Archive for July 14th, 2010

اندھیرے بڑھ رہے ہیں

 اندھیرے بڑھ رہے ہیں

سمیع اللہ ملک ۔ لندن

malik@lisauk.com

 

 دن مےں کئی مر تبہ ٹےلےفون کرکے حالات دریافت کرتے ہیں حالانکہ مجھ سے کہیں زیادہ بہتران کا حالات کی نبض پر ہاتھ رہتا ہے۔ مجھ سے اب شکائت ہے کہ میرے قلم کو کسی کی نذر لگ گئی ہے ۔پندونصائح کے ساتھ تربیت کرنے کا فن جانتے ہیں لیکن کیا کروں جب کبھی تجزیہ کرنے بیٹھتا ہوں تو مجبور ومظلوم کشمیر یوں کی آہوں اورالمناک واقعات سے لبریز ان کے خطوط‘آئے دن کے المناک واقعات‘غربت اورمہنگائی کے ہاتھوںپریشان افراد کی خودکشیاں ‘خودکش بم دھماکے ‘میرے اردگرد میرا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ان حالات میں الفاظ بھی روٹھ جاتے ہیں۔جونہی شام ڈھلتی ہے میں محاسبے کےلئے تیار ہوجاتا ہوں ا پنی بے چےنی کا بڑی بے بسی سے ا ظہار بھی کر تا ہوں۔کچھ کر نے کےلئے بے تاب! مجھے ان کی کڑی تنقےد بھی اچھی لگتی ہے۔

ہما ری حالت تو اےسے جاں بلب مرےض جےسی ہو گئی ہے جو بڑی مشکل سے رےنگتا ہوا اپنے معالج کے پاس تو پہنچ جاتا ہے لےکن اس مےں اتنی ہمت با قی نہےں کہ وہ ےہ بھی بتا سکے کہ اس کو کےا تکلےف ےا کےا بےما ری ہے۔معا لج کے پو چھنے پر اس کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں ہوںاور زخموں سے چور جسم کے ہر اعضاءکی طرف اشارہ کرے ۔ سا لوں پر ا نی بےما رےوں کا کرب اور سا رے جہاں کا درد سمٹ کر اس کے چہرے سے عےاں ہو لےکن بتانے کےلئے اس کی اپنی زبان اس کا ساتھ چھو ڑ دے۔ما سوا ئے سسکےوں‘آہوں اور کرا ہوں کے درمےان صرف اشارے سے کبھی سر کی طرف ‘کبھی دل پر ہاتھ ر کھ کر اور کبھی دونوں ہا تھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر زور سے رونا شروع کر دے۔جب معالج تھوڑا حو صلہ دلائے توپھر اس کی جانب اےک عجےب سی امےد اور آس کے ساتھ آنکھوں ہی آنکھوں مےں ا مےد اور رحم کی درخواست کرے۔

ےہی حال آجکل ان لو گوں کا ہے جن کے سےنے مےں اس مملکت خداداد پاکستان کا دردآبلہ بن کر اےک نا سور کی شکل ا ختےار کر چکا ہے اور درد کی شدت سے ان کو اےک پل چےن مےسر نہیں اور دکھ کی بنا پر ان کی آنکھوں سے نےند اڑ چکی ہے۔نےم شب جب وہ اپنے اللہ کے حضور سجدہ رےز ہوتے ہےں تو ان کی ہچکی بندھ جا تی ہے۔ اللہ سے رحم اور امےد کے ساتھ پاکستان کےلئے شفاءاور سلا متی کی عاجزانہ دعا وں کے سا تھ اپنے ان شہداءکا واسطہ دےتے ہےں جو اس ملک کی خاطر قربان ہو گئے۔مےرا وجدان تو اس وقت مجھ کو شدےد بے چےن کر دےتا ہے اور سانس لےنا دشوار ہو جاتا ہے جب کبھی ےہ سوچتا ہوں کہ ان سوا لاکھ بے گناہ بےٹےوں اور بہنوں کو روز قےامت کےا جواب دوں گا جن کو اس مملکت پاکستان کی خاطر مشرقی پنجاب مےں ہم چھوڑ آئے تھے ‘ جو آج بھی آسمان کی طرف منہ کرکے اپنا قصور پو چھتی ہوں گی ! صرف مشرقی پنجاب کے ان پانچ ہزار سے زائد کنوو ں کا حال کس قلم سے کےسے لکھوں جن مےں مسلمان بچےاں اپنی آبرو بچانے کےلئے کود گئیں۔ان ہزاروں بچوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کلےجہ منہ کو آتا ہے جن کو ان کے ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے تلواروں اور بھا لوں کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کر دےا گےا۔آج بھی لا کھوں افراد اپنے پےاروں کو ےا دکرکے چپکے چپکے اپنے اللہ کے حضور اشک بار ہو کر اس پاکستان کےلئے ان کی قر با نی کی قبو لےت کی دعایئں کرتے ہیں!

