Archive for July 3rd, 2010

حکومتِ پنجاب جہادیوں کی مدد کر رہی ہے؟

حکومتِ پنجاب جہادیوں کی مدد کر رہی ہے؟

تحریر ! محمد اکرم خان فریدی

          دنیا کی بڑی بڑی قوموں کی ترقی کی تارےخ شاہد ہے کہ انہوں نے سفر بلا و بعےدہ سے کس قدر فوائد حاصل کئے جو فوائد کہ صرف انہی کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ دنےا کی شائستگی کو بھی اُن سے معتدبہ فائدہ پہنچا اور جو قومےں کہ باوجودمعراج ترقی پر پہنچنے کے سفر اور سےاحت کو ترک کرکے چار دےواری عزت نشےن ہو گئےں اُنہوں نے نہ صرف اپنی عظمت اور شوکت کو ہی کھو دےا بلکہ دنےا کی شائستگی کو بھی بڑانقصان پہنچاےا ۔گزشتہ دنوں اےک قومی اخبار کے صحافی جاوےد معراج نے سفر کی اہمےت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 25صحافےوں کے لئے مطالعاتی دورے کا اہتمام کےا ۔ ملکہ کوہسار مری مےں پےپلز پارٹی کے اےک نہائےت ہی اہم رہنما آصف خان سے ملاقات بھی شےڈول کا حصہ تھی ۔ مجھے اس بات کا قطعی طور پر اندازہ نہےں تھا کہ وہ انتہائی منجھے ہوئے سےاستدان ہےں۔مری کے اےک خوبصورت ہوٹل مےں شام چار بجے آصف خان صاحب کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ،صحافےوں کے تلخ و شےرےں سوالات نے اُنہےں گھےرے مےں لےنے کی کوشش بھی کی لےکن اُنکی حاضر جوابی اور باعلم گفتگو نے ہر سوال کا دفاع کےا ۔گفتگو کے دوران جب اُنہوں نے کالا باغ ڈےم کی تعمےر کو پاکستانی کی معےشت کے لئے انتہائی ضروری قرار دےا تو وہاں موجود تمام صحافےوں کی آنکھےں کھُلی کی کھلی رہ گئےں اُنکے اِس بےان سے اندازہ لگا لےا کہ پےپلز پارٹی مےں جتنے بھی ترقی پسند لوگ ہےں وہ کالا باغ ڈےم کی فی الفور تعمےر چاہتے ہےں ۔ابھی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ آصف خان صاحب نے اےک اور بےان دے کر سب صحافےوں کو چونکا دےا ۔انہوں نے اےک سوال کے جواب مےں کہا کہ پنجاب حکومت جہادےوں کی مدد کر رہی ہے ۔سوالات کا سلسلہ جاری تھا لےکن مےرے

 دماغ مےں آصف خان صاحب کا پنجاب حکومت کے بارے مےں موقف گردش کرنے لگا ۔مےں سوچ رہا تھا کہ ےہ حقےقت ہے ےا فقط پےپلز پارٹی کی (ن)لےگ کو زےر کرنے کے سلسلہ مےں حکمتِ عملی؟ےہ حقےقت ہے ےا پروپےگنڈہ اِس کا فےصلہ وقت کرے گا لےکن ےہاں ےہ رائے دےنا ضروری ہے کہ آصف خان صاحب کی پنجاب حکومت کے بارے مےں مزکورہ گفتگو حقےقت ہو تب بھی ےہ پاکستان کے لئے بڑے خطرے کی علامت ہے اور اگر ےہ پےپلز پارٹی کا پروپےگنڈہ ہو تب بھی ۔کےونکہ اِس پرپےگنڈہ کے بعد پےپلز پارٹی مےاں نواز شرےف اور اسکی پارٹی کا گراف ڈاﺅن کرنے مےں تو کامےاب ہو جائے گی لےکن اس پروپےگنڈہ کی وجہ سے پاکستان کی جڑےں کھوکھلی ہوجائےں گی کےونکہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ بھی اگر جنگ کی لپےٹ مےں آگےا تو ےہاں کچھ نہےں بچے گا کےونکہ ےہاں مزاہمت کرنے والا کوئی نہےں ہے۔بہر حال مسلم لےگ (ن) ہو ےا (ق)،پےپلز پارٹی ہو ےا اے اےن پی،دےنی جماعتےں ہوں،اےم کےو اےم ہو،تحرےکِ انصاف ہو ،مےں سبھی کو اےک پےغام دےنا چاہتا ہوں کہ سےاست مےںدانشمندانہ جنگ لڑےں جو صرف اور صرف ملکی مفاد کی خاطر ہو ،اےک دوسرے پر اِس قسم کے الزامات نہ لگائےں جن سے ملک کی جڑےں کھوکھلی ہو جائےں۔ پاکستانی سےاستدانوں کو ےہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئے کہ امرےکی سی آئی اے اپنے ملک کے مےڈےا کو استعمال کرتے .

