دہلی سے پشاور تک

پاکستان میرے دل میں اس طرح بسا ہوا جیسے یہ خوابوں کا ملک ہو ، میں نے اس ملک کو کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا کہ یہ کوئی غیر ملک ہے بلکہ ہمیشہ یہی جانا کہ یہ ہمارے ملک کا ہی ایک حصہ ہے جو اب ہم سے الگ ہو گیا ہے۔لیکن یہ سرزمین دو سرحدوں میں بٹ جانے کے بعد بھی ایک دوسرے سے الگ نہ ہوسکی اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دو ممالک کے درمیان ہزاروں برس کے جذباتی ، ثقافتی ، تہذیبی اور اقتصادی روابط رہے ہیں اسی لیے ہزار کدورتوں کے بعد بھی ان رشتوں کو نہ تو ختم کیا جاسکا ہے اور نہ ختم کیا جاسکتا ہے ۔اب بھی پاکستان اور ہندستان کے لوگ ناہموار سفارتی تعلقات کے باوجود ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ملنے کی آرزو لیے ہوئے جی رہے ہیں ۔ اب تک مجھے کوئی ایسا پاکستانی نہیں ملا جو ہندستان آنے کی تمنا نہ رکھتا ہو ۔ یا ہندستانی نہیں ملا جو پاکستان جانے کی خواہش نہ رکھتا ہو ۔دنیا میں یہی دو ممالک ایسے ہیں جو فطری اعتبار سے ایک دوسرے سے قریب تر ہیں اور سیاسی روابط کے اعتبار سے بہت دور۔شاید دنیا میں یہ ایسے ممالک ہیں جہاں کا ویزا حاصل کرنا سب سے مشکل ہے اور اگر مل بھی گیا تو مخصوص شہر اور مخصوص مقامات کے لیے ، اس پر طرہ یہ کہ آپ جہاں جہاں جائیں پولیس تھانے میں رپورٹ کرائیں ۔یہ سلوک دونوں طرف سے ہوتا ہے لیکن انہی ممالک میں اگر ہندستانی اور پاکستانی کے علاوہ کوئی غیر ملک کا شہری آتا ہے تو نہ اسے رپورٹ کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور نہ کسی خاص مقام یاشہر کی پابندی اس پر عائد ہوتی۔جس ملک کے باشندے ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں ان پر اتنی پابندیاں اور جن کا کوئی واسطہ نہیں وہ پاکستان یا ہندستان کی گلی گلی کی خاک چھان سکتا ہے۔جو سچا ہندستانی یا پاکستانی ہے وہ سفارتی جواز کے ساتھ اپنے پڑوسی ملک میں جا کر کوئی غلط کام نہیں کر سکتا ، اور غلط کام کرنے والے سرحد پر ہزار چوکسی برتنے کے بعد بھی دراندازی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اس لیے دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ ان ناروا اصولوں اور ہتک آمیز سلوک سے اپنے اپنے شہریوں کو بخش دیں ۔کیونکہ جس قدر آمد ورفت کا سلسلہ شروع ہوگا اسی قدر غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا ۔

انہی ناروا سلوک سے گزرتے ہوئے میں بھی پشاور یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کی دعوت پر پاکستان (26۔19 جولائی)کے لیے روانہ ہوا۔امیر کاروا ں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر چمن لال ،صدر ہندستانی زبانوں کا مرکز، تھے دیگر ہمراہان ڈاکٹر اخلاق احمد آہن ، ڈاکٹر رمن پرساد سنہا اور ڈاکٹر محمد کنجو تھے۔ ویزا ملنے کی داستان بھی عجیب ہے دعوت نامہ ایک ماہ قبل مل چکا تھا اور سیمنا ر کے موضوع ‘‘ اعلیٰ تعلیم :رجحانات اور امکانات’’پر مقالے بھی تیار کر لیے گئے ، میزبانوں نےکہا کہ 12 جولائی تک ویزا مل جائے گا اور آپ افتتاحی تقریب میں ضرور شامل ہوں کیونکہ پروفیسر چمن لال کو اس نششت صدارت کرنی تھی۔چمن لال صاحب ،مستقل سفارتخانے کے رابطے میں رہے ،متعقلہ آفیسر نے ہمیشہ یقین دہانی کرائی کہ وقت پہ ویز امل جائے گا مگر 12 سے ۱۷ تاریخ بھی گزر گئ اور ویزا نہ مل سکا ۔