 لکھتے رہے ہم پھر بھی حکاےات خونچکاں

ہر چند کہ اس مےں ہاتھ ہما رے قلم ہوئے

یہ حالت صرف ان لوگوں ہی کی نہےں جنہےں مےرے رب نے حالات و واقعات کا ادراک دےا ہے۔وہ کسی بڑی آندھی ےا طوفان کے آنے سے پہلے ہی خوفزدہ ہو جا تے ہےںاور فوری طور پر اپنے تیئںان خطرات سے آگاہ کرنا شروع کر دےتے ہےں‘منادی کرنا شروع کر دےتے ہےں۔دن رات اپنے تمام وسائل بروئے کار لا تے ہوئے دامے درمے اور سخنے اسی کام مےں لگ جا تے ہےںکہ کسی طرح ان خطرات کا ترےاق کیا جائے۔

آجکل ذرا سی سوجھ بوجھ ر کھنے والا شخص بھی حےرت مےں گم چہرہ لئے ا ےک دوسرے سے ےہی سوال کر تا پھر ر ہا ہے ‘کےا ہو نے و الا ہے اور اب کےا بنے گا؟ہما را مستقبل کےا ہے‘ہم کہاں کھڑے ہےں؟اےک دو سرے سے کو ئی اچھی خبر کی تمنا دل مےں لئے ہوئے‘اےک ا مےد کی شمع آنکھوں مےں سجائے جےسے بستر مرگ پر پڑے مر ےض کے لواحقےن کسی معجزے کی آرزو مےں کسی حکےم‘حاذق سے مر ض کے ترےاق ملنے کی نو ےد کےلئے بے تاب ہو تے ہےںےا کسی صاحب نظر کی دعا کے محتاج جس سے مرےض کی جاں بچنے کی آس ہو جائے لےکن شائد اب مرےض کو کسی حکےم کے ترےاق ‘کسی ڈاکٹر کی دواےا پھر کسی صاحب نظر کی دعا سے زےادہ کسی ماہر سرجن کی ضرورت ہے اور شا ئد آپرےشن مےں جتنی دےر ہو گی مر ےض کی جان بچنے کے ا مکانات اتنے ہی مخدوش ہو جائےں گے‘مرےض کی حالت اتنی ہی بگڑتی چلی جائے گی‘مرض اتنا ہی پھےلتا جائے گا‘آپرےشن اتنا ہی لمبا اور تکلےف دہ ہو جائے گا۔مجھ سے ما ےو سی کا گلہ با لکل نہ کرےںاور نہ ہی مےرا مقصد بلا وجہ آپ کو ڈرانا ہے لےکن آ پ ہی مجھے ےہ بتا ئیںکہ آپ کا کوئی عزےز جو آپ کو بہت ہی پےارا ہووہ کسی خطرناک مرض مےں مبتلا ہو جائے‘آپ اس کے بہتر علاج کےلئے دنےا کے بہترےن ڈاکٹر‘بہت ہی سمجھدار طبےب ےا بڑا نامور حاذق تلاش کر نے مےں دن رات ایک کر دیں گے اور اس کی زند گی بچانے کےلئے ا پنی تو فےق سے بڑھ کر خرچ کر نے مےں کو ئی دقےقہ فرو گذاشت نہیں کریں گے۔ےہ تمام و سا ئل مہیا ہو نے کے بعد آپ سجدے مےں رو رو کر اپنے عزےز کی شفا ےابی کےلئے اپنے معبود کو اس کی تمام جملہ صفات کا واسطہ بھی دیں گے تب جا کر آ پ کے دل کو ا طمےنان آئے گا کہ وہی شفا کا منبع ہے اس سے بہتر کون ہے جو ہما ری د عاو ں کو شرف قبولیت دے گا۔  

