ڈاکٹر
نگہت نسیم
دہشت
گرد اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیں ۔
آج
پہلی بار مجھے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن
پاکستان کی “ مدر
“ لگیں ۔ یقین جانئے ان کی دعائیں
ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں ہیں ۔ ہم کو چونکہ اپنے ماں باپ سے
ناراض رہنے اور ان کے اپنے درمیان فاصلوں کو “جنریشن گیپ “ کہنے
کی عادت سی ہو گئی ہے اسی لیئے شائد میں
بھی مادر وطن کی “مدر“ سے دور ہی رہی اور
ہمیشہ کسی نافرمان اولاد کی طرح انہیں کبھی اپنا
خیر خواہ نہیں سمجھا ۔۔ پر دوستو آج مجھے معاف کر
دیجئے کہ میں واقعی اپنی سابقہ رویئے پر
افسردہ ہوں ۔۔
آج
کے حالیہ بیان کے بعد مدر ہیلری کے آگے مدر ٹریسا
کی بھی کوئی حثیت نہیں رہی ۔۔
انہوں نے تمام مسائل کا حل بتا دیا ۔۔ کمال محبت سے پاکستان کے
سر پہ شفقت سے ہاتھ
رکھتے ہوئے کہا کہ خبردار جو بھارت کی طرف آنکھ بھی اٹھائی ہو
اور رہی دہشت گردوں کی بات تو کیا ہوا ۔وہ بھی انسان
ہیں انہیں بھی جینے کا اور اپنی
نمائیندگی کا پوار حق ہے سو ان کے سعد مشورے کے مطابق “ اگر
دہشت گرد خود کو درست سمجھتے ہیں تو وہ سیاسی جماعت
بنالیں “ ۔۔۔
ارے
مدر جی “بنا لیں “ سے کیا مطلب ؟؟ ہم پاکستانی تو آپ
کی آنکھ کا خفیف سا اشارہ تک سمجھ جاتے ہیں ۔۔ آپ
نے تو کہنے کی بڑی تکلیف کی ہماری تو ہر جماعت
ہی “دہشت
گرد“ ہے ۔شائد آپ کو یقین نہیں آرہا تھا اسی
لیئے آج ایک الگ “سیاسی جماعت “ بنانے مشورہ دے ڈالا ۔۔
مسلہ
یہ ہے مدر جی کہ آپ جب پاکستان آتی ہیں تو بس
پرانی سہیلیوں اور دوستوں سے گپ شپ مار کر چلی جاتی
ہیں کبھی انہی سہیلیوں اور دوستوں کے کارنامے
سننے سپریم کورٹ بھی جایا کریں جہاں “این آر او“ پر
آپ کی مرحومہ سہیلی بینظیر کے بے نظیر
شوہر زرداری کے سوئس اثاثوں کے کھاتے کھل چکے ہیں ان میں کڑوڑوں
کے وہ پیسے بھی ہیں جو انہوں نے آپ سے قوم کے نام پرادھار
لیئے تھے اور اب دیکھئے بینکوں میں وہ پیسے سڑ بھن
رہے ہیں ۔۔۔۔ کیا فائدہ ہوا بھلا
۔۔ نہ خود خرچ کئے اور نہ قوم پر ۔۔ اور نہ
ہی آپ کو واپس کئے ۔۔کیا یہ کھلی دہشت
گردی نہیں ہے ؟
اب
مدر جی بھلا آپ ہی بتائیں کہ “دہشت گرد “ کی آخر
کیاتعریف ہے ۔۔یہی نہ کہ
“جو “ کسی کو جینے دیں اور نہ مرنے دیں
۔۔ ارے وہی لوگ نہ جو کسی سیاسی
یا ذاتی مقصد کے لیے ایک دوسرے پر تشدد کریں
یا تشدد کی دھمکیاں دیں ۔
پھر آپ نے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں تو
دیکھی ہی ہونگی جس میں ایک بڑا گروپ
ہوتا ہے “بھائی
جی “ ٹائپ
کا اور پھر اس بھائی کے خلاف چھوٹے چھوٹے گروپس میں ٹھن جاتی ہے
اور جو آپس میں لڑائی ہوتی ہے وہ دہشت گردی
کہلاتی ہے۔ اس میں بڑے گروپ کے لوگ چھوٹے گروپ کے
غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں ۔ کیا آپ نے غور
کیا ہے کہ اس تمام لڑائی میں صرف ذاتی یا
سیاسی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے ۔۔ عوام تو
بیچاری کچھ چشم دید گواہ ہونے کی صورت جائے موقع پر
شہید ہوجاتی ہے اور کچھ ٹی وی پر سن دیکھ کر اپنے
لئے زہر کا بندوبست کرلیتی ہے ۔۔۔باقی ماندہ
مرنے والوں کے نوحہ خوان کی صورت زندہ ہی مر جاتے ہیں
۔۔۔اللہ اللہ تے خیر صل للہ ۔۔
ہیلری
مدر جی ! حیران ہوں کہ آپ کو یہ کہنے کی ضروت کیوں
پیش آئی کہ “ اگر دہشت گرد خود کو درست سمجھتے
ہیں تو وہ سیاسی جماعت بنالیں “ ۔۔ آپ
