Archive for July 10th, 2010

ترکی میں نئی صبح کے آثار

ترکی میں نئی صبح کے آثار

ترکی میں نئی صبح کے آثار

عابد عبدالواسع             

پبلک ریلیشنز آفیسر                 

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد

          ”میں ہر سال اپنی آمدنی کا تقریباً 50 فیصد حصہ خدمت خلق میں خرچ کرتا ہوں۔ بفضل تعالیٰ دولت مجھے ورثہ میں ملی ہے۔ مساجد کی تعمیر کے ذریعہ تسکین قلب حاصل کرسکتا تھا لیکن میری خواہش ہے کہ اسکولوں کے قےام کے ذریعہ ایسے بچوں کی مدد کی جائے جو معاشی طور پر کمزور ہےں۔“ ان خیالات کا اظہار ترکی کے ایک صنعت کار اور کنٹراکٹر احمد اکایا نے انقرہ میں گذشتہ جمعہ کو حیدرآباد سے آئے مہمان وفد کے ہمراہ بات چیت کے دوران کیا۔ احمد اکایا سے وفد کے ایک رکن ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے دریافت کیا تھا کہ وہ ہر سال اپنی آمدنی کا کس قدر حصہ خدمت خلق پر خرچ کرتے ہےں۔ ترک تاجر کے جواب پر وفد میں شامل لگ بھگ تمام افراد حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ سبھی اس بات سے واقف تھے کہ اسلام میں سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰة کی ادائیگی کا لزوم ہے۔ لیکن موجودہ ترکی میں آپ کو ایسے کئی تاجر‘ صنعت کار اور متمول افراد مل جائیں گے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ نہایت خاموشی کے ساتھ راہ للہ خرچ کر کے رضائے الٰہی کے طلبگار ہےں۔

”انڈیالاگ“ فاﺅنڈیشن نامی ادارے نے جو 2005ءسے ہندوستان میں بین مذہبی و تہذیبی مذاکرات اور قےام امن سرگرمیوں میں مصروف ہے 24 تا 31 مئی 2010ءاس خصوصی دورے کا اہتمام کیا تھا۔ حیدرآباد سے 12 منتخب افراد کو مدعو کیا گیا جن کا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق ہے‘‘بین مذہبی و بین تہذیبی سفرِ مذاکرات ۔ ترکی 2010’’ کے زیر عنوان اس دورے میں آندھرا پردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر جناب سریش ریڈی‘ جناب نریندر لوتھر (سابق چیف سکریٹری آندھرا پردیش)‘ ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر جناب تراب الحسن (ڈاکٹر عابد حسین‘ سابق سفیر ہند برائے امریکہ کے برادر محترم) ‘ پروفیسر خالد سعید (صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی)‘ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن (سابق صدر نشین اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ‘ حکومت ہند)‘ ڈاکٹر ستیہ پرکاش (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ کمیونکیشن‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ ڈاکٹر سنجے سبودھ (اسوسیئٹ پروفیسر شعبہ تاریخ‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد)‘ جناب وٹھل راﺅ (صدر آریہ پرتینیدھی سبھا‘ آندھرا پردیش)‘ محترمہ سنگا مترا ملک (اعزازی سکریٹری‘ اپنا وطن)‘ محترمہ بندی لوتھر (شریک حیات‘ جناب نریندر لوتھر)‘ ڈاکٹر قرة العین حسن (کنسلٹنٹ ڈپارٹمنٹ آف جینیٹکس اینڈ مالیکیولر میڈیسن‘ کامنینی ہاسپٹل)‘ ڈاکٹر دلنواز برجور بھلاڈوالا (صدر شعبہ نیورو سرجری‘ کامنینی ہاسپٹل) کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ انڈیالاگ فاﺅنڈیشن دراصل بین تہذیبی‘ بین الاقوامی و بین مذہبی مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کے دوروں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اس دورے نے ترکی اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اقبال نے جس ترکی کو یوروپ کا مرد بیمار کہا تھا وہ اب بڑی تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہو رہا ہے۔ ترکی ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ رہنے کے بعد اپنے وجود کو منوانے میں لگا ہے۔ ترکی‘ ناٹو کا واحد مسلم رکن ہے اور یوروپی یونین کا امیدوار رکن بھی ہے۔ ترکی معاشی طور پر ترقی یافتہ ہے۔ اس کی کرنسی لیرا کہلاتی ہے جو ہندوستان کے 30 روپئے کے برابر ہے۔ فی کس مجموعی ملکی پیداوار کا سالانہ تخمینہ 12,000 امریکی ڈالر ہے۔ جبکہ ہندوستان میں یہ تناسب سالانہ 2800 ڈالر ہے۔ ترکی میں گداگر کم ہی نظر آتے ہیں۔ قدرت نے اسے کئی قسم کی دولتوں سے نوازا ہے۔ حسن کی دولت سب سے نماےاں ہے۔ ترکی میں ہمیں استنبول‘ کونیا اور انقرہ جیسے شہروں میں مختلف افراد سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔

          پیر 24 مئی 2010ءکی صبح 10:20 بجے ایمیریٹس ایئر لائنس کی پرواز کے ذریعہ ہمارا گروپ براہ دبئی استنبول روانہ ہوا۔ استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے جب ہم باہر نکلے تو شام کے تقریباً 7 بج چکے تھے لیکن غروب آفتاب کے آثار نہیں تھے۔ ترکی‘ بالخصوص استنبول چونکہ جغرافیائی طور پر یوروپ کا حصہ ہے اسی لیے یہاں غروب آفتاب کافی دیر سے ہوتا ہے۔ ہمارے قےام کے دوران مغرب کی اذان رات 8:30 بجے ہوا کرتی تھی۔ یہ موسم گرما کے ابتدائی دن تھے۔ موسم کی شدت کے دوران اس وقت میں مزید توسیع ہوجاتی ہے۔ انڈیالاگ فاﺅنڈیشن کے مقامی کو آرڈنیٹر نور الدین‘ وفد کے ہمراہ تھے۔ ایئر پورٹ پر جناب سریش ریڈی وفد میں شامل ہوگئے۔ (وہ پہلے ہی دبئی پہنچ چکے تھے۔) ایئر پورٹ کے باہر میزبان گروپ کے نمائندوں نے گرمجوشانہ خیر مقدم کیا اور بس کے ذریعہ ہمیں ہوٹل ”کاےا“ پہنچادیا گیا۔ جو استنبول کے یوروپی حصے میں واقع ہے۔ اسی رات انڈو-ترکش بزنس گروپ نے خلیج باسفورس کے ساحل پر واقع ریستوراں میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ وہیں ہماری ملاقات دہلی سے آئے مزید دو مہمانوں سے ہوگئی۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام (ایسوسی ایٹ پروفیسر اردو‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی) اور ڈاکٹر رضوان الرحمن (اسسٹنٹ پروفیسر عربی‘ جے این یو) ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شرکت کے سلسلے میں ترکی آئے ہوئے تھے۔ ہمارے میزبانوں نے انہیں کچھ دن کے لیے حیدرآبادی وفد کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس طرح ہمارا گروپ ایک قومی نوعیت کا نمائندہ وفد بن گیا۔

 

          منگل 25 مئی کی صبح ہوٹل میں ناشتے کے بعد ترکی کے ایک مشہور و مقبول ٹیلی ویژن گروپ ”سمان یولو“ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ اس گروپ کے تحت جملہ 6 چینل چلائے جاتے ہےں۔ اکین امرے کراغولے (انٹرنیشنل نیوز ایڈیٹر) نے استقبال کےا اور وفد کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گروپ میں شامل ڈاکٹر اے گوپال کرشنن‘ پیشے کے اعتبار سے نےوکلیئر سائنسداں ہےں اور امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ہاورڈ میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہےں۔ ایران کے نیوکلیئر تنازعے کے پس منظر میں ترکی کے اہم رول پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ تبادلہ خیال کے دوران جب ہمارے میزبان سے ڈاکٹر گوپال کرشنن کا تفصیلی تعارف ہوا تو انہوں نے نیوز چینل کے لیے انٹرویو کی فرمائش کردی۔ اسی دو پہر ہم استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع‘‘ویو پوائنٹ’’ پہنچے جہاں سے خلیج باسفورس اور شہر کے یوروپی حصے کا نہایت دلفریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ استنبول دراصل ترکی کا سب سے بڑا اور بہ لحاظ آبادی دنےا کا چوتھا بڑا شہر ہے۔ اس تاریخی شہر میں 12.8 ملین لوگ بستے ہیں۔ اس طرح یہ آبادی کے اعتبار سے یوروپ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے ترکی کے تہذیبی‘ معاشی اور مالیاتی مرکز کا بھی اعزاز ہے۔ یہ شہر صوبہ استنبول کے 39 اضلاع کا احاطہ کرتا ہے اور آبنائے باسفورس کے دہانے پر آباد ہے۔ قدرتی بندرگاہ جسے ”گولڈن ہارن“ (قرنِ طلائی) اسی کا حصہ ہے۔ دو بر اعظموں پر محیط دنےا کا یہ واحد شہر ہے۔ استنبول نے اپنی طویل تاریخ میں سلطنت روم‘ بازنطینی سلطنت‘ لاطینی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ (1453-1922ئ) کے پایہ تخت کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ سنہ 2010ءکے لیے استنبول کو یوروپ کا مشترکہ تہذیبی دارالحکومت منتخب کیا گیا ہے۔ استنبول کے تاریخی مقامات 1985ءمیں یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل کےے گئے۔ ویو پوائنٹ سے خلیج باسفورس کے نظارے کے بعد دو پہر میں کشتی کے سفر کا پروگرام تھا۔ تیز ہواﺅں کے بیچ خلیج باسفورس کی یہ سیر نہایت خوشگوار اور ےادگار ثابت ہوئی۔ ہوا اس قدر تیز تھی کہ کشتی کے عرشے پر چلنا ےا ٹھہرنا دشوار تھا۔ لیکن دونوں جانب کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے 4 تا 6 افراد عرشے پر ہی بیٹھے رہے۔