ہوئے ہمارے ملک کی جڑےں کھوکھلی کرنے مےں مصروف ہے ،جےسا کہ امرےکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی حالےہ رپورٹ مےں لکھا ہے کہ طالبان پنجاب پر قبضہ کرنا چاہتے ہےں جبکہ حکومت انکے خلاف کاروائی کرنے کے حوالے سے ہچکولے لے رہی ہے۔امرےکی مےڈےا اور دانشور حلقوں کی جانب سے پنجاب مےں آپرےشن کئے جانے کے حوالے سے دن بدن دباﺅ بڑہ رہا ہے ۔امرےکہ اپنے اتحادےوں سمےت اِس خطے مےں جس بڑی کاروائی کی تےارےوں مےں مصروف ہے اسکے لئے امرےکی عوام اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے امرےکی انتظامےہ نے مرحلہ وار پروپےگنڈہ شروع کر رکھا ہے ۔وہ پنجابی طالبان کا واوےلہ کر رہا ہے کہ اب خطے کو افغان طالبان اور القاعدہ سے زےادہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے طالبان سے خطرہ ہے ۔ امےد ہے کہ آصف خان صاحب اور دےگر اےسے تمام سےاستدانوں کو امرےکی انتظامےہ کی خواہش کا بخوبی اندازہ ہو گےا ہوگا کہ وہ کےا چاہتے ہےں ۔ےہاں اےک بار پھر مےں ملک کے تمام سےاستدانوں سے گزارش کروں گا کہ جس اےشو پر بےان دےں اُس کا بخوبی جائزہ لےں اور صرف مےڈےا کی خبروں کو بنےاد بنا کر اےشوز پر نہ بولےں کےونکہ اِن دنوں امرےکی سی آئی اے کا مےڈےا انتہائی متحرک نظر آ رہا ہے۔بہر حال بات چل رہی تھی آصف خان صاحب کے ساتھ صحافےوں کی گفتگو کی،جہاں شےخوپورہ سے تعلق رکھنے والے کسی سےاستدان کا ذکر آئے گا وہاں اِس ضلع کی سےاسی صورتحال کا ذکر نہ کےا جائے تو ےہ وہاں کے سےاسی کارکنوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔شےخوپورہ مےں کچھ عرصہ قبل پےپلز پارٹی نے اپنا مقام کھونا شروع کردےا تھا اسکی سب سے بڑی وجہ ےہ تھی کہ پےپلز پارٹی کے اہم رہنماﺅں نے پارٹی کارکنوں کے جذبات کو نظر انداز کرکے ڈرائنگ روم سےاست شروع کردی۔ملک مشتاق احمد اعوان جنہوں نے شےخوپورہ کے جےالوںکے ووٹوں کے بل بوتے پر بطور سےنئر منسٹر اقتدار انجوائے کےا اورشائد آج بھی اےوانِ صدر اور گورنر ہاﺅس مےں انہی جےالوں کے نام پر اپنی سےاست چمکا رہے ہےں لےکن افسوس کہ ےہاں حالات کچھ مختلف ہےں۔مشتاق اعوان صاحب عرصہ دراز سے شےخوپورہ کو خےر باد کہہ چکے ہےں جسکی وجہ سے جےالے اُن سے خفانظر آتے ہےں جبکہ دوسر ی جانب آصف خان جوکہ نہ صرف جےالوں کے ساتھ مکمل رابطے مےں ہےں بلکہ پےپلز پارٹی کی اعلیٰ قےادت بھی اُنہےں پسند کرنے لگی ہے ،مشتاق اعوان کے لاہور شفٹ ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ پےپلز پارٹی کی قےادت آصف خان کی کارکردگی دےکھتے ہوئے اُنہےں شےخوپورہ مےں اےم اےن اے ےا اےم پی اے کا الےکشن لڑوائے کےونکہ جتنی تےزی کے ساتھ مشتاق اعوان جےالوں کے دلوں سے نکلے ہےں اُتنی ہی تےزی کے ساتھ آصف خان نے نہ صرف جےالوں بلکہ مسلم لےگےوں کے دلوں مےں بھی جگہ بنا لی ہے ،اسکی زندہ ترےن مثال ےہ ہے کہ چند روز قبل شےخوپورہ کے پرانے مسلم لےگی دو بھائےوں حاجی جاوےد اقبال سابق چئےرمےن بلدےہ اور حاجی فلک شےر سابق صدر مسلم لےگ لائرز ونگ نے آصف خان پر اعتماد کرتے ہوئے پےپلز پارٹی مےں شمولےت کا اعلان کر دےا ہے ۔اِن دو بھائےوں کی پےپلز پارٹی مےں شمولےت کی وجہ سے شےخوپورہ مےں پارٹی مظبوط ہوئی ہے بلکہ مسلم لےگ (ن) بالخصوص حاجی نواز گروپ کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے کےونکہ اگر پےپلز پارٹی نے آصف خان کو شےخوپورہ شہر سے اےم اےن اے اور حاجی فلک شےر کو اےم پی اے کا ٹکٹ دے دےا تو اُنکے وسےع حلقہ احباب کی وجہ سے شےخوپورہ شہر مےں ےہ دونوں اُمےدواران مسلم لےگ (ن) اور (ق) کو مشکل مےں ڈال دےں گے۔شہر شےخوپورہ مےں بہت زےادہ آرائےں برادری اےسی ہے