۸۱ فر وری کے بعد پاکستانی عوام نے کچھ سکھ کا سانس لےا تھا کہ اب قسمت ا ور حا لات بد لنے کا وقت آ گےا ہے لےکن شائد ابھی قسمت کا اند ھےرا اور بڑھ رہا ہے۔کڑ ی آز مائش کے دن ا بھی اور با قی ہےں۔ مہنگا ئی کا جن تو پہلے ہی ہما ر ے دن رات غارت کر چکا ہے بلکہ اب وہ جو خلق خدا کے سا منے ر بو بےت کا دعویٰ روٹی کپڑا اور مکان دےنے کا ا علان کر رہے تھے بڑی ہی بے بسی کے ساتھ منہ چھپا ر ہے ہےں۔عوام کے ہا تھوں مےں گنتی کے چند نو ٹ تھما دئے گئے ہےں لےکن وہ ےہ سوچ رہے ہےں کہ اس سے کون کون سی چےز خر ےدیں۔پےسے ہےں مگر کھا نے کےلئے آٹا کہاں سے ملے گا؟پےسے ہےں مگر بجلی اور گےس مو جود نہےں۔ شا ئد اسی لمحے کےلئے قرآن پکار پکار کر کہتا ہے کہ ا گر تم مےرے ذکر سے منہ مو ڑو گے مےں تمہا رے گزران مشکل کر دوں گا۔جب قومےں عدل سے بے بہرہ ہو جا ئیں‘ظا لموں کے ظلم پر احتجاج کر نا چھوڑ دیں‘صرف اپنی سلامتی کی دعا مانگیں‘اےک دوسرے کے مصائب سے نا آشنا ہو جا ئیںتو پھر ا صلاح کےلئے ا ٹھنے وا لے ہا تھ بھی غےر مو ¾ثر ہو جا تے ہےں۔معاملہ تو اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ اب امن بھی تہہ و بالا ہو رہا ہے۔ا فغانستان مےں ا مرےکہ اور نےٹو کی ا فواج دن رات مظالم کے جو پہاڑ توڑ رہے ہےں ان کی طرف سے توجّہ ہٹانے کےلئے اب پاکستان کی سلامتی کو بھی شدید خطرات سے دوچارکر دیا گیا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے وادی  کشمیرمیں کرفیو نافذہے۔پائین شہر کربلا کا منظر پیش کررہا ہے۔تمام شاہراہوں پلوں کو خارداروں تاروں کا لباس پہنا دیا گیا ہے ‘فولادی دیواریں پہلے کیا کم تھیں کہ اب کپوارہ‘اسلام آباداورپلوامہ کے باسی ایک اجتماعی جیل میںڈال دیئے گئے ہیں۔ زندگی کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے‘بڈگام‘بانڈی پورہ‘چاہ ڈورہ اوروادی کے تمام قصبوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔سیکورٹی فورسز نے منصوبہ بندی کے تحت معاشی پابندیوںکے پروگرام پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔کوئی انہیں یہ بتائے کہ ایسے مکروہ منصوبے تو غزہ میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔آزادی کی تحریک نسل درنسل منتقل ہوتی جارہی ہے۔قوموں کی زندگی میں پچاس یا سوسال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔۷۵۸۱ءکے حالات نے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی اوربالآخر اس خطے میں پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔

کشمیر کی اس بگڑتی صورت حال پر عالمی توجہ کی ضرورت تھی لیکن یہاں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یا بدلے کی آگ میں حضرت علی ہجویری کے سبز گنبدوں کو ان کے شیدائیوں کے خون سے نہلا دیا گیا۔غزنی کے محلے ہجویر سے اپنے مرشد کے حکم پر لاہور کو اپنا ٹھکانہ بنایا‘محبت والفت کے ایسے چشمے پھوٹے کہ سسکتی انسانیت اپنے زخموں کے مرہم کےلئے آج بھی ان کو اپنا مسیحا سمجھتی ہے۔ایک ایسے مہمان خانے کی بنیاد رکھی کہ اب تک لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ ایسے سخی کی میزبانی کا لظف اٹھا چکے ہیںاچانک وہاں کئی بے گنا ہوں کو خون مےں نہلا دےا گےا۔کےا ا تنی جلد جواب دےنا ممکن تھا ےا پھر کوئی سو چی سمجھی سا ز ش ہے کہ فو ری طور پر لو گوں کے اذ ہان کو اصل مجرموں تک ر سا ئی نہ ہو۔دیکھنا یہ ہے کہ ان تمام کاروائیوں کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔

عراق میں مساجد‘امام بارگاہوںاورمزاروں پر بھی ایسے ہی خوفناک حملے کرائے گئے تاکہ وہاں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکا کر اپنا کام نکالا جا سکے لیکن ہواکیا؟عراق کے لوگ اس سازش کو سمجھ گئے اوردشمن کا یہ وار الٹا ان کے گلے میں پڑگیااوروہ جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے وہ سب متحد ہو کرسرخ آندھی کی طرح اپنے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔اب ایسا ہی منظر ان کو پاکستان میں دیکھنے کو مل رہا ہے ‘ہر کوئی(شیعہ سنی دیوبندی اوراہلحدیث) حضرت علی ہجویری کو اپنا مرشد مان کر ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر اس دشمن کو پہچان چکاہے۔اہالیان پاکستان حضرت علی ہجویری کے اس مبارک قول کو جا ن چکے ہیں کہ”کسی کو دکھ دینے سے پہلے سوچو کہ اس کی جگہ تم ہوتے تو تمہارا کیا حال ہوتا“۔