اچانک 17کی شام سفارتخانے سے فون موصول ہواکہ آپ حضرات تشریف لائیں اور ویزا لے جائیں ۔آفیس کے اوقات تقریباً ختم ہو چکے تھےاس لیے حیرت ہوئی کہ یہ کرم فرمائی چہ معنی دارد ؟اسی موضوع پہ ہم احباب گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ہمارے میزبان ڈاکٹر ارباب آفریدی ، صدر پشاور یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن و صدر آل پاکستان یونیورسٹی ٹیچرس و اسٹاف فیڈریشن کا فون آیا کہ ہم نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے سخت احتجاج کیا ہے کہ ہمارے ہندستانی دانشوروں کو کن اسباب کے تحت ویزا نہیں دیا گیا ؟اس پریس کانفرنس میں انھوں نے پاکستانی میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ہم پاکستانیوں کو ہمیشہ ویزا ملا اور ہندستانی دانشوروں نے ہمیشہ والہانہ استقبال کیا ہے ۔ اس کے جواب میں ہمارے ملک نے یہ سلوک کیا ہے ۔پریس کانفرنس کے بعد پاکستان کے تما م اخبارات نے اس خبر کو شائع کیا اور تما م ٹی وی چینلس میں اسے کور کیا گیا۔اس کے بعد سفارتی عملہ متحرک ہوااور آپ کو ویزے دئے جارہے ہیں ۔اس طرح ناوقت فون کا رزا معلوم ہوا اور 18 کی دوپہر کو ہمیں ویزا مل گیا اور ہم 19جولائی کی صبح دہلی لاہور بس کے ذریعے سفر پر روانہ ہوئے ۔بس کا سفرہم سبھوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھا ۔دہلی سے واگہہ تک پولیس کی گاڑی آگے آگے چلتی رہی اس کے مخصوص سائرن کی آواز سے لوگ بس کی جانب متوجہ ہوجاتے اور ہاتھ ہلا ہلا کر مسافرو ں کو سفر مبارک پیش کرتے رہے ۔ یہی حال سرحد پار بھی رہا۔واگہہ سے ایک کیلومیٹر کے بعد ہماری بس نہر کے کنارے چلتی رہی یہ بہت ہی خوشنما منظر تھا ۔یہ کنارے دراصل تفریح گاہ تھے ۔بچے، بوڑھے نوجوان نہر میں غوطے لگا رہے تھے نہر کے دونوں کنارے لوگ اپنی فیملی کے ساتھ کہیں چائے پی رہے تھے تو کہیں کھیل کود اور خوش گپیوں میں مشغول تھے ، کچھ عورتیں بھی نقاب کے ساتھ نہر کے ٹھنڈے پانی میں نہا رہی تھیں ۔اسے دیکھ کر ہمارے غیر مسلم ساتھیوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ واقعی یہ عجیب بات ہے ہم نے پاکستان کے بارے میں سنا تھا کہ لوگ بہت ہی قدامت پسند ہیں اور عورتوں پر سخت پابندیاں ہیں ، لیکن یہ تواپنی تہذیب کے ساتھ تفریح بھی کر سکتی ہیں ،یقیناً یہ ہمارے لیے نئی بات ہے۔ بہر کیف واگہہ سے 50 منٹ کا یہ سفر دیکھتے ہی دیکھتے گذر گیا۔سورج کی ڈوبتی کرنوں کے ساتھ ہم لاہور پہنچ چکے تھے ۔ (مگر ذہن میں اس سہانی شام نے جونقوش بنائے وہ ہمیشہ یادگار رہیں گے۔)پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے ایڈیشنل رجسٹرار پروفیسر اورنگ زیب عالمگیر صاحب کو ہم نے بتا یا تھاکہ ہم لاہور آرہے ہیں مگر اسی شام پشاور کے لیے روانہ ہوں گے۔شاید آپ سے واپسی پر ملاقات ہو لیکن ان کی محبتوں کے ذکر کے لیے الفاظ نہیں ہیں ، وہ شام کو اپنی اہلیہ کے ساتھ وہاں موجود تھے ، انھوں نے چائے اور کھانے کے لیے مدعو کیا مگر ہمیں پشاور جاناتھا اور جناب پرفیسر مختار درانی ہمارے استقبال کے لیے پشاور سے آچکے تھے اس لیے ہم لاہور میں بہت دیر نہیں رک سکےلیکن ان کی دعوت قبول کر لی اور 24 جولائی کو لاہور آنے کو وعدہ کرلیا ۔

