Archive for July 24th, 2010

آہ کشمیر ! ….کیا منظر نامہ کبھی بدلے گا

آہ کشمیر ! ….کیا منظر نامہ کبھی بدلے گا

ڈاکٹر قمر تبریز

                 ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کا وہ حصہ ہے جسے ملک کا تاج تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں مغل حکمرانوں نے کہا تھا کہ ’گر فردوس بر روئے زمیں است، ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است‘۔ صوفیائے کرام نے یہاں کے عوام کو ہمیشہ مذہبی رواداری اور انسانی بھائی چارے کا درس دیا۔ لیکن آخر وہ کیا اسباب تھے جس کی بنیاد پر یہ سرزمین انسانی خون سے لال ہوگئی؟ اس حقیقت سے ہم سب انکار نہیں کر سکتے کہ ہندوستان کے اگر کسی خطہ میں انسانوں کا سب سے زیادہ خون بہا ہے، تو وہ ریاست جموں و کشمیر ہی ہے۔ آج بھی مختلف نیوز چینل اور اخبارات کشمیر میں سیکورٹی دستوں اور جنگجووں کے درمیان ہونے والی مڈبھیڑ اور پولس اور کشمیری عوام کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کشمیر سے متعلق کوئی خبر پڑھنے یا سننے کو نہ ملے۔

ہندوستان اور پاکستان کی گذشتہ ساٹھ سال کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر سے زیادہ متنازع کوئی اور مسئلہ نہیں رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جب جب امن مذاکرات کی پہل ہوئی ہے تب تب پاکستان کی جانب سے جان بوجھ کر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستانی قائدین کی اس آواز میں اکثر وہاں کے انتہاپسند رہنماوں نے بھی بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان واقعی کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

ان تمام خبروں اور الزام تراشیوں کے درمیان ایک عام کشمیری کی آواز کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ان تمام مسائل پر کشمیر کے دور دراز کسی گاوں میں رہنے والے ایک عام آدمی کی رائے کیا ہے۔ شاید نہیں۔ میڈیا نے کشمیر کے تئیں عام ہندوستانیوں کے ذہنوں میں اس قدر خوف پیدا کر دیا ہے کہ اگر کوئی کشمیر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو ہزار بار اپنے دوست و احباب سے یہ مشورہ کرتا ہے کہ کیا اُس کا وہاں جانا درست ہوگا؟ کہیں اس کی جان کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں ہوگا؟ لیکن اس کے برعکس میری ذاتی رائے ہے کہ آپ کشمیر جاکر خود کو جتنا پر امن محسوس کریں گے، شاید ہندوستان کے کسی دوسرے کونے میں اتنا پرامن محسوس نہیں کریں گے۔ وہاں کے سادہ لوح لوگوں کی مہمان نوازی آپ کو ان کا مداح بنا دے گی۔ لیکن کیا زمینی حقائق اس سے میل کھاتے ہیں؟

چلئے بات کرتے ہیں، ایک عام کشمیری کی۔ ہم نے گذشتہ دنوں کشمیر کے شوپیاں میں دو خواتین کی عصمت دری اور پھر ان کے قتل کا واقعہ سنا۔ پھر سری نگر اور دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیوں کے دوران سیکورٹی دستوں کے ذریعہ بے گناہ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر سنی۔ اس کے بعد گذشتہ 7 جون کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے کشمیر دورہ سے قبل مسلح افواج کے ذریعہ متعدد فرضی تصادم کے واقعات سامنے آئے، جس کی پاداش میں فوج کے ایک میجر اور کرنل کو معطل کردیا گیا۔ اس کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی سے متعلق سیاسی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی سے لے کر علاحدگی پسند جماعت حریت کانفرنس تک ریاست میں مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ عوام کو یہ یقین دہانی کرانے میں لگے ہوئے ہیں کہ فرضی تصادم کے تمام واقعات کی جانچ کرائی جائے گی اور قصورواروں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ یہاں تک کہ خود وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی کشمیر دورہ کے دوران ’حقوق انسانی کی خلاف وروزی‘ سے متعلق سیکورٹی افواج کو سخت وارننگ دے چکے ہیں۔