آج ہی قصر سفےد مےں بےٹھے ہوئے فر عون کے نما ئندے نے تمام سفارتی آداب کو اےک طرف رکھتے ہوئے ےہ دہمکی داغ دی ہے کہ پاکستان فوری طور پر ا پنے قبا ئلی  علا قو ں کی خبر لے و گرنہ ہما رے بہادر کما نڈو ان کی سر کو بی کر نے کےلئے تےار بےٹھے ہےں۔بھلا کو ئی ان سے پو چھے کہ عراق اور افغانستان مےں تو آپ کو ہر قسم کے مظالم ڈھانے کی مکمل آزادی ہے و ہا ں کے حا لات آپ کے قا بو مےں کےوں نہےں آ رہے کہ اب اےک نئے محاذ کو کھولنے کی دہمکی د ےتے ہو ئے ذرا بھر بھی شرم نہےں آتی۔کسی نے اےک شکاری کو مسلح دےکھ کر اس کے پر و گرام کے  با رے مےں پوچھ لےا تو اس نے جو ا ب دےا کہ تےا ری تو شےر کے شکار کی ہے لےکن راستے مےں بےٹھی ےہ بلی بہت گھور رہی ہے۔غارت ہوں ہما رے وہ حکمران جو دعوے تو بہادر کما نڈو کے کرتے تھے لےکن اےک ہی ٹیلیفون کال پر سجد ے میں گر کر سا ری قوم کی ر سوائی کا سبب بن گئے اور آج آ ئے دن ہمےںاس طرح کے طعنے اور احکام کی بجا آوری مےں اپنا نا حق خون بہانا پڑ رہا ہے ۔

رہے نام میرے رب کا جو علیم و خبیر ہے!

بروزمنگل۴۲رجب ۱۳۴۱ھ ۶جولائی ۹۰۰۲ئ

لندن

 

شاہی فرمان!

شا ہی فرمان!

سمیع  اللہ ملک

malik@lisauk.com

 

شاہی فرمان جاری ہو چکا تھا۔ لب بند، قلم بند، زباں بند….مہیب سناٹا، خاموشی، اضطراب اور بے کلی۔ پوری رات یوں ہی گزر گئی۔ پھر سناٹے، خاموشی اور اضطراب کو توڑتی ہوئی ایک آواز بلند ہوئی۔ رب کی برتری، عظمت اورجلال کی آواز……..

خانہ خدا کے بلند میناروں سے گونجتی ہوئی،جسے کوئی نہیں روک سکتا….ہاں کوئی بھی نہیں۔رب ذوالجلال کی کبریائی بیان کرتی ہوئی آواز، زمینی خداﺅں کے منہ پر خاک مل دینے والی آواز، خود ساختہ دیوتاﺅں کو لرزا دینے والی آواز، انسانیت کے لیے نوید ِ مسرت…. حوصلہ اور امید کا نقارہ ،نقارہ خداوندی…. سربلند و باوقار جلال اور جمال….سربلند باد دوستانِ دیں کی نوید۔ہم بھی عجیب ہیں۔ وہ پکارتا ہے:آﺅ تم فلاح چاہتے ہو ناں۔تو آﺅ۔ اور ہم کیا کرتے ہیں! زمینی خداﺅں کے آگے بھکاری بن کر کھڑے رہتے ہیں اور دھتکار دیے جاتے ہیں، دھتکارے ہوئے لوگ….اور جب ہر طرف سے، ہر در سے محروم ونامراد لوٹتے ہیں، تب وہ ہمیں یاد آتا ہے۔ہاں وہ پھر بھی ہمیں گلے لگاتاہے۔ پیغامِ مسرت سناتا ہے،اصل کی طرف بلاتا ہے۔بس وہی ہے اور ہے کون؟ ہم گداگر اور بھکاری بن گئے ہیں۔ہم فقیر کہاں ہیں!فقر کی تو شان ہی نرالی ہے۔ وہ مختار جاذب، میرا جواں مرگ دوست یاد آیا۔اس نے کہا تھا:ہم کہاں ایک ہی بابِ طلب تک رہتے ہیں!بے شمار ولاتعداد دروں کے محتاج ہوگئے ہیںاور وہ پھر بھی ہماری بے وفائی، ہماری غلطیوں، ہماری سیہ کاریوں، ہماری بداعمالیوں، منافقتوں اور ہمارے کھوٹ کو نظر انداز کردیتا ہے۔ آﺅ فلاح کی طرف….بس یہی درِ خالص ہے، باقی سب جھوٹ ہے، مکر ہے، فریب ہے۔مکرو فریب کی سہانی دنیا….بے چینی کا سرچشمہ۔

