سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی (۱۲۸۹ھ) برصغیر کے متاخرین اکابر میں جس بلند علمی اور روحانی مقام کے حامل ہیں وہ محتاجِ بیان نہیں، درس و تدریس، رشد و ہدایت اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں آپ کی خدمات ہماری تاریخ کا ایک زریں باب ہیں، بالخصوص باطل افکار و نظریات اور بدعقیدگی کے مقابلہ میں آپ کا جہاد بالقلم اسلامیان ہند پر ایک عظیم احسان ہے- اس سلسلہ میں آپ کی تصانیف المعتقد المنتقد (عربی)، البوارق المحمدیہ (فارسی) اور سیف الجبار (اردو) اولین ماخذ ہونے کے علاوہ درجہٴ استناد بھی رکھتی ہیں-” البوارق المحمدیہ لرجم الشیاطین النجدیہ“ آپ نے ۱۲۶۵ھ / ۱۸۴۹ء میں تصنیف فرمائی- اس کتاب کا دوسرا نام ”سوط الرحمن علی قرن الشیطان“ بھی ہے-یہ دونوں تاریخی نام ہیں جن سے کتاب کا سنہ تالیف ۱۲۶۵ھ برآمد ہوتا ہے-
مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”تذکرہ“ میں سوط الرحمن کی بعض عبارتوں کی تنقید بلکہ تضحیک فرمائی ہے- زیر نظر مضمون میں ہم مولانا آزاد کی اسی کرم فرمائی کا تنقیدی جائزہ لیں گے-یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سوط الرحمن کی تالیف (۱۲۶۵ھ) کے ستر سال بعد تذکرہ (۱۳۳۶ھ) میں مولانا آزاد نے اس پر تنقید فرمائی اور اب ”تذکرہ“ کے ۹۴ سال بعد اس تنقید کا تنقیدی جائزہ لینے کی نوبت آ رہی ہے-”تلک الایام نداولہا بین الناس“ -مصنف سوط الرحمن کے بارے میں مولاناآزاد کی تنقیدیا تضحیک پر کچھ کہنے سے پہلے اس سلسلہ میں ان کے والد محترم کے خیالات پر بھی ایک نظر ڈال لیں،تاکہ والد اور فرزند کے مزاج و مسلک کا تفاوت بھی واضح ہوجائے ،مولانا آزاد اپنے والد ماجد حضرت مولانا خیرالدین دہلوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
”مقلدین حنفیہ کے جو محتلف حلقے نظرآ تے ہیں،ان میں سب سے زیادہ تنگ حلقہ ان (آزاد کے والد)کے مشرب کا تھا،اور ہندستان کے گزشتہ علما میں صرف مولوی فضل رسول بدایونی ،جنہوں نے تقویت الایمان کے رد میں سوط الرحمن لکھی ہے،ٹھیک اسی رنگ پر تھے جو اس بارے میں دالد مرحوم کا تھا،ان (مولانا فضل رسول بدایونی)کے علاوہ ہندستان کا کوئی سخت سے سخت حنفی عالم بھی ان کے معیار حنفیت پر نہیں اتر سکتا تھا-“
)آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ص۱۶۴،حالی پبلی کیشنز دہلی۱۹۵۸ء(
پھر ایک صفحے کے بعد لکھتے ہیں:
”البتہ علماے حال میں مولانا عبدالقادر بدایونی کی تعریف کرتے تھے،اور ان کی حنفیت پر معترض نہ تھے-“)مرجع سابق(
مولانا ابوالکلام آزاد نے ”تذکرہ“ میں شیخ ابن تیمیہ اور ان کی تحریک کی مدح و ستائش میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے ہیں اور ان کے دفاع میں بڑی طویل خامہ فرسائی فرمائی ہے، شیخ ابن تیمیہ کے سلسلہ میں علماے ہند کی بے خبریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”لیکن عام علماے ہند کی بے خبریوں کا اس بارے میں جو حال رہ چکا ہے وہ ناقابل بیان ہے- مولوی فضل رسول بدایونی مرحوم سوط الرحمن میں لکھتے ہیں : داوٴد ظاہری شیطان کا متبع تھا، اس کے بعد ابن حزم ظاہری پیدا ہوا جو خبیث تھا، پھر ابن حزم کا شاگرد ابن قیم ہوا اور ابن قیم کا شاگرد شقی ابن تیمیہ،ابن تیمیہ نے ایک نیا دین نکالا” بعض اشرار بداطوار، جہلا، فسقہ در حلقہٴ انقیادش آمدہ در بلاد اسلامیہ طرفہ ہنگامہ برپا نمودند“-اور ان تمام موٴرخانہ تحقیقات کے لیے آخر میں ”طبقات سبکی کا حوالہ بھی دیتے ہیں!