آبی گزرگاہ کی دونوں جانب استنبول کے یوروپی اور ایشیائی حصوں کا نظارہ نہایت دلفریب ہے۔ بالخصوص گنجان آبادی کے درمےان اپنے سر ابھارے مساجد کے مینار اس ملک میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت کا ثبوت ہےں۔ اچھی بات یہ ہے کہ مساجد کی کثرت کے باوجود مصلیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی دن ہم کو استنبول کے ایک اور تاریخی مقام ‘‘میدان ٹاور’’ کی بھی سیر کرائی جو گرلز ٹاور کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ ٹاور خلیج باسفورس میں یوروپ اور ایشیاءکے نکتہ اتصال پر واقع چھوٹے سے جزیرہ پر ہے۔ اسے استنبول کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا گواہ تصور کیا جاتا ہے۔ ٹاور کے تعلق سے کئی دلچسپ داستانیں تاریخ کا حصہ ہےں۔ منگل کی شام گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ دو مختلف مقامات پر ترک خاندانوں نے ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ ہم جس گروپ میں تھے‘ اس کی ضیافت ایک اےسے خاندان کے سپرد کی گئی جہاں میاں‘ بیوی دونوں وکیل تھے۔ وحدت عروج اور ان کی بیگم نے نہایت پر تپاک انداز میں خیر مقدم کیا اور ذائقہ دار ترک پکوان کے ساتھ تواضع کی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ وحدت عروج کی بیگم‘ ایڈوکیٹ ہونے کے باوجود اپنے مکان میں مہمانوں کے روبرو اسکارف باندھے ہوئے اور سر تا پا ایک خوبصورت کوٹ میں ملبوس تھیں۔ اس خاندان میں دو ننھے بچے بھی تھے۔ وفد کے تمام ارکان ترک خاندان کی ضیافت اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ جناب وٹھل راﺅ کے لیے خصوصی طور پر وجیٹیرین ڈش تیار کی گئی تھی۔ چہارشنبہ 26 مئی کی صبح استنبول کی مشہور ”فاتح انٹر نیشنل یونیورسٹی“ کے دورے کا موقع ملا۔ شعبہ تاریخ کے سربراہ پروفیسر طوفان بزپینار اور کیمسٹری کے پروفیسر نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی ایک خانگی یونیورسٹی ہے جس کا قےام 1996ءمیں عمل میں آےا۔ پروفیسر طوفان کے بموجب سلطان محمد دوم فاتح استنبول کو ترک عوام چونکہ اپنا محسن مانتے ہےں اسی لیے بیشتر ادارے ان سے منسوب ہےں۔ ترکی میں جہاں خواندگی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے سرکاری یونیورسٹیز کی تعداد 100 ہے۔ جبکہ خانگی جامعات جنہیں فاﺅنڈیشن یونیورسٹی کہا جاتا ہے 50 کے قریب ہےں۔ پروفیسر حضرات نے اعتراف کیا کہ موجودہ دور میں سوشیل سائنسیس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ سماجی علوم کے محققین کو یونیورسٹی بھاری امداد فراہم کرتی ہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے والے 98 فیصد طلبہ کو روزگار مل جاتا ہے۔ فاتح انٹرنیشنل یونیورسٹی نے یوروپ کی کئی جامعات کے ساتھ معاہدے کیے ہےں۔ حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے ساتھ بھی یادداشت مفاہمت ہو چکی ہے۔ 11 ہزار طلبہ میں 700 غیر ملکی ہےں۔ ترکی میں 13 سال کی عمر تک تعلیم سب کے لیے لازمی ہے۔ سرکاری جامعات‘ اعلیٰ سطح پر مفت تعلیم فراہم کرتے ہےں۔ جبکہ خانگی یونیورسٹیز میں انٹرنس ٹسٹ کی بنےاد پر داخلہ دیا جاتا ہے۔

          فاتح یونیورسٹی کے دورے کے بعد ترکی کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ”زمان“ کے دفتر کا معائنہ اور سینئر ایڈیٹرس کے ساتھ تبادلہ خیال مقرر تھا۔ اخبار کے انتظامیہ نے اس ملاقات سے قبل پر تکلف ظہرانہ ترتیب دیا۔ بعد میں زمان اخبار کے فارن نیوز ایڈیٹر جلیل صغیر اور مشہور کالم نگار محمد کریم نے مہمان وفد کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترکی گذشتہ کئی دہائیوں کے انتشار کے بعد اب بتدریج مستحکم ہو رہا ہے۔ 1990ءکی دہائی تک ترکی میں سیاسی انتشار اور عدم استحکام تھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جو ان کے خیال میں ترک معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی بیداری کا نتیجہ ہے۔ دونوں سینئر صحافیوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کمال اتاترک کے سیکولر طرز حکومت نے ترک معاشرے کو زبردست نقصان پہنچاےا۔ چونکہ سیکولرزم کے نام پر بعض مذہب بیزاروں نے تنگ نظری اور تعصب کی انتہاءکردی تھی۔ زمان میڈیا گروپ کے تحت ترک روزنامہ ”زمان“ شائع کیا جاتا ہے جس کی تعداد اشاعت 9 لاکھ ہے جو ترکی کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ ”ٹو ڈے زمان“ نامی انگریزی اخبار گذشتہ 3 برس سے کامےابی کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے جو ترکی کا سب سے بڑا انگریزی اخبار ہے۔ بین الاقوامی شہرت کی حامل نیوز ایجنسی ”جیہان“ اسی گروپ کی ملکیت ہے۔ ”عکسیان“ نےوز ویکلی کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ زمان گروپ یکم اکتوبر 2010ءسے ایک بین الاقوامی ماہنامہ شائع کر رہا ہے۔ محمد کریم نے دعویٰ کیا کہ زمان گروپ اپنی سماجی ذمہ داری بخوبی سمجھتا ہے اور اسے نبھارہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے کثیر مذہبی ورثہ کی ستائش کی اور وضاحت کی کہ وہ مذہب پسند ضرور ہےں لیکن اخبار و صحافت سیکولر ہےں۔ ترک سیاستدان بڑی حد تک روادار ہےں۔ لیکن فوج کا رویہ سخت گیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ترکی میں مذہبی بیداری کے نتیجے میں ”سیکولر بنےاد پرستی“ کا بتدریج خاتمہ ہو رہا ہے۔ ملک میں 1989ءتک خانگی ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلس کے قےام پر پابندی تھی۔ زمان گروپ کے دونوں سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ترک عوام میں افقی اور عمودی تحریک پیدا ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں سے عوام بڑی تعداد میں شہر منتقل ہوئے ہےں۔ ممتاز عالم دین‘ دانشور اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین کی تحریک نے سیاسی و دانشورانہ فکر کی تحریک میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ترک خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اندرون ملک معمول کے حالات کی بحالی کے ساتھ پڑوسی ممالک سے روابط میں بہتری اولین ترجیح ہے۔ ترکی ایک ایسا ملک ہے جس کے پڑوسیوں کی تعداد 8 ہے۔ ترکی میں اب فوج کی سیاسی اہمیت نہیں رہی۔ خارجہ پالیسی کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی مفادات ایک طرف ہےں تو دوسری طرف حلیف ممالک کا مفاد ہے۔ سینئر ترک صحافیوں نے مصطفی کمال اتاترک کے دور میں اور ان کے انتقال کے بعد طویل عرصے تک موجود طرز حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ اتاترک کو ‘‘خدا’’ اور حکمران جماعت کو مخصوص مفادات کا نگہبان بنادیا گیا تھا۔

تہذیبی ٹکراﺅ کی نہیں‘ تہذیبوں کے اتحاد کی ضرورت

           ”زمان“ کے دفتر سے ہم سیدھے رائٹرس اینڈ جرنلسٹس فاﺅنڈیشن کے دفتر پہنچے جہاں اسماعیل طس اور احمد محرم نے استقبال کیا۔ اسماعیل طس‘ ڈائیلاگ یوریشیا کے جنرل سکریٹری ہےں جبکہ احمد محرم میڈیالاگ کے سکریٹری جنرل ہےں۔ تبادلہ خیال کے دوران احمد محرم نے ان کے ادارے کی مساعی کو تہذیبوں کے اتحاد کی ادنیٰ کوشش سے تعبیر کیا۔ اس کے ذریعہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ جناب احمد محرم نے ریمارک کیا کہ مذاکرات‘ زندہ رہنے کا واحد راستہ ہےں۔ ساری دنےا ایک کنبہ کی مانند ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ستیہ پرکاش نے ‘‘ہندوستان میں ذرائع ابلاغ’’ کے موضوع پر پاور پوائنٹ پرزنٹیشن دیا۔ جو نہایت معلوماتی رہا۔ جناب سریش ریڈی نے فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کی ستائش کی اور کہا کہ ایسی ہی تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے امن اور مذاکرات کے لیے حقیقی کوششیں کر رہے ہیں۔ چہارشنبہ کی رات بھی وفد دو گروپس میں منقسم ہوکر استنبول کے علیحدہ حصوں میں ترک خاندانوں کی ضیافت سے محظوظ ہوتا رہا۔

