میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں عام طور پر
محنت کشوں اور ہاتھ سے کام کرنے والے پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا
ہے۔ دیہی معاشرے میں جاگیر دار اور زمیندار
اپنے ملازمین کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ غلاموں کا سا
سلوک کرتے ہیں۔
یہ بھی
ایک بہت بڑا سچ ھے جس پر سب متفق بھی ھیں کہ ہم لوگ دوسرے مذاہب
کے ماننے والوں کو بھی خود سے حقیر سمجھ کر ان کی توہین
کرتے ہیں اور بسا اوقات ان سے تحقیر آمیز رویہ رکھتے
ہیں۔ بالکل اسی قسم کا سلوک مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے
افراد بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔
عام گھروں سے لے کر کام
کرنے والی جگہوں تک رنگ کی بنیاد پر بھی
امتیاز رکھا جاتا ہے اور کالے رنگ کو وہ اہمیت حاصل نہیں ھے جو
گورے رنگ کو ھے ۔
زبان اور صوبے یا
علاقے ( کراچی، سندھ، پنجاب، پشتون ، بلوچ ،قبائلی ) کی
بنیاد پر بھی ہمارے ہاں خاصا تعصب پایا جاتا ہے ۔
کراچی جیسے شہر میں تو یہ تعصب ایک زمانے میں
اتنے عروج پر پہنچ گیا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد
لسانی فسادات کا شکار بنے۔
اسلام میں
تعصب کا تصور اور اس کی قسمیں
1..نسلی امتیاز
(Race Discrimination)
برصغیر پاک و ہند
کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ
کر اسلام کو اختیار کیا۔ قدیم ہند کی تاریخ
سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور
سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے
آریہ اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح
سے ہمکنار ہوئے۔
اس کے بعد انہوں نے تمام
مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو
اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج
کیا۔ اس نظام کے تحت مذہبی رہنما یعنی برہمن سب سے
بلند و برتر، سیاسی رہنما یعنی کھتری دوسرے نمبر پر،
محنت کش اور تاجر یعنی ویش تیسرے نمبر پر اور
ادنیٰ درجے کے کام کرنے والے شودر چوتھے درجے کی ذات قرار
پائے۔
جب برصغیر
میں اسلام کی کرنیں داخل ہوئیں تو سب سے پہلے نچلی
ذات کہلانے والوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے حسن سلوک
اور اسلام کے آفاقی پیغام سے متاثر ہوکر یا پھر اپنے مفادات کے
تحت اعلیٰ کہلانے والی ذاتوں کے افراد نے بھی اسلام قبول
کرلیا۔ اگرچہ ان نومسلموں نے اسلام کے بہت سے احکام کو اپنا تو
لیا لیکن اپنی بعض پرانی عادات و خصائل سے نجات حاصل نہ
کر سکے۔ ان میں سے ایک عادت ذات پات کی تفریق کی
تھی۔
جدید شہری
معاشروں میں بعض سماجی و معاشی تبدیلیوں کے
نتیجے میں ذات پات کا نظام زوال پذیر ہے البتہ دیہی
معاشروں میں ابھی بھی اثرات باقی ہے۔ ان
بنیادوں پر اکثر لڑائی جھگڑے اور فساد بھی ہوجایا کرتے
تھے لیکن ہمارے دور میں ذات پات کی تفریق عام طور پر صرف
رشتے ناطے اور شادی بیاہ کرتے ہوئے یا پھر الیکشن
میں ووٹ دیتے ہوئے سامنے آتی ہے ۔
جو شخص حضور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے
معمولی سی واقفیت بھی رکھتا ہے ، وہ یہ بات
اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ نے اپنی چار میں سے تین صاحبزادیوں