جس پر پےپلز پارٹی مےں شامل ہونے والے حاجی جاوےد اقبال اور حاجی فلک شےر اثر انداز ہوں گے اور آسانی کے ساتھ اےم پی اے کا الےکشن جےتنے مےں کامےاب ہو جائےں گے جبکہ دوسری جانب اےک لمبے عرصہ سے پےپلز پارٹی کے پاس اےم اےن اے کا اُمےدوار نہ تھا لےکن آصف خان کا کارکنوں کے ساتھ مکمل رابطہ اور پارٹی کے لئے دِن رات کام اِس بات کی علامت ہے کہ وہ پےپلز پارٹی کے لئے اچھے اُمےدوار ثابت

 ہونگے۔دوسری جانب مسلم لےگ (ن) شےخوپورہ مےں دن بدن کمزور ہورہی ہے جسکی سب سے بڑی وجہ (ن) کے رہنماﺅں کا کارکنوں کے ساتھ کمزور رابطہ اور شہر مےں بڑھتے ہوئے تجاوزات،غےر قانونی اڈے اور جرائم مےں اضافہ ہے ۔ےہاں مےں شےخوپورہ کے سےاسی رہنماﺅں سے اےک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ شہر کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانا صرف اےک پارٹی کا کام نہےں بلکہ ہر سےاسی رہنماءکی ذمہ داری ہے ،اس لئے تمام جماعتوں کے سےاسی رہنماءشہر کے مسائل حل کرنے مےں اےک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرےں۔

محمد اکرم خان فرےدی (کالم نگار)

