فاصلے ۔۔۔۔پل پل خوشبومیں بسے
میرے محبوب
یہ فاصلے بھی قربت کاعجب مزا دیتے ھیں
پل پل خوشبومیں بسے
سحاب گلا ب جیسے
میلوں کی مسافت سے کبھی یوں الجھ جاتے ھیں
جیسے
گم گشتہ عمر کو اپنی بانہوں میں بھرلیتے ھیں
اور پھر جیسے کئی ان پڑھے باب کھل جاتے ھیں
اور کبھی
کچی نیندوں میں ڈوبے کئی رتجگے
ردائے تمنا میں ایک ایسی آتش سی لگا دیتے ھیں
کہ
شب بھر
چشم نم کی دہکتی منڈیروں پہ تصور سلگتے رھتے ھیں
کیسے بتاؤں
محبوب میرے
کہ
پھر یہ فاصلے
جیسے
فرقت زدہ ہجر کی تھکن کو خود میں سمیٹ کر
خوابوں کے نئے دیئے جلا دیتے ھیں
مجھے انتظار کی دعا دے جاتے ھیں
|