اپنی تیرگی بخت تو دیکھو۔۔۔ لوگو
جو تھا مالی چمن کا وہی گل و ثمن کا قاتل ٹھہرا
ہرنفس اسیر ہوس ہے یہاں ۔۔ کیا کہوں کون کیسے برباد ہوا
عقاب زمین پر اترے ہیں جب سے — سر اٹھا کرمرنا بھی دشوار ہوا
اے شہرنگاراں کے منافق لوگو
سچ تو یہ ہے کہ
اس عہد بے بصر میں یہ دور ضلالت ہے کہ ہر حق تعزیر ہوا
اے میرے دوست
کیا کہوں اور کیسے بتاؤں
ان مسافتوں میں میری روح تک ایسے گھائل ہوچکی ہے
حَیات و مَمات میں جیسے ہر ثانیہ مستعاراور حیات کُش ہوا
سنو
اگر آج کا سچ یہی ہے
کہ
جو بھی جرم تکفیر امید کرے وہی دار لعنت پر لٹکا دیاجائے
تو
پھر اے دوست
آج تمہاری بات ہی کیوں نہ مان لوں
کہ
میں
عاشق حق ، طفل مکتب ، چاک گریباں ۔۔
پا شکستہ ۔۔ کیف جنوں میں رقصاں
جنگل کے سبزکوہساروں کا رخ کر لوں
اور
معزز درندوں کا رزق ہو جاؤں
-----------------------------------------