ایسی ہی تاریخی تحقیقات اکبر کے زمانے میں بھی بعض محققین نے کی تھیں چوں سکندر ذوالقرنین باعانت رستم شاہ بابل در میدان پانی پت بامحمود غزنوی پیکار نمودہ چنانکہ فردوسی در سکندر نامہ تفصیل حالش پر داختہ- کجا ابن حزم اور کجا ابن قیم؟ بینہما مفاوز تنقطع فیہا اعناق المطی پھر لطف یہ کہ ابن تیمیہ ابن قیم کے شاگرد تھے اور ابن تیمیہ کے ساتھی صرف اشرار و جہلا تھے! اللہ تعالیٰ ہم سب کی کوتاہیاں معاف فرمائے اور جو گذر چکے ہیں ان کی مغفرت-“
)تذکرہ، ص:۲۵۰، ۲۵۱، مرتبہ مالک رام، ساہتیہ اکیڈمی دہلی ۱۹۹۰ء(
ہمیں افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ سوط الرحمن کی فارسی عبارتوں کی اردو تعبیر میں مولانا آزاد کے قلم سے لغزش ہوئی ہے، داوٴد ظاہری کے بارے میں مصنف سوط الرحمن نے لکھا تھا:
”داوٴد بن علی اصبہانی محدث جلیل الشان مبتلاے وسوسہٴ شیطان گردیدہ قائل بخلق قرآن و حدوث آں گشتہ-“)سوط الرحمٰن، ص : ۲۹(
ترجمہ : داوٴد بن علی اصبہانی جو محدث جلیل تھے شیطانی وسوسہ میں مبتلا ہو کر قرآن کے مخلوق اور حادث ہونے کے قائل ہو گئے-
ابن حزم ظاہری کے بارے میں مصنف نے لکھا تھا :
”دقیقہ در توہین و تذلیل بلکہ تفسیق و تکفیر ائمہ دین فروگذاشت نہ نمودہ و کتب عدیدہ تصنیف کردہ ہرگاہ خبث باطن او ظاہر گردید علما و صلحا ے عصر باتفاق امام ابوالولید با جی کہ از عراق طلبیدہ بودند ابن حزم را بزیر حساب آوردہ، کتب اورا در مجمع پیش کردہ ابن حزم را چنانچہ باید و شاید عاجز و ساکت ساختہ درہماں محفل آں کتب را چاک کردہ بآتش سوختند-“ )سوط الرحمٰن ص:۳۰(
ترجمہ : (ابن حزم نے) ائمہ دین کی توہین و تذلیل بلکہ تفسیق و تکفیر میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا، متعدد کتابیں تصنیف کیں، جب اس کا خبث باطن ظاہر ہو گیا تو اس زمانے کے علماو صلحا نے امام ابوالولید باجی کے ساتھ جن کو عراق سے بلوایا گیا تھا ابن حزم کا محاسبہ کیا- ان کی کتابیں مجمع عام میں پیش کی گئیں اور ابن حزم کو (بحث میں) عاجز و ساکت کر دیا گیا- اسی محفل میں ان کی کتابیں چاک کر کے نذر آتش کر دی گئیں-
پھر صرف ایک سطر کے بعد مصنف کتاب نے ایک انصاف پسند ناقد کی حیثیت سے ابن حزم کی غزارت علمی کا بھی اعتراف کیا ہے:
”غزارت علم از کتب او ظاہر فاما بسبب جرات کثیر الاغلاط و خیلے بے احتیاط -“)سوط الرحمٰن ص:۳۰(
ترجمہ:ان کی کتابوں سے ان کی غزارت علمی ظاہر ہے، مگر جرات کے سبب بڑی غلطیاں کرنے والے اور بڑے بے احتیاط تھے-
مصنف سوط الرحمن کی اصل عبارت پڑھنے کے بعد اب مولانا آزاد کے الفاظ دوبارہ پڑھیے کہ ”داوٴد ظاہری شیطان کا متبع تھا، اس کے بعد ابن حزم ظاہری پیدا ہوا جو خبیث تھا“، ایسا لگتا ہے کہ یہاں ”حب علی“ اور ”بغض معاویہ“ دونوں جذبوں نے ایک ساتھ اپنا جلوہ دکھایا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مصنف نے داوٴد ظاہری اور ابن حزم کے بارے میں چند سطروں میں جو منصفانہ تنقید فرمائی ہے اس کو سامنے رکھ کر آپ کتب طبقات کھنگال ڈالیں اس کے نتیجہ میں ان دونوں حضرات کی شخصیت کا جو مرقع بنے گا اس پر یہ چند سطریں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ منطبق ہوتی نظر آئیں گی-