فون نمبر+0092 302 4500098

email#akramkhanfaridi@gmail.com

PAK ESTABLISHMENT SUSTAINS ITSELF ON TERROR

PAK ESTABLISHMENT SUSTAINS ITSELF ON TERROR

By Samuel Baid

            A news item in Indian newspapers said on June 28 that the Federal Investigation Agency (FIA) of Pakistan and the Central Bureau of Investigation (CBI) of India would interact with each other on terrorism and the Mumbai terror conducted by Pakistan based terrorists in November 2008. A decision to this effect was announced by India’s and Pakistan’s Home Ministers Mr. P.Chidambaram and Mr. Rehman Malik who attended SAARC Home Ministers conference in Islamabad on June 27.

            The two Home Ministers had two rounds of talks. Mr. Chidambaram’s reply to journalists’ query if he was satisfied with these talks was: “Nobody is questioning intentions, we are looking for outcomes. Outcomes alone will decide if we are on the track”.

            It is true that Indians did not suspect General Pervez Musharraf’s intentions in January 2004 when he assured then Indian Prime Minister Atal Behari Bajpayee that the soil of Pakistan and the areas under its control would not be allowed to be used against India. Indians were thrilled. But the outcome of this assurance was zero.

            Nobody can suspect the intentions of the present Pakistan People Party (PPP) government headed by Mr. Asif Ali Zardari. But it is a fact that this government has not been free to deal with Pakistani culprits of the Mumbai carnage although their identity is well-known in Pakistan. The negative response to India’s dossiers shows that some non-political forces are calling the shots. These forces made a fool of the PPP government by making it deny initially that Ajmal Kasab was a Pakistani national.

            The truth is that no government in Islamabad whether military or civilian can take decision about terrorism or militancy. See for example, in 2006 Secretary General Mushahid Hussain and President Choudhary Shujat Hussain of the ruling Muslim League (Q) had reached an agreement with Baluch leader Akbar Bugti. But, as Mr. Mushahid Hussain told Urdu, BBC, the Establishment sabotaged this agreement and attacked and killed Bughti thereby unleashing insurgency in Baluchitan. Peace in this province is not acceptable to the Establishment.

            Baluchistan is one case which gives reason to believe that domestic peace is not always acceptable to the Establishment. It is generally said the Establishment needs insurgency in this province to justify massive presence of the Army there to protect among other objectives, the Afghan Taliban guests there while denying their (Taliban’s) presence.

            Those who have studied post-independence India–Pak relations must have quotations from ex-serviceman and ISI-influenced Urdu newspapers saying that peace with India is poison to Pakistan’s existence. Pak intelligence must stage incidents just as it did in Mumbai to sustain and strength this thinking.

            When we talk of peace dialogue or reaching an understanding with Pakistan, our reference happens to be to the government is Islamabad. But the “outcomes”, do not happen because these governments are under the control of the Establishment. As is well-known, the Establishment means unanswerable military, ISI, Jehadis. Some rightist political parties and bureaucrats who subscribe to the ideology of no-peace with India.

            While Indian leaders talk to the Pakistan government leaders, they know very well that the “outcomes” depend on the Army. But Indians adopt a proper channel of keeping themselves confined to the government leaders. As against us, the powerful Americans do not leave things to the government in Islamabad. See, for example, United States President Barack Obama, while professing his support to the present civilian government of Mr. Zardari, keeps Pakistani Army Chief Gen Ashfaq Pervez Kiyani in good humour and occasionally reprimands Mr. Zardari’s government for being ineffective. It is because of his strategy that Americans have been able to make Pakistan Army fight against Pakistani Taliban in the Malakand Division, South Waziristan, Bujaur and Ouakzai.

            India just cannot do that. It is not to suggest that we should also cultivate Pak Generals by passing the government in Islamabad. We cannot do that because our pro-democracy ideology will not allow that. We also know very well that it is the Pak Army /ISI which organizes terrorist incidents in Kashmir and other parts of India. If we talk to Pak Generals it will be like keeping a thief’s help in a theft which he himself has committed.

