Archive for May, 2010

امریکہ اور بھارت میں خودمختار ریاستیں…

امریکہ اور بھارت میں خودمختار ریاستیں…

اے حق۔لندن

دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ کے نام پر عراق،افغانستان اور اب پاکستان میں اپنی من مانی چلانے والے امریکہ کے بارہ میں ماسکو کے معروف سکالرز اور سینئر سفارتکارایگور پنارن نے ایک بار پھرریاستہائے متحدہ امریکہ 2011ء سے قبل ٹوٹ کر چھ خود مختار ریاستوں میں بَٹ جانے کی پیشگوئی کی ہے۔ساتھ ہی روس اور چین نیوورلڈ آرڈر کے تحت طاقت کے نئے مراکز ہونے کی پیش گوئی بھی کی اور یہ بھی وضاحت کی کہ الاسکا ریاست پر روس کا دوبارہ تسلط قائم ہوجائیگا۔اس کی وجہ حالیہ مالیاتی بحران سے امریکہ کا سنبھلنا ناممکن قراردیا جارہا ہے۔مجموعی قومی پیداوار میں ریکارڈ کمی اور”عظیم الشان“بنکنگ سیکٹر سٹی گروپ کو اربوں ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج اس بات کی روشن مثال ہے کہ عالمی مارکیٹ پر امریکی اجارہ داری ختم ہوچکی ہے۔امریکہ عراق اور افغانستان میں اپنی طاقت آزمانے کے بعدمسلمان ممالک پر دہشت گرد ہونے اور امن کے خاتمے کا ذمہ دار ہونے کے نام پر اُن ممالک میں اپنی من مانی اور حکم چلانے کی کوشش میں اپنے ہی ملک کی جڑیں کمزور کر بیٹھا ہے۔دوسری طرف بھارتی حکومت کو اُن کے اندر کا ڈر ستانے لگا ہے اور وہ اپنے ہی ملک کے باغیوں سے تنگ ہیں۔غربت ،پارٹی بازی،دھمکیوں اور فسادات کا بازار اُدھر بھی گرم ہے۔بنگلہ دیش کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل توحید الاسلام نے کہا کہ بھارت میں مزید کئی آزاد اور خود مختار ملک قائم ہوں گے۔بھارت نے کسی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مصنوعی اتحاد کی جو فضاء قائم کی گئی تھی وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔نکسلائٹ کی تحریک جو ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوئی تھی اب پورے بھارت میں پھیل چکی ہے اگربھارتی بنگال میں جیوتی باسو کی حکومت نہ ہوتی اب تک بھارت کے کم سے کم گیارہ کمیونسٹ ملک بن چکے ہوئے۔جنرل توحید نے یہ بھی بتایا کہ آندرا پردیش،تامل ناڈو اور کیرالہ کے بارے میں کُچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اُن کا کیا بنے گا مگر ان کی موجودہ حیثیت برقرار نہیں رہے گی۔برہمنیت ایک فرسودہ نظریہ ہے جسے اب خود برہمن بھی پسند نہیں کرتے،جاگیرادانہ اور سرمایہ دارانہ نظام اس وقت”آکسیجن ٹینٹ“میں ہے۔کسی بھی وقت ان کی فلک بوس عمارت زمین بوس ہوسکتی ہے۔1960میں نکسل باغیوں کا ٹولہ اسام کے جنگلوں سے آگ کی شکل میں جہنم کا روپ لے کر سامنے آیا اور پھر اسی جہنم نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سیکیورٹی فورسز نے بندوق کی پھوار سے عارضی طور پر آگ پر قابو پا لیا مگرراکھ کے نیچے چنگاریاں سلگتی رہیں اور ایک بار پھر1980میں ان چنگاریوں نے ملک کے دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور نکسل باغی ماؤ نواز جنگجووں کے روپ میں بغاوت کے شعلے بن کر قومی منظر پر چھا گئے۔بھارتی فورسز پچھلی پانچ دہائیوں سے ماؤ باغیوں کو سرنڈر کرنے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہے مگر وہ شکست ماننے پر آمادہ نہیں۔یہ بغاوتی ٹولہ20صوبوں کے255اضلاع پراپنا سکہ جما چکا ہے جبکہ بھارت کے کل626اضلاع ہیں۔بھارتی حکومت اپنی فوج پاکستانی سرحدوں پر ترتیب دے رہی ہے اور مسلسل اپنی فوجی طاقت ظاہر کرنے کی کوشش میں ہے مگراپنے ہی ملک میں باغیوں کے ہاتھوں تنگ ہے اور اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے۔دنیا بھر میں غربت کی شرح میں اضافہ ہی دنیا کی تباہی کا سبب بنے گا وہ ایسے کہ دنیا جدید ترین دور میں ہے جہاں گھریلو کاموں سے لے کر بڑے سے بڑے کام بھی مشینوں سے لئے جاتے ہیں مگر غربت کی زندگی گزارنے والے طبقہ کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے چوری،ڈاکے اور غیر قانونی حرکتوں میں ملوث اکثر غریب افراد ہی نظر آتے ہیں۔جرم تو جرم ہے چاہے غریب کرے یا امیر،مگر غرباء کا کثرت سے جرائم میں ملوث ہونا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں غریب اور امیر کے درمیان تصادم کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔

غیر قانونی دھندا عروج پر ہے

لندن میں مقیم اے ۔حق پاکستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے

غیر قانونی دھندا عروج پر ہے

اے حق۔لندن

کون کہتا ہے کہ پاکستان میں بزنس نہیں ہے؟حکومتی عہدیداروں کی زیر نگرانی بغیر محنت کے کمائی کا بزنس عروج پر ہے۔چوری،ڈاکے،قتل،کرائے کے بدمعاش،غیر قانونی کاروائیوں کے ماہرین اور خصوصاًاغوا برائے تاوان کا دھندا پاکستان میں عروج پر ہے۔کوئی بھی کسی کو پیسے دے کر کسی امیر شخص کی اولاد یا اُس کے کسی اہل خانہ کے کسی فرد کو اغواہ کرواسکتا ہے۔خاص طورپراگر پاکستان کے شہر گجرات کو اغوا برائے تاوان کے مجرموں کی جنت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہماری پولیس اغوا برائے تاوان کی ہر کاروائی کے بعد ایک روایتی بیان دیتی ہے کہ ”اغواکاروں کو زمین کی ساتویں تہہ سے بھی نکال کر انجام تک پہنچائیں گے“اس بیان کے بعد خاموشی اختیار کرنا ہماری پولیس کی عادت بن چکی ہے۔اب تک اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ۹۹ فیصد مغوی تاوان کی رقم ادا کر ہی رہا ہوئے ہیں مگراکثر کی بازیابی کا کریڈٹ پولیس لیتی ہے حالانکہ اس میں پولیس کا کردار ملزموں کے بجائے مغوی اور ان کے ورثاء کو ڈرا دھمکا کر صحافیوں کے سامنے بیان دلوانے تک ہی محدود ہوتا ہے کہ پولیس نے ہی ہمارے عزیز کو بازیاب کرایا ہے،لیکن عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر پولیس ہر مغوی کو تاوان کے بغیر بازیاب کرالیتی ہے تو ملزموں کو کیوں نہیں پکڑتی اور اگرہرمغوی کو بغیر تاوان کے چھوڑدیا جاتا ہو تو اس دھندے میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ملزمان یہ دھندہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟پولیس اہلکار صرف اپنی تصویریں اخباروں میں چھپوانے کی خاطر یا نجی ٹی وی چینلز پر اپنی بہادری کے قصے خود اپنے ہی کانوں سُننے کی خاطرعوام کے ساتھ غلط بیانی کرتے ہوئے ملک اور قوم کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔ملک بھر میں تاجران ،بلڈنگوں اور پلازوں کے مالکان اغوا برائے تاوان کے گروپوں سے تنگ آچکے ہیں۔ایک طرف پنجاب میں غیر قانونی پلازوں کو گِرائے جانے پر تاجران پریشان ہیں اور اُنکا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی ہیں تو پہلے اجازت کیوں دی گئی؟اور دوسری طرف تاجران اغواہ برائے تاوان کے گروپوں سے تنگ ہیں۔ملک میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے مگر ہمارے اپنے ہی ملک کے تاجران پولیس اور حکومت کی جانب سے ناقص سیکیورٹی کی وجہ سے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہیں۔حالانکہ اگر پولیس چاہے تو ان گروپوں کو پکڑنا بالکل مشکل نہیں۔ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے ملک میں پولیس کے نظام میں رشوت کے لینے دینے کے سوا کُچھ نہیں رہا۔پہلے تو جرائم پیشہ افراد بھی ایک بار پولیس کا سامنا کرنے کے بعد جرم کرنے سے پہلے سوچتے تھے اور ڈرتے تھے مگراب جب سے پولیس سے چھتر چھینا گیا ہے پولیس کی اہمیت آٹے میں نمک کے برابر ہوگئی ہے۔اس میں قصور سراسر پولیس کا ہی ہے اور وہ قصور دنیا کی نظروں میں آنا یا ٹی وی کی سکرین پر ظاہر ہونے کا شوق ہے۔مجرموں کے لئے پولیس کا چھتر کوئی نئی چیز نہیں یہ ملک بننے کے بعد سے ہی چلا آرہا ہے مگر سرے عام چھتر مارنے کے ایک دو واقعات کا ٹی وی اور اخباروں میں آنا ہی پولیس کی کمبختی کا سبب بنا۔ورنہ اس سے پہلے اور اندر کھاتے میں مجرموں کو اس سے بھی زیادہ سزائیں دی جاتی ہیں ایسی سزائیں جن کے بارہ میں عام شہری سُن کر ہی غلطی نہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔کُچھ قصور ہماری عوام کا بھی ہے جو چوری،ڈکیتی اور قتل کے جرم کرنے والے سنگین مجرموں کو دیکھ کر بھی رحم دلی دیکھاتے ہے۔جس کی وجہ سے حکومت کو ایکشن لینا پڑتا ہے۔خیر اغوا برائے تاوان کے مجرموں کو بھی سرے عام جوتے لگانے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ معصوموں کی جانوں کا تاوان لینے والوں کا کیا حال ہو رہا ہے۔مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسا اُسی صورت میں ہوسکتا ہے جب پولیس تاوان وصول کرنے والے کسی مجرم کو پکڑے ۔نہ مجرم پولیس سے پکڑا جائے گا اور نہ اس دھندے میں کمی آئے گی۔اگر یہی حالات رہے توایک دن ایسا ضرور آئے گاکہ ملک کے بڑے بڑے سرمایہ کار اور تاجران اپنا پیسہ لیکر مکمل طور پر ملک چھوڑ چکے ہوں گے اورملک کھوکھلا ہوجائے گا ۔