سوط الرحمن کے حوالے سے مولانا آزاد نے تیسری بات یہ لکھی ہے کہ ”پھر ابن حزم کا شاگرد ابن قیم ہوا“ اور اس پر اپنے مخصوص انداز میں چوٹ کرتے ہیں کہ ”کجا ابن حزم اورکجا ابن قیم؟ بینہما مفاوز تنقطع فیہا اعناق المطی“ اس ریمارک پر ہم مولانا آزاد کو معذور سمجھتے ہیں کیونکہ یہ غلط فہمی کاتب کی مہربانی کی وجہ سے پیدا ہوگئی-
اس کی تفصیل یہ ہے کہ سوط الرحمن ۱۲۶۵ھ میں تالیف کی گئی، جو اسی سال معمولی کتابت اور غیر معیاری طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئی، ظاہر ہے کہ مصنف سوط الرحمن کو تقویت الایمان کے مصنف کی طرح خصوصی مراعات تو حاصل تھیں نہیں کہ سوط الرحمن کو بھی تقویت الایمان کی طرح معیاری کتابت اور اعلیٰ طباعت کے ساتھ رائل ایشیاٹک سوسائٹی جیسا سرکاری ادارہ منظر عام پر لاتا- لہٰذا اس میں جگہ جگہ کتابت کی اغلاط موجود تھیں، مصنف نے ابن قیم کے بارے میں یہ لکھا تھا:
”پس ازاں ابن قیم وغیرہ تلامذہ اش ہم بتائید اوبر خاستند و کتابہاے عجیبہ تصنیف نمودند-“
ترجمہ:ان کے بعد ان کے شاگرد ابن قیم وغیرہ ان کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوئے اور عجیب و غریب کتابیں تصنیف کیں-
یہ جملہ مصنف نے اپنے مسودے کے حاشیہ پر لکھا تھا جس کو ابن تیمیہ کے ذکر کے بعد آنا تھا اور بات بالکل درست تھی کہ ابن تیمیہ کے بعد ان کے شاگرد ابن قیم ان کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوئے، مگر کاتب نے غلطی سے اس جملہ کو ابن حزم کے ذکر کے بعد اور ابن تیمیہ کے ذکر سے پہلے کتابت کر دیا اب مفہوم یہ بن گیا کہ” ابن حزم کے بعد ان کے شاگرد ابن قیم اٹھ کھڑے ہوئے“، اس پر مولانا آزاد کو ایک خوبصورت عربی جملہ چسپاں کرنے کا موقع ہاتھ آ گیا-
جب سوط الرحمن شائع ہو کر آئی تو فوراً مصنف کو کتابت کی اس غلطی کا احساس ہو گیا، میں تو اس کو مصنف سوط الرحمن کی فراست ایمانی ہی کہوں گا کہ انہوں نے مولانا آزاد کے ریمارک لکھنے سے ستر برس پہلے ہی حقیقت کی وضاحت کر کے مولانا کے ریمارک کو بے وزن کر دیا- سوط الرحمن کی تالیف کے اگلے سال یعنی ۱۲۶۶ھ میں حضرت نے” اکمال فی بحث شد الرحال“ (یہ بھی تاریخی نام ہے) تصنیف فرمائی،جس میں سوط الرحمٰن کی زیر بحث عبارت کاخلاصہ درج کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر فرمادیا:
”کاتب مطبع ذکر ابن قیم را کہ برحاشیہ مسودہ بود از غلطی بالائے ذکر ابن تیمیہ نوشتہ است-“ (اکمال فی بحث شد الرحال:ص۸(
ترجمہ:کاتب مطبع نے ابن قیم کے ذکر کو جو مسودے کے حاشیہ میں تھا ابن تیمیہ کے ذکر کے اوپر لکھ دیا-
مصنف کی وفات کے چند سال بعد جب سوط الرحمن دوبارہ بڑی تقطیع پر شائع ہوئی تو اس میں اس غلطی کی اصلاح کر لی گئی اور ابن قیم کے ذکر کو ان کے استاذ ابن تیمیہ کے ذکر کے بعد درج کر دیا گیا-سوط الرحمن کے قدیم و جدید دونوں نسخے اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں یہ عبارت کتابت کی مذکورہ غلطی کے ساتھ طبع اول کے ص: ۲۹ پر ہے اور تصحیح کے ساتھ طبع دوم کے ص: ۲۴ پر- طبع دوم پر سنہ اشاعت درج نہیں ہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ ۱۳۱۹ھ/۱۹۰۰ء سے پہلے طبع ہوئی ہے کیونکہ آخری صفحہ پر ”اعلان“ کے عنوان سے مصنف کے صاحبزادے تاج الفحول مولانا عبدالقادر بدایونی کی ایک تحریر درج ہے- تاج الفحول کا وصال ۱۳۱۹ھ میں ہوا تھا اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ مصنف کی وفات کے بعد شائع ہوئی ہے کیونکہ سرورق پر مصنف کے نام کے ساتھ ”قدس سرہ“ لکھا ہے، مولانا کے مطالعہ میں طبع اول والا نسخہ آیا ہوگا جس میں کاتب کی مہربانی شامل تھی اسی لیے ہم نے لکھا تھا کہ اس معاملہ کی حد تک ہم مولانا کو معذور سمجھتے ہیں-
