|
|
|
|
 
مہمان کا لم
 

خواہشوں کا سفر

ڈاکٹر نسیم نگہت ، سڈنی : ایڈیٹر عالمی اخبار
انسانوں کی کتنی ساری خواہشیں رازوں کی طرح زندگی میں ہلچل مچائے رکھتی ہیں۔ جو نہ تو کہی جا سکتی ہیں اور نہ اس کی خواہش سے رُکا جا سکتاہے۔
کسی کو بہت سارے شہروں میں کوئی شہر سب سے اچھا لگتاہے۔
کسی کے لیے بہت سارے چہروں میں کوئی چہرہ عزیز ہو تا ہے ۔
کوئی بہت سارے لمحوں میںکوئی لمحہ بھی نہیں بھولتا۔
کسی کے ساتھ بہت سارے غموں میں کوئی غم ایک راز کی طرح چھُپی ہوئی خواہش جیسا ہر وقت ساتھ رہتا ہے۔ ایسے ہی بہت سارے شہروں میںلندن میرا SECRET FANTACYتھا۔
بہت سارے چہروں میں سلیم بھائی کا ایک ایسا چہرہ تھا جو مجھے کبھی نہیں بھولتا تھا۔ بہت سارے لمحوں میں سچ مچ تنہا کر دینے والا لمحہ کبھی نہ بھولتا تھا۔ کئی بہت سارے غموں میں سلیم بھائی کے بچھڑ جانے کا گم مجھے برباد رکھتا تھا لیکن یہ سب ایسا تھا جس کی فقط میں خود اپنی راز دار تھی۔ ’’ کاش ‘‘ کا خواہش سے رشتہ جتنا مضبوط تھا‘ اتنا ہی میرا یادوں سے۔ جب ماں جی اللہ بخشے جنت نصیب ہوئی تھیں تو ان کی عمر چالیس برس تھی۔ سلیم بھائی جواُن کے اکلوتے بیٹے تھے‘ مشکل سے بائیس برس کے تھے۔ میں بیس بر س کی اور ہم سب سے چھوٹی رانی دس برس کی تھی۔ اس وقت ابا جان لندن میں ہوا کرتے تھے اور ہم سب گلبرگ لاہور میں ایک عمدہ سے گھر میں عمدہ طریقے سے رہا کرتے تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ماں جی کو کینسر ہو گیا تھا لیکن نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ تنہائی بھی کینسر کی طرح ہو تی ہے جو بالآ خر ختم کر کے ہی ختم ہوتی ہے اور میں ہمیشہ کی طرح آج بھی یہی سوچتی ہوں کہ جس طرح جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ کینسر جین میں آتا ہے اسی طرح تنہائی اور تنہائی پسند ہونا بھی جینز (GENES)میںٹرانسفر ہوتا ہے ۔ ماں جی کی تنہائی کچھ کچھ مجھ میں ٹرانسفر ہو گئی تھی۔ میں ہنگامہ پسند نہیں تھی مگر کبھی کبھی موڈی ہو جاتی تھی۔ مزے مزے سے باتیں کرتی رہتی ‘ گیت غزلیں بھی سن لیتی تھی۔ رانی کی دیکھ بھال اور اسے بہلانے کے لیے میں اس جیسا بن جایا کرتی تھی۔ یوں میں ایک دن میں ایک عمر جی لیا کرتی تھی۔ وہ ایسے کہ صبح ہوتے ہی رانی کے بچپن سے شروع کر کے رات نانی اماں کی طرح مدبر ہو جا یا کرتی تھی۔ پھر بے دم سی بے جان سو جایا کرتی۔ سونا اور مرنا بھی تو برابر ہوتا ہے۔ یوں ایک دن میں ایک عمر گزار لینے کی عادت نے مجھے تھکانا شروع کر دیا تھا لیکن سلیم بھائی کی چُپ کے قُفل نہ ٹوٹتے تھے۔ اپنے کام سے کام شاید مطلبی بھی۔ انہیں اکنامکس کی کتابیں اور اخبار کے علاوہ کچھ کام نہ تھا لیکن جانے کیوں بہن ہونے کے ناتے انہیں میں نے ایک رتبہ‘ ایک اعتبار‘ ایک حوالہ سادے رکھا تھا۔
اُن کی چپ میں بھی ماں کا چہرہ اور باپ کی شفقت ڈھونڈا کرتی لیکن ایسی ’’گرمی‘‘ مجھے کبھی نہ ملتی ۔ ایک دفعہ میں صحن دھو رہی تھی اوربے حد مگن تھی۔ نانی اماں باورچی خانے میں کوئی نئی ترکیب آزمارہی تھیں۔ رانی ٹی وی میں گم تھی۔ مجھے کام کرنے کے دوران ریڈیو سننا بہت اچھا لگتا تھا۔ جو صبح ریڈیو سیلون سے شروع ہوتا تو شام چار بجے تک سارے اسٹیشن آزمالیے جاتے اور پھر بہلانا کسے کہتے ہیں۔ ریڈیو بھی ماں جی نے اللہ بخشے میرے ہی واسطے لیا تھا یا شاید اپنی تنہائی کے کینسر کا علاج چاہتی تھیں۔ حالانکہ ان کے کینسر کا مسیحا تو ابا جان تھے۔ ان کے وجودکی موجودگی ‘ ان کی باتوں کی خوشبو ‘ ان کے لمس کی تازگی ‘ ان کے حوصلے کا ٹانک کچھ بھی تو ان کے حصے میں نہ آ یا تھا اور آیا بھی تو بس پاؤنڈ اور پینیز جو روپے میں بدلتے تو لاکھوں ہو جاتے لیکن ان لاکھوں سے اماں جی کی تنہائی کا کوئی نسخہ کبھی نہ ملتا تھا۔ سووہ گھلتے گھلتے مٹی میں مل گئیں اور اباجان بھی لندن کے بنک بن گئے‘ سو ریڈیو ٹی وی کا گھر آنا کون سی بڑی چیز تھی۔ ہوا یوں کہ میں ریڈیو پر آنے والے کسی پروگرام میں مگن تھی کہ اچانک سلیم بھائی آئے اور ریڈیو اُٹھا کر اندر لے گئے اور اپنی پسند کے اسٹیشن بدل بدل کر سننے لگے اور نانی اماں کو بلا کر کہا کہ ’’یہ ریڈیو میرا ہے ۔ گڈی سے کہیں کہ اسے ہاتھ نہ لگایا کرے۔‘ ‘ ان کے لہجے میں سردسی اجنبیت مجھے چونکا گئی ۔ میں صحن میں کھڑی رہ گئی۔حالانکہ ان کے آنے پر میں سوچ رہی تھی کہ سلیم بھائی اپنی عمر سے کہیں زیادہ سوبر اور خوب صورت لگتے ہیں‘ بالکل شہزادوں کی طرح آ ن بان رکھنے والے شخص کا دل بھی تنگ ہی نکلا شہزادوں کی طرح ۔ اس دن میں نے خو د کو بڑی خاموشی کے ساتھ ان سے علیحدہ کر لیا ۔ ان کے وجود سے جڑا میرا ہر خواب ادھورہ رہ کر ختم ہو رہا تھا لیکن ایک بات کا فرق ضرور مجھے پتا لگ گیا کہ ماں جی کو رونا بے حد آسان تھا مگر سلیم بھائی کی بے اعتنائی اور بے حسی کو رونا بے حد مشکل۔ ذہنی علیحدگی کاخلا میری ساری زندگی پر محیط ہو گیا۔ ہر رات سوچنا میرا معمول بن گیا۔ کیا تھا اگر وہ مجھ سے پوچھ کر اسٹیشن بدل لیتے یاپوچھ کر ریڈیو لے جاتے۔
اگر وہ اس دن ریڈیو نہ بھی سنتے توکیا قیامت آجاتی۔ چلو اگر بے خیالی میں اٹھا کر لے بھی گئے تھے تو نانی اماں سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ گڈی اسے ہاتھ نہ لگائے کہ یہ میرا ہے۔
میں نے کبھی تیرا میرا نہ کیا تھا۔ ہم دونوں تو ایک ہی ماں باپ کی اولاد تھے۔ یہ ساری چیزیں ہم سب کی تھیں ۔ دُکھے ہوئے بے چین زود حس‘ زود رنج دل کے لیے یہ خبر صدمے کی طرح ہر وقت ساتھ رہتی اور پھر سارا قصور اپنا ہی دھر لیتی کہ کاش میں یہ ریڈیو نہ سن رہی ہوتی تو شاید سلیم بھائی کی غیرت اور بے حسی پر پردہ پڑا رہتا اور ہم دونوں بہنیں بہلی رہتیں ۔ شاید یہ سرد مہری انہیں ابا جان کی طرف کی طرف سے ورثے میں ملی تھی جنہیں ہم سب کی فکر تھی مگر ساتھ رہنے کاشوق نہ تھا ۔ جانے کیوں انہیں اپنی تنہائی بھری زندگی میں کسی کی مداخلت پسند نہ تھی یا پھر محبت کرنے سے ڈرتے تھے۔ جو نہ ہمیں اپنے پاس لاتے تھے اور نہ ہمارے پاس خود آ تے تھے۔ جب ماں زندہ تھیں تو اتنی ہی بار آ ئے تھے ‘ جتنے ہم بہن بھائی تھے۔ لندن میں بھی وہ اکیلے رہتے تھے۔ دوسری شادی تو چھوڑ کوئی دوست وغیرہ بھی نہیں تھے۔ بس کام سے کام ۔