پشاور میں یہ ضرب المثل بہت مشہور کہ جب لوگ کسی کو خوش مذاقی میں بد دعا دیتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ‘خدا تمہیں کسی پٹھان کا مہمان بنا دے’ یہ بات ہمیں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عظمت حیات خانصاحب نے بتائی جب ہم ان کی دعوت پر ان کے گھر شام کی پُر تکلف چائے پر مدعو تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی علاقوں میں پہلے یہ دستور تھا کہ لوگ اگر ایک دوسرے کے خلاف مہینوں سے سخت جنگ بھی کر رہے ہوتے اور درمیان اگر کوئی مہمان آجاتا تو مہمان کی آمد کے اعلان کے ساتھ ہی جنگ بندی شروع ہو جاتی اور دونوں فریق مل کر مہمان کی خاطر تواضع کرتے۔ اب یہ ہمارے لیے خوش بختی بھی تھی اور حیرانی کا سبب بھی کہ ہم لوگ پٹھان کے مہمان تھے۔ اپنے مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اس کی تشویش اور تشویق میں ہم مبتلا تھے۔ ڈاکٹر مختار درانی کو دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ہمارے ساتھ کیاسلوک کرنے والے ہیں ۔درانی صاحب آٹھ گھنٹے کا سفر طے کر کے ہمیں لینے کےلیے لاہور پہنچے تھے اور اب ہمارے ساتھ بھی انھیں مزید آٹھ گھنٹے کا سفر بذریعہ کار طے کرنا تھا۔لاہور بس اسٹینڈ پر ہمیں دیکھتے ہی لپٹ گئے اور فرط جذبات میں اپنی کہانی سنانے لگے کہ اگرآپ لوگوں کو ویز انہ ملتا تو ہماری تحریک اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہوتا ، ہم نے اپنے حکام سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہندستانی دانشور وں کو ویزا نہ دینے کی وجہ کیا تھی ؟ کیا وہ چور لفگنے ہیں کہ انھیں تعلیمی کانفرنس میں آنے سے روکا جا رہا ہے ، یہ اور اس طرح کی باتیں وہ کرتے رہے تاکہ ہم ویزا کے لیے جن پریشانیوں سے گزرے ہیں اس کا ازالہ ہوجائے۔یہ باتیں ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھیں ہم پاکستان کے خوبصورت موٹر وے پر آگئے ، اس موٹر وے کو فخر ِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔واقعی جس طرح اسے مینٹین کیا جارہاہے وہ قابل تعریف ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ہی ہم قیام طعام کے لیے بنے ایک خوبصورت اسٹاپ پر رُکے۔ انتہائی صاف و شفاف اور کشادہ احاطہ جس میں تمام سہولیات کے ساتھ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بھی تھی۔ یہاں ہم نے چائے پی اور مختار صاحب یہ بھی لیں ، یہ بھی لیں کا اصرار کرتے رہے۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم لوگ کھانے کے لیے ایسے ہی ایک پُر فضا مقام پر رُکے ۔ مختار دارنی صاحب نے انتہائی پُر تکلف کھانا کھلوایااور بار بار وہ یہ پوچھتے رہے کہ باقی احباب کیوں نہیں آئے ۔در اصل انھوں نے ہندستان سے 16 لوگوں کو مدعو کیا تھا ،آنا تو سب چاہ رہے تھے مگر ہم پانچ دیوانوں کی طرح کو ئی اور نہیں تھا کہ محض چھ سات گھنٹے میں سفر کی تیاری کر لیتے۔ اس کا سہرا بھی پروفیسر چمن لال کے سر جاتا ہےجن کی تحریک نے ہمیں اس سفر کا موقع دیا۔

درانی صاحب نے ہمیں بتا یا کہ ہم رات کے ایک بجے تک پشاور یونیورسٹی کے سمر کیمپ باڑہ گلی پہنچ جائیں گے۔ ہم لوگ بس اور کار کے سفر سے تھک چکے تھے، اس کا احساس درانی صاحب کو بھی تھااس لیے وہ ہر طرح سے باتوں میں الجھائے رہے تاکہ راستہ کٹ جائے ۔حالانکہ وہ خود بھی ہم سے زیادہ تھکے ہوئے تھے۔لیکن ان کی دلچسپ گفتگو بھی جاری رہی اور ہم میں سے کچھ احباب میٹھی نیند کی آغوش میں بھی چلے گئے ۔میں فرط اشتیاق سے چاندنی رات میں موٹر وے کے سفر کے نظاروں میں کھویا رہا مگر ایبٹ آباد کے خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں پہنچتے ہی میری بھی آنکھ لگ گئی ۔ ڈاکٹر رمن جاگتے رہےاور دارنی صاحب نے جیسے نہ سونے کہ قسم کھا رکھی تھی۔ صبح کےچار بج رہے تھے جب درانی صاحب کی اس آواز سے میری آنکھیں کھلیں کہ دیکھیں یہ ہمارے سمر کیمپ کا راستہ ہے ،پہاڑوں کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے یہ کچی سڑک تھی جس پر ہماری کار گزر رہی تھی مگر کار میں بیٹھے اکثر لوگوں کے دلوں پر کیا گزر رہی تھی اس کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ ہماری کار اونچائی پر ایک جگہ اچانک رک گئی ۔ اگر خدا نخواستہ یہ پیچھے کی طرف لُڑھک جاتی تو ہم کئی سو گز کی گہرائیوں میں ہوتے، جیسے ہی ہماری کار گڑگڑاہٹ کے ساتھ رکنے لگی ڈاکٹر اخلاق جس تیزی سے نیچے اُترے اتنی رفتار تو ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی ، ان کے جسم میں ہلکی لرزش بھی تھی ، نہیں معلوم یہ یخ بستہ ہواؤں کے سبب تھا یا کچھ اور۔ درانی صاحب اور ڈرائیور ہم سےکہتے رہے کہ گھبرانے کی بات نہیں لیکن ہم میں سے کوئی نہیں رُکا اور ایک ہی لمحے میں ہم سب نیچے اتر چکے تھے۔معلوم ہوا کہ ہم بالکل گیسٹ ہاؤس کے سامنے کھڑے تھے۔اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے ۔ ہمیں صرف اتنا یاد ہے کہ رمن ، اخلاق اور ہمارا ایک ہی کمرے میں سامان پہنچا یاگیا ۔ایک بیڈ پر میں نے اپناہینڈ بیگ رکھا اور لحاف تان کر سو گیا۔صبح کے دس بجے تھے ڈاکٹر ارباب آفریدی ہمارے کمرےمیں آئے تو ڈاکٹر اخلاق نے مجھے جگایا ۔ڈاکٹر آفریدی گلے سے اس طرح لپٹے جیسے کئی برسوں کے بچھڑے مل رہے ہوں ۔انھوں نے ہاتھ ملاتے ہوئے ہم سبھی دوستوں کو پانچ پانچ ہزار روپے پیش کیے اور یہ کہا کہ آج کا دن گھومنے کے لیے مخصوص ہے اس لیے آپ سب ہمارے ساتھ چلیں اور ان پیسوں سے اپنے گھر والوں کے لیے ہماری طرف سے تحائف لیں ۔ ہم نے ہزار کوشش کی کہ یہ نذرانہ قبول نہ کیا جائے مگر بات پٹھان کی مہمان نوازی کی تھی ۔ہم لوگ جلد ہی ناشتے سے فارغ ہوئے ہمارے لیے یونیورسٹی کی مخصوص گاڑی تیار تھی ۔معلوم یہ ہوا کہ دیگر مندوبین صبح ہی دو تین بسوں میں سوار ہوکر تفریح کے لیے نکل چکے ہیں ۔ ہم نے بھی ڈاکٹر آفریدی اور ڈاکٹر درانی کی ضیافت میں سارا دن پہاڑوں کی سیر میں گزارا ۔

دوسرے دن ناشتے کے بعد ہم سیمنار میں ہال میں پہنچے ۔غیر ملکی اور پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں سے آئے مہمانوں سے ہمارا تعارف کرایا گیا ۔ پہلے شیشن کی صدارت پروفیسر چمن لال نے کی۔ یہ ہمارے دوستوں کے لیے انتہائی حیرت کن بات تھی کہ کرتا پائجامہ اور ٹوپی پہنے لوگانگریزی زبان میں ملٹی میڈیا پر جیکٹر کے ذریعے اپنا پیپر پیش کر رہے تھے ، نقاب پوش خواتین نے بھی بہترین انگلش لب ولہجے میں اپنے اپنے پیپر پیش کیے ۔تب اس غلظ فہمی کا اندازہ ہوا کہ پاکستان میں خواتین اتنی ان پڑھ نہیں جتنا کہ ان حوالے سے میڈیا میں خبریں آتی ہیں ۔ سیمنا ر کو موضوع اعلیٰ تعلیم :رجانات اور امکانات تھا۔ اس میں زیادہ تر مقالوں میں پاکستان میں موجودہ تعلیمی صورت حال پر بات کی گئی اور حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے جو منصوبے بنائے ہیں ان کے مثبت اور منفی اثرات پر گفتگو کی گئی ۔سب سے زیادہ رد عمل آوٹ سورسینگ پر تھا۔