 

ہند- پاک مذاکرات سے پہلے ’آبی جارحیت‘ کی گونج

http://www.khwajaekramonline.com/blog/wp-admin/post-new.php

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم ایک بڑامسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہندوستان حالانکہ اس کی نفی کرتا رہا ہے کہ یہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ ہے جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مستقبل میں جنگ کا باعث بن سکتا ہے، لیکن پاکستان میں موجود جماعت الدعوة جیسی چند انتہا پسند تنظیمیں اس مسئلہ کو اسی زاویے سے پیش کرتی رہی ہیں، بلکہ ان تنظیموں نے بارہا پاکستانی حکومت کو یہاں تک مشورہ دے ڈالا کہ اگر ’ہندوستان آبی جارحیت سے باز نہیں آتاتو پاکستان کو ہندوستان پر جنگ مسلط کر دینی چاہیے۔‘ ابھی حال ہی میں جماعت الدعوة کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے پاکستانی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ ’اگر ہندوستان ناجائز طریقے سے پاکستان کے حصہ کے پانی کو روکنا بند نہیں کرتا تو پاکستان کو اُس کے خلاف طاقت کے استعمال کے آپشن کو کھلا رکھنا چاہیے۔‘ چونکہ پاکستانی حکومت کے ذریعے ہند مخالف ان عناصر کی زبان پر لگام لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے، لہٰذا ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہند مخالف ان دھمکیوں کو پس پشت پاکستانی قیادت کی حمایت بھی حاصل ہے۔