          جمعرات کی صبح استنبول کے عالمی شہرت یافتہ تاریخی مقامات کی سیر کے لیے نکل پڑے۔ سب سے پہلے قصر توپ کاپی کا رخ کیا۔ ترک زبان میں اسے توپ کاپی سرائے کہتے ہےں۔ محل کو سرائے سے تعبیر کرنا دنےا کے عارضی پن کی دلالت کرتا ہے۔ توپ کاپی دراصل سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کی تقریباً 400 برس تک سرکاری قےامگاہ تھا۔ اب اسے میوزیم بنادےا گیا ہے۔ یہی وہ میوزیم ہے جہاں حضور ﷺ کے آثار مبارک ساری دنےا کے مسلمانوں کو اپنی جانب کھینچتے ہےں۔ حضور صلعم کی تلوار ‘ زرہ بکتر اور پائے مبارک کے نشان بھی یہاں محفوظ ہےں۔ چاروں خلفائے راشدین کی تلواروں کے علاوہ حضرت موسیٰؑ کا عصا‘ حضرت یوسفؑ کا عمامہ اور اسلامی تاریخ کا ایک بیش بہا خزانہ ےہاں محفوظ ہے۔ توپ کاپی کی تعمیر فاتح استنبول سلطان محمد دوم کے حکم پر 1459ءمیں شروع ہوئی۔ سترہویں صدی میں عثمانی فرمانروا یہاں سے باسفورس کے ساحل پر تعمیر کردہ نئے محلوں میں منتقل ہوگئے۔ توپ کاپی میوزیم میں سیاحوں کا ہجوم تھا۔ وہاں سے نکل کر ایک اور تاریخی عمارت ‘‘ایا صوفیہ’’ پہنچے۔ جو ماضی میں عیسائی گرجا گھر اور مسجد رہ چکا ہے۔ 360 تا 1453ءآےا صوفیہ‘ قسطنطنیہ کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ 29 مئی 1453ءتا 1934ءاسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ 1935ءمیں اسے میوزیم بنادےا گیا۔ آےا صوفیہ اپنے زبردست گنبد کے لیے مشہور ہے جو بازنطینی فن تعمیر کی سب سے بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس عمارت نے فن تعمیر کی تاریخ کو بدل کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسے دنےا کے سب سے بڑے گرجا گھر کا اعزاز حاصل رہا۔ آج بھی آیا صوفیہ کی گنبد کے اندرونی حصے پر عیسائی مذہبی تصاویر کے علاوہ اللہ‘ محمد اور خلفائے راشدینؓ کے ناموں کے بڑے کتبے موجود ہیں۔ 1453ءمیں جب عثمانی ترک اور سلطان محمد دوم نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آےا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ کئی عیسائی مذہبی علامتوں کو ہٹاتے ہوئے محراب‘ منبر اور بیرونی حصے میں چار میناروں کا اضافہ کیا گیا۔ آےا صوفیہ کی سیر کے بعد خلیج باسفورس کے دونوں کناروں کو جوڑنے والے ایک پل کے نےچے بنی ریستوراں میں لنچ کیا ۔ اس علاقہ میں جہاں دونوں طرف سمندر کا نےلگوں پانی نظر آتا ہے‘ استنبول کے کئی نہایت مشہور ریستوراں ہےں۔ جہاں مچھلیوں کی مختلف اقسام پر مشتمل ڈشس تیار کی جاتی ہےں۔ جس وقت ہم بندرگاہ سے گزر رہے تھے تب وہاں 16 مختلف ممالک سے آئے 23 تاریخی جہازوں کا ایک بیڑہ وہاں پہنچا۔ وہ ایک بین الاقوامی Regatta کے حصے کے طور پر آبنائے باسفورس میں لنگر انداز تھا۔ لنچ کے بعد استنبول کی علامت سمجھی جانے والی سلطان احمد مسجد (نیلی مسجد) پہنچ گئے۔ یہ مسجد سلطان احمد اول کے دور میں 1609ءاور 1616ءکے درمےان تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں ساری دنےا سے آنے والے سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ آج بھی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ ترکی مساجد میں خواتین کےلئے خصوصی گوشہ ہوتا ہے۔ نماز کے دوران سیاحوں کی آمد بند کردی جاتی ہے۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے روضہ پر حاضری

دہلی سے آنے والے مہمانوں ڈاکٹر خواجہ اکرام اور ڈاکٹر رضوان الرحمن نے ہمیں پہلے ہی دن بتادیا تھا کہ مدینہ منورہ میں میزبان رسول حضرت ابو اےوب الانصاریؓ کا روضہ مبارک استنبول میں موجود ہے۔ اس کی زیارت کے بغیر استنبول کا سفر بے معنی ہے۔ نتیجتاً جمعرات کی شام جب وفد کے دیگر افراد خریداری میں مصروف ہوگئے تو ہم نے اپنے میزبان نور الدین کے ہمراہ حضرت ابو اےوب کے روضہ پر حاضری دی۔ قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ یہ وہی صحابی رسول ہےں جنہیں حضور صلعم کی مدینہ ہجرت کے بعد ان کی میزبانی کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ حضورﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ اور اس کے پیام کے دفاع میں لگادی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور میں جب اسلامی فوج نے شام‘ فلسطین اور مصر فتح کیا تو وہ فوج کا حصہ تھے۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے دور میں قبرص کی فتح میں بھی حصہ لےا تھا۔ حضرت علیؓ نے عراق میں اپنے قےام کے دوران حضرت ابو اےوبؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب صدر مقرر کیا تھا۔ انہیں مسجد نبوی کی امامت کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ ضعیف العمری کے باوجود حضرت ابو ایوبؓ سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد میں حصہ لےتے۔ 49ھ میں استنبول کے محاصرے کے دوران جب ان کی عمر 80 سال سے زائد تھی انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ میزبان رسولؓ سے جب وہ زخموں سے چور ہوچکے تو ان کے ساتھیوں نے آخری خواہش دریافت کی تو حضرت ابو ایوب ؓ نے کہا کہ انہیں استنبول شہر کی فصیل کے نزدیک سپرد لحد کیا جائے۔ بازنطینی شہنشاہ نے جب مسلم فوج کی بڑی تعداد کو جنازے میں شریک دیکھا تو اس نے اپنے جاسوس بھیجے۔ اسے بتاےا گیا کہ صحابی رسولؓ شہید ہوئے ہےں اور انہیں وصیت کے مطابق فصیل شہر کے قریب سپرد لحد کیا جارہا ہے۔ بازنطینی شہنشاہ کانس ٹنٹینوس چہارم نے مسلمانوں کے لشکر کو پیام بھیجا کہ ان کی فوج کی واپسی کے بعد وہ حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کی بے حرمتی کرے گا۔ جس پر مسلم فوج کے سپہ سالار نے وارننگ دی کہ اگر ایسی کوئی حرکت کی گئی تو مسلمان علاقوں میں عیسائیوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انتباہ کارگر ثابت ہوا اور بازنطینی فرمانروا اپنے ناپاک ارادے سے باز آگیا۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی قبر کا نشان مٹ گیا تھا۔ حضرت ایوب ایوب کی شہادت کے تقریباً 800 سال بعد سلطان فاتح محمد نے استنبول کا محاصرہ کرلیا۔ سلطان اس بات سے واقف تھا کہ حضرت ابو ایوبؓ نے اسی علاقے میں جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس نے صحابیؓ رسول کی قبر کی بازیافت کا تہیہ کرلیا۔ تاہم شہر کے محاصرے نے اسے مہلت نہیں دی۔ ممتاز ترک شاعر یحییٰ کمال کے مطابق جب محاصرہ طویل اور صبر آزما ہوگیا تو سلطان کے پیر و مرشد شمس الدین نے کشف کے ذریعہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کا پتہ چلا لیا۔ عثمانی فوج میں جیسے ہی یہ خبر پھیلی سپاہیوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور استنبول مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ ترکوں کے لیے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کے بعد حضرت ابو ایوبؓ کی مزار مبارک اور اس سے متصل ایوب سلطان مسجد چوتھا مقدس ترین مقام ہے۔ ترک عوام‘ حضرت ایوبؓ کو ایوب سلطانؓ کے نام سے یاد کرتے ہےں اور انہیں استنبول کی روح قرار دیا جاتا ہے۔ ترک عوام کے خیال میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوبؓ کو استنبول کے لیے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔

کونیا میں آدھا دن

          جمعرات کی شب استنبول سے سڑک کے راستے اناطولیہ کے شہر کونیا روانہ ہوئے جو مشہور صوفی شاعر و فلسفی مولانا جلال الدین رومی کا مرکز ہے۔ یہیں ان کا مزار بھی ہے جہاں مختلف ممالک کے عقیدتمند حاضری دےتے ہےں۔ کونےا شہر دراصل سلجوق خاندان کا پایہ تخت رہا ہے۔ یہ نہایت صاف ستھرا شہر ہے۔ فضاﺅں میں پاکیزگی اور روحانیت کی مہک ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ استنبول سے کونےا کا سفر مختصر ہوگا لیکن جب سورج چڑھنے کے باوجود کونےا کے آثار نظر نہیں آئے تو وفد کے ارکان نے ڈرائیور سے فاصلہ دریافت کیا۔ تب ہمیں پتہ چلا کہ یہ 800 کلو میٹر کا سفر ہے۔ تاہم سرسبز وادیوں اور خوبصورت نظاروں نے سفر کی طوالت اور تھکان کا احساس بڑی حد تک دور کردیا۔ ترکی میں معاشی خوشحالی کا یہ عالم ہے کہ قومی شاہراہ کے آس پاس چھوٹے چھوٹے قریہ میں بھی جہاں 10 تا 15 مکانات ہوں عالیشان ”ولا“ تعمیر کےے گئے ہےں۔ کچے مکانات دیہی علاقوں میں بھی نظر نہیں آتے۔ ایک اور خوبی یہ ہے کہ ہر چھوٹی بڑی آبادی میں مساجد نماےاں طور پر نظر آتی ہےں۔ جمعہ کا دن تھا تقریباً 12 بجے کونےا پہنچے اور سیدھے مولانا یونیورسٹی کا رخ کیا۔ یہ جامعہ‘ مولانا جلال الدین رومی سے معنون ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر بہا الدین آدم وائس چانسلر اور سرہاد تیکی لیوغلو جنرل سکریٹری نے خیر مقدم کیا۔ یہ یونیورسٹی حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔ گُلین تحریک سے وابستہ ایک تاجر نے عارضی طور پر ایک وسیع عمارت جو شاپنگ مال کے لیے تعمیر کی گئی تھی‘ یونیورسٹی کے استعمال کے لیے بلا معاوضہ دے دی ہے۔ مستقل عمارت کی عنقریب تعمیر ہوگی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ ابتدعاً سائنس اور انجینئرنگ کے کورسس شروع کیے گئے ہےں۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ میں گُلین تحریک اور اس سے وابستہ افراد کے رول اور بے لوث خدمات کا حوالہ دےتے ہوئے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی ٹرسٹ کے ارکان جب کبھی کسی اجلاس میں شرکت کرتے ہےں تو وہ ناشتہ کی قیمت تک اپنی جیب سے ادا کرتے ہےں تو وفد کے ارکان اپنی حیرت چھپانہ سکے۔ پروفیسر خالد سعید نے اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر محمد میاں وائس چانسلر کی وساطت سے مولانا رومی یونیورسٹی کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر بہاءالدین اور جناب سرہاد نے اس تجویز پر خوشنودی ظاہر کرتے ہوئے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ پروفیسر خالد سعید نے چار مینار کا یادگار تحفہ بھی میزبان جامعہ کے عہدیداروں کو پیش کےا۔ گیسٹ ہاؤس میں کچھ دیر سستانے کے بعد مولانا رومی کی مزار پر حاضری دینے روانہ ہوگئے۔ جمعہ کی شام مولانا جلال الدین رومیؒ مغرب میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مسلمان شاعر ہےں۔ کیونکہ انہوں نے خالق کے لیے مخلوق سے محبت پر زور دےا۔ مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد متصل میوزیم کا معائنہ کیا جہاں قرآنِ مجید کے نہایت نادر نسخے رکھے ہیں۔ ان میں حیدرآباد کے 8 ویں نظام نواب میر برکت علی خان کے عطیہ کردہ نادر نسخے بھی شامل ہےں۔ مولانا رومی کے مزار سے نکلنے کے بعد وسیع صحن میں ہمارے میزبان نور الدین نے تصوف کے موضوع پر بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تصوف کے معنی یہ نہیں کہ آدمی شریعت اور شرعی قوانین سے بے بہرہ ہوجائے۔ مولانا رومی کے آستانے سے ہم سیدھے ایک اسکول پہنچے۔ یہ اسکول بھی گُلین تحریک سے وابستہ گروپ چلا رہا ہے جس کا شمار ترکی کے نہایت معیاری مدارس میں ہوتا ہے۔ اسکول کی ہمہ منزلہ نہایت خوبصورت عمارت کو دیکھنے سے میڈیکل یا انجینئرنگ کالج کا گماں ہوتا ہے۔ چونکہ شام کا وقت تھا۔ جماعتوں کو چھٹی ہوچکی تھی لیکن چوتھی منزل پر ننھے بچے ثقافتی پروگرام پیش کر رہے تھے۔ کونیا کے تاجر مولود شیران کی خوبصورت قےامگاہ پر رات کے کھانے کے بعد ہمارا گروپ ترکی کے دارالحکومت انقرہ روانہ ہوگیا۔ مشہور سوشیل نےٹ ورکنگ سروس ”Orkut“ تیار کرنے والے سافٹ ویئر انجینئر اورکت بایوککوکتین کا تعلق کونےا ہی سے ہے۔

انقرہ کے شب و روز

          انقرہ ترکی کا دوسرا بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ اناطولیہ علاقہ کا وسیع حصہ ہے۔ اسی شہر میں تمام غیر ملکی سفارتخانے بھی ہےں۔ کونیا سے انقرہ پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئی۔ یہاں ہمیں ایک عمدہ گیسٹ ہاﺅز میں ٹھہریاگیا۔ ہم نے ہندوستان میں ہمہ پہلو سیکیوریٹی Multi layer security دیکھی تھی لیکن پاکی اور صفائی کا ہمہ پہلو نظام ترکی میں دیکھنے کو ملا۔ گیسٹ ہاﺅز میں داخل ہوتے ہی جوتے اتارنے پڑے۔ کپ بورڈ میں رکھی مخصوص چپل پہننے وک دی گئی۔ بیت الخلاءمیں استعمال کےلئے ایک علیحدہ ربر سے بناےا ہاف شو رکھا ہوا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ گیسٹ ہاؤس کے تمام کمروں میں باتھ روم تو اٹیچ تھا لیکن بیت الخلاءکمروں سے دور فاصلے پر تھے۔ مزید یہ کہ بیت الخلاءہندوستانی طرز کے تھے۔ ویسٹرن اسٹائل سے گریز کیا گیا تھا۔ سمان یولو اسکول کے ہاسٹل میں بھی صفائی کا یہی نظم ہے۔ ناشتے کا اہتمام ترک تاجر اسماعیل سرغان کی قیامگاہ پر کیا گیا۔ ہمارا گیسٹ ہاﺅز سمان یولو ہائی اسکول (انقرہ) کی شاندار عمارت سے متصل تھا لیکن سینچر ہونے کے باعث اسکول بند تھا۔ دو پہر میں جدید ترکی کے معمار مصطفی کمال اتاترک کے مقبرے پر پہنچے۔ جسے انقرہ میں سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ اتاترک کی آخری قےامگاہ رومن طرز تعمیر کی یاد دلاتی ہے۔ اتاترک کے کئی ”کارناموں“ میں ترکی کو سیکولر جمہوریت میں تبدیل کرنے کے علاوہ ترک زبان کے رسم الخط کی تبدیلی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکی میں خواندگی کی زبردست شرح کے باوجود عوام کی بڑی اکثریت عربی اور فارسی رسم الخط سے نابلد ہے۔ ترکوں کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لفظ اردو‘ ترک زبان کی دین ہے۔ دو پہر میں ”کوجا تی پے“ مسجد پہنچے جسے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر انقرہ کے مشہور اناطولین سیویلائیزیشن میوزیم کی بھی سیر کی۔ جہاں قدیم ترک تاریخ کے آثار محفوظ کےے گئے ہےں۔ واپسی میں انقرہ کے قدیم شہر کا بھی نظارہ کیا۔

          اتوار کی صبح انقرہ میں 8 ویں انٹرنیشنل ترک اولمپیاڈ میں ثقافتی نمائش کا معائنہ کیا۔ تقریباً 120 ممالک شریک تھے۔ ہم جس وقت وہاں پہنچے ثقافتی پروگرام نہیں ہو رہے تھے لیکن مختلف ممالک کے اسٹالس پر زبردست رونق تھی۔ عراق کا اسٹال سب سے زیادہ پرہجوم تھا۔ ہندوستان کے اسٹال کے باہر دہلی کے ایک اسکول کی لڑکی الیزا‘ ترک خواتین کے ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن ڈال رہی تھی۔ پاکستان کے اسٹال پر بھی یہی منظر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اولمپیاڈ میں شامل تمام اسکول وہی ہےں جو مختلف ممالک میں ترکی اور گُلین تحریک نے قائم کیے ہےں۔ دو پہر میں ترک پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نوزاد پکدیل نے ہوٹل میں مہمان وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے ہندوستانی جمہوریت اور کثرت میں وحدت کے جذبے کی ستائش کی۔ اس موقع پر جناب نریندر لوتھر نے ہند – ترکی تعلقات اور بالخصوص نظام حیدرآباد کے ترک روابط پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ساتویں نظام میر عثمان علی خان نے اپنے دونوں صاحبزادوں کی شادی سلطنت عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان عبدالمجید کی صاحبزادی اور بھتیجی سے پیرس میں کی تھی۔ جناب نوزاد اگرچہ حکمراں جماعت کے ایک سینئر لیڈر ہےں لیکن ان کے ساتھ کوئی سیکیوریٹی نہیں تھی۔ مہمان وفد کے ساتھ تبادلہ خیال سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد میں انقرہ کے ایک ہاسپٹل کے ہمارے دورے میں شامل ہوگئے۔