اس کے علاوہ یہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ ہائیر ایجوکیشن ادارے میں اساتذہ کی بھی نامئندگی ہونی چاہیے تاکہ پالیسی طے کرتے وقت ان کی رائے بھی شامل ہو اور ان کی رائے اس لیے زیادہ معتبر ہو سکتی کیونکہ یہ بارہ راست اس نظام سے جڑے ہوئے ہیں ۔جو خاص ا س سیمنار کی تھی وہ یہ کہ اس سیمنار میں شریک تمام طلبہ و طالبات اور اساتذہ بخوبی تمام حالات سے آگاہ تھے اور ان کی مستقبل کے امکانات پر ان کی نظر تھی۔یہ درا صل اشارہ اس بات کا ہےکہ پاکستان میں نئی نسل اعلیٰ تعلیم کی ضرورتوں اور تقاضوں کو سمجھ رہی ہے ۔ اگر یہی سنجدگی پالیسی سازوں کی بھی رہی تو بلا شبہہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو نئی منزل اور نئی شناخت ملے گی۔اس آٹھ روزہ سیمنار میں ہم لوگ تین دن ہی رک سکے ۔کیونکہ ہمیں 26 کو ہر حال میں واپس ہونا تھا کیونکہ ویزا صرف 27 تک کا ہی تھا لیکن 27 کو کوئی بس نہیں تھی ۔ اور یہ ہمار ےبس میں نہیں تھا کہ بس کے بجائے کسی اور سواری سے ہندستان واپس آتے کیونکہ اصول یہ ہے کہ اگر آپ بس کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں تو ٹرین یا ہوائی جہاز سے واپس نہیں ہوسکتے۔ اس احمقانہ نظام کے ہم بھی شکار ہوئے اور ایک دن قبل ہی پاکستان سے واپس ہونا پڑا۔

ہمیں چونکہ تکشیلا کا بھی ویزا مل گیا تھا اس لیے22 جولائی کی دوپہر کو ہم تکشیلا کے لیے روانہ ہوئے۔ ایجینسیاں بھی ہمارے پیچھے پیچھے تھیں مگر درانی صاحب نے بتا یا کہ کوئی فکر کی بات نہیں یہ ہمارے تحفظ کے لیے ہیں ۔تین بجے ہم تکشیلا کے تاریخی کھنڈروں کی سیر کر رہے تھے ۔میرے دوست ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کو جب یہ اطلاع ملی کہ ہم پاکستان میں ہیں تو وہ ہمیں اسلام آباد لے جانے پر بضد تھے ، جب ہم نے ویزا نہ ملنے کی لاچاری ظاہر کی تو بہ حجت تما م وہ مان سکے اور ہم سے ملنے اپنے دوست فاروقی صاحب کے ساتھ تکشیلا پہنچے۔ کوئی آدمی صوفی بھی ہوا ور پُر بہار شخصیت کا مالک بھی، ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس قلندر صفت دوست جو ‘ساحر ’بھی ان میں سب کچھ موجود ہے۔ان کے آنے سے کھنڈروں میں بھی بہار آگئی ۔ دو گھنٹے ان کے ساتھ ہم لوگوں نے گزاراجو اس سفر کی خوبصورت یاد گار بن گئی۔

شام ہوتے ہی ہم پشاور کے تاریخی شہر میں موجود تھے۔بچپن میں ہم نے کئی کہانیاں پڑھی تھیں جو پشاور اور سرحد کے علاقوں سے متعلق تھیں ، اس لیے اس شہر کو دیکھنے کا زیادہ اشتیاق تھا یو ں بھی صوبہ سرحد تاریخی اعتبار سے برصغیر میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔اس لیے ہمارا پروگرام یہ تھا کہ صبح کو شہر کے گرد ونواح میں بھی ہم جائیں گے ۔مگر حالات کی نزاکتوں کے سبب نہ ہم جاسکے اور نہ ہمیں جانے دیا گیا۔ صبح ہوتے ہی ڈاکٹر درانی ہمارے گیسٹ ہاؤس میں موجود تھے ان کے ہمراہ ہم لوگ پشاور یونیورسٹی کے وسیع عریض علاقے کو دیکھنے نکل پڑے ۔ انتہائی خوبصورت عمارتیں اور باغات کے درمیان ہاسٹلس اور ہر جانب ہرے بھرے میدان ،قدیم طرز کی تعلیمی عمارتیں اور صفائی کا خاص اہتمام دیکھ کر ہم لوگ بہت متاثر ہوئے ۔سب سے پہلے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ گئے اورشعبے کے ڈین سے ملاقات ہوئی ان کی ضیافت کے بعد جب ہمیں رخصت ملی تو شعبے کے کلاس روم دیکھنے کا موقع ملا اور خوشی ہوئی تمام کلاس روم میں ہر طرح کی جدید تکنالوجی موجود ہے۔اس کے بعد پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عظمت حیات خانسے ملاقات ہوئی ۔