لیکن چونکانے والا پہلو یہ ہے کہ ’آبی جارحیت‘ کے اس موضوع کو ایک بار پھر ایسے وقت میں اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جب ہند و پاک کے وزرائے خارجہ کے درمیان گذشتہ دنوں دیر تک ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی وزیر خارجہ 15 جولائی، 2010 کو اسلام آباد کا دورہ کریں گے اور وہاں پر اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے مذاکرات کریں گے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ گذشتہ ماہ بھوٹان کی راجدھانی تھمپو میں جب ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان 29 اپریل کو میٹنگ ہونی طے پا گئی تو پاکستان کے حکومتی اہل کاروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہند و پاک کے درمیان آئندہ ہونے والی کوئی بھی بات چیت شرم ال شیخ کی طرز پر ہونی چاہیے۔ واضح ہو کہ شرم ال شیخ میں باہمی ملاقات کے بعد منموہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی نے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا اس میں خاص طور سے دو باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اول یہ کہ دہشت گردی کے موضوع کو باہمی مذاکرات کے عمل سے الگ رکھا جائے گا اور دوسرے یہ کہ ہندوستان بلوچستان میں مبینہ طور پر شرپسندی کو ہوا دینے سے متعلق پاکستان کی تشویشوں پر غور کرے گا۔ یہ دونوں باتیں پاکستانی قائدین اور وہاں کی میڈیا کے لیے کسی سونے کے تمغے حاصل کرنے سے کم نہیں تھیں۔ لیکن بعد میں ہندوستان نے بین الاقوامی برادری کے سامنے یہ بات پوری طرح واضح کردی کہ دہشت گردی سے متعلق ہندوستان کی تشویشوں کو دور کیے بغیر پاکستان سے کوئی بھی بات چیت ممکن نہیں ہوسکتی۔ ہندوستان نے پاکستان پر یہ دباوٴ ڈالنا بھی شروع کردیا کہ اس کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ وہ 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے قصورواروں کو قانون کے کٹہرے تک نہیں لاتا اور انھیں قرار واقعی سزا نہیں دیتا۔ بعد میں دنیا نے دیکھا کہ جب پاکستان نے عملی طور پر ہندوستان کو یہ یقین دلانا شروع کردیا کہ وہ ممبئی حملے کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے، تبھی ہندوستان نے پہلے خارجہ سکریٹری کی سطح پر بات چیت کے سلسلہ کو شروع کیا اور اب اس نے وزیر خارجہ کی سطح پر بات چیت کو شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ لیکن ایسے میں جب کہ دونوں ممالک میں اعتماد بحالی کی کوششیں جاری ہیں اور باہمی بات چیت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، چند عناصر کی جانب سے ہندوستان پر ’آبی جارحیت‘ کا الزام لگانا اور پھر ہندوستان کو جنگ کی دھمکی دینا درحقیقت باہمی بات چیت کے اس پورے عمل کو سبو تاژ کرنے کی کوشش ہے۔

اس بات سے ہم سبھی انکار نہیں کر سکتے کہ عالمی آبی وسائل بڑی تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس کو لے کر مزید تناوٴ پیدا ہوتا جارہا ہے۔موسمیاتی تبدیلی جیسے اسباب کی بناپر پانی کی سپلائی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ پانی چونکہ ایک قیمتی وسیلہ ہے، اس کی کمی گہری تشویش کا باعث ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں بے چینی کا عالم ہے۔ لیکن چونکہ پانی ہمارے لیے بہت قیمتی شے ہے، لہٰذا اس کے شدید بحران اور اس میں تیزی سے ہونے والی کمی سے عوام کو آگاہ کرتے رہنا نہایت ضروری ہے، تاکہ ہم خود اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت میں صحیح لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے مابین پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1947 میں پیدا ہوا تھا، لیکن اسے 1960 کے سندھ آبی معاہدہ کے نفاذ کے بعد حل کر لیا گیا تھا۔ اس معاہدہ کو دونوں فریقین نے رضاکارانہ طور پر قبول کر لیا تھا اور اسے ایک اچھا اور مساوی معاہدہ قرار دیا تھا۔ اس میں سندھ کی ندیوں کے پانی کی تقسیم سے متعلق دونوں فریقین کے حقوق اور ذمہ داریوں کو بھی مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں وہ تجویز بھی شامل تھی جس کے تحت باہم معاون طریقے سے، ان تمام سوالات، تضادات یا تنازعات کو حل کیا جائے گا جو اس معاہدہ کے نفاذ کے دوران پیدا ہو سکتے ہیں، جس میں سب سے پہلے باہمی طریقوں یا ذریعوں کو استعمال کیا جائے گا، اور اگر ضرورت پڑتی ہے تو اس میں کسی اعتدال پسند ماہر یا ادارہ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