رات بھر آنکھوں میں کاٹنے کے بعد علی الصبح جب بہت بے کلی بڑھی تب بابا جی اقبال یاد آنے لگے:

صدر نالہ شب گیرے، صد صبح بلا خیزے

صد آہ شرر ریزے، یک شعر دل آویزے

در عشق و ہوس ناکی، دانی کی تفاوت چیست؟

آں تیشہ فرہادے، ایں حیلہ پرویزے

واصف صاحب مسکراتے ہوئے گویا ہوئے ”ہم سب فرعون کی زندگی اور موسیٰ کی عاقبت چاہتے ہیں۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا“۔

اور پھر تو تانتا بندھ گیا۔ یہ جو زمینی خدا بن بیٹھے ہیں،اور وہ جو گزر گئے،اب تماش بینوں کے لیے سامانِ عبرت بنے ہوئے ہیں۔اس سے بھی سبق حاصل نہیںکرتے۔اندھے، بہرے، خود فریبی کا شکارفرعونِ زمانہ….یہ سمجھتے ہیںہم ہیں پالن ہار۔بس ہم۔

عجیب سی بات ہے۔یہ لبرل، سیکولر اور روشن خیالی کے دعویدار ….اور وہ بھی اصل نہیں بالکل جعلی۔ اصل تو ہر بات اچھی لگتی ہے ناں۔ٹھیک ہے اختلاف اپنی جگہ، اصل توہوناں۔ سراسر جعل سازی کے ماہر۔ منافقت کے مجسم شاہکار خود فریب۔فرمانِ شاہی ہے کہ صدرِ مملکت، افواج پاکستان، عدلیہ اور ریاست کے قانون ساز اداروں کے اراکین کے بارے میں ایسا کوئی مواد یا گراف وغیرہ شائع نہیں کیا جائے گا جس سے ان کی تضحیک ہوتی ہو یا ان کا مذاق اڑایا گیا ہو“سرکاری وکیل ججوں کی تضحیک کررہا ہے کہ ججز تو پہلے سے ایک ذہن بناکر آتے ہیں جس پر جج کو تنبیہ کرنا پڑتی ہے کہ زبان کو لگام دو۔یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے ایک فاسق کمانڈو کے مقرکردہ اٹارنی جنرل جسٹس(ر)ملک قیوم بھی ایسی ہی ہرزہ سرائی کرچکے ہیں ”پی سی او“کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج ہیرو نہ بنیں جسٹس افتخار کو عزت ہضم نہیں ہوئی۔“اب کہاں ہیں (سابقہ)جناب اٹارنی جنرل؟سنا ہے کہ ملک ہی چھوڑ چکے ہیں؟اب شائد بابر اعوان اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔ذرا باہر دیکھئے۔ جسے میرا رب عزت دے اُسے کون بے عزت کرسکتا ہے ! ذرا دیکھیے تو خلقِ خداکیاکہتی ہے۔وہ خلقِ خداجسے زمینی خداﺅں نے حکم سنایا ہے،بنیادی انسانی حقوق معطل کردئیے گئے ہیں۔خبردار کوئی نہیں بولے گا۔جناب من! ہوش میں آئیے، یہ حقوق میرے رب نے دئیے ہیں۔رب کائنات نے۔آپ کون ہوتے ہیں انہیں سلب کر نے والے!میرے مالکِ حقیقی کے عطا کردہ حقوق کیسے سلب کیے جاسکتے ہیں! ہاں خود فریبی کا کیا علاج۔فرمانِ شاہی میں یہ بھی کہا گیا ہے:”اخلاقیات کے عام اصولوں کے منافی ایسا کوئی بھی مواد شائع نہیں ہوگا جس سے فحاشی اور بے ہودگی کو فروغ ملے۔“اس شق پر کتنا عمل درآمد ہورہا ہے دیکھ رہے ہیں ناں آپ۔یہ سمجھتے ہیں نظامِ کائنات یہ خود فریب چلا رہے ہیں۔عقل و فکر کے اندھے، انسانیت کے نام پر دھبا۔اس سے پہلے بھی جسٹس رمدے کو جمعہ کی نماز سے روک دیا گیا تھا اور جسٹس بھگوان داس کو دیوالی پر….کیا بات تھی ان روشن خیالوں کی‘انہی کی ڈگر پر آپ بھی سرپٹ دوڑے جا رہے ہیں!اب نیب نے عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری اوران کے تمام ساتھیوں کو اپنے آقا کے حکم پر تحریری طور پر مطلع کیا ہے کہ تمام ججز کی تعیناتی ہی غیر قانونی ہے ۔ ایک شخص کو بچانے کےلئے ملک کا سارا نظام تباہ کرنے پر تل گئے ہیں۔