کا نکاح غیر سادات میں کیا۔
حسب و نسب کے غرور کو
توڑنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے افراد نے
بھی پوری طرح حصہ لیا۔ چنانچہ سیدنا علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم
رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا جو کہ
سید نہ تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی
صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمان سے ہوا جو کہ سادات کے دائرے میں داخل
نہیں۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی متعدد
پوتیوں کا نکاح غیر سادات میں ہوا جن میں سیدتنا
زینب، ام کلثوم، فاطمہ، ملیکہ، ام قاسم شامل ہیں۔ (رضوان
اللہ علیہم اجمعین)
ان مقدس ہستیوں کے
طرز عمل سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں نکاح کے وقت کسی
حسب نسب اور ذات برادری کی کوئی حیثیت نہیں
ہے۔ اسلام میں فضیلت کا معیار صرف اور صرف
تقویٰ ہے۔ اگر کوئی ان ہستیوں کے طرز عمل کے خلاف
نسلی غرور میں مبتلا ہے تو وہ اس بنیاد ہی کو ڈھا رہا ہے
جو اس کے اپنے آباؤ اجداد قائم کرکے گئے۔
افسوس اس بات پر ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہم نے
اپنی کاوشوں کو چھوڑ کر اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں ہی پر فخر کرنا
شروع کردیا ہے۔
شادی بیاہ سے
ہٹ کر ذات پات اور خاندان کا غرور ہمیں دوسرے معاملات میں بھی
دیکھنے کو ملتا ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے طرز عمل کے
بالکل برعکس حکومتوں کو نسل پرستی کا شکار بنایا گیا۔
خلفائے راشدین میں حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم
نے اپنی اولاد کو حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا۔ حضرت
علی رضی اللہ عنہ کو مخلص ساتھیوں کی کمی کا مسئلہ
درپیش تھا جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بیٹوں کو ساتھ رکھا۔
آپ کی شہادت کے بعد عام مسلمانوں نے اتفاق رائے سے آپ کے صاحبزادے
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا لیکن وہ
بھی چھ ماہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق
میں دستبردار ہو گئے۔
عبدالملک بن مروان کے دور
سے صحیح معنوں میں ملوکیت کا آغاز ہوااور امت مسلمہ نسلی
بادشاہت کا شکار ہوگئی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ بنو عباس اور
دیگر بادشاہتوں کی صورت میں چلتا رہا۔
ہمارے ہاں نام نہاد
جمہوریتوں میں بھی یہی رجحان ہے کہ چند ہی
خاندان میدان سیاست کے شہسوار بنے ہوئے ہیں جہاں باپ کے بعد
بیٹا ہی اپنے حلقے کا بے تاج بادشاہ بننے کی کوشش کرتا
ہے۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی میں بھی
یہی رجحان پایا جاتا ہے۔
یہی رجحان اب
دینی جماعتوں میں داخل ہوچکا ہے اور اکثر جماعتوں کے
قائدین اپنی زندگیوں ہی میں اپنے بیٹوں کو
بطور خاص اپنی خالی ہونے والی مسند کے لئے تیار کرتے
ہیں۔ اگر ھم ملک کی بڑی دینی جماعتوں
کے اندرونی اختلافات اور جھگڑوں کا جائزہ لیں تو ان اختلافات کی
بنیادی وجہ اسی نسل پرستی کو پائیں گے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کار خیر میں وہ
جماعتیں بھی شریک ہیں جن کی پوری جدوجہد