مولانا آزاد بڑے لطف کے ساتھ مصنف سوط الرحمن کے بارے میں چوتھی بات یہ لکھتے ہیں کہ ”پھرلطف یہ کہ ابن تیمیہ ابن قیم کے شاگرد تھے“ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی تأمل نہیں کہ یہ سہو ہے کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ابن قیم ابن تیمیہ کے شاگرد تھے نہ کہ اس کا برعکس، مگر یہ سہو مصنف سوط الرحمن کا نہیں بلکہ خود مولانا آزاد کا ہے، کیونکہ سوط الرحمن میں سرے سے اس عبارت کا وجود ہی نہیں ہے،” تذکرہ“ کے مرتب و حاشیہ نگار مالک رام نے انصاف و دیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حاشیہ میں بات صاف کر دی ہے، لکھتے ہیں :
”یہ سہو ہے، مولوی فضل رسول نے ابن تیمیہ کو ابن قیم کا شاگرد نہیں کہا-“ (حواشی تذکرہ، ص:۴۵۲، ساہتیہ اکیڈمی دہلی ۱۹۹۰ء(
مولانا آزاد نے مصنف سوط الرحمن کی جانب دن دھاڑے جو عبارت منسوب کردی ہے اس پر ناطقہ سر بگریباں اور خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے؟
مصنف سوط الرحمن نے شیخ ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا تھا:
”بعضے اشرار بد اطوار از جہلہ و فسقہ بحلقہ انقیادش آمدہ در بلاد اسلامیہ طرفہ ہنگامہ برپا نمودند-“ (سوط الرحمن ص: ۳۲(
ترجمہ:جہلا و فاسقین میں سے بعض اشرار بداطوار ان کے حلقے میں داخل ہوئے اور بلاد اسلامیہ میں عجب ہنگامہ برپا کر دیا-
اس پر مولانا آزاد تعجب کے ساتھ لکھتے ہیں :
”اور ابن تیمیہ کے ساتھی صرف اشرار و جہلا تھے!“
اس پر عرض ہے کہ علامہ ابن تیمیہ کی شخصیت ابتدا ہی سے مختلف فیہ اور متنازع رہی ہے، گزشتہ ۶،۷ سو سال میں علامہ موصوف کی مدح وستائش اور ان پر رد و قدح کے سلسلہ میں ہزاروں صفحات سیاہ کیے جا چکے ہیں، یہ مختصر مقالہ اس کی تفصیل کا متحمل نہیں ہے-یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ سوط الرحمن لکھتے وقت مصنف کے سامنے سبکی کی طبقات الشافعیہ تھی، جیسا کہ ان کے اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ ”در طبقات سبکی تمام ماجرا موجود“ لہٰذا انھوں نے جو کچھ لکھا طبقات سبکی پر اعتماد کرتے ہوئے لکھا اب اگر اس سلسلہ میں الزام کا کوئی داغ لگتا ہے تو امام سبکی کا دامن داغ دار ہوگا مصنف سوط الرحمن اپنے ماخذ کا حوالہ دے کر اس الزام سے بری ہیں-دوسری بات یہ کہ جہاں تک شیخ ابن تیمیہ کے ساتھیوں کے بارے میں اس خاص جملہ کا تعلق ہے تو یہ بھی مصنف سوط الرحمن کا خانہ ساز یا طبع زاد نہیں ہے، خود شیخ ابن تیمیہ کے شاگرد رشید امام ذہبی نے شیخ کے ساتھیوں کے بارے میں اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے ہیں- امام ذہبی نے اپنے استاذ ابن تیمیہ کی فہمائش کے لیے ان کو ایک خط لکھا تھا، علمی حلقوں میں یہ خط ”النصیحة الذہبیة“ کے نام سے مشہور ہے-امام ذہبی شیخ ابن تیمیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فما اظنک تقبل علی قولی ولا تصغی إلی وعظی بل لک ہمة کبیرة فی نقض ہٰذہ الورقة بمجلدات و تقطع لی اذناب الکلام ولا تزال تنتصر حتی اقول والبتّة سکت، فاذا کان ہذا حالک عندی وانا الشفوق المحب الواد فکیف یکون حالک عند اعداء ک واعداء ک واللّٰہ فیہم صلحاء و عقلاء و فضلاء کما ان اولیاء ک فیہم فجرة وکذبة و جہلة و بطلة-