ہوش میں آﺅ۔تمہارے فرمان تمہیں نہیں بچا سکتے۔ کبھی نہیں! سر بلند رہے گا سدا میرے رب کا فرمان۔ ہاں اصل فرمان ‘تمہیں شوق چڑآیا ہے تو پوری کرلو اپنی حسرت…. جانا تو ہم سب کو ایک ہی جگہ ہے۔پھر تم اپنی کرنی کر گزرو۔جو ہوگا دیکھا جائے گا۔جو چاہے کرو‘بس یاد رکھناتم خالق و مالک نہیں ہو۔بن ہی نہیں سکتے۔کبھی نہیں۔شہرِ علم کے باب جناب علیؓ نے فرمایا:

”لوگوں پر ایک زمانہ آنے والا ہے جب صدقہ کو خسارہ، رحم کرنے کو احسان اور عبادت کو ایک دوسرے پر برتری اور سبقت کا ذریعہ قرار دیا جائے گا۔ایسے وقت میں حکومت عورتوں کے مشورے، بچوں کے اقتدار اور خواجہ سراﺅں کی تدبیر کے سہارے رہ جائے گی“۔بس نام رہے گا اللہ کا۔

آتش نمرود ہے‘ ہر سمت ہے اک کربلا    زندگی ا و زندگی کتنی تو مشکل ہو گئی

ہر طرف ہے خاک و خوں‘ہر سمت ہے د یو انگی     زےست لمحہ لمحہ اک زہر ہلا ہل ہو گئی

پھول جےسے چہرے نفرت کی چتا مےں جل گئے    بربریت اےسی جےسے د نےا پاگل ہو گئی

ےہ درندے ہےں جنہےں چھوڑا گےا انساں پر    آدمی ےا بھےڑئےے پہچان مشکل ہو گئی

سربراہان زمانہ بے حس و بے خو د ر ہے     زیست پھر صیاد کے ہاتھوں سے بسمل ہو گئی

قوم جو کسریٰ و قےصر پر کبھی فا تح ہو ئی   آج وہ اغےار سے نصرت کی سا ئل ہو گئی

کب تری ر حمت کو جوش آئے گارب مصطفی؟   آج پھر آل محمد غم سے گھائل ہو گئی

نوٹ:کالم ”فیصلہ کرنا ہوگا“میں عالمِ بالا کی سیر کرنے والے ایک فلسفی ”دانتے“کا میں نے تذکرہ کیا تو میرے ایک محترم قاری برادرمحمدعمرچاند نے اس فلسفی کی ایسی تصویر دکھائی جو پہلے میری نظروں سے بالکل اوجھل تھی اوروہ اس لائق نہیں کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے قارئین عطا فرمائے جو بروقت اصلاح کردیتے ہیں۔اللہ جزائے خیر عطا فرمائے آمین