ہی آمریت اور نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے پر مبنی
تھی۔
2.معاشی تفاوت
کی بنیاد پر امتیاز(Economic Discrimination)
ہمارے نظام معیشت
میں دور قدیم ہی سے محنت کشوں کو اپنے برابر نہیں سمجھا
جاتا رہا اور ان کی تحقیر کی جاتی ہے۔معاشرے
میں اس حوالے سے دو طبقات بنانے کے لئے بنیادی کردار
جاگیردارانہ نظام (Feudal System) نے ادا کیا۔
یہ نظام دراصل ملوکیت اور بادشاہت کے سیاسی نظام ہی
کی معاشی شاخ ہے۔
بادشاہ جب کسی ملک
کو فتح کرتے تو اس کے نظم و نسق کو سنبھالنے کے لئے جاگیردارانہ نظام کو
فروغ دیتے۔ فوج کے فاتح جرنیلوں، بادشاہ کے رشتے داروں، دوستوں،
درباریوں، بیوروکریسی کے عہدے داروں اور مفتوح اقوام کے
غداروں کو نوازنے کے لئے انہیں زمین کے بڑے بڑے قطعات مع اس پر کام
کرنے والے انسانوں کے ان کی خدمات کے عوض میں دے دیے
جاتے۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنی جاگیر کو تقسیم ہونے
سے بچاتے اور اپنے رشتے داروں کو اس کے مختلف حصوں کا نظم و نسق سنبھالنے کے لئے
متعین کرتے۔ اہل یورپ میں وراثت تقسیم نہ ہونے کا
اصول اسی وجہ سے اپنایا گیا۔ یہ جاگیر دار
طبقہ اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنی زیر انتظام علاقوں میں
حکومت کرتا اور اپنی آمدن کا ایک حصہ بادشاہ کی خدمت میں
روانہ کردیتا۔
جاگیردارانہ علاقوں
میں عام لوگوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا
جاتا۔ انہیں بسا اوقات پابند سلاسل رکھا جاتا،
زمینوں پر جبری مشقت لی جاتی اور بدلے میں کھانے کے
لئے اتنا ہی دیا جاتا جس سے یہ زندہ رہ سکیں۔
انہیں ایک علاقہ چھوڑ کر کہیں اور جانے کی اجازت نہ
ہوتی۔ اگر ایک جاگیر دار اپنی زمین فروخت
کرتا تو اس کی رعایا بھی ساتھ ہی بک جاتی۔ جو
بھی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے اس کے پورے خاندان
سمیت موت کی سزا سنا دی جاتی۔ جاگیردار طبقہ
اپنی رعایا کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا اور ان کی
جائیداد اور خاندان میں پوری طرح تصرف کرتا۔
اس نظام کا سب سے
غلیظ ، مکروہ اور قابل نفرت پہلو یہ بھی ہے کہ جاگیردار
اور اس کے پورے خاندان کو اپنے محنت کشوں کے بیوی بچوں پر بھی
پورا اختیار ہوتا اور وہ جب چاہتا ، کسی محنت کش کی بیوی
یا بیٹی کو اپنی ملکیت سمجھ لیتا تھا ۔
ظلم و جبر کا یہ نظام یورپ اور مسلم ممالک میں یکساں رائج
تھا۔ اہل یورپ کی نسبت مسلمانوں کے علاقوں میں صورتحال
تھوڑی سی بہتر تھی۔
جب انگریزوں نے
برصغیر پر قبضہ کیا تو یہاں اسی نظام کو فروغ
دیا۔ انہوں نے اپنی قوم سے غداری اور انگریز
سے وفا کرنے والوں کو بڑی بڑی ریاستیں اور
جاگیریں عطا کیں۔ ان نوابوں اور جاگیر داروں نے
اپنے عوام کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ہمیشہ سے جاگیر دار
کرتے چلے آئے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے مفتوحہ علاقوں کو خالی
کیا، اس وقت تک یورپ میں صنعتی انقلاب اور انقلاب فرانس
کے نتیجے میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہوچکا تھا اور اس
کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام لے چکا تھا۔ برصغیر میں
بھارت نے اسی رجحان کی پیروی کرتے ہوئے کسی حد تک