بھلا ایک تنہا شخص کواپنی تنہائی کے زندہ رکھنے کے لیے کتنے کام کرنے پڑتے ہوں گے۔کتنی مضروفیت ہوتی ہوگی۔بس بچپن سے ہی لند ن میراSECRET FANTACYبن گیا تھا۔ مجھے ابا جان کی خدمت سے زیادہ یہ تجسس تھا کہ آ خر ایسی کیا مصروفیت اوربہلنے کا سامان ان کے پاس ہے جو انہیں ہم سب سے بیگانہ رکھتا تھا یا پھر ایسا بے حس مزاج انہوں نے کیوں اپنایا تھا۔ ویسے بھی پرُاسرار انسان ہمیشہ مقبو ل رازوں کی طرح سب کوہی مزہ دیتے ہیں ‘ سو وہ خاندان کے ہر فر د کے فیورٹ ٹاپک کی طرح زیرِبحث رہتے تھے۔ یوں ہمارا گھر اور اس کے طور طریقے کا ذکر خاندان تو کیا محلے کے ہر گھر میں گرم سموسے کی طرح ہاٹ فیورٹ تھا۔ میری آ نکھوں میں لندن شہر کا نقشہ بس چکا تھا۔ میرے دل میں چھپی ہوئی تمنا میرے انگ انگ میں پھوٹتی تھی لیکن اس ساری کہانی میں ‘ میں بے خبر رہی کہ سلیم بھائی کے دل کابھی یہی روگ تھا۔ جو بیٹھے بٹھا ئے لندن جانے کی سوچ ڈالی بلکہ راتوں رات عمل بھی کر لیا اور ایک دفعہ پھر ہم سب حیران وپریشان رہ گئے۔
’’گڈُ ی اور رانی کا کیا ہو گا بیٹا!‘‘نانی کا لہجہ آ زردہ ہو رہا تھا اور میں اپنے کمرے سے صاف صحن میں ہونے والی دل گرفتہ بحث سن سکتی تھی۔
’’میں کیا کر سکتاہوں ۔‘‘ کم گوئی اور سرد لہجے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ سلیم بھائی نے دونوں فرق مٹا ڈالے تھے۔ یہ کہتے ہوئے سر د بھی تھے اور اختصار سے کام لے کر اجنبیت بھی دکھا چکا تھے کہ ہم دونوں بہنوں کی اہمیت سرے سے نہیں تھی جو پاکستان جیسے ماحول میں اکیلی رہیں عزت سے یا نہیں ‘ انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔
’’ بیٹے تم ان کی آس ہو ۔ تم اس گھر کے بڑے اور باپ کی جگہ ہو !میں اکیلی جوان لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔!‘‘ نانی اماں نے دانستہ آگے کچھ نہ کہا ہو گا یا پھر ان کا آنسوؤں سے بھیگا ہوا لہجہ آ گے نہ چل پایا ہو گا یا پھر اپنی خودداری کو مزید رُسوا نہ کیا ہو گا۔ بقول ان کے احتجاج بھی رسوا کر دیتا ہے۔ وہ ساری رات نانی اماں نے جاگ کر گزاری تھی۔ میں خود بظاہر سورہی تھی مگر ان کی ہر کروٹ پر سینکڑوں آ نسوؤں کی بارش میں بھیگتی رہی تھی۔ آنکھوں کی دل سے آنکھ مچولی کا کھیل میرے لیے نیا نہیں تھا۔ ہر طر ف خاموشی تھی۔ ویرانی تھی۔ بے حسی ‘ غیریت ‘ اجنبیت کی اداسی تھی۔ اس موسم میں سلیم بھائی میرے خوابوں کے شہر لندن کے لیے اُڑ گئے لیکن وہ ابا جان کے بازوؤں میں نہیں گرے بلکہ اپنے دوست کے پاس رہنے کو ترجیح دی۔ شاید وہ بھی کوئی حد پار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد دو فون آئے تھے۔ ایک سلیم بھائی کے خیریت سے پہنچ جانے کا ‘ دوسرا ابا ّ جان کا کہ ڈرنے کی ضرروت نہیں ہے۔ آ رام سے رہو میں زیادہ پیسے بھجوا دو ں گا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب نانی اماں کی نوکری میں چوکی داری بھی شامل ہو گئی تھی ‘ سوپگار بھی بڑھ دی گئی۔ اس ساری کہانی میں نانی اماں کا کیا قصو ر تھا۔ جو جوان بیٹی کی لاش روزانہ اٹھاتی تھیں اور دفنا دیتی تھیں۔ میری اور رانی کی صورت جب دیکھتیں ایسا ہی کرتی ہوں گی۔ صرف مری ہوئی اکلوتی بیٹی کے رشتے سے جڑا ہر رشتہ نبا ہتے نباہتے کہا ں تک پہنچ گئی تھیں یا پتا نہیں شاید دنیا میں کہیں باپ اور بھائی بِکتے ہو ں گے جو ابا جان پیسے بڑھا کر بھجوانے والے تھے کہ بازار سے خرید لائیں یا پھر انگریزوں نے ہر رشتے کا طلسم ختم کر رکھا تھا۔BROKEN HOUSEکے بچوں کی طرح لاوارث سے‘ سب سے ’’چچ چچ ‘‘ کی شکل میں ہمدردیاں سیمٹتے اور اُلجھ اُلجھ کر خود بھی اُلجھی ہوئی ذات کی طرح پھرنے لگے تھے لیکن ان سارے عذابوں سے میں رانی کو دور رکھنا چاہتی تھی۔ اس لیے اسے بہلاتے بہلاتے میں خود بھی بہل جاتی ۔ ہم دونوں کو ہنستا دیکھ کر نانی اماں بھی مطمئن ہو جاتیں اور ہر وقت مشغول رہتیں ۔ سینا پرونا ‘ کڑھائی کروشیا ‘ سویٹرسلائی ‘ کھانا پکانا غرض ہر کام میں طاق اور سلیقہ مند سی باوقار نانی اماں نے ہم دونوں میں کوٹ کوٹ کر سب کچھ بھر دیا تھا۔