            It is to be seen how the CBI and FIA will cooperate. Past joint efforts to curb terrorism have not worked for the above reasons. The idea of sharing intelligence has also not worked. Before the United States began pounding terrorists’ citadels in tribal areas, its leaders complained that any intelligence shared with Pakistan government percolated to terrorists thus frustrating the whole exercise of intelligence sharing. India too fears that sharing intelligence with Pakistan will meet the same fate. Pakistanis are not willing to punish those who were involved in the Mumbai carnage.

            The fact is that the civilian government of Mr.Zardari cannot take any action against the perpetrators of the Mumbai carnage because the Pakistan Army was involved in it. According to reports, Pakistani American David Headley, who conducted this carnage, told American FBI and Indian investigation team that two serving officers of the Pakistan Army, namely Major Sameer and Major Haroon and also Major Iqbal (rtd.) planned terror attacks in India as part of the Karachi project. Headley is an operative of the Lashkar-i-Tayyaba which has the Army’s support and which is involved in all terror attacks in India.

            It should be noted that a day before Mr. Chidambaram landed in Islamabad on June 25, the pro-Pakistan Gilani faction of the Hurriyat Conference gave a call for a quit Kashmir movement. According to the plan of the movement, Hurriyat conducted processions and confronted the police. In the three days of protests some very young people died in the police firing. Among the killed were two Lashkar-i-Tayyaba activists indicating that this ISI backed terrorist organization was leading the agitations.

            The present Kashmir trouble means two things: One, the Establishment wants to sabotage any peace move between India and Pakistan especially mutual effort to curb terrorism against India. Two, the establishment wants to make up the Kashmir issue at a time when the unwilling Pak Army is under pressure to launch an attack in North Waziristan against the Haqqani group which has Pakistan’s support and which organizes attacks in Afghanistan.

‎داتا دربار میں خون کی ہولی

‎داتا دربار میں خون کی ہولی

حضرت داتا گنج بخش کو  ساری دنیا میں تصوف اور صوفیانہ روایات کے سبب جانا جاتا ہے ، ان کا دربار  بلا تفریق مذہب و ملت  ہر ایک کے لیے روھانی فیوض و برکات کا مرکز ہے ۔  حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ثم لاہوری معروف بہ داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ( 1009ء تا 1079ء400ھ تا 465 (  شروع میں  غزنین کے دو گاﺅں ہجویر اور جلاب میں آپ کا قیام رہا اس لیے ہجویری  اور جلابی کہلائے۔ سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی رحمة اللہ علیہ سے پائی۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہ کے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔عوام آپ کو گنج بخش (خزانے بخشنے والا) اور داتا صاحب کہتے ہیں اور آپ انہی القابات سے مشہور ہیں۔لاہور شہر جو  صوبہ پنجاب پاکستان کی راجدھانی  اور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز ہے۔ اسے پاکستان کا دل بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ شاہی قلعہ، شالامار باغ، بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں مغل دور کی یادگار ہیں۔ سکھ اور برطانوی دور کی بھی تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ لیکن روحانی دنیا میں داتا کے دربار کی وجہ یہ شہر کافی مشہور ہے۔ دنیا بھر کے زائرین یہاں آتے ہیں اور داتا کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ کبھی کسی نے یہ خیال نہیں   بھی نہیں کیا ہوگا کہ جو دربار مرجع خلائق ہے اور جہاں سے لوگوں کو روھانی سکون ملتا ہے ، اسی دربار میں ایک دن ایسا بھی آئے گا جب  دہشت گرد خون کی ہولی کھیلیں گے۔ جمعرات کی شب عام طور مزارت پر لوگ بڑی تعداد میں حاضری کے لیے جاتے ہیں ۔ اس دربار میں بھی جمعرات کو لوگوں اک ہجوم تھا ۔ کہیں تل  رکھنے کی جگہ نہیں تھی ۔ میں نے خود ایک سال قبل اس دربار میں حاضری  دی تھی  تو وہ ظہر کا وقت تھا اور جمعرات کے علاوہ کوئی اور دن تھا ۔ لیکن اس وقت بھی اس مزرا پر اتنی بھیڑ تھی کہ  پورے احاطے میں کوئی کالی جگی نظر نہیں آئی تھی ۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ جمعرات کی شب کو کتنی بھیڑ رہے ہوگی ۔ اسی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردوں نے بڑی تعداد میں لوگوں  کو  شہید کیا۔ ان دہشت گردوں کو کیا کہا جائے ، ان کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے ۔ یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے سر پر کفن باندھے تیار رہتے ہیں ۔ جبکہ اسلام میں کہیں جبر اور ظلم کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔یہ کس طرح کا اسلام پھیلانا چاہتے ہیں اور کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں ۔ ان کی کرتوتوں سے دنیا واقف ہے کہ یہ کسی بھی طرح اسلام کے ماننے والے نہیں ہوسکتے ۔بعض اخباروں میں یہ روپورٹیں شائع ہوئی ہیں کہ کچھ لوگ ایک عرصے سے کچھ لیٹریچر اور کتابچے بانٹ رہے تھے جن میں داتا کے دربار میں حاضری  کو بدعت اور شرک کہتے تھے ۔