لیکن کشمیریوں کے لیے کوئی وعدہ وفا نہیں ہوتا۔ کشمیر کا وہ نوجوان جو بچپن سے یہ دیکھ رہا ہے کہ صبح کو آنکھ منھ دھوکر جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو اس کی پہلی نظر اُس وردی والے پر پڑتی ہے جو ہاتھ میں بندوق لیے ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھے ہوا ہے۔ ایک پل کے لیے اس کے ذہن میں آتا ہے، آخر اس نے کیا جرم کیا ہے جس کے لیے اس کی اتنی زیادہ پہریداری کی جا رہی ہے؟ گھر سے اسکول جاتے ہوئے یا پھر اپنے دفتر جاتے ہوئے بیچ راہ میں اکثر گاڑیوں سے اتار کر اس کی تلاشی لی جاتی ہے۔ بلکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی گاوں میں جنگجووں کی نقل و حرکت کی خبر جیسے ہی مسلح افواج کو ملتی ہے پانچ سے دس ہزار فوجی اُس گاوں کا محاصرہ کر لیتے ہیں (یہ فوجی کارروائی کشمیر میں ’کریک ڈاون‘ کے نام سے مشہور ہے)۔ اُس کے بعد عورتوں، بچوں اور نہایت معذور یا بیمار افراد کو چھوڑ کر پورے گاوں کو خالی کرنے کا حکم صادر کر دیا جاتا ہے۔ انھیں گاوں سے باہر کسی خالی میدان میں جمع کیا جاتا ہے اور پھر فوج کی ایک ٹولی ایک ایک کرکے ان کی تلاشی لیتی ہے، اُن سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے، جب کہ فوج کی دوسری ٹکڑی کو گاوں کے ایک ایک گھر کی تلاشی لینے پر مامور کیا جاتا ہے۔ یہ ٹکڑی پہلے تو اسی مجمع میں سے گاوں کے نوجوان لڑکوں کا انتخاب کرتی ہے اور پھر انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی گھر میں انھیں سب سے پہلے داخل ہونے کے لیے کہتی ہے تاکہ اگر اُس گھر میں کوئی دہشت گرد موجود ہو تو اس کی گولی سب سے پہلے اُس نوجوان کو لگے۔ عورتوں اور بچوں کو گھر کے آنگن میں جمع ہونے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فوجی اُس گھر میں داخل ہوتے ہیں، ہر ایک بکس کھولتے ہیں، ایک ایک طاق اور الماری کو چھانتے ہیں۔ کیا اُن الماریوں اور بکسوں میں پڑے نقدی روپے اور زیورات اُن کی جیبوں تک نہیں پہنچتے ہوں گے؟ کیا کسی میں یہ ہمت ہوگی کہ ان فوجیوں کے خلاف کہیں کوئی معاملہ درج کرا سکیں؟ یا اگر کسی فوجی افسر کے پاس فریاد لے کر جائیں، تو کیا فوجی افسر اُن کی بات مان لے گا؟ اگر کسی گھر میں صرف ایک نوجوان لڑکی ہے اور گھر کے مرد کو گاوں خالی کرنے کا حکم دیا جاچکا ہے، تو کیا یہ فوجی اتنے متقی اور پرہیزگار ہیں کہ اُس لڑکی پر دست درازی نہیں کریں گے؟

یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے، میں نے خود ان میں سے چند واقعات کا مشاہدہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر میں پانچ لاکھ مسلح افواج کو تعینات کرنے کے باوجود دہشت گردی کو روکنے یا ختم کرنے میں کیا چیز حائل ہے۔ اس کا جواب شاید اس بات سے لگ جائے کہ جنگجووں کے بارے میں ایک عام کشمیری کی رائے کیا ہے؟ میں تعلیم ےافتہ یا شہروں میں رہنے والے کشمیریوں کی بات نہیں کر رہا ہوں، بلکہ کشمیر کے کسی دور دراز گاوں میں رہنے والے ایک عام کشمیری کی بات کر رہا ہوں۔ ایک بار میں نے وہاں کے ایک گاو ں میں قیام کے دوران وہیں گھر کی ایک لڑکی سے جب اس سلسلے میں اس کی رائے جاننی چاہی تو اس کے ذریعہ بیان کی گئی کہانی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے الفاظ کچھ یوں تھے : ”مجاہدین (جنگجو) اگر کسی کے گھر میں آ جائیںتو اس کے گھر میں برکت آنے لگتی ہے۔ یہ لوگ جب بھی کسی کے گھر میں پناہ لیتے ہیں تو ہر وقت قرآن کی تلاوت اور نماز و دعا میں مصروف رہتے ہیں۔ گھر کی کسی عورت یا جوان لڑکی پر بری نظر نہیں ڈالتے بلکہ انھیں اپنی بہن کہہ کر بلا تے ہیں اور بعض دفعہ انھیں دیکھ کر اپنی حقیقی بہن کو یاد کرکے رونے بھی لگتے ہیں۔ گھر والے بھلے خود ساگ سبزی کھائیں لیکن ان مجاہدین کی بہترین مہمان نوازی کرتے ہیں۔ گھر کے کسی خاص کونے میں ان کے کھانے اور سونے وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ گاو ں والوں کو اس کی بھنک تک نہیں لگتی اور بعض دفعہ تو گھر کے سبھی افراد کو بھی ان کے چھپے ہونے کا علم نہیں ہوتا۔ یہ مجاہدین جب اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو پہلے اپنا جنازہ پڑھ لیتے ہیں۔“

ایک طرف سیکورٹی دستوں کے ذریعے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے واقعات اور دوسری جانب جنگجووں کے تئیں عزت و احترام کا یہ جذبہ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ کشمیری کسی جنگجو کی مدد صرف ہمدردی کے جذبہ سے ہی نہیں کرتے بلکہ انھیں ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ تصور کیجئے، گاوں کے کسی گھر میں آدھی رات کے بعد اگر آپ کے دروازہ پر دستک ہو اور جب آپ دروازہ کھولیں تو چند بندوق بردار آپ سے زبردستی اپنے گھر میں پناہ دینے کے لیے کہیں، تو کیا آپ منع کردیں گے۔ کشمیر میں عام طور پر رات کے وقت فوجی اپنے بنکر میں یا پھر اپنے اپنے کیمپوں میں ہوتے ہیں۔ آپ ان سے بھی کوئی مدد حاصل نہیں کر سکتے، یا پھر جب تک فوج یا پولس آئے تب تک آپ زندہ ہی نہ بچیں۔ لہٰذا، کشمیریوں پر ہر وقت ان دہشت گردوں کا خوف بھی طاری رہتا ہے۔ اب، اگر انھوں نے مجبوری کی حالت میں چند جنگجووں کو اپنے گھر میں پناہ دے دی اور بعد میں فوج یا پولس کو اس کی اطلاع مل گئی کہ آپ نے چند دہشت گردوں کو اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے، تو پولس اور فوج کے عتاب کا بھی آپ کو شکار بننا پڑے گا۔ یعنی ایک کشمیری ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے وہ کہےں نہیں بھاگ سکتا کیوں کہ دونوں جانب بندوق کی گولی اس کی منتظر ہے۔

اس کے علاوہ پورے ہندوستان میں کشمیریوں کو جس طرح شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، غیر مسلم علاقوں میں انھیں گھر کرایے پر نہیں ملتے، سردیوں کے موسم میں جب بعض کشمیری شال لے کر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بیچنے کے لیے آتے ہیں تو پولس کی طرف سے انھیں شناختی کارڈ بنوانے کا سخت حکم صادر کیا جاتا ہے۔ حکومت اور ہندوستانی عوام کا یہ رویہ کشمیریوں کو اپنے ہی ملک میں اجنبیت کا احساس دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کبھی کشمیر جاتے ہیں تو گفتگو کے دوران ہم پر یہ بات گراں گزرتی ہے کہ کشمیری ہمیں ہندوستانی کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ میرے خیال سے جتنا قصور اُن کا ہے، اُتنا ہی ہمارا بھی۔

…………….