میں کبھی جزبز ہو تی تو ہمیشہ کہتیں ۔ ’’ ہنر اور حسنِ سلوک کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ ایسا انسان کبھی ذلیل اور رسوا نہیں ہوتا۔ ‘‘ سر شام ہم لوگ دروازوں پر تالے ڈال کر خود کو اللہ کے حوالے کر کے ایک کمرے میں جمع ہوجاتے۔ بیچ میں رانی سوتی تھی۔ دائیں طرف نانی اماں جو دروازے کے قریب جگہ تھی۔ بائیںطرف میں ‘ میری جگہ کے ساتھ ہی ٹیبل تھا۔ جس پر نیشنل کا ریڈیو تھا۔ جس نے پہلی دفعہ مجھے سلیم بھائی سے ذہنی طور پر علیحدہ کر دیا تھااور دلی طور پر قریب اور رنجیدہ تر۔ جب میں اسے دیکھتی ‘ سب کچھ یا د آ جاتا بلکہ بار بار آتا۔ اُن کو گئے کئی برس ہونے کو آئے تھے۔ لیکن کوئی پتہ وغیرہ ہمیں نہ مل سکا تھا البتہ ہر مہینے اباجان کے فو ن اور پیسو ںسے پتہ لگتا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے ایم بی اے کر لیا تھا اور پھر شادی کر کے ہمیشہ کے لیے کینیڈا شفٹ ہو گئے تھے۔ شادی میں اباجان تک شریک نہ ہوئے تھے اور نہ ہی بروقت اطلاع کی تھی انہوں نے۔ بہت بعد میں وہ ملنے آئے تھے اور کہنے آئے تھے کہ ایک بہت بڑی اچھی آفر پر کینیڈا جارہے ہیں۔
یہ خبر ہم تینوں کو ہلا گئی تھی مگر ابا جان نے اتنے سکون سے سنایا جیسے کسی جاننے والے کی اطلاع دے رہے ہیں۔
میرے لندن کے خوابوں میں ایک اور چھپا ہوا خواب آملا کہ کاش ‘ میں سلیم بھائی کودیکھ سکو ں۔ شاید اب وہ بھول گئے ہوں یا ہمیں یاد کرتے ہوں۔ کاش یہ سب ان کا خول ہو ‘ ماسک ہو جو آسانی سے جینے کے لیے پہن رکھا ہو۔ حقیقت میں وہ بہت خیال کرنے والے اور محبت کرنے والے نکلیں ۔ ہائے ‘ میری سیکریٹ فینٹسی !!میرا ان سے تعلق ایک روگ کی طرح چمٹ گیا تھا۔ میں کسی سے کہے بغیر کسی کو بتائے بغیر انہیں اپنی عدالت میں بری کر چکی تھی اور ہمہ وقت ان کے لیے سراپا دعا بن گئی تھی۔ شاید ہر بہن ہی ایسی ہوتی ہو یا پھر میں بے وقوف تھی۔ نانی اماں مجھے ہمیشہ سمجھایا کرتیں کہ ’’سجن او جیڑا کنڈ پہچانے۔ ‘‘ یعنی اپنا وہ ہوتا ہے جو یہ جانے کہ اس کے بعد میرا اپنا کس حال میں ہے ۔ سو ان کے خیال میں سلیم بھائی سجنوں کی لسٹ میں سرے سے ہی نہ آئے تھے۔ جب وہ یہاں تھے ‘ تب کون سی خبر رکھتے تھے۔ وہ تو ہم سب کو ہی ان کی اتنی خبر رکھنی پڑتی تھی کہ احساس ہی نہ ہوتا تھا کہ انہیں ہماری خبر ہے کہ نہیں۔ ان کی کوئی رائے نہ ہوتی تھی۔ بس حکم ہی ہوتے تھے کہ یہ ہونا ہے ۔ یہ نہیں ہونا ہے۔ یہ آئے گا‘ یہ نہیں آئے گا۔یہ کھانا پکے تھا‘ یہ نہیں ۔انہیں اس بات سے مطلب نہیں تھا کہ ایسا واقعی ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ انہیں صرف اس بات سے مطلب تھا کہ ان کے سامنے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی موجودگی میں ایسے نہیں آنا چاہیے۔ جسے وہ پسند نہیں کرتے ۔ آگے پیچھے چاہے جو کوئی بھی آئے ۔ انہیں صرف اپنی ذات اور خواہشوں سے مطلب تھا۔ ماں جی دل برداشتہ ہو جاتی تھیں اور اکثر کہتیں تھیں۔ ’’ شکر ہے تمہارا باپ یہاں نہیں رہتا ورنہ ایک حاکم اور ہو جاتا اور دوگنی خاطر داری اور غلامی بھی ہوتی۔