جاگیردارانہ نظام سے نجات حاصل کرلی لیکن اہل پاکستان
ایسا نہ کرسکے اور آج بھی جاگیر داری کے عفریت کی
گرفت میں ہیں۔۔
یورپ، امریکہ
اور دنیا کے بڑے حصے میں جاگیردارانہ نظام کو زوال آتا
گیا اور اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لے لی۔ اس
نظام نے محنت کشوں کو خاصی حد تک آزادی عطا کی ہے ۔لیکن
پھر بھی کالونی دور کی مقامی اور ملٹی
نیشنل کمپنیوں میں اب بھی اسی امتیاز
کی باقیات دیکھی جاسکتی ہیں۔
اگر ہم اپنے دین
کی تعلیمات کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کے بالکل متضاد
صورتحال نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست ہونے کا مژدہ سناتے
ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مالی اعتبار سے
مستحکم ہونے کے باوجود بکریاں چراتے رہے۔ جوانی میں آپ نے
تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا۔باب العلم حضرت علی
ایک یہودی کے باغ کو پانی لگایا کرتے تھے۔
نہایت جلیل القدر صحابہ محنت مزدوری کرکے اپنی روزی
کماتے۔ کوئی باغوں اور کھیتوں میں کام کرتے، کوئی
زمینوں کو پانی لگاتے، کوئی لوہے کا کام کرتے اور تلواریں
اور زرہیں بناتے، کوئی اونٹوں اور گھوڑوں کی دیکھ بھال
کرتے، کوئی مکان تعمیر کرتے۔ یہ وہ حضرات تھے جنہیں
وقت کے خلیفہ بھی نہایت عزت اور احترام سے سیدنا
یعنی ہمارے سردار کہہ کر مخاطب کرتے۔
یہ قرآن ہی
تھا جس نے جاگیر دارانہ نظام اور چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کے
خاتمے کے لئے سود کی حرمت، زکوۃ کی فرضیت اور وراثت
کی تقسیم کے قوانین دنیا کو عطا کئے تھے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور آپ کے جلیل القدر
مشیروں نے قرآن کی آیت کی لا یکون دولۃ
بین الاغنیا منکم (کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ
دولت کہیں تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی
رہے ) سے استدلال کرتے ہوئے تمام نئی فتح ہونے والی زمینوں کو
سرکاری تحویل میں لے کر جاگیر دارانہ نظام پر ضرب
لگائی تھی۔
افسوس کا مقام یہ
ہے کہ بہت سے مغربی ممالک میں نسلی، جنسی اور مذہبی
امتیازات کے خلاف Anti-discrimination
laws پاس ہو چکے ہیں
لیکن مسلم ممالک اس معاملے میں اب بھی بہت پیچھے
ہیں ۔
3.مذہب کی
بنیاد پر امتیاز(Religious Discrimination)
امتیاز کی جو
سب سے شدید اور نازک قسم ہمارے ہاں پائی جاتی ہے، وہ مذہب
کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہے۔ ہمارے ہاں مذہب اور
دین کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا ہم نے غور و
فکر کرکے انتخاب کیا ہو۔ ذات پات کی طرح مذہب بھی ہمارے
لئے ایک نسلی چیز بن گیا ہے۔ ہم اسی لئے
مسلمان ہیں کہ ہمارے والدین مسلمان تھے۔ ہمارے پڑوس میں
رہنے والا اس لئے عیسائی ہے کہ اس کے والدین عیسائی
تھے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں کے طرزعمل میں
کوئی فرق نہیں۔
ہمارے بہت سے لوگ مذہب کے
فرق کی بنا پر دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ کھانا پینا پسند
نہیں کرتے اور انہیں حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ صرف
مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی
اسی قسم کے طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بعض ایسے لوگ
بھی ہیں جو دوسرے مسلک کے کسی فرد سے ہاتھ ہی ملانے پر
نکاح کے ٹوٹ جانے کا فتویٰ دیتے ہیں۔
اس بات کا خیال
رکھئے کہ دین اسلام کسی نسلی مذہب کا نام نہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت ہے جو آفاقی
ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اگر اپنے رب کی طرف خلوص
نیت سے مائل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے کھلی دعوت ہے کہ وہ اس دین
کا انتخاب کرلے۔ قرآن مجید کی دعوت کو قبول کرکے کوئی
بھی شخص ہر مسلمان کے برابر درجہ پاسکتا ہے اور اس میں کسی ذات
پات یا رنگ و نسل کی قید نہیں۔
اسلام اپنے ماننے والوں
سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے طرز عمل سے اللہ کی
حجت تمام کریں اور انہیں اس کے دین کا پیغام
پہنچائیں۔ دعوت دین کے لئے محبت، شفقت، نرمی اور عدل و
احسان مطلوب ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان پایا جاتا ہے۔
بعض لوگ اس معاملے
میں قرآن کی چند آیتوں کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ
کر ان سے استدلال کرکے غیر مسلموں سے بدسلوکی کرتے ہیں حالانکہ
قرآن مجید میں واضح طور پر ان غیرمسلموں ، جنہوں نے کبھی
مسلمانوں سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی ان کے خلاف معاندانہ
رویہ رکھا ہو، کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے:
لا ینھکم
اللّٰہ عن الذین لم یقاتلونکم فی الدین ولم
یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ۔ ان
اللّٰہ یحب المقسطین۔ (الممتحنہ 60:8) ’’جن
لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں کوئی لڑائی
نہیں کی اور نہ ہی تمہیں جلاوطن کیا ، ان کے ساتھ
اچھا سلوک کرنے اور منصفانہ رویہ اختیار کرنے سے اللہ تمہیں منع
نہیں کرتا بلکہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
ہمارے ہاں بعض لوگ
یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی
کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ سخت رویہ رکھنا چاہئے۔ یاد
رکھئے کہ قرآن کی ان آیتوں میں صرف ان غیر مسلموں کے ساتھ
سختی کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے ہم سے جنگ کی ہو۔
اسلامی ریاست میں رہنے والے ہر غیر مسلم کو پوری
طرح تمام انسانی حقوق فراہم کرنا اسلامی حکومت اور مسلم معاشرے
کی ذمہ داری ہے۔
ان کے ساتھ عدل و انصاف
کرنا اور ان کے حقوق انہیں دینا ، یہ مسلمانوں پر لازم ہے اور
جو اس سے روگردانی کرتا ہے ، اللہ اس سے باخبر ہے۔
یا ایھا
الذین اٰمنوا کونوا قوّٰمین للّٰہ شھدآء
بالقسط۔ ولا یجرمنکم شناٰن قوم علی الّا تعدلوا۔
اعدلوا۔ ھو اقرب للتقوٰی ۔ و اتقوا اللّٰہ۔
ان اللّٰہ خبیر بما تعملون۔ (المائدہ 5:8) ’’اے
ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ اور سچائی اور
انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔ کسی قوم کی
دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہ
(عدل) تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ
تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے باخبر