کشمیر کے حوالے سے تازہ سروے

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے ڈاکٹر سیف الاسلام قذافی نے مسئلہ کشمیر میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ایک ایسی سروے رپورٹ کو شائع کرایا ہے جس میں دیے گئے اعدادو شمار چونکا دینے والے ہیں۔ ”کشمیر پاتھ ٹو پیس“ (Kashmir Path to Peace) نامی اس رپورٹ کو ڈاکٹر رابرٹ بریڈناک نے تیار کیا ہے۔ ہندوستان میں سروے آئپسوس موری(Iposos Mori) اور پاکستان میں آفتاب ایسوسی ایٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نے کرایا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس سروے رپورٹ کے بعض حصے مختصراً پیش کیے جاتے ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق 80 فیصد کشمیری کہتے ہیں کہ کشمیر کا تنازع ان کے لئے ذاتی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری بند ہونے اور 2003 میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات سے فوجی تشدد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔اس کے باوجودانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کے اعدادوشمار نمایاں ہیں (19 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر ، 43 فیصد جموں و کشمیر )تنازعے پر تشویش کے علاوہ کئی اور مسائل سروے میں سامنے آئے ہیں۔ 81 فیصدافراد (66 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر اور 87 فیصد جموں و کشمیر)کے نزدیک ان کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیرکے 22 فیصد، جب کہ جموں و کشمیر کے 68 فیصدرائے دہندگان حکومتی بدعنوانی ،42 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر اور 43 فیصد جموں و کشمیر کے عوام کمزور اقتصادی ترقی کو بڑے مسائل قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے بارے میں 86 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر اور 71 فیصد جموں و کشمیر کے لوگوں میں آگاہی پائی جاتی ہے، پاک مقبوضہ کشمیر میں 27 فیصد، جبکہ جموں و کشمیر میں 57 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مذاکرات سے امن کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔یہ دبی دبی سی پرامیدی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات پرپیش رفت سست روی سے جاری ہے۔ کل آبادی کے 70 فیصد کا کہنا ہے کہ تشدد سے امن کے حصول میں کم ہی مدد ملے گی یا اس سے کو ئی فرق نہیں پڑنے والا (61 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر ،75 فیصد جموں و کشمیر)۔ سب سے حیرت انگیز نتائج سیاسی حوالے سے آرا ہیں۔رائے دہندگان سے پوچھا گیا کہ انہیں اگر کل کوووٹ ڈالنے کا موقع ملے، تو وہ کشمیر کو ہندوستان یا پاکستان کس کے ساتھ شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے یا کہ وہ مشترکہ خودمختاری یا جوں کی توں پوزیشن رکھنے سمیت دیگر آپشنز کے حق میں رائے دینا چاہیں گے۔ آزادی : پاک مقبوضہ کشمیر کے 44 فیصد ،جبکہ جموں و کشمیر میں 43 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ آزاد ی کے حق میں استعمال کریں گے۔ یہ سب سے زیادہ مقبول عام رائے ہے۔ وادی کشمیر میں 74 سے 95 فیصد کے درمیان لوگ آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔اس کے برعکس جموں و کشمیر ڈویژ ن میں آزدی کے خواہشمندوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ لیہہ میں یہ تناسب 30 فیصد جب کہ کارگل میں 20 فیصد ہے۔ ہندوستان کے ساتھ شمولیت : ہندوستان کے حق میں مجموعی طور پر 21 فیصد رائے دہندگان نے ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کی حمایت کی۔ جموں و کشمیر میں 28 فیصد کے برعکس لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب صرف ایک فیصد افراد نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اظہار کیا۔ وادی کشمیر میں ہندوستان کے حامیوں کا تناسب اس سے بھی کم ہے۔بارہ مولا میں یہ 2 فیصد ہے۔ صرف جموں اور لداخ ڈویژن میں عوام کی اکثریت ہندوستان کے ساتھ شمولیت چاہتی ہے۔ کارگل میں ان کا تناسب 80 فیصد تک ہے۔ پاکستان کے ساتھ شمولیت: مجموعی طور پر15 فیصدعوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے حق میں ہیں۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں 50 فیصد، جب کہ ہندوستانی حصے میں 2 فیصدلوگ پاکستان کے ساتھ شمولیت کے حامی ہیں۔ کشمیر وادی میں بڈگام کے علاقے میں سب سے زیادہ 7 فیصد ووٹ پاکستان کے حق میں رائے رکھتے ہیں۔ فوج کا انخلا : 74 فیصد رائے دہندگان کے نزدیک پاکستانی افواج کے انخلا سے مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں(52 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر، 82 فیصد جموں و کشمیر)، 69 فیصد رائے دہندگان ہندوستانی افواج کے انخلا کی حمایت کرتے ہیں (78 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر، 66 فیصد جموں و کشمیر)، 76 فیصد بارودی سرنگوں اور 56 فیصد ہر قسم کے ہتھیاروں کو ہٹانے کے حامی ہیں۔ اس خواہش کا کھل کر اظہار کیا گیا کہ مذاکرات میںکشمیر کی مختلف سیاسی قوتوں کو نمائندگی ملنی چاہیے۔مجموعی طور پر 76 فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ اس سے مسئلے کے حل کے امکان میں بہتری آئے گی (73 فیصد پاک مقبوضہ کشمیر، 77 فیصد جموں و کشمیر) کشمیری عوام کی بھاری اکثریت مسئلے کے حل کی خواہاں ہے۔ اگرچہ جائزے میں کوئی حل تجویز نہیں کیا گیا، تاہم ایسے راہنما اشارے ضرور فراہم کیے گئے ہیں، جن سے ہندوستان، پاکستان اورکشمیر کی نمائندہ جماعتیں سیاسی عمل کے ذریعے حل کی طرف پیش رفت کر سکتی ہیں۔