انتہائی خنداں پیشانی سے انھوں نے ہمارا استقبال کیا اور پُر تکلف قہوے کے بعد اپنی بیش قیمت کتابیں پیش کیں اور شام کی چائے کے لے گھر پر مدعو کیا۔ حالانکہ وقت کم تھا مگر پٹھانوں کی مہمان نوازی کے ڈر سے لا محالہ جانا ہی پڑا۔اس دن کی خاص بات یہ رہی کہ ہم سبھی یہ چاہتے تھے کہ گندھارا آرٹ کے لیے مشہور پشاور میوزیم دیکھیں لیکن اس دن تعطیل کے سبب میوزیم بند تھا۔ درانی صاحب اور ان کے احباب کی تعریف کرنی پڑے گی کہ انھوں نےکسی طرح ہمارے میوزیم دیکھنے کا انتظام کیا اور ہندستانی مہمانوں کے لیے ایک گھنٹے کے لیے اسے کھلوایا گیا۔ اس غیر معمولی مدد کے لیے ہم سب ان کے بہت ہی مشکور اور ممنون ہیں ۔دن بھر شہر کا چکر کاٹتے رہے کہیں جانے سے منع کیا گیا تو کہیں جانا نا ممکن تھا اس طرح رات ہو گئی ۔اسی رات ولوو کی آرامدہ بس سے ہم لوگوں کو لاہور کے لیے سفر کرنا تھا۔ہدایت کے مطابق وقت سے ایک گھنٹے پہلے دس بجے رات ہم لوگ بس اسٹینڈ پر موجود تھے ۔جس انداز سے رپورٹینگ اور دیگر ضوابط سے گزرنا پڑا اس سےروڈ ویز پر ہوائی سفر کاشائبہ ہورہا تھا ،اب بس میں سوار ہونا تھا درانی صاحب اور علی اکبر خان صاحبان نے نم آنکھوں سے ہمیں رخصت کیا۔ ٹھیک گیارہ بجے ہماری بس کے خود کار دروازے بند ہوئے اسی کے ساتھ بس ہوسٹس نے مترنم آواز میں دعائے سفرپڑھی ۔ہمارےلیے یہ نیاتجربہ تھا کہ بس میں بھی ہوائی سفر کی طرح ہوسٹس موجود تھی ۔چھ گھنٹے کا یہ سفر اتنی آسانی سے گزرا جس کا تصور ہم نے نہیں کیا تھا ۔ ایک سو بیس اور تیس کی رفتار میں بس چلتی رہی کہیں کوئی ریڈلائٹ اور کراسنگ نہیں ملا اور نہ سڑک پر ہچکولے کھائے۔پاکستانی حکومت نے ریلویز میں تو ترقی نہیں کی مگر روڈ ویز میں جو ترقی کہ ہے وہ بلا شبہہ قابل تعریف ہے۔

صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہم لوگ لاہور شہر میں موجود تھے ۔پروفیسر اورنگ زیب عالمگیر اور ان کی اہلیہ اپنی اپنی گاڑیاں لے کر ہمیں لینے بس اسٹینڈ آچکے تھے ہم لوگ دل دل میں نادم ہورہے تھے کہ اتنی صبح اور اتنے سینئر استاذ نے زحمت کی مگر ان کی خاکساری اور مہمان نوازی نے ہمیں شکریہ کہنے کا بھی موقع نہیں دیا۔انھوں نے ہمارےلیے یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس میں تین کمرے بُک کرائے تھے ۔ ہم لوگ گیسٹ ہاؤس پہنچتے ہی سو گئے ۔ ابھی ہم گہری نیند میں ہی تھے کہ ناشتے کے لیے ہمیں جگا دیاگیا۔ابھی آنکھیں مل ہی رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی معلوم ہو اہمارے ناراض دوست ڈاکٹر جمیل اصغر اور ڈاکٹر آصف اعوان کچھ ہی دیر میں فیصل آباد سے لاہور پہنچنے والے ہیں ۔ڈاکٹر جمیل کے بارے میں پروفیسر عبد الحق سابق صدر شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی یہ کہتے ہیں کہ جمیل نصف پاکستان ہیں اگر پاکستا ن گئے اور ان سے ملاقات نہ ہوئی تو گویا آپ نے نصف پاکستان دیکھا۔ ان سے ہماری ملاقات اگست 2006 میں فیصل آباد یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سیمنار میں ہوئی تھی۔ جمیل اسم بامسمیٰ ہیں جتنے وہ جمیل ہیں اتنا ہی ان کا اخلاق۔پہلی دفعہ ا ن سے لاہور ائیر پورٹ پر ملاقات ہوئی تھی۔ وہ ہمیں فیصل آباد لے جانے کے لیے آئے تھے صرف چند جملوں کے تبادلے کے بعد ایسا لگا تھا جیسے ان سے برسوں کی آشنائی ہو اور اب تو ان سے بے تکلفی کی حد بھائی چارگی ہے ۔ 