‘‘مگر ایک ماں کی طرح انہیں بھی آس تھی کہ وہ ان کو سمجھ لے گا لیکن جیسے ہی انہیں سمجھ آ ئی کہ جس طرح برفیلے علاقوں میں صرف ٹنڈ منڈ درخت ہی رہ جاتے ہیں‘ اسی طرح ان کا بیٹا سرد لہجے کے ساتھ ٹنڈ منڈ ہی رہتا ہے۔ انہیں ان کی دعاؤں کی حدت ‘ میری خاموش محبت اور نانی اماں کی سر زنش بھی نہیں پگھلا سکی تھی۔ سووہ کینسر میں کھو گئیں اور پھر چلی بھی گئیں ۔ہم سب حیران ہی رہ گئے تھے کہ اتنی خاموشی سے بڑی کم عمری میں وہ رشتوںکے سارے راز وانداز سمجھ گئی تھیں جسے سمجھنے کے لیے زمانے لگتے ہیں اور ایک لمبی عمر چاہیے ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک عمر ہماری نانی اماں جی رہی تھیں ۔ آزمانے سے لے کر نتیجے تک وہ جینا چاہتی تھیں اور میں چونکہ بے حد مثبت اور پرُ امید سوچ لیے رہتی تھی جو عین میری عمر کا تقاضا بھی تھا سو ہر نئے آنے والے دن کو ایک دن پہلے ہی خواب کی طرح اپنے کنٹرول میں رکھ لیتی تھی اور نئے سرے سے خود کو ناامیدی کے لیے تیار کرلیتی تھی۔ میں ایک یقین کے ساتھ اپنی امید کی زمین پر مضبوطی کے کھڑی تھی اور کھڑی ہی رہی ۔ میں آخری سانس تک سلیم بھائی کا انتظار کر سکتی تھی۔ وہ میرے بھائی تھے۔ ان کا ایک مقام ایک رتبہ تھا ‘میرے دل میں ۔ وہ نہ ہونے کے باوجودہر وقت گھر میں محسوس ہوتے چلتے پھرتے ۔ کبھی کبھی کچھ کہتے ہوئے ۔ کبھی میں سوچتی کہ اگر وہ پُر بہار ہوتے ۔ ذرا سے شوخ ہوتے ۔ دلداری سے لے کر خبرداری تک کے ہنر سے واقف ہوتے تو کیا ہوتا۔ شایدماں جی کو کینسرنہ ہوتا اور نہ میں ذود رنج ہوتی۔ میں واقعی ہو بھی جاتی جو رحمان میری زندگی میں نہیں آتے ۔ رحمان نانی اماں کی چوائس تھے۔ پڑھے لکھے۔۔۔ سرکاری عہدے دار ۔ ابا جان آئے اور مجھے ان کے حوالے کر گئے لیکن سلیم بھائی نہیں آئے حالانکہ ابا جان بتا رہے تھے کہ انہیں اطلاع کر کے آیا ہوں ۔ کتنی بار فون بھا گ بھاگ کر اٹھایا۔ پوسٹ مین کا راستہ دیکھتی رہی مگر جس طرح تعلق کی کوئی حد نہیں ہوتی ‘بے تعلقی کی بھی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ میرے تعلق کی بھی کوئی حد نہ تھی اور سلیم بھائی کی بے تعلقی کی بھی کوئی سرحد نہ تھی۔
’’ مر و یا جیو اُن کی بلا سے ۔ ‘‘رانی نے وہ سب غصے میں کہہ دیا جو میں صرف دل ہی دل میں کڑھ کر کہا کرتی تھی۔
’’ بری بات غصہ بزدل نکالا کرتے ہیں ۔‘‘رحمان نے رانی کے سرپر ہاتھ رکھتے ہوئے ہم سب کو چونکا دیا ۔
’’میں سوچتا ہوں ‘ نانی اماں کہ سلیم بھائی کو اس قدر بے حس نہیں ہونا چاہیے مگر آ پ لوگوں کو بھی داد دینی پڑتی ہے کہ سوائے ان کے حوالے سے خود کو اپ سیٹ کرنے کے کوئی اور کام ہی نہیںہے۔ خدا جانے وہ کس حال میں ہوں گے۔ ہوسکتا ہے وہ شرمندہ بھی ہوں اور جانے وہ کیا کیا دلائل دے رہے تھے اور میرا دل جانتا تھابڑے یقین کے ساتھ کہ ہم سب ان کا دل رکھنے کے لیے سرہلا کر اپنی بے وقوفی کا اعلان کر رہے تھے یا پھر رحمان ہی کا دل رکھنے کے لیے مسکرا رہے تھے اور آ ئے ہوئے آنسوؤں کو گرنے سے بار بار بچا رہے تھے ۔ ہمارے گھر میں پہلا فرد اس طرح کا آ گیا تھا جس کے محور پر ہم تین عورتیں گھو متی تھیں اور انہوں نے کسی کو بھی مایوس نہ کیا۔
نانی اماں کا بیٹا بن کر۔
رانی کے بھائی بن کر۔
میرا سب کچھ ہو کر ۔۔۔!! پناہ گاہ ‘ تحفظ ‘ بر فیلی ہواؤں کی زد میں بھی رہ کر ہرا بھرا درخت میرا تھا اور صرف میرا۔۔۔!!