 فتح اللہ گُلین کون ہیں؟

          قارئین کو یقینا اس بات کی جستجو ہوگی کہ محمد فتح اللہ گُلین آخر کون ہیں جن کا ہم بار بار تذکرہ کرچکے ہیں ۔ انہی کی تحریک سے وابستہ گروپ انڈیالاگ نے ہمارے دورے کا اہتمام کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ترکی میں جتنے اسکول‘ میڈیا اداروں‘ جامعات‘ دیگر اداروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہماری ملاقات کروائی گئی ان کا تعلق اسی تحریک سے تھا۔ باور کیا جاتا ہے کہ گُلین کے حامی اور پیرو‘ ترکی کے موجودہ مذہب پسندانہ کردار میں اہم رول ادا کر رہے ہےں۔ فتح اللہ گُلین 1941ءمیں اناطولیہ کے موضع میں ایک نہایت مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن‘ تفسیر‘ حدیث‘ فقہ اور تصوف پر دسترس حاصل کی۔ 1959ءمیں انہیں محکمہ مذہبی امور نے مبلغ کی سند عطا کی۔ 18 سال کی عمر میں وہ ایک مسجد کے امام مقرر کےے گئے۔ ترک دانشور‘ فلسفی اور امن کے علمبردار فتح اللہ گُلین نے ملک اور بین الاقوامی سطح پر انسانی شخصیت پر مرکوز ایک سماجی سیول تحریک کا آغاز کیا ہے۔ وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور امن عالم کے علمبردار ہےں۔ فتح اللہ گُلین نے زائد از 20 برس تک مختلف مساجد میں خطیب و امام کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی دور میں ان کے رفقاءکی بڑی تعداد تیار ہوگئی۔ حالیہ عرصے میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ان کا ساتھ دینے لگے۔ گُلین اپنی تحریک کو رضاکاروں کی برادری قرار دیتے ہیں جنہوں نے دوسروں کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ وہ خود کو قائد نہیں کہتے۔ اسلامی ےا مذہبی تحریک کا لیبل لگانے کے بجائے وہ اعلیٰ انسانی اقدار اور انسانی شخصیت سازی پر اپنے کام اور مساعی کو مرکوز کےے ہوئے ہیں ۔ گُلین تحریک کے زیر اثر نہ صرف ترکی بلکہ ساری دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں ترک انتظامیہ کے اسکول قائم ہیں۔ وسطی ایشیاءاور آفریقہ میں اس گروپ نے زبردست تعلیمی خدمات انجام دی ہیں ۔ ہمارے رابطہ کار نور الدین‘ جن کا تعلق کرغزستان سے ہے‘ اسی تحریک کے قائم کردہ اسکول سے فارغ ہیں ۔ قارئین کو یہ جان کر شاید تعجب ہوگا کہ حیدرآباد میں بھی اس تحریک کی ضمنی تنظیم نے Learnium کے نام سے 3 اسکول قائم کےے ہیں ۔ فتح اللہ گُلین اور ان کی تحریک کے بارے میں ہمارا مشاہدہ اور مطالعہ فی الحال محدود ہے اس تعلق سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے (قارئین ویب سائٹ www.fgulen.com پر مزید معلومات حاصل کرسکتے ہےں جہاں اردو لنک بھی دستےاب ہے) ۔ ترکی کے دورے میں ہم نے ایک اےسے مسلم ملک کا مشاہدہ کیا جو خواب غفلت سے بےدار ہو رہا ہے۔ جہاں کا معاشرہ خود غرضی اور نفسا نفسی کے بجائے بے لوث خدمت کے جذبے پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کی گوج کے دور میں ترکی کی سرسبز وادیوں سے تہذیبوں کے اتحاد کے نعرے کی صدا سنائی دے رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس طرح کی کوششیں جو کہ غیر سرکاری سطح پر کی جارہی ہےں بارآور ثابت ہوں گی۔

وطن سے دور ہم وطنوں سے شناسائی

          ترکی کے دورے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ 12 رکنی وفد کے بیشتر ارکان ایک دوسرے سے شخصی طور پر ناواقف تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ سفر سب کے لیے نہ صرف یادگار ثابت ہوا بلکہ وطن سے دور ہمیں اپنے برادران وطن کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہم اپنے معاشرے میں کس قدر الگ تھلگ ہو کر رہ گئے ہےں۔ ایک دوسرے سے تعارف اور شناسائی کے لیے شاید اب سات سمندر پار کرنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں جناب سریش ریڈی جیسے سینئر سیاست دان کے علاوہ جناب تراب الحسن اور جناب نریندر لوتھر کی شکل میں دو بزرگ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار بھی تھے۔ ڈاکٹر اے گوپال کرشنن نے جو انگریزی اخبارات کے کالم نگار بھی ہےں‘ بین الاقوامی مسائل پر اپنی گہری نظر کے ذریعہ نہ صرف میزبانوں کو بلکہ وفد میں شامل دیگر ارکان کو بھی متاثر کیا۔ اُردو ادب اور درس و تدریس کے حلقوں میں پروفیسر خالد سعید کا نام محتاج تعارف نہیں۔ ڈاکٹر سنجے سبودھ ہندوستان کی عہد وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر ہےں ۔ ڈاکٹر ستیہ پرکاش نوجوان اور معلومات سے لیس اسسٹنٹ پروفیسر ہےں۔ ڈاکٹر قرة العین حسن اور ڈاکٹر دلنواز ہمیشہ وفد میں Live Wire کا کام کرتیں۔ جناب نریندر لوتھر کی شریک حیات‘ محترمہ بندی لوتھر کو جب بھی موقع ملتا ملک کی تقسیم سے قبل پاکستان میں عمر کے ابتدائی حصے کو یاد کرتیں اور حالیہ عرصے میں دورہ پاکستان کے قصے سناتیں۔ محترمہ سنگا مترا ملک ایک سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی گلوکارہ بھی ہیں۔ دوران سفر انہوں نے کئی مرتبہ سریلے نغمے چھیڑ کر سماں باندھ دیا۔ ڈاکٹر قرة العین حسن، جنہیں گھر والے اور قریبی دوست عینی کہتے ہےں‘ ہمیشہ اپنے والد محترم جناب تراب الحسن کی فکر میں رہتیں۔ تاہم ”بابا“ (تراب الحسن صاحب) کے جوش کا یہ عالم تھا کہ پانچویں منزل پر لفٹ کے بغیر منٹوں میں پہنچ جاتے۔ جبکہ ان سے کافی کم عمر افراد بھی سیڑھیاں چڑھنے میں تردد کا مظاہرہ کرتے تھے۔ جناب نریندر لوتھر نہایت نرم خو اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہےں۔ وہ بھی پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ ملک کی تقسیم سے قبل پنجاب کے اُس علاقے میں پیداہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ اردو کے علاوہ عربی اور فارسی جانتے ہیں ۔ ان کے والد محترم عربی اور فارسی کے عالم اور قرآن کے مترجم تھے۔ انہوں نے قرآن مجید اور بھگوت گیتا میں پائے جانے والے مشترکہ نکات قلمبند کےے تھے۔ وفد میں جناب وٹھل راﺅ کی شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ سادہ لباس اور سادہ مزاج شخصیت کے مالک وٹھل راﺅ نہایت کٹر سبزی خور ہےں۔ ساتھیوں کے کام آنا ان کی عین فطرت ہے۔ پیر 31 مئی کی صبح 8 بجے انقرہ سے بذریعہ بس ہم استنبول روانہ ہوئے۔ سنگا مترا ملک نے مکیش کے مشہور گیت سہانہ سفر اور یہ موسم حسیں…. کے ذریعہ اس حسین سفر کی بخوبی ترجمانی کی۔ پروفیسر خالد سعید نے جو ایک اچھے شاعر بھی ہےں‘ منتخب اشعار سناکر سب کو محظوظ کیا لیکن ہماری حیرت کی اس وقت کوئی انتہاءنہیں رہی جب خالد سعید صاحب نے بس میں موجود مائک تھام کر محمد رفیع کے چند یاد گار گیت نہایت سلیقے سے پیش کےے۔ اس طرح شام 4 بجے استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے سے ہم دوبئی روانہ ہوئے۔ ترکی کے دورے کی ڈھیر ساری یادیں سمیٹے منگل یکم جون 2010ءکی صبح 9 بجے شمس آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ہمارا یہ سفر اختتام کو پہنچا۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

اسلام کی معتدل تعبیر کی ضرورت!

قدامت پرستی اور تجدد پسندی سے نجات کے لیے

اسلام کی معتدل تعبیر کی ضرورت!