بروز ہفتہ ۸۲رجب ۱۳۴۱ھ۱۰جولائی ۲۰۰۹

لندن

فیصلہ کرنا ہوگا

فیصلہ کرنا ہوگا

سمیع اللہ ملک ۔ لندن

malik@lisauk.com

 تین بڑے فلسفی ایسے ہیں جنہوں نے عالم تصور میں اگلے جہانوں کی سیر کی ہے اور اس سیر کے تجربے کے بعد دنیا کو بہترین تخلیقات عطا کی ہیں یہ تخلیقات ادب کا سرمایہ ہیں اور رہتی دنیا تک قائم رہنے والی ہیں۔ سب سے پہلے ابن عربی نے فتوحات کلیہ لکھی اور عالم بالا کی سیر کا احوال تحریر کیا،پھر دانتے نے ڈیوائن کامیڈی تحریر کی اور آخر میں علامہ اقبال کا جاوید نامہ، عالم بالا کے عذابوں اور ثوابوں کے مناظر سے گزرتے ہوئے یہ لوگ بہت سے مشترک تجربوں سے گزرے۔یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کائنات کے خالق نے انہیں خاص اشاروں کے ذریعے کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ان تینوں نے جہاں حق کا ساتھ دینے والوں کو شاداں، فرحان دیکھا ہے اور باطل کے ہمرکابوں کو عذاب مسلسل میں گرفتار، وہاں یہ تینوں ایک خبر ضرور لے کر آئے ہیں کہ سب سے بدترین عذاب ان لوگوں کا مقدر بنا جو حق و باطل کے معرکے میں یہ فیصلہ ہی نہ کر پائے کہ انہیںکس کا ساتھ دینا ہے اور خاموش بیٹھ گئے،غیر جانبدار ہوگئے۔ کس قدر خوش قسمت ہوتی ہے وہ قوم جس کے سامنے اللہ تعالیٰ حق اور باطل دونوںکو واضح کردیتاہے۔ اس سے بھی زیادہ وہ قوم خوش قسمت ہے جس کے سامنے حق کا ساتھ دینے والے بھی اپنے عمل سے واضح اور علیحدہ ہو جائیں اور باطل کی قوتیں بھی ایک ایک کر کے اپنے تیر کمانوں میں کس کر مقابل پر آجائیں۔ دو گروہوں میں واضح فرق نظر آنے لگے۔ایک لکیر کھنچ جائے اور دونوں طرف کے چہرے صاف صاف نظر آنے لگیں۔ کسی شک و شبے کی گنجائش باقی نہ رہے، کسی کو پہچاننے میں ذرا سی غلطی بھی محسوس نہ ہو کہ کون ہے جوعدل و انصاف کا پرچم تھامے ہوئے ہے کہ دنیا میںحکومتیں کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتی ہیں مگر بے انصافی کی بنیاد پر قائم نہیںرہتیں(حضرت علیؓ)اور دوسری جانب کے لوگ بھی اپنا پورا غصہ، نفرت اور غیض و غضب کا زہر آنکھوں، زبانوں اور ہونٹوں پر لئے ہر اس شخص پرحملہ آور ہونے کے لیے تیار ہوں جو لکیر کی دوسری جانب کھڑا ہے۔ پاکستان کی قوم کس قدر خوش قسمت ہے کہ میرے اللہ نے ان کے لیے فیصلہ کرنے کے لیے اتنی آسانی پیدا کردی۔باسٹھ سال سے شعبدہ بازیاں چل رہی تھیں۔ ہر کوئی ملک کا خیر خواہ تھا۔ہر کوئی دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کو تیار تھا۔ہر کوئی غریب آدمی کو انصاف کے دروازے تک پہنچانے کے وعدے کرتا تھا۔ نعرے، تقریریں، تحریریں، جلسے جلوس، الیکشن، ووٹ،ممبری، وزارت، اسمبلی کی معطلی، ملک کو راہ راست پر لانے کے دعوے،اس کو محفوظ اور عالمی طاقت بنانے کے ارادے۔اس قوم نے سب کچھ دیکھ لیا اور پھر ہر بار آنسووں سے روتی رہی کسی کے محلات کو دیکھ کر تو کسی کے پلاٹوں کی ہوس کو دیکھ کر۔باسٹھ سال تقریباً برابر تقسیم کر کے ان قوتوں کو دے دئیے گئے جو ہرطرح دعوﺅں سے مسلح تھے۔ ڈکٹیٹروں کے روپ میں آتے اور سیاستدانوں کا عمل اختیار کرتے۔سیاستدانوں کے روپ میں جلوہ گر ہوتے اور ڈکٹیٹروں کی چال ڈھال اپنا لیتے۔قوم باسٹھ سال اس بات پر عالم حیرت میں رہی کہ لکیر تو واضح بنتی ہی نہیں۔ جو اپنے پاﺅں لکیر کے ایک جانب رکھتے ہیں لیکن ان کا چہرہ دوسری جانب اور جن کا چہرہ ایک طرف ہے وہ پاﺅں سرکاتے لکیر کی دوسری جانب لے جاتے ہیں۔نہ حق کے ساتھیوں کی پہچان اور نہ باطل کے سپاہیوں کا علم۔دونوں کے نقاب ایک جیسے، نعرے ایک جیسے، عمل ایک جیسا، قول و فعل میں تضاد ایک جیسا ۔ لیکن شاید یہ اس قوم کا آخری معرکہ ہے جس میں فیصلہ ہونا ہے کہ اس قوم نے عدل و انصاف کا گہوارہ بننا ہے یا ظلم و جور کا تاریک زدہ کمرہ۔