’’ کیا سوچتی رہتی ہو؟‘‘انہوں نے انتہائی محبت سے میرے سرپر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔
’’نانی اماں اور رانی اکیلی ہو گئی ہیں۔ ابا جان لندن میں تنہا رہ گئے ہیں۔ سلیم بھائی کینیڈ امیں الگ رہ گئے ہیں۔ ‘‘
’’ اور تم میرے ساتھ تنہا رہتی ہو؟‘‘ انہوں نے میری بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔
تومیں بے ساختہ کہہ اٹھی ۔ ’’ آ پ کے ساتھ میں ایک دنیا میں رہتی ہوں ۔ تنہا ہونے کا وقت نکالنا پڑتا ہے لیکن اب سوچتی صرف یہ ہوں کہ رانی کی شادی کے بعد نانی اماں کا کیا ہو گا۔‘‘ میری آنکھوں سے جھر جھر آنسو بہہ رہے تھے۔
’’ہوگا؟‘‘ وہ ہمارے ساتھ رہیں گی‘ ہماری اماں بن کر۔‘‘ رحمان نے جیسے میرے مسائل اپنی پلکوں سے چن لیے تھے۔ میرا بس چلتا تو رُواںرُواں اپنے مہربان کے قدموں میں ڈال دیتی۔ آ دمی کا یہی رخ میری کمزوری تھا۔ بہادری سے موسموں کی سختی گرمی کو جھیلنے والا ۔ ہر مسئلے کے حل والا ۔ سبھی کا محافظ ۔ ایک تناور درخت کی طرح خود دھوپ میں رہ کر سب کو دھوپ اوربارش سے بچانے والا انسان بجا طورپر دل میں رہنے کے لیے تھا۔ یہی روپ میری ماں کی آنکھوں میں بسا رہتا تھا۔‘ لیکن حسر ت ان کانصیب بنی رہتی۔ پھر ایسا ہی روپ میری نانی اماں کی آنکھوں میںابھراتھا‘سلیم بھائی کے لیے کہ وہ ایسا ہی جواںمرد ہو گا۔ حوصلہ مند‘ اپنے گھر کو چھپر چھاؤں دینے والا لیکن پھر حسرت نے گھر کی چوکھٹ نہ چھوڑی۔ اب رحمان نے میری زندگی میں آکر مجھے حسرت سے بچا لیا تھا۔ مجھے خوش نصیب بنا دیا تھالیکن پھر بھی رات کے کسی نہ کسی پہر سب کچھ یاد آتا۔
ادھورا گھر ۔۔۔
ادھورا بچپن ۔۔۔
ادھوری محبتیں ۔ ۔۔
جب اتنا کچھ ادھورا رہ گیا ہو تو پورا ہوتے ہوتے بھی عمر بیت جاتی ہے۔ شاید سب کچھ اچھا ہی رہتا جو نانی اماں فوت نہ ہو جاتیں ۔ چند دنوں کی بیماری یہ رنگ لائے گی‘ کسے خبر تھی۔ یوںلگ رہا تھا‘ جیسے اب ماں چلی گئی ہو۔ ماں جی کے ساتھ سے دوگنا ساتھ ان سے ہمارا تھا۔ رحمان اگر ساتھ نہ ہوتے تو شاید یہ غم اس طرح کا نہ ہوتا کہ سنبھالا جاسکتا۔ وہ کہا کرتی تھیںکہ ’ماں تو چوکی دار ہوتی ہے‘ سو ہمارا چوکی دار چلا گیا۔ یوںلگ رہا تھا‘ جیسے گھر کے بند دروازے کھلے رہ گئے ہوں۔ ان کی باتیں ‘ حکمتیں ‘ محبتیں ‘ قربانیاں کتنا کچھ یاد کرنے کو ‘ دہرانے کو رہ گیا تھا۔ اس دفعہ اباجان آ ئے تو رانی کو ساتھ لندن لے گئے۔ جب ان کا جہاز اُڑا تومیں ایک لمحے کو اس بھرے شہر میں اکیلی رہ گئی تھی۔ کتنے دنوں تک تومجھے ہوش ہی نہ آیا تھا۔ ہمارا گھر لمحہ لمحہ بکھر گیاتھا۔ پوری دنیا میں دھوپ بارش کی طرح سب اپنی اپنی جگہ بس رہے تھے۔ ایک بے قراری کو کہیں قرار نہ تھا۔ اسی بھاگ دوڑ میں کچھ مہینے اور گزرے تو میں اسامہ کی ماں بن گئی ۔ ایک نیا تجربہ ۔ ایک نئے خواب نے مجھے چونکا دیا تھا۔
میں بہلنے لگ گئی۔ کام صبح سے شروع ہوتے تو رات پر ختم ہو تے بلکہ ختم کرنے پڑتے ۔ رانی کے خط سے پتا چلا کہ وکالت کے لیے اس نے مختلف کالجوں میں اپلائی کر دیاہے۔ اور احتیاطاًکینیڈا میں بھی۔ اور اباجان کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ہو بہو سلیم بھائی جیسے ہیں۔ اس لیے شروع میں دِقت ہوئی کہ کبھی ان کے ساتھ رہے نہیں اس لیے سمجھ بھی نہیں تھی۔ اب سب کچھ پتا لگ گیا ہے اور اب مجھے ان کی پرُ اسرار سرگرمیوں سے زیادہ اپنے کیریئر کی فکر ہے۔
’’ دیکھا تم نے ‘ رانی نے جینا سیکھ لیا ہے۔ تم بھی کچھ سیکھ لو ۔‘‘ رحمان نے میرا دھیان اس طرف لگاتے ہوئے کہا۔
’’ سیکھنا کیسا اُس کو لندن کی ہوا لگ گئی ہے۔ ویسے ابا جان کے ساتھ رہ کر اور کیاسیکھنا تھا۔‘‘ میں دل ہی دل میںاداس ہوگئی تھی۔ جانے اپنی بہن کی دوری پر یا پھر اپنی نئی تنہائی پر یاپھر رانی کی بے پروائی اچھی نہیں لگی تھی۔
