تصور میں میرے کچھ ایسے الہام کشید ھوتے ھیں
جیسے
کہیں دنیائے عشق ھے جہاں خواب مہمیز ھوتے ھیں
تقویم ٍماہ و سال میں بسر پھر شام و سحر ھوتے ھیں
اور کو ئی نقش و نشان بھی تو شکستہ نہیں ھوتے ھیں
میری جان
انہیں راتوں میں ایک شب ایسی بھی بسر ھوتی ھے
جیسے
معراج ٍ عشق میں وصل یار کی تمثیل امر ھوتی ھے
اس رات
جھک کر آسمان جب زمین کے پاؤں چھو لیتاھے
تب
ایک آگ نئی آگ میں جل کر جلنے لگتی ھے
جیسے
دو روحیں
خوشبو کی ردا اوڑھ کر براق پہ اڑنے لگتی ھیں
شراب ٍ طہور کے نشے میں بے خود جھومنے لگتی ھیں
جانے کیسے
کیف و نشاط کی چاندنی زمین پر اتر آتی ھے
اور
گلاب کی چادر پر آیات عشق پڑھتے
پوری رات بیت جاتی ھے
ایسے میں
جب
صبح کے سورج کی پہلی کرن رات کے ماتھے پر الوادعی بوسہ دیتی ھے
تو جیسے پیاسے خوابوں کے تشنہ دہن ٹھندی اوک سے بھیگ جاتے ھیں
اور پھر
سارے خواب فتح مبین پڑھنے لگتے ھیں
|