ترجمہ :میں گمان نہیں کرتا کہ آپ میری بات مانیں گے یا میری نصیحت پرکان دھریں گے، بلکہ آپ کے اندر تو اتنی ہمت ہے کہ میرے اس ایک ورق کے رد میں کئی جلدیں لکھ ڈالیں اور مجھے برا بھلا کہیں اور آپ اس وقت تک مجھ پر برستے رہیں گے جب تک میں یہ نہ کہہ دوں کہ میں ساکت ہوا، جب مجھ جیسے شخص کی نظر میں آپ کا یہ حال ہے جو کہ آپ کا مشفق، آپ سے محبت کرنے والا اور آپ کا چاہنے والا ہے تو پھر آپ کے دشمنوں کی نظر میں آپ کا کیا حال ہوگا، خدا کی قسم آپ کے دشمنوں میں صلحا و فضلا اور عقلا ہیں جیسا کہ آپ کے حمایتیوں میں فاجر، جھوٹے، جاہل اور ناقص لوگ ہیں-
شیخ ابن تیمیہ کے ساتھیوں کے بارے میں صاحب سوط الرحمن نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں لکھا ہے-
امام ذہبی کی یہ نصیحت سبکی کی طبقات شافعیہ میں بھی ہے اور الگ سے امام زاہد کوثری کی تعلیقات کے ساتھ بھی شائع ہو چکی ہے، اس کے مخطوطے کا اسکین انٹر نیٹ پر موجود ہے اور وہیں سے Download کر کے ہمارے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہے-
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ہم اس بات سے غافل نہیں ہیں کہ بعض حضرات نے اس مکتوب کو فرضی اور جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے- محمد بن ابراہیم الشیبانی کا رسالہ ”التوضیح الجلی فی الرد علی النصیحة الذہبیة المنحولة علی الامام الذھبی“ ہمارے علم میں ہے- اس کے علاوہ امام ذہبی کی کتاب ”المہذب فی اختصار السنن الکبیر“ کے مقدمہ میں بھی استاذ زکر علی یوسف نے ”النصیحة الذہبیة مزورة“ کے عنوان سے (ص ۴ تا ص ۷) اس سلسلہ میں داد تحقیق دی ہے- اسی کتاب کے جز اول کے آخر میں (ص ۴۹۱ تا ص ۵۰۱) محقق محمد حسین العقبی نے بھی اس پر کلام کیا، ان حضرات نے داخلی اور خارجی شواہد کی روشنی میں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ یہ امام ذہبی کا خط نہیں ہے بلکہ شیخ ابن تیمیہ کے کسی مخالف (غالباً ابن قاضی شہبة) نے اس کو لکھ کر ذہبی کی طرف منسوب کر دیا ہے- ان حضرات نے جو دلائل دیے ہیں ان سب پر بحث ونظر کی گنجائش ہے اور جو حضرات اس کو امام ذہبی کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کے پاس بھی اس سلسلہ میں ٹھوس اور مضبوط دلائل ہیں- اس تمام رد و قدح کی تفصیل کے لیے ایک مستقل مقالہ درکار ہے- مختصر یہ کہ صاحب سوط الرحمن نے شیخ ابن تیمیہ کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی ہے جو پہلے سے نہ کہی جا رہی ہو-
تقریباً ایک صفحہ آگے جانے کے بعد مولانا آزاد پھر پلٹ کر صاحب سوط الرحمن پر حملہ کرتے ہیں:
صاحب سوط الرحمن نے امام داوٴد ظاہری کی نسبت جو لعن و طعن کیا ہے تو یہ دوسری مصیبت ہے اور عامہٴ علماے ہند کی بے خبریوں کی ایک واضح مثال-
اس پرکچھ عرض کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ صاحب سوط الرحمن نے امام داوٴد ظاہری پر جو ”لعن و طعن“ کیا ہے اس کا حرف بحرف ترجمہ یہاں نقل کر دیں تاکہ آگے بات سمجھنے میں آسانی ہو:
”داوٴد بن علی اصبہانی جو جلیل الشان محدث تھے، شیطان کے وسوسہ میں مبتلا ہو کر قرآن کے مخلوق اور حادث ہونے کے قائل ہو گئے، قیاس کے رد میں ایک رسالہ املا کروا یا، اس وقت کے اکابر نے ہر چند فہمائش کی کہ تم قیاس کو رد کرتے ہوئے اور خود ہی قیاس کو رد کرنے کے لیے سیکڑوں قیاس کرتے ہو یہ کیا بلا ہے؟ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، بالآخر ہر طرف سے سرزنش کی نوبت آئی اور داوٴد کے رد و اخراج کا فیصلہ قرار پایا- جس جگہ بھی وہ جاتے تھے یہی حکم (یعنی رد و اخراج کا) ان کا ہم سفر ہوا کرتا تھا، جس وقت نیشاپور سے ان کے اساتذہ محمد بن یحییٰ ذھلی اور اسحاق بن راھویہ وغیرہ ان کے رد و اخراج کا سبب بنے تو وہ وہاں سے بغداد آگئے اور امام احمد بن حنبل کی مجلس میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا- امام احمد بن حنبل ان کے سوے اعتقاد کا حال جانتے تھے لہٰذا اپنی محفل میں باریابی کی اجازت نہیں دی- امام احمد کے صاحبزادے نے عرض کیا، داوٴد انکار کرتے ہیں (یعنی ان کے بارے میں جو بدعقیدگی منسوب ہے اس سے انکار کرتے ہیں) امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ محمد بن یحییٰ ذھلی زیادہ سچے ہیں، انھوں نے داوٴد کا حال مجھے لکھ کر بھیجا ہے، خبردار وہ (داوٴد) میرے سامنے نہ آئے- سعید بن عمر و البرذعی نے کہا کہ ہم ابوزرعة کی مجلس میں تھے کہ عبدالرحمن بن خراش نے کہا کہ داوٴد کافر ہے اور وراق داوٴد نے ابو حاتم سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے داوٴد کے بارے میں کہا کہ وہ گمراہ اور گمراہ گر تھا، اس کے وسوسوں اور خطرات کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہیے- خلاصہٴ کلام یہ کہ اس وقت کاملین کی کثرت اور سید المرسلین ﷺ کے عہد مبارک سے قرب کی وجہ سے داوٴد کے فساد کا سلسلہ زیادہ لمبا نہیں چلا اور علماے اعلام کی کوششوں سے اس کا پایہٴ اعتبار ساقط ہوگیا“-(سوط الرحمٰن:ص۲۹،۳۰(
داوٴد ظاہری کے ”محدث جلیل الشان“ ہونے، قیاس کو رد کرنے، خلق قرآن کے قائل ہونے اور ان کے جلا وطن کیے جانے کے یہ سب معاملات کوئی ایسے رازہاے سر بستہ نہیں ہیں کہ مولانا آزاد جیسے ”ہمہ داں“ سے پوشیدہ رہ گئے ہوں- لسان المیزان، تذکرة الحفاظ، تاریخ بغداد وغیرہ آپ کوئی بھی کتاب اٹھائیں آپ کو الفاظ واسلوب کے ذرا فرق کے ساتھ یہ سب باتیں مل جائیں گی- امام احمد بن حنبل کے سلسلہ میں مصنف نے جو واقعہ لکھا ہے اس کو حافظ ابن حجر کی زبانی بھی ملاحظہ کر لیں:
قلت و قداراد الدخول علی الامام احمد فمنعہ وقال کتب الی محمد بن یحییٰ الذہلی فی امرہ وانہ زعم ان القرآن محدث فلا یقربنی فقیل یا ابا عبد اللہ انہ ینتفی من ہذا وینکرہ فقال محمد بن یحییٰ اصدق منہ-
(لسان المیزان : حافظ ابن حجر عسقلانی ج: ۲/ص: ۴۲۲، موٴسسةالاعلمی بیروت ۱۴۰۶ھ(
ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ (داوٴد ظاہری نے) امام احمد کی مجلس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان کو منع کر دیا اور فرمایا کہ محمد بن یحییٰ ذہلی نے مجھے ان کے بارے میں لکھ بھیجا ہے کہ وہ قرآن کو حادث سمجھتے ہیں- وہ ہرگز میرے قریب نہ آئیں، امام احمد سے کہا گیا کہ اے ابوعبد اللہ وہ ان تمام باتوں کا انکار کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ محمد بن یحییٰ اس کے مقابلہ میں زیادہ سچے ہیں-