ایک بات واضح ہے کہ کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت پر اقوام متحدہ کی 1948-49 کی قراردادیں مسئلے کے حل میں اب بمشکل ہی معاون ہو سکتی ہیں۔ رائے عامہ کے جائزے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ایک تجویز نہیں،جس پر ریاست کے اکثریتی عوام کا اتفاق ہو۔

 

پاک امریکہ تعلقات کی تلخ و ترش حقیقتیں

پہلے اس اقتباس کو پڑھیں جو شاہد مسعود احمد اردو نیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’’ھور چوپو کبھی ہندوستان تو کبھی امریکہ دھمکی دے جاتا ہے اسامہ پاکستان میں ملا عمر پاکستان میں اور ھم ایسے چپ ھوجاتے ہیں جیسے مجرم ھوں کمال ہے کمال ہے واہ جی واہ کیا بات ھے ھماری گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ھوتے کیا بے غیرتی ہے بے حیائی ھے یہ کہاں سے آئی ہے امریکہ کے کھانے ڈالر اور پھر کرنی باتیں غیرت کی حیا کی شرم کی بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں ھوتی افسوس تو یہ ہے کہ جب بھارت بمبی دھماکوں‌کا راگ الاپتا ہے تو بھی ایسے چپ ھوجاتےہیں ہیں جیسے کوئی معصوم بچہ لالے کوے سے ڈر جاتا ہے………کب تک یہ گردن جھکی رہے گی کب تک؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جب تک بھیک سے گزارا ھوتا رہے گا‘‘۔۔۔۔ یہ تبصرہ اگرچہ  ایک عام  پاکستانی  نے لکھا ہے۔ اس اقتباس کے جملے اور لہجے سے صاف جھلکتا ہےکہ پاکستانی قوم  کس قدر اذیت میں مبتلا ہے ۔ جس کو جہاں موقع ملتاہے اپنے درد کو اجاگر کرنے کے لیے کچھ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتا ۔عالمی اخبارات کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ لوگ اب اپنے ملک سے بھی بیزار ہورہے ہیں ، انھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ہمارا ملک ایک ایسے راستے پر چل رہاہے جس کامنزل خود پاکستان کو بھی معلوم نہیں ہے ۔ لیکن جس طرح کی ذلتوں اور رسوائیوں سے انھیں سابقہ پڑ رہ اہے وہ انھیں کسی بھی طرح  قبول نہیں ۔ لیکن کریں کیا ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ’’ یا ’’ آگے گڑھا ،پیچھے کھائی ‘‘ کے مصداق   ایسا  لگتا ہے کہ پاکستان کی حالت ہے اسی لیے پاکستانی خود کو منجمد محسوس کر رہے ہیں ۔ اور سچائی بھی یہی ہے کہ اگر کسی ملک کو کوئی دوسرا ملک ڈکٹیٹ کرے تو اس کی  یہی کیفیت ہونی چاہیے۔

          اب ذرا غور کریں کہ  آخر یہ نوبت کیوں آئی ؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی دنوں سے ہی  خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا تھا اور اسے کسی سہارے کی ضرورت تھی ، عالمی طاقتوں نے بھی  پاکستان کی اس ضرورت اور مجبوری کو سمجھ لیا تھا ۔ اسی لیے کبھی اس وقت کا طاقتور ملک روس اور ابھی کا امریکہ ہمیشہ پاکستان پر ڈورے ڈالتا  رہا۔کچھ عرصے تک روس سے دوستانہ رہا  لیکن بہت جلد امریکہ نے  اپنی دوستی کا جال بچھادیا ۔ اب حال یہ ہےکہ اس جال سے پاکستان نکل نہیں سکتا۔امریکہ کی دوستی پاکستان کے لیے ایک ایسا دلدل ثابت ہورہی ہے کہ اگر کسی نے نکلنے کی کوشش کی تو اس میں وہ حکمراں اور بھی اندر تک دھنستا چلا گیا۔یہ صورت حال جنرل پرویز مشرف  کے وقت میں اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ایک طرف امریکہ کی سازش اور دوسری جانب  جنرل پرویز کی مجبوری ۔ مشرف کو پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کر چکے تھے انھیں استحکام چاہیے تھااور امریکہ کو پاکستان کی سرزمین میں اپنا قدم جمانا تھا ۔ لہذا دونوں نے ایک دوسرے کے مفاد کو سمجھا اور دونوں نےاس کا بھر پور فائدہ اٹھا یا ۔ اب مشرف تو اقتدار تو کیا پاکستان سے ہی دور چلے گئے ہیں ۔ جن کی سر پرستی میں مشرف نے پاکستان بہت دنوں تک من مانی کی اب وہ مشرف کو بھلا چکے ہیں اور مشرف کے لیے پاکستان کی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے لیکن امریکہ کے لیے پاکستان میں اندر تک داخل ہونے  کے لیے ہر طرح کا موقع مل گیا ۔