2007 میں وہ پہلی دفعہ ہماری دعوت پر دہلی آئے تھے تب انھیں اور قریب سے دیکھا ۔خیر صاحب ناشتے سے ابھی فارغ بھی نہ ہوئے تھے کے ڈاکٹر موصوف اور ڈاکٹر اعوان تشریف لے آئے ۔ ان کی ناراضگی اس سبب سے تھی کہ انھوں نے ہمارے لیے اپنی یونیورسٹی میں ایک پروگرام مرتب کر لیاتھا ۔یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ بھی ہمارے منتظر تھے ۔اس سے زیادہ جمیل کے والد صاحب ان کے گھر کے لوگ اور پیاری بیٹی سومیا اور علی بڑے خوش تھے کے انکل آنے والے ہیں ۔ان کا اصرار تھا کہ ہم 24 تاریخ کا پوار دن ان کے ساتھ فیصل آباد میں گزاریں۔ ہم لوگوں نے ویزا نہ ملنے کی مجبوری بھی بتائی مگر انھوں نے مقامی طور پر اس کی زبانی اجازت بھی لے لی تھی مگر دستاویزی ثبوت نہ ہونے کے سبب ہم لوگوں نے فیصل آباد کا پراگرام اس لیے بھی ملتوی کردیا ہے کہ باڑہ گلی سے پشاور تک ایجنسیوں نے جس طرح ہماری دیکھ بھال کہ ہم انھیں مزید زحمت نہیں دینا چاہتے تھے۔ہماری اس مجبوری کے سبب دونوں دوستوں کو ڈھیڑسو کیلو میٹر کاسفر طے کر ناپڑا۔ابھی شکوے گلے ہی ہورہے تھے کہ ڈاکٹر بزمی تشریف لے آئے ۔سب ہم سے شاکی تھے اور ہم حکومت کے شاکی تھے کیونکہ صرف دن بھرکے لیے ہم لوگوں نے فیصل آباد کا ویزا طلب کیا تھا مگر حکومت نے اس شہر کے دیدار اور دوستوں سے ملاقات کو پسند نہیں کیا ۔ادھر احباب کی محبتوں کا یہ عالم کہ جب انھیں یہ اطلاع ملی کہ ہم فیصل آباد نہیں آرہے ہیں تو سب کے سب لاہور پہنچنے لگے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی پروفیسر چمن لال نے جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ پر کئی کتابیں لکھی ہیں جو ہندی اور پنجابی میں چھپ چکی ہیں ۔ فیصل آباد سے قریب ہی بھگت سنگھ کا گاؤں موجود ہے اور ان کا وہ مکان بھی جس میں وہ رہتے تھے،جسے ہم لوگ بھی دیکھنا چاہ رہے تھے اور جن لوگوں نے چمن لال صاحب کی کتابیں پڑھ رکھی تھیں وہ چمن لال صاحب سے ملنا چاہتے تھے اور ان کے ساتھ بھگت سنگھ کے مکان کے پاس ہی ایک نششت کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے لوگ مایوس ہوکر لاہور ہی ملنے چلے آئے ۔جی سی یونیورسٹی کی استاذ ڈاکٹر رابعہ سرفراز نے ہمارےپاکستان پہنچتے ہی فون کرنا شروع کر دیا تھاکہ آپ لوگوں کو فیصل آباد ضرور آناہے ۔لیکن جب انھیں ہمارے نہ آنے کی اطلا ع ملی تو وہ بھی اپنی دوست ناز فاطمہ جو نئی نسل کی بہترین شاعرہ اور ناول نگار ہیں ، کے ساتھ ایک بجے کے قریب لاہور پہنچ گئیں ۔ان سے ہمارا پہلے سے وعدہ تھا کہ ہم لنچ ساتھ کریں گے مگر ہمارے میزبانِ مہربان اورنگ زیب صاحب نے اپنے گھر پہ انتہائی اہتمام سے کھانے کاانتظام کر رکھا تھا ۔ مستقل سفر کے سبب میری طبیعت کچھ ناساز تھی اس لیے میں دسترخوان پر بیٹھا رہا اور حسرت سے دوستوں کی جانب دیکھتا رہاہے جو دعوت شیراز کے مزے لے رہے تھے۔وہاں سے رخصت ہو کر ساڑھے تین بجے میں رابعہ اور ناز ملاقات کے لیے پہنچا بلکہ یوں کہیں کہ ان کی دل آزاری کے لیے گیا کیونکہ انھوں نے ہمارے انتظار میں کھانا نہیں کھایا تھا ، میں وہاں بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہا اور اس احساس سے نادم ہوتا رہا کہ مہمان تو ‘مردہ بدست زندہ ’کے مصداق ہوتا ہے میں چاہ کر بھی وقت پر نہیں پہنچ سکا اور انھیں انتظار کی زحمت اٹھانی پڑی ۔میں نے ان کے ساتھ لنچ کا وعدہ تو کر لیا تھا مگر نہ تو وقت پر حاضر ہوسکا اور نہ ہی ان کا ساتھ دے سکا۔