ہے۔ ‘‘
خیبر کی فتح
کے بعد مسلمانوں کا یہودیوں سے معاہدہ ہوا کہ وہ زمینوں
میں کاشت کاری کریں گے اور پیداوار کا نصف حکومت
اسلامیہ کو بطور خراج دیں گے۔ مسلمانوں کی حکومت کے جو
اہل کار ان سے فصل کا حصہ وصول کرنے جاتے، وہ کل پیداوار کے دو برابر حصے
کرتے اور ان یہودیوں کو کہتے کہ ان میں سے جو چاہو لے لو۔
کئی یہودی بزرگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ
اسی انصاف پر زمین و آسمان قائم ہیں۔
اسی طرح شام کے شہر
حمص کی فتح کے بعد وہاں کے یہودی اور عیسائی عوام کے
ساتھ مسلمانوں کا یہ معاہدہ ہوا کہ جزیے کے بدلے مسلمان ان کی
حفاظت کریں گے۔ ایک جنگی حکمت عملی کے تحت مسلم
افواج کو وہ شہر خالی کرنا پڑا۔ اسلامی لشکر کے سپہ سالار
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جزیہ
واپس کردیا جائے کیونکہ ہم معاہدے کے مطابق ان کی حفاظت
نہیں کرسکتے۔ وہ منظر بڑا ہی رقت آمیز تھا جب
یہودی اور عیسائی روتے ہوئے اپنا جزیہ واپس لے رہے
تھے اور یہ دعا کررہے تھے کہ خداوند تمہیں دوبارہ واپس لائے۔
ہمارے ہم مذہب حکمران تو بس ہم سے وصول کرنا ہی جانتے تھے۔
یہی وجہ
تھی کہ اسلامی لشکروں کے لئے راستے ہموار کرنے، ان کے گزرنے کے لئے پل
بنانے، شہروں کی فصیلوں میں سرنگیں کھود کر ان کے لئے
خفیہ راستے بنانے اور انہیں کھانا فراہم کرنے کی خدمت
یہی غیر مسلم بڑے شوق سے انجام دیتے۔ امریکہ
کے ایک ممتاز مصنف اور تجزیہ نگار جان ایل
ایسپوزیٹو اپنی کتاب The Islamic Threat میں لکھتے
ہیں:
مسلمانوں کے مفتوحہ
علاقوں کی مقامی آبادی عیسائی، یہودی
اور مجوسیوں پر مشتمل تھی جو آسمانی کتابوں پر ایمان
رکھتے تھے۔ سلطنت روم اور ایران کے اکثر علاقوں میں غیر
ملکی حکومتیں قائم تھیں۔ ان مقامی لوگوں کے لئے
اسلامی حکومت صرف حکمرانوں کی تبدیلی تھی ۔
نئے حکمران ان کی آزادی کو سلب کرنے والے نہیں بلکہ پہلوں سے
کہیں زیادہ رواداری کے حامل تھے۔اب ان آبادیوں
کی اکثریت پہلے سے زیادہ خود مختار تھی اور پہلے سے
کہیں کم ٹیکس اداکرتی تھی۔
عرب علاقوں میں نئے
حکمران مقامی آبادی کے ہم زبان بھی تھے۔مذہبی
اعتبارسے اسلام ایک زیادہ روادار دین ثابت ہوا، جس نے
مقامی یہود و نصاریٰ کو زیادہ مذہبی
آزادی دی جبکہ بازنطینی سلطنت میں بہت سے
عیسائی چرچ ایسے تھے جن پر غیر ملکی چرچ
(مرکزی چرچ ، روم) نے بدعتی اور گمراہ ہونے کا فتویٰ لگا
کر ان پر پابندی لگا دی تھی۔
انہی وجوہات
کی بنیاد پرکئی یہود اور عیسائی
کمیونیٹیز نے مسلمان افواج کی مدد کی
تھی۔جیسا کہ فرانسس پیٹرز کہتے ہیں۔
’مسلمانوں نے عیسائیت کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کیا
لیکن انہوں نے اس کی حکومت ختم کردی۔ عیسائی
زندگی، عقائد، رسومات اور سیاست اب ایک پبلک کی بجائے
پرائیویٹ معاملہ بن گئی۔اسلام نے عیسائیوں کے
مرتبے کو پہلے سے ایک درجہ گرا دیا جیسا کہ
عیسائیوں نے ایسا یہودیوں کے ساتھ کیا تھا
لیکن اس میں ایک فرق تھا: وہ یہ کہ عیسائیوں
کا درجہ کم کرنا محض قانونی تھا۔ اس میں persecution یا مذہبی جبر شامل نہ تھا۔اور
یہ سب کچھ، اگرچہ ہمیشہ نہیں ، نفرت کے رویے سے پاک
تھا‘۔ ‘‘(Francis E. Peters, The Early Muslim
Empires: Umayyads, Abbasids, Fatimids.