          نائن الیون کے بہانے پاکستان میں قدم رکھنے والا امریکہ اب اس قدر پاکستان پر حاوی ہوگیا ہےکہ اس کے اثرات کم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ لیکن اس پہلو پر غور کریں کہ نائین الیون کے وقت اگر پاکستان میں جموہری حکومت ہوتی تو کیا ایسا ہی ہوتا؟ میرا خیال ہے یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ اس وقت پاکستان اکیلے مشرف صاحب کی مرضی سے چل رہاتھا۔تو بات یہ ٹھہرتی ہے کہ کیا آج بھی کمزور جمہوریت کی وجہ سے امریکہ دن بہ دن پاکستان پر حاوی ہو رہا ہے ؟ اکثر مبصرین یہی مانتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت  اندر سے بالکل کھوکھلی ہوچکی ہے ۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا بھی احساس نہیں ہے ۔ عوام پریشان اور بد حال ہیں لیکن نہ ان کے ہاتھوں میں کچھ ہے اور نہ ہی وہ کچھ کر سکتے ہیں۔اندرونی سطح پر کچھ نہ کر پانے کی وجہ  منصوبہ بندی کی کمی اور اقتصادی مجبوری ہے ۔ اسی لیے جب جب امریکہ پاکستان کو کوئی مدد دیتا ہے یا مدد کرنے کی باتیں کرتا ہے توا س سے پہلے ہی وہ پاکستان پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے ۔ نفسیاتی طور پر دباؤ دالنے کے بعد امریکہ مدد تو کرتا ہے مگر اتنے شرائط تھوپ دیتا ہے کہ پاکستان اسی بوجھ سے باہر نکل نہیں پاتا ۔ حد تو یہ ہےکہ خارجہ پالیسی میں بھی امریکی اشارے کنائے ہوتے ہیں ۔ اتنی جان نثاری   کے بعد بھی امریکہ پاکستان کو دھمکی دینے سے باز نہیں آتا۔ ابھی حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان میں تربیت یافتہ دہشت گردوں نے امریکی سرزمین پر ٹائمز سکوائر بم دھماکے جیسی کوشش کی تو اسلام آباد کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ واشنگٹن میں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’’جمہوری حکومت کے قیام سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون میں اضافہ ہوا ہے تاہم پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے مزید تعاون کے لئے توقعات رکھتا ہے ۔ ماضی میں پاکستان امریکہ سے ڈبل گیم کھیلتا رہا ہے ۔ پاکستانیوں نے زبانی وعدے تو بہت کئے مگر عملی اقدامات نہیں کئے مگر اب ایسا نہیں ہو گا ۔ انہوں نے پاکستان پر واضح کر دیا کہ اگر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم نہ کیا گیا تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کے رویئے میں انتہائی مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ امریکہ نے دہشت گرد گروپوں کے اہم راہنماؤں کو گرفتار کیا ہے یا انہیں ہلاک کر دیا ہے ۔ امریکہ اس طرح کی مزید کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رکھے گا ۔‘‘ جی ہاں  یہ پاکستان کی تازہ ترین دھمکی ہے ۔ ان کی دیدہ دلیری یہ بھی ہے کہ پاکستان میں آکر یہ کہتی ہیں کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان میں ہیں ۔ اگر انہیں پکڑ لیا جائے تو بڑی کامیابی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار ہیلری کلنٹن نے پاکستان کے ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کر تے ہیں۔پاکستان نے سول اور ملٹری دونوں محاذوں پر اہم کر دار ادا کیا اور اس کا بہت مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ دشمن ہیں اور وہ ہماری جمہوری آزادیوں کو ختم کر نا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کر دار ادا کیا اس میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ہے اور اس سے یکجہتی کا اظہار کر تا ہے۔

اب اسے بھی  اظہار یکجہتی کا نام دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے خود فیصلہ کر لیں ۔  پاکستان کی پوری رجامندی نہ ہونے کے بعد بھی  پاکستان میں ڈرون حملے جاری ہیں ،  آئے دن دہشت گردو ں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے  کے سبب معصوم اور بے قصورشہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں ۔ لیکن   پاکستا ن سوائے دیکھنے کے اور کیا کر سکتا ہے ۔ بس اس کے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ وہ ٹھنڈی سانسیں بھرے اور خاموش ہوجائے ۔