’’آخر تم اتنی زودحس اور جذباتی کیوں ہو! تمہیں صرف اپنے گھر اور بچوں کی فکر کرنی چاہیے۔ جس طرح اور سب کرتے ہیں۔ ‘‘ رحمان کی بات میں حیران رہی گئی تھی ‘ وہ کیسے تہہ در تہہ مجھ تک پہنچ جاتے تھے۔
’’ کوشش کروں گی۔‘‘ میں ان کے سینے سے لگی کانپ رہی تھی‘ رو رہی تھی ‘ اپنے ادھورے پن پر۔ اپنی کم مائیگی کا غم منا رہی تھی جس نے مجھے کبھی آزاد نہ رہنے دیا تھا۔ شوخی سے اڑنے نہ دیا تھا۔ کھل کر ہنسنے نہ دیا تھا۔ وہ سارا وقت جس پررحمان اور اسامہ کا حق تھا‘ وہ لے لیا تھا۔ یہ چاہتے ہوئے بھی کہ میں اپنے بچوں کو کوئی ادھورا پن نہ دوں گی۔ چاہے ایک وقت کی روٹی کھاؤں یا معمولی سے مکان میں رہوں ۔ بھلے پہننے کو دو جوڑے کم قیمت بھی ہوں تو شکر کروں گی مگر مکمل رفاقت ذہنی اورجسمانی سبھی کچھ انہی پرنثار کردوں گی پھر کافی دنوں بعد رانی کا فون آ یا اور اس نے بتا یا کہ اسے کینیڈا میں وکالت میں داخلہ مل گیا ہے اور وہ ہوسٹل جا رہی ہے۔
’’ او ر ابا جان کا کیا ہو گا؟‘‘ میں نے سمجھانے والے انداز میں پو چھا۔
’’ وہی جو مجھ سے پہلے ہوتا ہوگا۔ ‘‘اس کے لہجے کی بے پروائی پر میں رات رات بھر انگاروں پر رہی ۔ باپ کی خدمت کا خواب جو دن رات میری آنکھوں میںمنڈلاتا رہتا تھا‘ وہ رانی کی قسمت ٹھہرا تھا مگر وہ قدر نہ کر سکی اور شاید یہ میرے باپ کے لیے خدا کی طرف سے سزا تھی جو اس نے ماں جی سے بلا وجہ بے اعتنائی دِکھا کرکی تھی۔ ان کی وفا‘ حیا ‘کسی کی بھی تو قد ر نہ کی تھی بلکہ ساری عمر ہر رشتے کو پیسے سے تولتے رہے تھے سو بیٹی اور بیٹے والے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹتے کاٹتے لہولہان ہوتے ہوںگے مگرکہہ نہیں سکتے ۔ بزدل جو ہوئے یاپھر اَنا پرست ۔ کاش محبت نے آ پ کے دِل پر دستک دی ہوتی تو آپ نہ تو بزدل ہوتے اور نہ انا پرست اور شاید سزا کے اتنے طویل دوربھی نہ ہوتے۔۔۔ بوڑھے ہو کر سب کچھ کرنا پڑتا ہوگا۔
سنا ہے کہ باہر کے ملکوں میں نوکر بھی عام طور پر نہیںملتا۔ سارے کام جنہیں کر کے میںتھک جاتی ہوں ‘ اپنے ہاتھ سے کیسے کرتے ہوں گے۔ کتنی بار آنکھیں بھیگ جاتیں ‘ تصور ختم نہ ہوتے تھے ۔ نوالے اٹک اٹک کر اُترتے تھے لیکن پاگل پن کا علاج کہیں نہ تھا تاہم اب میں اداکاری کرتے کرتے کریکٹر ایکٹر ہو گئی تھی۔ رحمان کو شبہ ہوتا نہ اسامہ کو۔ سب مگن ‘سبھی خوش تھے۔ رانی کے خط سے پتہ لگا کہ سلیم بھائی اس سے ملنے آتے ہیں۔ کبھی کبھی ویک اینڈ پروہ بھی ان کے گھر جاتی تھی۔ بھابی اچھی ہیں مگر بھابی ہیں اس لیے احتیاط کرتی ہوں ۔ سلیم بھائی آتے ہیں اور خاموشی سے جس جگہ بیٹھتے ہیں وہیں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔نہ کچھ کہتے ہیں‘ اور نہ ہنستے ہیں بس چُپ چاپ رہتے ہیں ۔ میں بعض وقت گھبرا جاتی ہوں اِدھر اُدھر ہو جاتی ہوں ۔ ان کے آ نے سے میں ڈسٹرب ہو جاتی ہوں اس لیے بہانہ بنا کر اکثر ٹال بھی دیتی ہوں ۔ یہ سب پڑھ کر میں کتنا روئی تھی۔ یہ رانی کا مزاج کب سے ایسا بے حس ہو گیاتھا۔ باکل انگریز ہو گئی ہے۔ اپنے پرائے کا فرق ہی نہیں سمجھتی ۔ پھر نصیحتوں سے بھرا پانچ صفحات کا خط اسے بھیج ڈالا حالانکہ میں نے اسے وہ سب کرنے کو کہا تھا جو مجھے کرنے کی حسرت تھی ‘ خواہش تھی۔ خدمت ‘ جاں نثار ی ‘ بے لوث پیارمیرے اندر سرتا پیر بہتا تھا اور میرا باپ اکیلا ‘ میرا بھائی تنہا تھے اور میری بہن جس کو شاید ہم سب نے بے حس بنا ڈالا تھا‘ مزے سے رہ رہی تھی۔ واقعی وہ خوش اور مگن تھی یاسزادے رہی تھی خود کو۔ میں فیصلہ نہ کر پائی تھی!