اسی واقعہ کو قدرے تفصیل کے ساتھ خطیب بغدادی نے بھی نقل کیا ہے -(دیکھیے تاریخ بغداد ج:۸/ص: ۳۷۴، دارالکتب العلمیة بیروت(
مصنف سوط الرحمن اور حافظ ابن حجر کی عبارتوں میں اس کے علاوہ اور کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک فارسی میں ہے اور دوسری عربی میں-
صاحب سوط الرحمن نے سعید بن عمرو کے حوالے سے جو واقعہ لکھا ہے وہ خطیب بغدادی کی زبانی ملاحظہ کریں:
حدثنا سعید بن عمرو البروذعی قال کنا عند ابی زرعة فاختلف رجلان من اصحابنا فی امر داوٴد الاصبہانی والمزنی وہم فضل الرازی وعبدالرحمن بن خراش البغدادی فقال ابن خراش داوٴد کافر-
(تاریخ بغداد ج:۲/ص: ۳۷۳،دارالکتب العلمیة بیروت(
ترجمہ:ہم سے سعید بن عمرو البروذعی نے بیان کیا کہ ہم لوگ ابوزرعة کی مجلس میں تھے، ہمارے اصحاب میں سے دو لوگوں نے داوٴد اصفہانی اور المزنی کے بارے میں اختلاف کیا یہ دونوں (اختلاف کرنے والے) فضل رازی اور عبدالرحمن بن خراش البغدادی تھے- ابن خراش نے کہا کہ داوٴد کافر ہے-
یہاں بھی مصنف سوط الرحمن کا اس سے زیادہ اور کوئی قصور نہیں ہے کہ انھوں نے تاریخ بغداد سے یہ روایت نقل کر دی ہے-
صاحب سوط الرحمن نے وراق داوٴد کے حوالے سے امام ابو حاتم کا جو قول نقل کیا ہے کہ داوٴد ”گمراہ اور گمراہ گر تھے“، یہ بات بھی انہوں نے اس طرح ہوا میں نہیں لکھی جیسے مولانا آزاد نے صاحب سوط الرحمن کی طرف منسوب کر کے ایک فرضی بات لکھ دی تھی جس پر مالک رام کو تصحیح کرنا پڑی بلکہ وراق داوٴد کے حوالے سے امام ابو حاتم کا یہ قول حافظ ابن حجر نے لسان المیزان میں نقل کیا ہے-
(دیکھیے لسان المیزان ج:۲/ص: ۴۲۳(
امام ابو حاتم رازی نے ”امام داوٴد ظاہری کی نسبت جو لعن طعن کیاہے“ چلتے چلتے اس کو بھی دیکھتے چلیے تاکہ ہمارا یہ سوال اور مضبوط ہو سکے کہ آخر مصنف سوط الرحمن نے ایسی کون سی بات لکھ دی تھی کہ ان کی تحقیق ”بے خبری کی ایک واضح مثال“ قرار پائی،ابو حاتم فرماتے ہیں:
رویٰ عن اسحاق الحنظلی وجماعة من المحدثین وتفقہ للشافعی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ ثم ترک ذلک ونفی القیاس والف فی الفقہ علی ذلک کتبا شذ فیہ عن السلف وابتدع طریقة ہجرہ اکثر اہل العلم علیہا وھو مع ذلک صدوق فی روایتہ ونقلہ واعتقادہ إلا ان رأیہ اضعف الاراء وابعد ہامن طریق الفقہ واکثرہا شذوذا-(لسان المیزان : حافظ ابن حجر ج: ۲/ص: ۴۲۳(
ترجمہ:داوٴد ظاہری نے اسحاق حنظلی اور محدثین کی ایک جماعت سے روایت کی ہے مذہب شافعی پر فقہ حاصل کیا، پھر اس کو ترک کر دیا، قیاس کی نفی کی اور فقہ میں اسی طریقہ پر (یعنی نفی قیاس کے طریقے پر) کئی کتابیں لکھیں، جن میں سلف صالحین کے طریقے سے الگ ہو گئے اور ایک نیا طریقہ ایجاد کیا، اس طریقہ کی بنیاد پر اکثر اہل علم نے ان کو چھوڑ دیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی روایت، نقل اور اعتقاد میں سچے تھے، مگر ہاں ان کی رائے کمزور ترین ، طریق فقہ سے بعید اور اکثر شاذ ہوا کرتی تھی-
ہمارے خیال میں لسان المیزان میں درج اس ”لعن طعن“ کے مقابلہ میں سوط الرحمن کا ”لعن طعن“ پھر بھی ہلکا ہے- پھر آخر کیا وجہ ہے کہ صرف سوط الرحمن کے مصنف ہی مولانا کے مورد لطف و کرم ٹھہرے!- اگر داوٴد ظاہری کے بارے میں سوط الرحمن کی عبارت بے خبری کی دلیل ہے تو آخر پھر امام ابو حاتم رازی، حافظ ابن حجر عسقلانی اور خطیب بغدادی کو بھی ”بے خبر“ کیوں نہ قرار دے دیا جائے؟