 

خوشتر نورانی

ادارہ فکر اسلامی، شاہین باغ، اوکھلا، نئی دہلی-۵۲

09868629227

email:k_noorani@yahoo.com

کہاجاتا ہے کہ”عبارتTextخود نہیں بولتی، اس لیے اس کے پڑھنے والے اس کی مختلف توجیہ و تشریح کرتے ہیں-“ معاصر دنیا میں اسلامی مآخذ و مراجع اور اس کی تاریخ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے- ”صحیح اسلام“ کی تعبیر و تشریح میں آج جو کتابیں اور مضامین آرہے ہیں، ان کے مطالعے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ داخلی سطح پر مسلمان کس فکری بحران سے دوچار ہیں- اسلام پر لکھی جانے والی ان سیکڑوں تحریروں سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مسلکی اور مشربی امتیازات سے بالاتر علما اور دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اسلام کی تعبیرات، شریعت کی تشریحات اور مسلم امہ کی ذہنی تشکیل کے سلسلے میں دو حصوں میں بٹ گیا ہے-

ایک طبقہ قدامت پرستی اور قدماءکی عقیدت میں اس قدر جامد ہے کہ کسی فرعی فقہی مسئلہ میں اختلاف رائے کو بھی گمرہی قرار دیتا ہے- سیاسی، معاشی، جمہوری اور سیاسی انقلابات سے ناواقفیت اور زمان و مکان کے تغیر سے بے نیازی کے ساتھ یہ طبقہ اسلام کی جو تعبیر پیش کر رہا ہے وہ معاصر مسلمانوں کی دینی تفہیم میں رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے- اسلام کے دین کامل ہونے کی جو توجیہ مفسرین نے بیان کی ہے وہ ہے اس کی ہمہ گیریت، آفاقیت اور یسر،جس کا دوٹوک مفہوم یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہیں، قیامت تک کے لیے قابل انطباق Applicableہیںاور حالات، زمانے اور ماحول کے زیر اثر پیدا ہونے والے مسائل کا قابل عمل حل اپنے اندر رکھتی ہےں- لیکن اسلام کی جو تعبیرات و تشریحات مذکورہ طبقے کے ذریعہ منظر عام پر آرہی ہیں وہ اسلام کی کاملیت، ہمہ گیریت اور آفاقیت کے مفاہیم سے متصادم ہیں- اس تصادم کی وجہ سے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ اس طرح ہیں:

۱-داخلی سطح پر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ علما سے برگشتہ ہو گیا ہے، جس کے سبب علما کا ذاتی وقار اور ان کی مذہبی قدریں مسلم سماج سے رخصت ہورہی ہیں جو بالواسطہ اسلام سے دوری کی وجہ بن گئی ہے-

۲- بلا تفریق مذہب و ملت عام ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو رہی ہے کہ دیگر مذاہب کی طرح اسلامی تعلیمات بھیOutdatedہیں اور نو پید مسائل کا قابل نفاذ حل نہیں رکھتیں-

۳- ذرائع ابلاغ(میڈیا)کو اسلامی قوانین اور نظریات کے خلاف محاذ آرائی کا موقع مل رہا ہے، اس طرح عالمی سطح پر اسلام کی آفاقیت پر سوالیہ نشان قائم کیا جارہا ہے-

۴- اسلامی تعلیمات جن کی اساس محبت، رواداری، مساوات، انسانیت، حکمت بالغہ اور امن پر قائم ہے، اسلام کی ان نئی تعبیرات میں یہ اساس مفقود ہوگئی ہے- نتیجے کے طور پر دعوت و تبلیغ کا تصور امت کے دماغ سے ختم ہوتا جا رہا ہے-

۵- فروعی مسائل فرضیت کے دائرے میں آگئے ہیں جس کی وجہ سے اسلام کی بنیادی تعلیمات پر امت مسلمہ کا ارتکاز ختم ہورہا ہے اور مستحبات کو غایت دین سمجھا جا رہا ہے-اس عمل نے امت کو گروہ در گروہ میں تقسیم کر دیا ہے اور ایک ہی مسلک و منہاج پر چلنے والے آپس میںدست و گریباں ہیں-

۶- مدارس سے فارغ ہونے والی علماءکی نئی نسل اور قدیم علما کے درمیان تناو


¿ کی صورت پیداہو گئی ہے، یہ نسل ان کی فکری تشریحات کو نہ قبول کرنے کو تیار ہے اور نہ ان کے علمی سرمایے کو اپنے بعد آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی آرزو مند-

اسلام کے حوالے سے امت کے مختلف طبقوں کے درمیان یہ صورت حال عام ہے جو ظاہر ہے کہ اسلام کی توسیع،مسلم سوسائٹی میں شریعت کی بالا دستی اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے خطرے کا الارم ہے-

مسلم سوسائٹی میں دوسرا طبقہ اسلام کی مادر پدر آزاد تعبیرات و توضیحات کرنے والا تجدد پسندوں کا ہے-یہ گروپ اسلامی قوانین اور اس کی تعلیمات کے حوالے سے علماءکی بالعموم ملوکانہ ادوار کی تشریحات کے رد عمل میں سامنے آیا ہے-ان کا رد عمل فکری جارحیت پر مبنی ہے کہ خدا کے کلام اور رسول کی سنت کے علاوہ کوئی چیز تحلیل وتجزیہ سے بالاتر نہیں اور وقت آگیا ہے کہ ہم چودہ صدیوں پر محیط اپنے دینی ورثے پر تنقیدی نگا ہ ڈالیں اور انھیں کالعدم قرار دے کر براہ راست اسلامی مآخذ سے استفادہ کریں -ظاہر ہے کہ یہ فکر اباحیت پسندی ،اجماع سے انحراف،اسلاف بیزاری،بے اصولی،سرمایہ


¿ اسلامی میں تشکیک اور دین کے سیکولرائزیشن کی دعوت ہے،جسے کم از کم بالغ ذہن قبول نہیں کرسکتا-لیکن مستقبل میں عام مسلمانوں کو داخلی سطح پر سب سے بڑا خطرہ اسی طبقے سے ہے-ابھی مسلم سوسائٹی میں ان کے اثرات بہت نمایاں نہیں ہیں ،مگر یہ طبقہ جس منظم اور موثرانداز میں اپنے افکار کی توسیع میں سرگرم ہے ،ان پر توجہ نہیں دی گئی تو مسلم سماج پر ان افکارکے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ کچھ ایسے ہوں گے:

۱-ہر زید ،بکر اور عمر دین کی من چاہی تعبیر کرے گا،کیوں کہ اسلام کے چودہ سو سالہ فکری وعلمی وراثت پر اعتماد قائم نہیں رہا-

۲-وہ مسائل جن پر جمہور علماءکا اتفاق ہو چکا ہے ،ان سے انحراف عام سی بات ہوگی-

۳-عام مسلمانوں میں عدم تقلید کا رجحان فقہی ذخائر سے بے نیاز کردے گا اور یہ بے نیازی عام مسلمانوں کو فقہاءاور ائمہ


¿ متقدمین کی اہانت پر اکسائے گی -

۴-اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذاحادیث رسول کا سرمایہ ہے-یہ سرمایہ اسانید اور فن رجال کی کسوٹی سے گزر کر ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے،جب ناقدین حدیث کی وہ کسوٹی ہی ناقابل اعتماد ٹھری تو پھر مسلمانوں کے درمیان حدیثی سرمایہ میں تشکیک کے رجحان کا فروغ پانا تعجب خیز امر نہیں ہوگا-

۵-احادیث پر تشکیک کا مطلب ہے قرآنی اعتقادیات پر تشکیک -اس طرح یہ بے سمتی ،تجدد اور بے اصولی صرف اسلام کے چودہ سو سالہ علمی وفکری ورثے کو کالعدم ہی نہیں قرار دے گی بلکہ دین حنیف کی اساس کو ہی معطل کردے گی،اس کے بعد اسلام کے نام پر جو دین ہمارے پاس ہوگا وہ دین محمدی نہیںبلکہ اس کا سیکولرائزڈ ایڈیشن ہوگا -

مشکل یہ ہے کہ مذکورہ دونوں طبقے کو ہی اپنی درستی اور صالحیت پر جس قدر اصرار ہے، دوسری کی گمرہی پر اس سے زیادہ یقین- جب تک یہ دونوں گروہ اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات و روایات کی روشنی میں اپنا محاکمہ نہیں کرتے انہیں اندازہ نہیں ہو سکتا کہ پوری امت کو وہ کس فکری بحران سے دوچار کر رہے ہیں اور بیک وقت وہ دین کی آفاقیت اور اپنے چودہ سو سالہ تہذیبی ورثے کو کس قدر مجروح اور محدود کر رہے ہیں- ساتھ ہی بالواسطہ لوگوں کی اسلام سے برگشتگی کی راہ ہموار کر رہے ہیں-

مسئلہ یہ ہے کہ تشدد کے ان دونوں کناروں کے خلاف ہمارے پاس احتجاج کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ افکار کو احتجاج، مخالفت اور تشدد سے نہیں دبایا جاسکتا- ایک فکر کی کاٹ اس سے محکم فکر کے توسط سے ہی ممکن ہے- پریشانی یہ ہے کہ اب تک قدیم صالح وجدید نافع کے حامل ایسے افراد سامنے نہیں آسکے ہیں جو ان دونوں انحرافات سے ہٹ کر راہ اعتدال کی علمی، فکری، لٹریری و تحریکی خاکہ پیش کرسکیں جو ماضی کے صالح ورثے کا بھی حامل ہو، حال کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے والا ہو اور مستقبل میں انسانیت کو درپیش چیلنجیز کا صحیح اسلامی و انسانی حل بھی فراہم کرنے والا ہو- یہ سوال قائدین امت اور داعیان اسلام سے ایک ہمہ گیربیداری، گہرے تفکر اور عملی پیش رفت کی دعوت دے رہا ہے- کیا خیر امت ہونے کا احساس ہمیں اس سمت بڑھنے کے لیے آمادہ کرسکے گا؟

 