قیاس یہ لگایا جا رہا ہے کہ ایسے     ہی لوگوں کے یہ ناپاک منصوبے کے تحت داتا دربار میں خود کش حملے ہوئے ۔اس حملے میں 43 افراد جاں بحق جبکہ  175 کے قریب زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں دھماکے خود کش تھے۔پہلے خودکش حملہ آور نے بیس منٹ مکے وضو خانے میں دھماکہ کیا ۔ لو گ اس آوازس ے کوفزدہ ہوگئے کیونکہ لاہور شہر نے اس طرح کی دھماکوں سے کنتی ہی ہلاکت خیزیاں دیکھی ہیں ۔لیکن سیکورٹی کے ذریعے لوگوں کو یہ بتایا گیاکہ  بیس منٹ میں جنریٹر پھٹنے کی آواز ہے ۔ لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد  مزار کے صحن میں  ایک شخص نے خودکو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دوسرے خود کش حملہ آور نے خود کو مسجد کے گیٹ پر اڑایا۔کمشنر لاہور خسرو پرویز کے مطابق دونوں خودکش حملہ آوروں کے سر مل گئے ہیں۔دھماکے کے وقت داتا دربار میں دو سے ڈھائی ہزار زائرین موجود تھے۔ دونوں دھماکے عشاء کی نماز کے بعد ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی تھیں۔جمعرات کی وجہ سے داتا دربار میں زائرین کا کافی رش تھا اور زائرین دربار کے احاطے میں دعا مانگ رہے تھے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خودکش دھماکوں کے بعد لاہور میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔دھماکوں کے بعد علاقے کے عوام نے احتجاج کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور پتھراؤ کیا،گاڑیوں کو نزر آتش کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے طاقت کا استعمال کیا ہے۔خود کش حملوں کے ضمن میں ایسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا حیرت کا مقام ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی کا نظام قطعی ناکارہ اور بے عمل ہو چکا ہے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی بات تھی کہ کسی نے سوچا نہیں تھا کہ اس دربار کو بھی دہشت  گرد اس طرح کی ناپاک منصوبوں کا نشانہ بنائیں گے۔

          داتا دربار میں خود کش حملے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ اب پاکستان میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہ گئی ہے ۔ مدرسہ ، خانقاہ ، مزار، تاریخی مقامات اور یہاں تک کہ  مسجد یں دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ۔ ایسا ملک جس میں صرف مسلمان رہتے ہیں وہاں ایسی مقدس جگہیں اگر محفوظ نہیں تو اس سے بڑھ کر حیرت اور افسو س کا اور کیا مقام ہو سکتا ۔کیا اب  بھی یہ کہنے کو باقی ہے کہ دہشت گرد وں کا کوئی مذہب ہے ۔ کیا اب بھی پاکستان کی حکومتیں ایسے دہشت گردوں کی مدد کرتی رہے گی جس  نے ملک کی سلامتی کو تارتار کردیا ہے اور جس نے  پوری دنیامیں اسلام کے نام لینے والوں کو شرمسار کیا ہے ۔