جو لوگ پاکستان کے تئیں سندھ آبی معاہدہ پر سوال اٹھا رہے ہیں انھیں یہ بات جاننی چاہیے کہ اس معاہدہ کے تحت پاکستان کو سندھ ندیوں کے نظام کا 80فیصد حصہ پانی مل رہا ہے۔ اس معاہدہ نے ہندوستان کو مشرقی ندیوں (ستلج، بیاس اور راوی) کے 33 ایم اے ایف پانی کے بہاوٴ کو استعمال کرنے کا حق دیا تھا، جب کہ پاکستان کو مغربی ندیوں (سندھ، جھیلم اور چناب) کے 136 ایم اے ایف پانی کے بہاوٴ کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ چونکہ پاکستان 15 اگست 1947 تک مشرقی ندیوں سے پانی کی سپلائی پر انحصار کرتا تھا، لہٰذا ہندوستان نے پاکستان کو اس کے عوض میں اسے 62 ملین پاوٴنڈس اسٹرلنگ کی رقم ادا کی تھی تاکہ وہ مشرقی ندیوں اور دیگر آبی وسائل سے اس کے بدلے میں نہروں کی تعمیر کر سکے۔ ایسا بالکل نہیں ہے، جیسا کہ آج کچھ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ بلندی کے مقام پر واقع علاقے کی جانب سے نیچے کی جانب بہنے والے پانی کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہندوستان مغربی ندیوں کے پانی کو ندی کے ہائڈروالیکٹرک پروجیکٹوں میں استعمال کر سکتا ہے ، اور پانی کے ذخیرہ والے کام کے ہائڈروالیکٹرک پروجیکٹوں میں بھی استعمال کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مغربی ندیوں کے پانی کو صرف اسی حد تک استعمال کر سکتا ہے جس کی ہندوستان کو اجازت دی گئی ہے۔ سندھ آبی معاہدہ ہندوستان کو مغربی ندیوں کے 3.6 ایم اے ایف پانی کو جمع کرنے کی اجازت فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی اسے اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس معاہدہ کے نافذ ہونے سے پہلے ان ندیوں پر جتنا پانی جمع رکھتا تھا وہ بھی کر سکتا ہے۔ ان میں سے 1.25 ایم اے ایف جنرل اسٹوریج ہے۔ پانی کی بقیہ مقدار کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جن میں سے ایک یعنی 1.6 ایم اے ایف پانی کا استعمال ہائڈروالیکٹریسٹی کی پیداوار میں جب کہ 0.75 ایم اے ایف کا استعمال سیلاب پر قابو پانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ندیوں کے معاملے میں، سندھ پر 0.4 ایم اے ایف، جھیلم پر 1.5 اور چناب پر 1.7 ایم اے ایف پانی کو جمع کرنے کی اجازت ہے۔

ہندوستان کے ذریعے مغربی ندیوں کے پانی کے اس محدود استعمال کی شرائط معاہدہ میں درج ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہے۔ تاہم، ہندوستان نے ابھی تک مغربی ندیوں کے پانی کو پوری طرح استعمال نہیں کیا ہے۔ ہندوستان کو 3.6 ایم اے ایف پانی کو جمع کرنے کی جو اجازت دی گئی تھی اس کے لیے اس نے ابھی تک کوئی بھی اسٹوریج بھی نہیں بنایا ہے۔ کاشت کاری کے لیے 1.34 ملین ایکڑ کے جس علاقہ کی اجازت ہندوستان کو دی گئی تھی اس میں سے وہ اس وقت صرف 0.792 ملین ایکڑ اراضی پر ہی کاشت کاری کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان ندیوں پر ہندوستان کو 18653 میگاواٹ کی ہائڈروالیکٹریسٹی کاجو حق دیا گیا تھا اس نے اس میں سے صرف 2324 میگاواٹ کے پروجیکٹ کو پورا کیا ہے اور 659 میگا واٹ کے پروجیکٹ پر ابھی کام چل رہا ہے۔ معاہدہ کی رو سے اگر ہندوستان مغربی ندیوں کے پانی کے اپنے حصہ کو پوری طرح استعمال کرنا شروع کردیتا ہے تو بھی کسی بھی حالت میں نچلے حصے میں پانی کے بہاوٴ میں 3 فیصد سے زیادہ کی کمی نہیں آئے گی۔

لہٰذا ہندوستان پر ’پانی کی چوری‘ کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگانا اور ’آبی جنگ‘ کی دھمکی دینا پوری طرح غلط ہے ۔ ان الزامات کا حقیقت اور زمینی سچائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان سندھ آبی معاہدہ کے مطابق پاکستان کے حصہ کے پانی کو ہمیشہ چھوڑتا رہا ہے۔ ہندوستان نے 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران اور رشتوں میں کڑواہٹ کے دیگر ایام میں بھی ان پانیوں کو نہیں روکا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا اس کا کوئی ارادہ ہے۔ جو لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہندوستان پاکستان کے حصہ کے پانی کو روکنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے، وہ اس حقیقت کو پوری طرح نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر اسٹوریج اور پانی کے رخ کو موڑنے والی نہروں کے ایک بڑے نیٹ ورک کی ضرورت پڑے گی۔ اس قسم کا کوئی بھی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔

سندھ آبی معاہدہ ہندوستان سے یہ نہیں کہتا کہ وہ مغربی ندیوں کے پانی کی کسی معینہ مقدار کو پاکستان کے لیے چھوڑے۔ بلکہ وہ ہندوستان سے یہ کہتا ہے کہ وہ ان پانیوں کو پاکستان کی طرف بہنے دے جو ان ندیوں میں موجود ہیں، علاوہ اس پانی کے جس کے محدود استعمال کی اجازت معاہدہ نے ہندوستان کو دے رکھی ہے، جس کے لیے پاکستان سے پہلے سے کوئی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وقت وقت پر پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کی سطح میں کمی ہندوستان کے ذریعے سندھ آبی معاہدہ کی مخالفت یا ہندوستان کی طرف سے ان ندیوں کے پانی کے رخ کو موڑنے کی کسی کوشش یا مغربی ندیوں سے اپنے حصہ کے پانی سے زیادہ پانی کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ ندیوں میں پانی کے بہاوٴ کی سطح کا مکمل انحصار برف کے پگھلنے اور بارش کی مقدار پر ہے۔ ہندوستان نے خود 2009 میں سخت قحط کا سامنا کیا تھا، جب اس کے تقریباً 250 اضلاع خشک سالی میں گرفتار ہوگئے تھے۔ مانسون کے موسم میں پورے ملک میں بارش عام دنوں سے 20 فیصد کم ہوئی، اور شمالی ہندوستان کی بہت سی ریاستوں میں بارش اس سے بھی کہیں کم ہوئی۔ یہاں تک کہ سردی کے موسم میں ہونے والی بارش بھی معمول سے کہیں کم ہوئی۔ مغربی ندیوں میں بہنے والے پانی کی مقدار، جیسا کہ سبھی ندیوں کے ساتھ ہوتا ہے، ہر سال الگ ہوتی ہے، کسی سال تو پانی کا بہاوٴ بہت اچھا ہوتا ہے اور کبھی پانی کی سطح کافی کم ہو جاتی ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ ’آبی جارحیت‘ سے متعلق ہندوستان پر بے بنیاد الزام لگانا بند کرے اور اب جب کہ دونوں ممالک میں باہمی مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی ابتدا ہو چکی ہے، اس میں پوری دیانت داری سے ہندوستان کا ساتھ دے اور اعتماد کی کمی کو دورہ کرے، تبھی کوئی مثبت نتیجہ سامنے آسکتا ہے ورنہ ساری کوششیں لاحاصل ہیں۔

The suicide bombing is against Islam

The suicide bombing is against Islam



The suicide bombing is against Islam

Suicide bombing and terror acts are increasing day by day not only in those Muslim countries, where some negligible number of people thought that the only way to achieve freedom and give lesson to those who are harassing and suppressing Muslims, But also in other countries these terror acts taking place and destroying the civilian’ s life. Especially in Pakistan, Iraq and Afghanistan terrorist are becoming stronger and stronger despite of all effort. That why this is the very burning issue for those country who are suffering, but this also a big challenge and threat to Islam. Whether Islam permits this type of activities? Muslim scholars are individually giving their opinion according to Islam that Islam never permits the terror acts. But till now there is no any effort to think collectively and respond collectively, especially in Islamic countries. About four months ago there was an appeal by the Pakistan government. Government asked the Islamic scholars to respond on terrorist activities. At that time a number of Ulema responded and A fatwa was given by Ulamas that in a Muslim country suicide attacks are prohibited. No doubt Islam prohibits harming any civilian but the debate that in Pakistan because it is a Muslim country is totally wrong. First Pakistan is not a Muslim country secondly Islam is religion of peace and its blessings should not confine to any territorial boundary. Hence this fatwa needs a serious reconsideration. As far as Pakistan is concerned there is no effect of this fatwa.  Suicide attacks are continuing as always. The whole situation only shows the failure of the ruling side of Pakistan.