مسلمان امن کی علامت بنیں

مسلمان امن کی علامت بنیں

ذیشان احمدمصباحی

ادارہ فکر اسلامی، شاہین باغ،نئی دہلی-۵۲

zishanmisbahi@gmail.com

 Contact: 9911611567 

            پروپیگنڈہ، سازش، مکرو فریب اور میڈیائی شرانگیزیوں کے اس دور میں بہت سے حقائق مشتبہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔میڈیا کے ذریعہ آج جن حقائق کا انکشاف ہوتا ہے دوسری ہی صبح ان کی حقیقت ایک افسانہ بن جاتی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز میںشک کرنے لگیں۔ذرائع ابلاغ کے تمام تر غیر ذمہ دارانہ رویوں کے با وجود بہت سی باتیں ایسی ہیںجن میں شک کرنا خود فریبی کے ہم معنی ہوگا۔مثال کے طور پر اگر کوئی آر ۔ایس ۔ایس اور طالبان کے متشدد نظریات میں بھی شبہ کرنے لگے تو اس کی اس معصومانہ ادا پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی اسلام کو دہشت گردی کا مذہب کہتا ہے ،مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بات اپنے آپ میں جتنی غلط ہوگی اتنی ہی غلط آر۔ ایس۔ ایس اور طالبان کے رویوں کی حمایت کرنا بھی ہوگی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان نے اصلاح کا جو طریقہ اختیار کیاہے اسے نہ موجودہ حالات کے تناظر میںدرست کہا جا سکتا ہے اورنہ ہی اسلامی نقطہ نظر سے اس کی تائید کی جا سکتی ہے۔طالبان کے اس رویے کے سماجی،اقتصادی،سیاسی اور عالمی اسباب و عوامل پر بحث کرنا ایک الگ موضوع ہے۔

            ۱۱/۹ کے بعد ملکی اور عالمی میڈیا کے ذریعہ برابر اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ گاہے بہ گاہے اہل سنت و جماعت،دیوبندی جماعت،اہل حدیث،شیعہ اور دیگر مکاتب فکر کے نمائندوں نے اس کی زبانی اور تحریری تردید کی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف دہشت گردی کے حوالے سے اسلام کا موقف پیش کردینے سے دہشت گردی سے براءت کی یہ ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاق میںجس طرح میڈیا کارول مشتبہ ہے، مسلم جماعتوں اور نمائندوں کا کردار بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ گاہے بہ گاہے دہشت گردی سے اپنی براءت کا اظہار کرکے وہ حقیقت کے ساتھ پورے طور پر انصاف نہیںکر پاتے اور نہ اپنی ذمہ داریوںسے عہدہ برآ ہوپاتے ہیں۔

            پچھلے دو تین سالوں میں مزارات پربم باری اوراہانت کے جو غیرانسانی و غیراخلاقی واقعات سامنے آئے ہیں ان میں مولانا اشرف علی تھانوی کی قبرکی مسماری ، حضرت خواجہ غریب نواز کے احاطے میں بم دھماکہ اور گزشتہ دنوں حضرت داتا گنج بخش ہجویری علیہ الرحمہ کے احاطے میں خود کش حملہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا تھانوی کی قبر کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے مذمتی بیانات مہینوں تک قومی اخبارات پر چھائے رہے جب کہ بعض حلقوںمیں خوشی کاسماں بھی دیکھنے میں آیا ۔حضرت خوا جہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے مزار پر جو واقعہ پیش آیا اس کے اثرات ملکی اور عالمی میڈیا میں ظاہر ہوئے لیکن اس کے با وجود تمام مسالک کے نمائندوں نے متفقہ طور سے کھل کر اس کی مذمت نہیں کی جس طرح کی جانی چاہیے تھی۔اس کے بر عکس یہ ہوا کہ خانقاہی اور صوفی مسلمانوں نے اس کا ذمہ دار وہابی طبقہ کو ٹھہرایااور اس کے خلاف مذمتی بیانات دیے۔بعدمیں جو انکشافات سامنے آئے وہ چونکا دینے والے تھے ۔معتبرذرایع نے واضح طورپر اجمیر بم دھماکہ کے پیچھے مختلف ہندو تنظیموں کے ہاتھ ہونے کا ثبوت پیش کر دیا۔

            داتا صاحب کے مزار پر حالیہ خود کش حملے سے چند روز قبل مزار کے ذمہ داروںکو کوئی تہدیدآمیز فون آیا تھاکہ مزارات کی اصلاح کرواور عورتوں کو مزارات پہ آنے سے روکو، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔اسی کے بعد یہ واقعہ پیش آیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہند و پاک کے اہل سنت اس دھماکے کا ذمہ دار ان مسلکی گروپوں کو سمجھ رہے ہیں جومزارات اور خانقاہوں کو غلط سمجھتے ہیں۔پاکستان کی کچھ سنی تنظیموں نے تو باضابطہ بندوقوں اور اسلحوں کے ساتھ مظاہرے کیے اور اپنے مخالف مسلکی گروپوں کو للکارا۔ادھر دوسری جماعتوں کی طرف سے اس گھناﺅنے عمل کی جس طرح مذمت ہونی چاہیے تھی نہیںہوئی۔

            یہاں بہت ممکن ہے کہ داتا صاحب کے مزار پر ہوئے اس خود کش حملے کے پیچھے بھی وہی مقاصد کار فرما ہوں جو اجمیر دھماکے کے پیچھے تھے اور اجمیر ہی کی طرح اس حملے کے پیچھے بھی انہی غیر مسلم تنظیموں اور اسلام دشمن عناصر کا ہاتھ ہو جن کے بارے میںمسلمانوںکا ہر مسلکی گروپ یہ اعلان کرتا ہے کہ مخالفین اسلام کا نشانہ مسلمانوں کو تقسیم کرکے ان پر حکومت کرنا ہے اور پھر ہر مسلک کے افراد دشمن کی سازش کو کامیا ب بنانے میں اپنا کردار بھی ادا کرتے ہےں۔لیکن صرف یہ شبہ پیش کرکے ان تمام کاروائیوں کی ذمہ داری آسانی کے ساتھ اسلام دشمن قوتوں پر ڈال کر آگے بڑھ جانا انصاف اور دانشمندی نہیں ہے۔

            جماعت اسلامی کے ممتاز اسکالر معروف ماہر اقتصادیات ڈاکڑنجات اللہ صدیقی نے اپنی تازہ کتاب”اکیسویںصدی میںاسلام، مسلمان اور تحریک اسلامی‘ ‘میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جماعت اسلامی سے وابستہ بعض نوجوان غلط راہ پر پڑ گئے ہیں،مولانا مودودی اور جماعت کے دیگر ذمہ داروں نے جہاد و تحریک کا جو مفہوم اور طریقہ بتایا تھا اس کو سمجھنے میںان سے غلطی ہوئی ہے اور وہ غیر اسلامی متشددانہ راستوں پرچل پڑے ہیں۔جماعت اسلامی کے موجودہ ذمہ داران کو اس بات کا احساس بھی ہے لیکن وہ’ گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں،وہ نہ ان نوجوانوںکی حمایت کرتے ہیں اور نہ کھل کر ان کی مذمت۔ نتیجے کے طور پر ان کی ےہ مجرمانہ خاموشی مسلم نوجوانوںمیں تشددد کو جنم دی رہی ہے۔

            ڈاکڑنجات اللہ صدیقی کی یہ بات بڑی حد تک جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر تحریکات اور مسالک پر بھی صادق آرہی ہے۔یہ سچ ہے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں ہے ،یہ بھی سچ ہے کہ مسلمان مجموعی طورپر دہشت گرد نہیں ہیں،یہ بھی سچ ہے کہ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ غیر مسلم طاقتیں آج مسلمانوں کو اتنا توڑ دینا چاہ رہی ہیں کہ ان میںمذہب،مسلک،سماج،سیاست اور تمدن کسی نقطے پر بھی اتحاد کا امکا ن باقی نہ رہے اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف نفرت کرےں بلکہ موقع ملنے پرایک دوسرے کی گردن بھی کاٹ ڈالیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مختلف جماعتوں سے وابستہ مسلم نوجوان اسلام اور جہا د کی تفہیم میں حد سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ان کا جنون انہیں نظری اور عملی تشدد اور تباہ کاری پر اکساتارہتا ہے لیکن ان جماعتوں کے رہنما کھل کر نہ ان نوجوانوں کی تفہیم کرتے ہیں اور نہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی کھل کر مذمت کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واردات انجام دینے والے کون ہیںیہ تو معمہ بنا رہ جاتا ہے لیکن مسلم طبقات اور گروہ خود ایک دوسرے کو سب و شتم کرکے دست و گریباں ہو جاتے ہیںاور مخالفین کی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی جو کوشش ہے انہیں غیر شعوری طور پر مواد اور دلائل فراہم کر دیتے ہیں۔

            یہودیوں،عیسائیوںاور سنگھیوں کی اسلام دشمنی کارونا رونے والے آخر اپنی اسلام دوستی کا ثبوت کب پیش کریںگے،دشمن کی سازش کو وردِ زباں رکھنے والے آخر کب اس سازش کو ناکام کرنے کی سوچیںگے،یہودی دماغ کی تعریف کرکے اپنی بے وقوفی کو جواز بخشنے کی کوشش کرنے والے آخر اپنے دماغ کا استعمال کب کریںگے اور گاہے بہ گاہے دہشت گردی سے اپنی براءت کا اظہار کرنے والے آخر کب دنیا کے سامنے امن کے نمائندہ اوررواداری کے علم بردارکے طور پر اپنے آپ کو پیش کریںگے؟؟؟اگراسلام کو امن کا مذہب کہنے میںدلی طور پر ہم مطمئن ہیںتو دہشت گردی سے براءت کے بجائے عالمی امن کی کوشش میںعملی طور پر خود کو آگے کیوں نہیں کرتے؟شاید ہمیںاس امر میں اب بھی شبہ ہے کہ ’اسلام کی ترجیح جنگ نہیں صلح ہے۔‘

 