p. 79)
افسوس کا مقام یہ
ہے کہ اب معاملہ بالکل الٹ ہو چکا ہے۔ بہت سے غیر مسلم ممالک
میں تو مسلمان آزادی سے اپنے دین پر عمل کرتے ہیں
لیکن یہ سہولت بعض مسلم ممالک میں انہیں حاصل
نہیں۔
4.رنگ کی
بنیاد پر امتیاز(Colour Discrimination)
ہمارے یہاں
یہ برائی ہنسی مذاق میں کسی حد تک پائی
جاتی ہے۔ بعض خواتین دوسری خواتین کو اس سلسلے
میں طعنے بھی دیتی ہیں۔ ہم یہاں قرآن
مجید کے ایک آیت نقل کرنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں:
یا ایھا
الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا
خیرا منھم و لا نسآء من نسآء عسیٰ ان یکن خیرا
منہن۔ ولا تلمزوا انفسکم، ولا تنابزوا بالالقاب، بئس الاسم الفسوق بعد الایمان۔
و من لم یتب فاولئک ھم الظٰلمون۔
(الحجرات49:11) ’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا
مذاق نہ اڑائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی
(بالخصوص) خواتین ، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں۔
ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کی عیب
جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد
کرو۔ ایمان کے بعد فسق و فجور کے نام بہت بری چیز
ہیں۔ جو لوگ (ان گناہوں پر )توبہ نہ کریں ، وہی ظالموں
میں سے ہیں۔ ‘‘
5.زبان اور علاقے کی بنیاد پر امتیاز
(Geograhpic & Ethnic Discrimination)
چونکہ ہمارے ملک
میں مختلف صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں اس لئے ہمارے
ہاں لسانی اور صوبائی تعصب ایک ہی چیز سمجھا جاتا
ہے۔ زمانہ قدیم سے بادشاہ نیشنلزم کے جذبے کو فروغ دیتے
آرہے ہیں لیکن اس تعصب کو صحیح معنوں میں اہل مغرب
ہی نے عروج بخشا ہے۔ اہل حکومت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے
علاقائیت پرستی اور لسانیت پرستی کو فروغ دیتے آئے
ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی
تھی کہ ان بنیادوں پر قوم میں کٹ مرنے کا جذبہ پیدا
کیا جائے تاکہ یہ لوگ حکمرانوں کے اقتدار کی حفاظت دل وجان سے
کرسکیں۔
اہل مغرب کے ہاں قوم
پرستی کا یہ جذبہ اس قدر ترقی پا گیا کہ اس کی
بنیاد پر پچھلی صدی نے دو ایسی جنگوں کا سامنا
کیا جن کی مثال تاریخ عالم میں نہیں
ملتی۔ انگریزوں سے دوسرے نظریات کی طرح قوم
پرستی کا نظریہ بھی ہندوؤں میں منتقل ہوا۔ 1930
کے عشرے تک یہ قوم
پرستی جنون کی صورت اختیار کرچکی تھی۔ اگرچہ
شیوا جی مرہٹہ کے دور میں بھی ہندو قوم پرستی کو
فروغ حاصل ہوا تھا لیکن احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں مرہٹوں کی
شکست کے نتیجے میں اس کے اثرات خاصے زائل ہوچکے تھے۔
اس کے رد عمل میں
مسلمانوں میں بھی ’’مسلم قوم پرستی‘‘ کے نظریے نے جنم
لیا۔ حقیقتاً اس مسلم قوم پرستی کی بنیاد
اسلام پر نہ تھی بلکہ اس بات پر تھی کہ نسلی مسلمان ایک قوم
ہیں۔ اس قوم پرستی کی تحریک پر ان لیڈروں نے
قبضہ کرلیا جا کا اسلام سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔
مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لئے ہمارا ہر فعل
اسلامی ہے خواہ اس کا دین کے اصل ماخذوں سے کوئی تعلق نہ
ہو۔
اسلام کے حکم اور مقصد کے
عین خلاف سودی ادارے قائم کئے گئے جنہیں مسلم بینکوں کا
نام دیا گیا، اسلامی تعلیما ت کے برعکس مرد وزن کے بے
حجابانہ اختلاط کو فروغ دیا گیا اور بقول سید ابو الاعلی
مودودی صاحب کے بس اسلامی قحبہ خانوں او ر اسلامی جوئے خانوں
کی کسر ہی باقی رہ گئی تھی۔