          اس حملے کے بعد پاکستان میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے لوگ حکومت کی ناکامیوں کے خلاف مشتعل   ہو اٹھےہیں۔  حکومت دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑنے میں ناکام ہے ۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے جس کے خلاف وفاقی یا صوبائی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ کراچی میں سنی اتحاد کونسل نے حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر دہشت گردوں کے حملہ کے خلاف کل ہفتہ کے روز ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔ سنی اتحاد کونسل کے اجلاس کے بعد اتحاد کے رہنماؤں صاحبزادہ فضل کریم اور حاجی حنیف طیب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ تحریر، تقریر اور لٹریچر کے ذریعے معروف بزرگان دین کے خلاف سرگرم عمل ہے اور ان کے مزارات پر حاضری دینے کو بدعت قرار دینے کے علاوہ اسے ایسا عمل قرار دے رہا ہے جس کیلئے الفاظ ادا کرنے کی زبان اجازت نہیں دیتی ۔سنی اتحاد کونسل کی ملک ہڑتال کی اپیل پر سنی تحریک اور متحدہ قومی موومنٹ نے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے‎ جبکہ جامعہ کراچی نے کراچی یونیورسٹی کے تحت ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے ہیں۔ عوام  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جن کے لیے ملک گیر ہڑتال اوراحتجاج ہوئے ، اب ان سے یہ مطالبہ کررہی کہا دہشت گردی کے نیٹ ورک کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کو کٹہرے میں لانے کے لئے از خود نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے روحانی مرکز پر دہشت گردی کرنے والے ملزمان اور ان کو تعاون فراہم کرنے والوں کو لاہور کے بھاٹی چوک میں پھانسی دی جائے ۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب نے اس موقع پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اکثریت کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیحات بالکل مختلف ہیں اور انہیں عوام کی جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ عوامی نمائیندوں کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی حملہ آور کو قرار واقعی سزا نہیں ملی جسکی وجہ سے حملہ آوروں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فوج کا یہ دعویٰ کہ شدت پسندوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکمران خود محفوظ قلعوں میں بند ہیں جبکہ عوام کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے داتا دربارلاہور میں ہونے والے خود کش دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جانی و مالی نقصان پر انتہائی دکھ اور گہرے رنج کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلنا غیرانسانی فعل ہے۔انہوںنے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔عمران خان نے کہا کہ عوام آئے روز کے خود کش دھماکوں سے عاجز آ چکے ہیں حکومت اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

           ایک طرف عوام کو غم و غصہ ہے تو دوسری جانب حکومت بھی پریشان ہے کہ  ملک میںبڑھتی دہشت گردی کو کیسے روکا جائے ۔لیکن حکومت کی یہ فکر محض چند دنوں کے لیے ہے ۔ کچھ ہی دن کے بعد حکومت بھول جائے گی اور اپنی الجھنوں میں شکار   ہوکر  ملک و عوام کی فلاح و بہبود کی فکر بھی جاتی رہے گی ۔ اب تک حکومت نے سنجیدگی سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے اسی لیے آئے دن اس کی طاقت بڑھتی  جارہی ہے اور حکومت ان کے آگے سر نگوں ہو رہی ہے ۔ کہنے کو حکومت نے دہشت گردوں کی کمر ٹوڑ دی ہے ۔ اگر کمر توڑ دی ہے تو اس ٹوٹے ہوئے کمر والوں کی اگریہ طاقت ہے تو اس سے بھی حکومت کو ہشیار رہنا چاہیئے اور ملک کے ساتھ ساتھ ساری دنیا میں مسلمانوں کو بد نام کرنے  والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جلد از جلد کاروائی کرنی چاہیے۔