داوٴد ظاہری، ابن حزم، ابن تیمیہ اور ابن قیم وغیرہ کے بارے میں سوط الرحمن کی تحقیقات کا مذاق اڑاتے ہوئے مولانا رقم طراز ہیں :
ایسی ہی تاریخی تحقیقات اکبر کے زمانے میں بھی بعض محققین نے کی تھیں چوں سکندر ذوالقرنین باعانت رستم شاہ بابل در میدان پانی پت بامحمود غزنوی پیکار نمودہ چنانکہ فردوسی در سکندر نامہ تفصیل حالش پر داختہ- (تذکرة، ص: ۲۵۱(
)جب سکندر ذوالقرنین نے بادشاہ بابل رستم کی مدد سے پانی پت کے میدان میں محمود غزنوی سے جنگ کی جیسا کہ فردوسی نے سکندر نامہ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے(
تفنن طبع کے طور پر ہم نے بھی یہ جملہ پڑھا اور اس کا لطف اٹھایا اس فارسی جملہ کے باموقع اور برجستہ استعمال (جو مولانا کا خاص وصف ہے) پر مولانا آزاد کو داد تو دی جا سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوط الرحمن کی مذکورہ تحقیقات سے اس جملہ کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا ذوالقرنین کا محمود غزنوی یا فردوسی کا سکندر نامہ سے ہے- اگر اس میں کوئی شک ہو تو ہماری معروضات ایک بار پھر پڑھ جایے-
دیانت دارانہ اور منصفانہ تنقید کا تقاضا ہے کہ ہم آخر میں ایک اہم بات کی طرف اشارہ کر دیں ممکن ہے مولانا آزاد کا کوئی وکیل صفائی یہ دلیل دے کہ ”تذکرہ“ مولانا نے رانچی کے زمانہٴ نظر بندی میں تالیف کی تھی، جہاں ان کے پاس سوائے دو چار کتابوں کے کوئی ذخیرہٴ کتب نہیں تھا- انھوں نے جو کچھ بھی لکھا اپنی یاد داشت کی بنیاد پر لکھا، وہ خود تذکرہ کے آخر میں اس کا اعتراف کرتے ہیں :
”تمام کتابیں کلکتہ میں پڑی ہیں، بجز اپنے قلمی مسودات اور ایک نسخہٴ مصحف کے اور کوئی کتاب ہمراہ نہیں، جب یہ تذکرہ لکھنا شروع کیا تو بعض حالات کے لیے صرف تذکرة الواصلین، اخبار الاخیار اور طبقات اکبری منگوالی اور بعدکو منتخب التواریخ بھی آ گئی، ان کے سوا کوئی کتاب پیش نظر نہیں رہی ہے جو کچھ لکھا ہے صرف اپنے حافظے کے اعتماد پر لکھا ہے-“ (تذکرہ، ص: ۳۳۸(
چند سطور کے بعد پھر لکھتے ہیں :
”پس جو کچھ حافظے میں محفوظ تھا حوالہٴ قلم کر دیا-“(حوالہٴ مذکور(
”تذکرہ“ میں مولانا نے فقہ وعقائد کے مسائل، تاریخ وسیرت کے مباحث، بے شمار کتابوں اور مصنفین کے تذکرے، علما کی عبارتیں اور سیکڑوں عربی فارسی اردو اشعار محض اپنے حافظہ اور یادداشت کی بنیاد پرقلم برداشتہ لکھ دیے ہیں، ایسی صورت میں اگر سوط الرحمن کی چند عبارتوں کی تعبیر میں” تسامح“ ہو گیا تو کیا قیامت آگئی؟
اس پر ہم عرض کریں گے کہ یہ بات مولانا آزاد کی ذہانت و ذکاوت، غیر معمولی قوت حفظ اور زبردست علمی استحضار کی دلیل تو بن سکتی ہے مگر مولانا کے اس ”تسامح“ نے مولانا فضل رسول بدایونی جیسے محقق و عالم، خدا رسیدہ بزرگ اور ذمہ دار مصنف کی جو تحقیقی ثقاہت مجروح کی ہے اس کا کفارہ نہیں بن سکتی-
اس بحث کے آخر میں مولانا نے جو جملے لکھے ہیں ان کوبلا تبصرہ نقل کر کے ہم مضمون ختم کرتے ہیں-مقصود اس ذکر سے نکتہ چینی نہیں ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، دکھلانا یہ ہے کہ ہندستان میں ابتدا سے مطالعہ و نظر کا میدان بہت محدود رہا ہے اس لیے عجیب عجیب لغزشیں ہوتی رہیں-
(تذکرہ، ص: ۲۵۲(
-----------------------------------------