سلگتے کشمیر کو ہوا نہ دی جائے

کشمیر میں جس تیزی سے حالات بگڑے ہیں  کہ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں تھا ۔ ابھی صرف ایک ماہ پہلے ہی یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ حالات نئے موڑ لیں گے اور کشمیر کی سرزمین کو تاریخ ایک بار  پھر امن و سکون کی وادی لکھ کر جنوبی ایشیا کو نی مژدہ دے گی ۔ابھی بہت دن نہیں ہوئے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ  کشمیر کے دورے پر گئے تھے اور کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کئی نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا تھا ۔ سارک کانفرنس کے دوران وزرا کی ملاقات نے بھی امید جگائی تھی کہ کشمیرکے حوالے سے نئی پیش رفت ہوگی۔ امید یہ کی جارہی تھی جلد ہی کشمیر  مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان بھی بیچ کا کوئی راستہ نکلے گا۔ دوسری جانب وزیر اعلی عمرعبد اللہ سے بھی بڑی امیدیں تھیں  تقریباً ڈیڑھ سال پہلے انھوں نے جب ریاستی  حکومت کااقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تو کشمیر سمیت پورے  پورے ملک کے عوام کا خیال تھا کہ نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ ضرور کوئی کر شمہ کر دیکھائیں گے ۔ امید یہ تھی کہ مرکزی حکومت میں جس اانداز سے نئی نسل  نے اپنی موجودگی درج کرائی تھی اسی طرح عمر عبداللہ بھی کچھ نہ کچھ ضرو ر کریں گے ۔  لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ جس طرح راہل گاندھی نے ملک  میں اپنی سیاسی سر گرمیوں سے  ملکی سیاست کو نیا رخ دیا ہے اسی طرح عمر عبد اللہ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے اور اپنی پارٹی کے لیے کچھ ایسا کریں گے  کہ ریاست میں نیا اعتماد بحال ہوگا۔ لیکن یہ عمر عبد اللہ کی ناعاقبت اندیشی یا نا تجربہ کاری کہیں کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور عوام جلد ہی حکومت سے بیزار ہونے لگی ۔ ایک سال قبل جب میں ایک ہفتے کے لیے کشمیر  میں تھا  تو وہاں  مقامی لوگوں سے  بات چیت کا موقع ملا تھا ۔ اسی وقت لوگوں کو مایوس کن تاثرات سن کر مجھے بذات خود ایک  دھچکا سا لگا تھا کہ    عمر عبداللہ یہ کیا کر ہے ہیں ؟ اور اب کشمیرکی موجودہ صورتحال دیکھ کر  اندازہ ہو رہا ہے کہ موجودہ صورت حال کے لیے کہیں نہ کہیں ریاستی حکومت بھی ذمہ دار ہے۔مرکز کی جانب سے بھر معاونت کے با وجود اگر ریاستی حکومت  کچھ کرنے میں ناکام رہی تو اسے  بر سر اقتدار پارٹی کے لیے بد قسمتی ہی کہیں گے۔ عمر عبداللہ کےوالدجو ہر مسئلے پر بڑی بڑی باتیں کرنے کے عادی ہیں ۔ابھی مرکز میں وزیر ہیں ۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ کشمیرمیں اتنا کچھ ہوا اور ہو رہا ہے مگر ان  کی جانب سے کوئی بیان بھی نہیں آیا۔ اگر ابھی وہ مرکز میں وزیر نہ ہوتے اور ان کے بیٹے ریاست میں وزیر اعلیٰ نہ ہوتے تو ان کی شعلہ بیانی دیکھنے کو ملتی ۔خیراب یہ تو طے ہو گی اہےکہ عوام اب کبھی ان کی پارٹی کو منہ نہیں لگائے گی ۔ لیکن   ابھی ریاست کو جس انداز سے فعال ہونا چاہیے تھا وہ ریاست کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملا۔تقسیم ہند کے بعد چند برسوں کو چھوڑ کر ریاست پر ہمیشہ حکمرانی کی ہے اور بیشتر مرتبہ اس کے دور میں حالات خراب ہوئے ہیں، حالانکہ ایک زمانے میں یہ سب سے مقبول ترین سیاسی جماعت تھی اور اسی کی قیادت میں کشمیریوں کو مہاراجوں سے آزادی ملی تھی۔ریاستی وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت سے بھارت نے کافی امیدیں وابستہ کی تھیں اور خیال یہ تھا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو ’قومی دھارے‘ میں لاکر علیحدگی پسند جذبات کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہونگے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ انھوںنے اس سمت کوئی بہتر کارکردگی نہیں کی اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے ۔ یہی نوجوان جو احتجاج میں پیش پیش ہیں اگر با روزگار ہوتے تو انھیں اس  کی فرصت بھی نہ ملتی ۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ ریاستی حکومت بھی برابرکی ذمہ دار ہے ۔

          ریاستی حکومت کے علاوہ کشمیر کی پولیس اورانتطامیہ نے بھی حالاتکو سنبھالنےکے بجائے بغیر کسی تاخیر کے کشمیر کو فوج کے حوالے کر دیا یہ ملک کے لیے اچھی بات نہیں ہے ۔ گذشتہ دو دہائی پہلے جو کشمیر  کی حالت تھی اب پھر وہی حالت سے کشمیر دو چار ہے ۔ کشمیر کے شہروں کے علاوہ دیہی علاقے بھی کر فیو کی زد میں ہیں ۔ کشمیر میں حریت پسند لیڈروں کی زہر افشانی اور اشتعال انگیزی نے بھی اس جلتے میں گھی کا کام کیا ہے ۔ گذشتہ کئی ہفتوں  سے کرائے کے نوجوانوں سے جو پتھر بازی کرائی گئی وہ بھلے ہی تھوڑی دیر کے لیے ایسے عناصر کی  خوشی کا سبب تھی لیکن اس سے کشمیر پھر کئی سال پیچھے چلا گیا، یہ بات ان بے روزگار نوجوانوں  کو تو سمجھ میں نہیں آئے گی مگر اب اسے اثرات سے یہ بھی نہیں بچ پائیں گے ۔ایسے نازک موڑ پر مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو چاہیئے کہ جتنا جلد ہو سکے عوام کے اعتماد کو بحال کریں او ر فوج کو جلد از جلد کشمیر سے واپس بلائیں ۔ ورنہ حالات اور بھی بگڑتے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں سر گرم حریت پسند لیڈروں کو بھی چاہیئے کہ جب حالات نارمل ہورہے تھے اور گفت و شنید  کا دور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا تو پھر کیوں وہ اشتعا ل کو ہوا دے رہے ہیں ۔ابھی ضرورت اس بات کہ ہے کہ حریت کے لوگ بھی عوام کو پُر امن رہنے کی تلقین کریں۔لیکن اس کے بر عکس ایسے بیانات جاری کیے جارہے ہیں جس سے اشتعال میں اضافہ ہی ہوگا۔مثلا سرینگر  مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کا یہ بیان کہ ‘‘ بھارت اور کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں سے خوف زدہ ہو کرپورے مقبوضہ علاقے کو فوج کے حوالے کردیاہے جو کہ ان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبو ت ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطا بق میر واعظ عمر فاروق نے جنہیں گزشتہ کئی دنوں سے غیر قانونی طورپر گھر میں نظربند رکھا گیا ہے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجیوں نے پوری آبادی کو محصور اور قیدی بنا رکھا ہے انھوں  نے کہا کہ بے بس عوام کو فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ایک بار پھر 1990کی سیاہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے جب بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے نہتے کشمیریوں کو ظلم و تشددکا نشانہ بنایا تھا ۔میر واعظ عمر فاروق نے افسوس ظاہر کیا کہ گزشتہ ساٹھ برس کے تلخ تجربات کے بعد بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودا رادیت دے دینا چاہیے تھا تاہم انھوں نے کہاکہ بھارت اب بھی اپنے ہٹ دھرمانہ پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔انھوںنے کہاکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کیا جانا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ ظلم و تشدد سے نہ تو کشمیری عوام کوخوف زدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے عزم کو پامال کیا جا سکتا ہے۔ میرواعظ نے مسلسل کرفیو ، بار ایسوسی ایشن کے صدرمیاں عبدالقیوم سمیت حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ۔ انھوں نے کشمیریوں پر زوردیا کہ وہ حریت کانفرنس کے پروگرام کے مطابق اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں’’۔

          دوسری جانب پولیس اور آرمی کی بے رحٕمانہ  کاروائیا ں بھی اس شعلے کو مزید ہوا دے رہی ہیں ۔ ابھی تک کشمیرتقریبا گیارہ  بے  قصور مارے جاچکے ہیں ۔ان  مرنے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ۔ اس سے لوگوں کا غصہ  بڑھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیر میں کچھ ماہ قبل فرضی جھڑپوں کی خبریں آئیں اور قصور وار افسروں کو سزا دینے کی بھی خبریں آئیں ۔ لیکن حکومت کو چاہیئے تھا کہ ایسے افسروں کے خلاف ایسی کاروائی  کی جاتی کہ لوگ حکومت کے رویے سے خوش ہوتے مگر ایسا نہ ہونا بھی  حریت پسندوں  کو در اصل موقع دینا ہی تھا۔خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دو لوگوں کے درمیان گفتگو کی جو تفصیلات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان سے بھی یہی اندازہ ہو رہا ہےکہ موقعے کا فائدہ اٹھا کر کچھ ایسی طاقتیں ضرور ہیں جوحالات کو مزید بگاڑنا  چاہ رہی ہیں ۔ایسے نازک موڑ پر جہاں  ملک  کو ایک جانب  نکسلیوں کے خطرات کاسامنا ہے وہیں دوسری جانب پُرامن ہوتے کشمیر  کے حالات کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ملک کی سلامتی کے لیے یہ بہتر نہیں  ہوگا۔