اسی لیے اس آخری اور فیصلہ کن معرکے میں دونوں جانب کے کردار کھل کر سامنے آگئے۔اب تو یوں لگتا ہے معرکے کی گھڑی ہے۔ایک جانب وہ ساٹھ سے زیادہ عدل و انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ ہیں جن کی قیادت جسٹس افتخار محمد چودھری کے پاس ہے۔یہ لوگ اپنی آخری عمر کے انتظارتک عدالت کی کرسی پر نہیں بیٹھے کہ بعد میں کوئی کتاب لکھ کر،کسی انٹرویو میںاپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے ضمیر کو مطمئن کرلیتے بلکہ وہ اس ایوان عدل سے باہر نکل آئے تھے جہاں وہ سمجھتے تھے کہ انصاف نہیں کرسکتے‘عوام کے قربانیوں اورمستقل مزاجی نے دوبارہ ان کو عدل کی کرسیوں پر بٹھایا کہ قوم سے جو انصاف کا وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں۔ دوسری جانب کے لوگ بھی واضح ہیں۔آپ ان کے لہجے کی تندی، ان کے غصے کی غضبناکی اور ان کے طاقت پر گھمنڈ سے خوب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ لکیر کی کس جانب ہیں۔جس کا لہجہ جتنا غصیلا اور کسیلا ہے وہ اتنا ہی بڑا اپنی جانب کا ہیرو۔خواہ وزیرِ قانون بابراعوان ہو یاسندھ کا وزیرِ داخلہ ذوالفقارمرزا ، فرحت اللہ بابر ہو یا فوزیہ وہاب،کردار واضح ہوتے جارہے ہیں،صفیں مرتب ہو رہی ہیں۔صف بندیاں کی جارہی ہیں۔اللہ نے اولیاءکے دو طبقوں کی نشاندہی کی ہے۔اولیاءاللہ اور اولیاءطاغوت اور دونوں اپنی اپنی پہچان سے واضح ہو جاتے ہیں ۔جب ایسا معرکہ درپیش ہو۔جب ایسی صف بندی ہو جائے۔جب ایسا فرق واضح ہو جائے تو پھر اس عالم کے بارے میں ان تین فلسفیوں نے کہا کہ ہم نے عالم بالا میں غیر جانبدار رہنے والوں کو بدترین عذاب میں دیکھا۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق اگر جنگ کے حق یا خلاف ووٹ ڈالے جارہے ہوں۔تو جو ملک بھی اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیتا اسے جنگ کا حامی اور جارحیت کا حمایت کنندہ تصور کیا جاتا ہے۔ دونوںجانب کے کردار واضح ہیں۔اور کسی قوم کی اس سے بڑھ کرخوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ دونوں جانب اتنی بڑی تعداد میں ہیروز سامنے آگئے ہیں ورنہ کسے خبر تھی کہ ساٹھ سے زیادہ لوگ صف کی دوسری جانب بھی آکھڑے ہوں گے اورقوم کامیابی کا تاج ان کے سر پرسجائے گی۔لیکن ان کو عوام کا یہ فیصلہ انتہائی ناگوار گزرا ۔اٹھارویں ترمیم میں اب نئے ججز کی تقرری میں چیف جسٹس کا مشورہ بھی درکار نہیں۔باہمی مشاورت کی ڈیڑھ سوسالہ روایت کو بیک جنبش ختم کردیا گیا ہے اوراب ججز کی نامزدگی کی منظوری وہ عوامی نمائندے دیا کریں گے جن کی اپنی تعلیمی اسناد بھی جعلی ہیں۔پیپلزپارٹی نے لاہور کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی برطرفی کےلئے ریفرنس صدر زرداری کو بھجوادیا ہے حالانکہ صدرزرداری کے خلاف انہیں عدالتوں میں کرپشن کے مقدمات زیرِ سماعت ہیںجب کہ وکلاءتحریک کے اہم رہنمااعتزازاحسن نے اس ریفرنس کی تحسین میں یہ دلیل دی ہے کہ خواجہ شریف پیپلز پارٹی کودیوارسے لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اب دعوے دونوںجانب ایک جیسے ہیں۔دونوں انصاف اور عدل کی بات کرتے ہیںلیکن قومیں خوب جانتی ہیں کہ کس کوعزت وتوقیر کے ہار پہنانے ہیں اور کس کے گلے میں ذلت و رسوائی کا طوق۔ فیصلے کی گھڑی ہے کہ کوئی قوم کفر، شرک ،بت پرستی، الحادپر قائم رہ سکتی ہے لیکن عدل و انصاف کے قتل پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے اور یہ میرے اللہ کی سنت بھی ہے۔ صف بندیوں کے اس موسم میں اب غیر جانبداری کا زمانہ گیا۔ لیڈر ہو یا رکن بوڑھا ہویا جوان،شاعر ہو یا مزدور اسے ایک ہی فیصلہ کرنا ہے وہ لکیرکے اس پارہے یا اس پار۔ بروزجمعرات۶۲رجب ۱۳۴۱ھ ۸جولائی ۹۰۰۲ئ لندن