(تفصیل کے لئے دیکھئے مسلمان او رموجودہ سیاسی کشمکش)
یہ قوم
پرستی صرف مسلم تک ہی محدود نہ رہی بلکہ مسلمانوں کے مختلف
لسانی گروہ اس کا شکار ہوئے۔ مسلمانوں نے اسلام کا نام استعمال کرکے
پاکستان حاصل تو کرلیا لیکن جیسے ہی ہندو قوم پرستی
کا خطرہ ٹلا، مسلم قوم پرستی ، صوبائیت اور لسانیت میں
تحلیل ہوگئی۔ صرف چوبیس سال کے عرصے میں اس قوم
پرستی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرڈالا۔ اس کے بعد سے
وطن عزیز پنجابی، سندھی ، پٹھان، بلوچ اور مہاجر کی قوم
پرستیوں میں گھرا ہوا ہے۔ انہی قوم پرستیوں کے
نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی دو عشرے تک خون اور آگ
کی ہولی کا شکار رہا ہے۔
دین اسلام اپنے
ماننے والوں کو علاقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچاتا
ہے اور انہیں ایک ہی لڑی میں پرو کر
سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کرتا ہے۔
اگر تحریک پاکستان
سے لے کر آج تک ہمارے لیڈر اور عوام صحیح اسلامی روح کے ساتھ
ایک امت مسلمہ بننے کی کوشش کرتے اور انہی بنیادوں پر
پاکستان کی تعمیر کی کوشش کرتے تو نہ بنگلہ دیش بنتا اور
نہ ہی کوئی اور لسانی جھگڑا کھڑا ہوتا۔
یہ ہمارے لئے شرم
کا باعث ہے کہ ہمارے پاس ہدایت کا نور ہوتے ہوئے بھی اہل مغرب
ان نسلی، علاقائی، مذہبی، اور لسانی تعصبات سے نجات حاصل
کرنے میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں امتیاز کے خلاف
(Anti-Discrimination) قوانین بنائے جاچکے ہیں اور میڈیا کے
ذریعے عوام الناس میں اس کا شعور بھی بیدار کیا
جارہا ہے۔
کہیں ایسا تو
نہیں کہ ھم سب بھی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل
اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھ رھے ھیں ۔
اور ھمارے اسی تفاخر اور غرور کی وجہ سے
نفرتیں ،
چپقلشیں ، مقابلے اور آپس میں تفرتیں بڑھ رھی ھیں
جو کسی بھی وقت جھگڑے کی صورت
اختیار کر جاتی ہے ۔۔ پھر یہی چھوٹے
چھوٹے جھگڑے بڑی جنگوں یا حادثوں میں بدل جاتے ھیں
جس کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔
آج
آسٹریلیا میں ھونے والے نسلی تعصب کی
وارداتیں ایک دوسرے سے جواباََ انتقام لے کر ختم نہیں
ھونگی بلکہ اس سے نفرتیں اور بڑھیں گی ۔ اور
نفرتیں کسی بھی قوم کو خود غرض اور مردم کش بنا
دیتی ھے
۔
اب اس وقت ھم سب کی
زمہ داری ھے کہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور زرا ٹھہر کر
سوچیں کہ اس لڑائی سے فائدہ کسے ھو رھا ھے اور نقصان کس کو
۔۔ اگر کوئی یہ سوچ رھا ھے کہ آسٹریلین
گورنمنٹ یہ نسلی تعصب اور فساد چاھتی ھے تو سوچیں
آسٹریلین گورنمنٹ انتہائی خسارے کا کام کیوں کرے گی
اور اپنی معاشیات کو مزید ابتری کی طرف کیوں
لے جائے گی اور اگر کوئی یہ سوچ رھا ھے کہ مقامی
اقلیت (انڈین کیمیونٹی
) ایسا چاھتی
ھے تو بھی بات سمجھ نہیں آتی کہ آخر وہ کیوں اپنے
تعلیمی اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچایئں گے
۔۔یوں کسی کو بھی اپنی ناکامیوں
کی وجہ کسی کو بھی ذمیدار ٹھہرانے میں کوئی
دانشمندی نہیں ھے ۔
سو دوستو !
یہ وقت ھے سوچنے کا ۔۔ اپنے دلوں میں کشادگی
پیدا کرنے کا ، ایک دوسرے کی بات کو تحمل سے سننے
کا اور اسی بات چیت کے زریعے اپنے مسائل کا حل نکالنے کا ۔۔یاد
رکھئے نفرت ایک رویہ ھے اور تعصب اس کا اظہار جس سے صرف
ذاتی سکون اور ملکی امن برباد ھوتا ھے ۔
)مضمون کی
تیاری کے لیئے کئی کتابوں اور انٹر نیٹ کے
مضامین سے مدد لی گئی(