نہیں جانتی کہ اس بیان سے آپ کی سیاسی
بصیرت کو سخت دھچکا لگا ہے ۔۔ ورنہ
ماضی میں آپ ہی اپنے قیمتی وقت سے فالتو وقت نکال
کر پاکستان آ آ کر پاکستانیوں کو “گائیڈ“ کرتی رہیں ہیں یا واشنگنٹن سے ہی
خبردار کرتی رہیں ہیں بلکہ ایک بار نہیں
کئی کئی بار کہتی رہیں ہیں کہ “ دہشت
گرد پاک بھارت جنگ کرانا چاہتے ہیں “ ، یہاں تک بتایا کہ “نیٹو کا مزید سات
ہزار فوجی افغانستان بھیجنےگا “ ، ہر مقام پر پاکستانیوں کو حوصلہ
بھی دیا کہ “افغانستان کے لئے امریکی امداد پر
کڑی نظر رکھی جائے گی “ ، “ قیام امن کیلئے طالبان
سے مذاکرات ہوسکتے ہیں “ ، آئندہ گرمیوں میں افغان جنگ کی صورتحال بدل
جائے گی“ ۔۔ تھک ہار کر یہاں تک یقین
دلایا کہ افغانستان میں ناکامی جنوبی ایشیا
پر طالبان قبضے کے مترادف ہو گی“ ، جبکہ
حال ہی میں آپ کچھ خفا بھی ہوگئی تھیں اور ہر
ایک نے نوٹ کیا اور کہا “ہلیری کلنٹن نے امریکی
ڈرون حملوں پر بات کرنے سے انکار کر دیا “ ، کیونکہ آپ کا اصرار
تھا کہ “پاکستانی حکام القاعدہ کے رہنماؤں کے ٹھکانوں سے لاعلم نہیں
ہیں “ ۔۔۔دیکھا مدر
جی یہ دہشت گرد اب آپ کی بھی نہیں سن رہے
۔۔ارے اب سمجھ آیا کہ آپ کا مشورہ انہیں
سیاسی جماعت بنانے کا کیوں ہے ۔۔ تاکہ مذکرات
یا مذمت کی سیاست کرنے میں طرفین کوآسانی ہو
سکے ۔۔
اب
قارئین آپ سب خود ہی فیصلہ کیجئے کہ اس کھیل
میں کون دہشت گرد ہے اور کون سب سے بڑا کھلاڑی ہے
یعنی “بڑا گروپ“ ہے اور کون سے چھوٹے چھوٹے گروپس ہیں جو
اس وقت “بھائی
جی اور مدر جی “ کے قدموں سے لپٹے صرف اپنی سلامتی کی
دعائیں مانگ رہیں ہیں اور انہی چھوٹے گروپس
میں سے ایک گروپ ایسا بھی ہے جس کا سربراہ صبح و شام خود
کو کوس رہا ہے کہ “ کاش میں پاکستان کا صدر نہ ہوتا “ ۔ کیا ہی اچھا ہوتا جو موزبیق یا
صومالیہ کا صدر ہوتا کم از کم نہ وہاں سپریم کورٹ ہوتی اور
نہ مدر ہیلری کا ڈنڈا ہوتا ۔۔۔ رج رج کے
موجیں ہوتیں ۔۔۔
جیسے
آوارہ گردی کا اپنا مزہ ہے ویسے ہی طاقت و دہشت کا اپنا
ہی نشہ ہوتا ہے ۔۔ اب یہ کیا کہ “نہ
کھایا نہ پیا گلاس توڑا دو آنے “ ۔۔کے
مصداق کیا زرداری اب مدر جی کے آگے روئیں بھی
نہ کہ ان کے ساتھ چیف صاحب (چوھدری افتخار ) کتنی
زیادتی کر رہے ہیں حالانکہ اعتزاز احسن کو وکیل بھی
کیا ۔۔ ۔۔ لیکن ایک بات سچ
ہے دہشت گردی کے اس کھیل میں مشرف اور نواز اپنا
کھیل کھیل ہی گئے ۔۔
کیونکہ وہ دونوں مدر جی کے قدموں سے لگے ان کے سایہ شفقت
میں اس وقت آرام سے ہیں اور دہشت گردی کی پربہار فصل
کاٹنے کے لئے مڈ ٹرم الیکشن میں
اپنی باری آنے کے منتظر ہیں ۔۔۔
آخر
میں بس اتنا ہی کہ مدر ہیلری آپ نے
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کرنے پر جو
قانونی تحفظ عطا کیا ہے اس پر ہر پاکستانی کو آپ کی
سرپرستی پر ناز ہے اور آئیندہ بھی آپ سے
اسی شفقت کی امید رکھتی ہے اور یقین
دلاتے ہوئے گزارش کرتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے دہشت
گردی سے غنڈہ گردی تک کے سارے داؤ پیچ “بلیک واٹر اور را“
سے سیکھ لئے ہیں سو اب ان تنظیموں کی پاکستان کو
کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے
حکمران یاسر عرفات ، صدام حسین اور حامد کرزئی سے ہر گز کم
نہیں ہیں بلکہ وقت آنے پر “محب امریکہ “ ہونے کے ان کے بھی
ریکارڈ تورٹے ہوئے“ پاکستان “ تک آپ کے قدموں میں رکھ دیں
گے ۔۔
*****