سلیم بھائی کو دیکھے مجھے تیس برس سے بھی زیادہ ہو چکے تھے لیکن وہ روزاول کی طرح مجھے ازبر تھے ۔ چھ فٹ تین انچ قد۔ چھریرا بدن ۔ سلیقے سے بنے مال۔ جب وہ سفید کرتا پاجامہ پہن کر نکلتے تو ماشاء اللہ کہنا پڑتا ۔ وہ اپنے حسن سے لاپرواہ ہوکر بھی بے حد و جیہہ اور شکیل تھے۔ جانے اب کیسے ہو گئے ہوں گے۔ یقینا گریس فل سے ہوں گے۔ بال گرے ہو چکے ہوں گے یا کھچڑی پک رہی ہو گی لیکن پھر بھی اچھے لگتے ہوںگے۔ بچے نہیںہوئے‘ کبھی کبھی غم ہوتا ہوگا۔ بیوی کوبھی بہلاتے ہوں گے۔ یار دوست اتنے پیارے اور ذہین دوست کی دوستی پر نازاں ہوتے ہوں گے۔ کبھی توانانی اماں ‘ ماں جی اورمیںیاد آ تی ہوں گی۔ دل کرتا ہو گا مجھ سے ملنے کو۔ خاندان کے واحد بچے اسامہ کو دیکھنے کی خواہش ہوتی ہو گی۔ جو ہو بہو اُن کے نقش اور قد لے کر آیا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے سلیم بھائی TEEN AGERمیں گھوم رہے ہوں۔ زندگی کو جیسے پہئے سے لگے ہوئے تھے۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا لیکن میں پہروں ‘ گھنٹوں اپنی دنیا میں گھومتی پھرتی ۔ روز صبح ہوتی اور یونہی تانے بانے بُنے جاتے۔ سارے الزام ایک دوسرے پر رکھ کر اور پھر شام تک سزا سے بری بھی کر دیتی‘ یونہی رات بھی گزر جاتی ۔ سب کو ایسے ہی میرے ساتھ رہنے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ ایک دن رانی کا فون بے وقت آگیا۔
’’ خیر تو ہے نا!‘‘ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔
’’ہاں ‘ سلیم بھائی آپ کے پاس رہنے کو آ رہے ہیں۔ ‘‘
’’ کیا!‘‘ مجھ پر ایسی کیفیت تھی کہ اگر رحمان مجھے تھام نہ لیتے تو میںشاید گر جاتی۔
’’آج یہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ میری بات کراؤاُن سے ۔‘‘ میرا اشتیاق قابل دید تھا۔
’’اب ان سے کوئی بات نہیں کر سکتا باجی!‘‘ رانی کی سسکیاں مجھے وہ سب کچھ بتا رہی تھیں جو میں خواب میں سننا چاہتی تھی۔ بتیس برس بعد میرا بھائی آ ئے گا۔ جسے میں صرف دیکھ سکوں گی ۔ وہ نہ مجھ سے کچھ کہے گااور نہ میں بتا سکو ں گی اور میں اسے چھو بھی نہ سکو ں گی۔ اس لیے کہ وہ شیشے کے گھر میں آئے گا۔ اس کے جسم اور منہ پر کیمیکل ہو ں گے۔ جو اس نے صرف میرے لیے لگوائے ہیں کہ وہ آخری سفر میرے سامنے کر نا چاہتا ہے۔
’’کیوں کی ایسی خواہش انہوں نے ؟‘‘میں سکتے میں تھی۔
رحمان مجھے کندھے سے لگائے آ ہستہ آہستہ بتا رہے تھے کہ سلیم بھائی نے میرا پانچ صفحوں کا خط پڑھ لیا تھا جسے پڑھ کر وہ بہت روئے تھے اور پھر اکثر روتے رہتے تھے۔ بالآ خر بیمار پڑ گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ کہ سگریٹ نوشی کی کثرت نے انہیں کینسر میں مبتلا کر دیا ہے اور یہ مرض لا علاج ہے۔ جب انہیں پتا چلا تو انہوں نے خواہش ظاہر کی ‘ وہ وطن جانا چاہتے ہیں۔ آ خری وقت وہ میری محبت کی چھاؤں میں گزارنا چاہتے ہیں اور مرنے کے بعد ماں جی کے ساتھ سونا چاہتے ہیں پھر وہ آگئے اور ہمیشہ کے لیے بچھڑ بھی گئے اور ان سے ملنے کا ‘ ان کو دیکھنے کا ‘ ان کے ساتھ رہنے کا خواب ‘ میری ساری خواہشیں ایک ایک کر کے دفن ہو گئیں ۔ میری آنکھوں میں یہ آخری لمحہ ٹھہر گیاتھا۔ اس کے بعد میرا کوئی وہم باقی نہ بچا تھا۔ میرے پاس ایک بھی امید باقی نہ رہی تھی۔ بس یاد تھا تو اتنا‘ میرا برف جیسا سفید اور سرد بھائی اندر سے بڑا گرم تھا۔ وہ تنہائی کی آ گ میںتپ تپ کر کندن ہو گیا تھا۔ اس نے میرے سارے ملال‘ سارے دکھ‘ سارے سارے گلے شکوے ایک چُپ میں چُھپالیے تھے اور مجھے اپنی محبت کی ذمے داری سے آزاد کر گئے تھے۔مگر اب کی بار اپنوں کی طرح اپنوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر زیرکر گئے تھے ۔ اپنے ساتھ وہ سب کو واپس لے آئے تھے۔ اباجان اور رانی پھر واپس نہ جاسکے ۔ سارے خزانے تو یہیں دفن تھے۔ ان کی حفاظت بھی تو کرنی تھی۔ صبح سے شام حاضری بھی تو دینی تھی۔ سو یہ ذمے داری ابا جان نے اٹھالی تھی۔ میںہر رات پچھلے پہر تک ساری کہانی دہراتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ اگر ہم سب ساتھ مل کر رہتے اور دکھ سکھ شیئر کرتے تو کسی کو بھی تنہائی کا کینسر نہ مارتا اور نہ ہی ایک دن میں ایک عمر جی لینے سے تھکن ہوتی۔

-----------------------------------------------------