In this regard Saudi Arabia has also issued a Fatwa against terrorism. Concerned at the continued presence of Al Qaeda affiliated militants, the Saudi Kingdom have sought assistance from its highly influential religious establishment to counter terrorism at the ideological and legal levels. In this regard, a meeting of the Board of Ulemas, the highest religious guidance body in the Kingdom was held on April 10, 2010 in Riyadh under the chairmanship of Grand Mufti, Shiekh Abdul Aziz Al Sheikh, to discuss issues related to financing of terrorism. Subsequently, the Board issued a Fatwa on April 12, 2010 on the issue. The Fatwa declared ‘any act of terrorism, including financial support to terrorists’, a crime, regardless of the place of its occurrence. It further classified the person providing financial aid to terrorists as a “partner” in the act. The Fatwa described terrorism as an act that involved ‘ targeting of public resources, hijacking of planes and blowing of buildings’. The Board, however, did not specify the penalty for the crime, leaving the matter to Islamic courts. Few days ago Shah Abdullah of Kingdome of Saudi Arabia says that to finance the terrorist is against Islam and humanity.

Very recent Dr. Tahirul Qadri presented a well-researched paper on this issue. His Fatwa about terrorism has widely accepted. Tahir-ul-Qadri, a highly renowned Islamic scholar and recognised authority on Islam, on the vital matter of suicide bombings and terrorist attacks carried out in the name of Islam. It is regarded as a significant and historic step, the first time that such an explicit and unequivocal decree against the perpetrators of terror has been broadcast so widely.

According to Dr Zahid Iqbal Editor of English version of original Fatwa, which was written in Urdu. “Dr Tahir-ul-Qadri goes that crucial step forward and announces categorically that suicide bombings and attacks against civilian targets are not only condemned by Islam, but render the perpetrators totally out of the fold of Islam, in other words, to be unbelievers. Furthermore, in what is unprecedented in recent Islamic scholarship, this work draws out scriptural, historical, and classical scholarly references highlighting the obligations of Governments of Islamic nations to deal decisively to root out terrorist elements from society.” The fatwa has been delivered in the context mainly of the recent spate of suicide atrocities carried out in Pakistan against a variety of civilian targets. Nonetheless, there are clear verdicts within the fatwa that apply, with no less vigour, to attacks carried out against Western targets in Muslim countries, or indeed in the West itself, by so-called homegrown terrorists. A brief summary of that Fatwa is as under.

The horrendous onslaught of terrorist activity that has continued unabated for the last many years has brought the Muslim Umma, and Pakistan in particular, into disrepute. There is no denying the fact that the vast majority of Muslims oppose and condemn terrorism in unequivocal terms and are not ready to accept it as even remotely related to Islam in any manner. However, a negligible minority amongst them seems to give terrorism tacit approval. Instead of openly opposing and condemning terrorism, these people confuse the entire subject by resorting to misleading and perplexing discussions.

These people justify their actions of human destruction and mass killing of innocent people in the name of Jihad (holy struggle against evil) and thus distort, twist and confuse the entire Islamic concept of Jihad. This situation is causing Muslims, the young in particular, to fall prey to doubts and reservations, muddling their minds in respect of Jihad, because those perpetrating these atrocities are from amongst the Muslims. The perpetrators practice Islamic rituals, perform acts of worship and put on outward forms set down in Sharia. This has put not only the common Muslims into a dilemma, but also a significant number of religious scholars and intellectuals, who are disconcerted and curious to know truly the exact and precise Islamic injunctions underpinning the workings, methods and measures these individuals and groups have adopted to cause their havoc.

Because of this situation, two kinds of negative response and destructive attitude are developing: one in the form of damage to Islam and the Muslim world, and the other a threat to humanity, and the Western world in particular. The most important point this research study has undertaken to make revolves around the thought, ideology and mindset, which pits a Muslim against another and finally leads him to massacre innocent humans. Such a mindset not only regards the killing of women shopping in markets and schoolgirls permissible but also a means of earning rewards and spiritual benefits. What power or conviction rouses him to kill people gathered in the mosque, and earn Paradise through carnage? Why does a terrorist decide to end his own life, the greatest blessing of Allah Almighty, with his own hands through suicide bombings? How does he come to believe that by killing innocent people through suicide bombing he would become a martyr and enter Paradise? Does Islam allow, somehow, the killing of people because of ideological differences, looting their wealth and properties and destroying mosques, religious places and shrines?

The question in this connection that concerns all relates to use of force to spread beliefs: is it lawful for a group or organisation to use force to promote and put into effect their own creed and beliefs in the name of reforming others’ beliefs and ideologies, presuming themselves to be on the right path? Does Islam allow, somehow, the killing of people because of ideological differences, looting their wealth and properties and destroying mosques, religious places and shrines?

