|
|
|
|
 
مہمان کا لم
 
پاکستان میں “غدار “ قرار دلوانے کا جنون۔ از؛ ماریہ
ماریہ علی ۔ڈنمارک

ماریہ علی صاحبہ مشہور کالم نگار ہیں جن کے کالم بیشتر عالمی اخبارات میں شائع ہوتے ہیں ۔ ان کی اجازت کےساتھ ان کا یہ ٕمضمون جو عالمی اخبار میں شائع ہوا تھا ، یہاں شائع کی اجازت کیا جائے۔

آج کل پاکستان کی صورتحال ایک ایسے رخ پر چل پڑی ھے جہاں ھر سیاستداں اپنے اپنے مخالف کو غدارِ وطن ثابت کرنے کے جنون میں مبتلا ھے ۔۔تاکہ عمر بھر کے لیئے نجات ھو جائے ۔۔
اللہ ھی بہتر جانتا ھے کے کون کون غدار ھے اور کون نہیں ھے؟

مگر اس کے علاوہ بھی ایک اور قسم کا جنون بھی تازہ تازہ ھوا ھے کہ چلو یہ نہ سہی تو کم از کم اپنے مخالف کو چاھے وقتی ٍٍطور پر ھی سہی غدار قرار دلوا کر اپنا جھنڈا وقتی طور پر اونچا ضرور کر لیں مگر شاید ھمارے سیاست دان یہ بھول گئے ھیں کہ جس طرح وہ غداری کی سند دلوانے کےلیئے سپریم کورٹ میں درخواستیں دے رہے ھیں اگر وہی ملک اور اس کی سپریم کورٹ ھی نہ بچی تو؟
کیونکہ ھمارے ملک پر اس وقت جو تباہی کے بادل چھائے ھوئے ھیں۔ایسی حالت میں بھی ھماری عوام جو کسی کہ بھی کہنے پر سڑکوں پر آجاتی ھے چاھے کسی کا دھرنا ھو یا ریلی ھماری عوام کو موقع چاھیئے وہ تو جیسے اسی انتظار میں ھوتے ھیں کہ کوئی آواز تو دے اور وہ سڑکوں پر آجایئں ۔۔۔بھولی عوام ۔۔ فارغ عوا مجس کے پاس مزاج پرسی کا وقت نہیں لیکن دھرنوں اور ریلیوں کے لیئے دن و رات ۔۔۔
ھمارے سیاست دان جن کے پاس بس دو ھی کام رہ گئے ھیں ، جو آپ جب چاھے کروالیں ۔۔ ایک تو اپنے مخالف کو غدار ثابت کروا دو یا پھر خود کو پارسہ ثابت کر کے بڑے بڑے دعوے کروا لو ۔۔
کوئی بھی اس وقت یہ نہیں سوچ رہا کہ پاکستان اس وقت تباہی کے اس دہانے پر کھڑا ھے کے بس مخالف ھوا کی ایک پھونک ھی کافی ھے بس سب حکمران ، سب سیاست دان سپریم کورٹ کے چکر لگانے مین مصروف ھیں اور چیف جسٹس صاحب جو بحال ھو گئے ھیں تو کسی طرح
انہیں ان کے وہ وعدے یاد دلاتے رھیں جس کی وجہ سے وہ آج اپنی کرسی پر برجمان ھیں۔؟؟
ھمارے ملک پاکستان میں اس وقت بلکل ایسا ماحول ھے جیسے کسی گاؤں میں کوئی الیکشن جیت کر جب اپنے گاؤں واپس آتا ھے تو اس کے الیکشن کے ساتھی اپنی درخواستیں لیئے انتظار میں کھڑے ھوتے ھیں کے چوھرری صاحب اب حکومت میں آ گئے ھیں تو اب تو کوئی مسلہ ھی نہیں ھے جی اب تو ھمارے کام کیسے نہیں ھونگے؟ ھماری وجہ سے تو وہ الیکشن جیتے ھیں جی۔۔۔
بلکل اسی طرح سے ھمارے سیاست دان افتخار چوھدری صاحب کے گھر اور آفس میں جمع رہتے ھیں اور اسی لیئے ابھی تک چوھردئ صاحب اقربا پروری میں ھی مصروف ھیں ورنہ ان کو اپنی سیٹ پر آئے کافی دن ھو گئے مگر کوئی ازخود نوٹس سامنے نہں آیا نہ ھی کوئی قابل زکر کیس کی سماعت کر سکے ھیں ۔۔
ھماری تو آنکھیں ترس گئی پاکستانی نیوز کی سائٹس پر جیو نیوز پر کوئی تو ایسا ایکشن سامنے آئے چوھدری صاحب کا مگر افسوس ابھی تک ایسا کچھ سامنے نہیں آیا ۔۔بس روز یہی خبریں ھوتی ھیں کے فلاں کو غدار قرار دینے کیلیئے درخواست دائر کر دی فلاں کے خلاف نوٹس بھیج دیا۔۔۔ چلو اور انتظار کر لیتے ھیں ۔۔ لیکن لگا ایسا ھی تھا کہ جیسے ھی چیف صاحب کرسی پر بیٹھے گے جیسے کرشمات کی لائن لگ جائے گی ۔۔
۔۔ ایسا ھونا تو جیسے پاکستان کے مقدروں میں لکھا ھوا ھے کہ سارے ھیرو سیاستدانوں کو اپنی جان کی ضمانت جہاں جہاں سے ملے گی وہاں وہاں وہ راتوں رات منتقل ھو جایئں گے اور جیسے ھی حالات اچھے ھونگے پھر واپس آکر عوام کو اپنی دکھی داستان سنا کر اپنے پیچھے دیوانہ کر لیں گے اور ھم میں سے کسی کو بھی ان کی نیت کی خرابی کا شک تک نہیں ھونے دیتے ۔۔
ارے دہائی خدا کی ۔۔ کوئی لیڈر کوئی تو ایسا شخص سامنے آئے جو کے اس ملک کو سنبھالے جو سب سے پہلے اس عوام میں شعور بیدار کرے۔۔
کاش کوئی خمیینی جیسا شخص راتوں رات سامنے آجائے اور راتوں رات انقلاب آجائے کاش۔۔۔۔مگر پھر ایک خیال آتا ھے کے خمینی کامیاب کیسے ھوا؟
خمینی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کے ایران کی قوم بیدار تھی ۔۔

خمینی کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کے جب وہ فرانس سے ایران آیا تو ایرانی قوم منتظر تھی انقلاب کیلئے مگر ھماری پاکستانی قوم اس حالت میں بھی ایسی گہری نیند سو رہی ھے کے ایسی نیند تو چینی عوام بھی نہیں سوئی تھی۔
ھماری قوم کو خمینی جیسا انسان نہیں چا ہیئے بلکہ ھماری قوم ایک معجزے سے ھی بیدار ھو سکتی ھے ۔۔
اے کاش میرا پروردگار ھی کوئی معجزہ دکھا دے ۔۔