لیکن ان کے خلوص کا شکر گزار ہوں کہ تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد بھی انھوں نے خنداں پیشانی سے میر ااستقبال کیا ۔اب مجھے نہیں معلوم انتظار کی صعوبتوں سے گزرنے کے بعدانھوں نے دل سے کیا کیا کہا۔خدا ان دوستوں کو آبا دوشاد رکھے۔ان سے ملنے کے بعد شاہی مسجد اور مزار اقبال کی زیارت کر رہے دوستوں کو ساتھ لے کر دیال سنگھ فاؤنڈیشن گیا جہاں پروفیسر چمن لال ہمارا انتظار کر رہے تھےاس کے بعد ہم لوگوں نے انارکلی بازار کی سیر کی۔اس طرح یہ پورا دن نکل گیا ۔ دوسرے دن بھی ڈاکٹر جمیل ہمارے ساتھ تھے اس دن ہم نے لاہور شہر کی تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔ حیرت ہوئی کہ ان تاریخی یادگار کی رکھ رکھاؤ کی جانب حکومت کی کوئی توجہ نہیں ۔ انار کلی کی قبر تو اس لیے صحیح سالم ہے کیونکہ وہ سیکریٹریٹ کے احاطے میں میوزیم کے ساتھ ہے مگر نور جہاں کا مقبرہ انتہائی مخدوش حالت میں ہے یہی حال جہانگیر کے مقبرے کا بھی ہے۔شالیمار باغ کو بھی جس طرح صاف ستھرا رکھا جانا چاہیے تھا وہ نہیں ہے ۔ ان عمارتوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستانی حکومت نے ابھی تک ا ن آثار قدیمہ کی اہمیت کو یا تو سمجھا نہیں یا ان کی سیاست میں یوں بھی اتنا کچھ کرنے کو ہے کہ اس جانب توجہ دینے کی مہلت ہی نہیں ملی۔

پاکستان میں یہ ہماری آخری شام تھی اس لیے ہم لوگوں نے بازار کا رخ کیا اور عزیزوں کے لیے کچھ تحائف بھی لیے۔اس کے بعد الحمرا کیمپس گئے یہاں کا نظارہ بھی خوب تھا ایک طرف صوفیانہ قوالی کاپروگرام چل رہا تھا تو دوسری جانب موسیقی کا اور کئی الگ الگ آڈیٹوریم میں مختلف اسٹیج ڈرامے کا شو چل رہا تھا ۔اسی کیمپس میں ایک جگہ شہر کے ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کی کہکشاں بھی جلوہ افروز تھی ۔ دلی کے منڈی ہاؤس کی طرح یہ جگہ تہذیبی اور ثقافتی مرکز ہے ۔انتہائی خوبصورت کیمپس میں ہم اور بھی وقت گزارنا چاہ رہے تھے کہ اورنگ زیب صاحب کا فون آنے لگا کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ اس لیے ہم لوگ اس خیال سے بھی کہ گھر والوں کو ہمارے سبب دیر تک جاگنا نہ پڑے جلد ہی ان کے گھر پہنچ گئے ۔ اس بار بھی پُر تکلف کھانے کا اہتمام دیکھ کر سوچنے لگے کہ ہم لوگ اتنا نہیں کر سکتے جتنا یہ پاکستانی احباب کرتے ہیں ، یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہاہوں جن لوگوں کو بھی پاکستان جانے کو موقعہ ملا ہے وہ ان کی مہمان نوازی کے قائل ہوکر لوٹیں ہیں ۔

26 جولائی کو علی الصباح ہم لوگ تیار ہوگئے پروفیسر اورنگ زیب عالمگیر اپنی تمام مصروفیات کے باوجود ہمیں رخصت کرنے بس اسٹینڈ تک آئے ڈاکٹر جمیل اصغر تو ہماری وجہ سے لاہور ہی رک گئے تھے وہ بھی ساتھ ساتھ تھے۔انتائی جذباتی انداز میں ہم سبھوں نے ایک دوسرےکو دیکھا اور پاکستان کی بے شمار محبت اور یادیں لے کر ہندستان کے لیے روانہ ہوئے ۔یہ بس امرتسر تک کی تھی ۔امرتسر میں ہمارے پاس تین گھنٹے کا وقت تھا اس لیے پروفیسر چمن لال نے مجھے اور ڈاکٹر رمن کوجلیانوالا باغ اور گولڈن ٹیمپل کی سیر کرائی۔ڈاکٹر اخلاق اور کنجو نے اسٹیشن پر ہی آرام کرنا مناسب سمجھا۔شام کو پانج بجے امرتسر دہلی شتابدی سے چل کر دہلی پہنچے۔ اب تک پاکستان کی یادیں ذہن میں تازہ ہیں خدا کرے ان نقوش کے مٹنے سےپہلے دوسرے نقش کی سبیل نکل آئے۔

About the Author