Islam is a religion of peace and safety that champions love and harmony in society. According to Islamic teachings, only such a person will be called a Muslim at whose hands the lives and properties of all innocent Muslims and non-Muslims remain safe and unhurt. The sanctity of human life and its protection occupies a fundamental place in Islamic law. Taking anyone’s life for nothing is an act that is forbidden and unlawful. Rather, in some cases, it amounts to infidelity. These days, the terrorists, in a vain attempt to impose their own ideas and beliefs and eliminate their opponents from the face of the earth, killing innocent people ruthlessly and indiscriminately everywhere in mosques, bazaars, governmental offices and other public places are in fact committing clear infidelity. They are warned of humiliating torment in this world and in the hereafter. Terrorism, in its very essence, is an act that symbolises infidelity and rejection of what Islam stands for. When the forbidden element of suicide is added to it, its severity and gravity becomes even greater. Scores of Qur’anic verses and Prophetic traditions have proved that the massacre of Muslims and terrorism is unlawful in Islam; rather, they are blasphemous acts. This has always been the opinion unanimously held by all the scholars that have passed in the 1400 years of Islamic history, including all the eminent Imams of Tafseer and Hadith and authorities on logic and jurisprudence. Islam has kept the door of negotiation and discussion open to convince by reasoning, instead of the taking up of arms to declare the standpoint of others as wrong, and enforcing one’s own opinion. Only the victims of ignorance, jealousy and malice go for militancy. Islam declares them rebels. They will abide in Hell.

The second question in this regard is: what are the rights of the non-Muslim citizens in a Muslim state?

A: Islam not only guarantees the protection of life, honour and property of Muslim citizens of an Islamic state, but also assures the equal protection of life, honour and property of non-Muslim citizens and of those people too with whom it has entered into a peace treaty. The rights of non-Muslim citizens enjoy the same sanctity as those of Muslim citizens in an Islamic state. There is no difference between them as human beings. That is why Islamic law metes out equal treatment to both Muslims and non-Muslims in the matters of blood money and Qisas. Non-Muslims have complete personal and religious freedom in a Muslim society. Their properties and places of worship also enjoy complete protection. Besides non-Muslim citizens, even the ambassadors of non-Muslim countries and others working on diplomatic assignments have been guaranteed complete protection. Likewise, the protection of life and property of non-Muslim traders is the responsibility of the Islamic state. Islam does not allow and advocate the use of violence against and killing of peaceful and non-combatant citizens under any circumstances. Those indulging in attacks on peaceful non-Muslim citizens, kidnapping them for ransom, and torturing them mentally or physically, or keeping them under unlawful custody, are in fact committing serious violations of Islamic teachings.

The third question arises: does Islam offer clear commands on the sanctity of human life? Is it lawful to kidnap and assassinate foreign delegates and innocent and peaceful non-Muslim citizens to avenge the injustices and disruption of the non-Muslim global powers?

A: The importance Islam lays on the sanctity and dignity of human life can be gauged from the fact that Islam does not allow indiscriminate killing even when Muslim armies are engaged in war against enemy troops. The killing of children, women, the old, infirm, religious leaders and traders is strictly prohibited. Nor can those who surrender their arms, confine themselves to their homes and seek shelter of anyone be killed. The public cannot be massacred. Likewise, places of worship, buildings, crops and even trees cannot be destroyed. On the one hand, there is a clear set of Islamic laws based on extreme discretion, and on the other, there are people who invoke the name of Islam to justify the indiscriminate killing of people, children, and women everywhere, without any distinction of religion or identity. It is a pity that such barbaric people still refer to their activities as Jihad. There can be no bigger discrepancy than this to be seen on earth. It can in no way be permissible to keep foreign delegates under unlawful custody and murder them and other peaceful non-Muslim citizens in retaliation for the interference, unjust activities and aggressive advances of their countries. The one who does has no relation to Islam and the Holy Prophet (blessings and peace be upon him).

If a good intention gives rise to bloodshed and massacre, the question arises whether such tyranny and barbarism can be declared lawful on this basis. Some people think that although suicide explosions are atrociously evil, and that killing innocent people too is a monstrous crime, and spreading mischief and strife in the country is, again, a heinous act, while the destruction of educational, training, industrial, commercial and welfare centres and institutions is still a greater sin, the suicide bombers are doing this with good intention and pious motive. Therefore, they are justified. They are retaliating against foreign aggression against Muslims. They are carrying out a Jihad, and so, they cannot be given any blame. The suicide bombing is also a big crime in the eyes of Islam and Humanity. Islam stands for humanity and peace therefore terror act is no doubt against Islam and Humanity.

****