Archive for March 3rd, 2010

جدید دور کی، جدید پریشانیاں

جدید دور کی، جدید پریشانیاں

انعام بٹ

Jhak

 سلطان فارس(ایران)اور شہنشاہ سائرس اعظم کی فوج میں ہزاروں سپاہی تھے لیکن انہیں اپنی فوج کے ایک ایک سپاہی کا نام معلوم تھا اور جب کبھی وہ فوج کا معائنہ کرتے تو ہر سپاہی کو اس کے نام سے مخاطب کرتے تھے۔اسی طرح پہلے وقتوں میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو بہت تیز دماغ اور حیران کردینے والی یاداشت رکھتے ہیں۔جیسے لاطینی زبان کے ادیب”نیکادی ایلڈر“کو200لمبی لمبی نظمیں یاد تھیں اور وہ انہیں فر فر سناتے تھے اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ ہر نظم کو نیچے سے اوپر تک بھی سُناسکتے تھے۔یہ تو پرانے وقتوں کے لوگ تھے آج کل کی نئی نسل میں ایسی یاداشتیں اور تیز دماغ کیوں نہیں پائے جاتے؟کیا وجہ ہے کہ نئی نسل پڑھائی اور یادہانی والے کام میں پیچھے اور کمپیوٹر،موبائل اور انٹر نیٹ میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے لوگ جدید ٹیکنالوجی نہ ہونے کے باوجود خوش تھے اور آج ہم جدید ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود پریشان اور خوفزدہ ہیں؟پرانے وقتوں کا آج کے جدید دور سے مقابلہ کریں تو نئی نسل کے علاوہ شاید سب یہی کہیں کہ وہ وقت ٹھیک تھا۔آج کے دور میں کشا کش ، حَسَد،تکبر،لالچ نے دنیا کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔والدین کی عزت کرنا تو دور اُنہیں بڑھاپے میں اکیلا چھوڑنا نئی نسل میں ٹرینڈ بن گیا ہے۔کیا وجہ ہے کہ جو والدین روتے اور بِلبلاتے ہوئے بچے کو خود بھوکا رہتے ہوئے بھی پالتے ہیں،تاکہ وہ جوان ہوکراُنکا سہارا بنے، وہی بچہ بڑا ہوکر اپنے والدین کو چھوڑ دیتا ہے۔کمیونیکیشن نے شرم وحیاء کا پردہ اُکھاڑ پھینکا ہے، عزت اور ذلت میں فرق ختم کر دیا ہے۔نئی نسل قدم اُٹھانے سے پہلے بھول جاتی ہے کہ ماں ،باپ،بہن بھائیوں کی عزت اور وقار کا کیا حال ہوگا۔ہماری نئی نسل اتنی بھلکڑ کیوں ہے؟شاید غیر معیاری ادویات جو روز بروز پکڑی جاتی ہیں اور پکڑے جانے سے پہلے ہم وہی ادویات کھا رہے ہوتے ہیں جو ہمارے جسم میں موجود خون کوبے حِس کر دیتی ہیں۔ایسی ادویات کو عوام کے استعمال میں لانے سے پہلے کیوں نہیں پکڑا جاتا؟وہی لالچ سے بھرے لوگ چند رپوں کی خاطر ذہریلی اور ناقص ادویات مارکیٹ میں فروخت کے لئے بھیج دیتے ہیں اور آگے ہمارے وہ حکمران جو اُن ادویات کو پاس کرتے ہیں اور اُس کے آگے ہمارے میڈیکل اسٹورز کے مالکان جو اُنہیں بڑے فخر سے فروخت کرتے ہیں۔جب عوام میں سے کسی سمجھدار کی نظر پڑے یا کسی بھی ذریعے بات باہر نکلے اور شورمچے تو پھر وہی حکمران جو ادویات پاس کرکے مارکیٹوں تک پہنچاتے ہیں وہ چھاپے مار کر ڈبل مال وصول کرتے ہیں۔یورپین ممالک میں بچے اٹھارہ سال کے بعد کیوں آزاد کر دئیے جاتے ہیں اس کی بڑی وجہ حرام گوشت اور حرام مشروب ہیں جن کے استعمال سے انسان بالکل بے حِس،بے شرم اور بے حیاء ہو جاتا ہے۔اگریورپین ممالک میں بچوں کو اٹھارہ سال کے بعد آزاد نہ کیا جائے تو وہ شاید اپنے والدین کے ساتھ وہ سلوک کریں جسے سُن کر دل پھٹ جائیں۔ یورپ میں ہونے والے واقعات اور خبروں کا مطالعہ کیا جائے تو درندگی کے جو واقعات وہاں رونما ہوتے ہیں اس کے مقابلے ایشیائی ممالک کُچھ نہیں۔ایشیائی ممالک میں ذہریلی اور نشہ آور ادویات بھیجی جاتی ہیں جن کے استعمال اُلٹ کام دیکھاتا ہے۔اگر دواکھانے سے ایک بیماری سے جان چھوٹ بھی جاتی ہے تو انسان دوسری سنگین بیماری میں مبتلاء ہوجاتا ہے۔ خیر بات کرتے ہیں پرانے وقت کی،ہمارے بزرگوں سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ پرانے وقتوں میں تعلیمی معیار کس قدر اعلیٰ اور بہتر تھا کہ آج کے دور کی کالج میں حاصل کی جانے والی تعلیم پرانے وقتوں کی میٹرک پاس تعلیم کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ابھی ہم اسلامی معاشرے کی وجہ سے اپنے بچوں پر قابو پاسکتے ہیں کیونکہ ہمارے بچے ابھی بات سُن لیتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں اس سے پہلے کہ یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل جائے ہمیں توجہ دینی ہوگی۔نئی نسل کی یاداشت کم ہونے ،شرم وحیاء کے قائم رہنے،عزت اور ذلت میں فرق کو سمجھنے میں معاشرہ اور خالص خوارک کابھی اہم ترین قردار ہے ۔اگر ہم اپنی بچوں کی خواراک پر توجہ دیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ، کیا پی رہے ہیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح کے لوگوں سے ملتے جُلتے ہیں تو اس جدید قسم کی پریشانی سے ضرورت نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔عروج کو زوال ضرور ہوتا ہے۔دنیا اس وقت عروج پر ہے اور دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور قدرتی آفات سے واضح ہے کہ دنیا اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے اعمال کو بہتر بنانے میں ہی ہماری بہتری اور آخرت میں بخشش ہوسکتی ہے۔

ہند – پاک آبی تنازع اور اس کے مضمرات

ہند – پاک آبی تنازع اور اس کے مضمرات

 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی تنازعات کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ایک ہے آبی تنازع۔ دراصل پاکستان کی 95 فیصد ندیوں کو پانی ہندوستان کی ریاست کشمیر سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کی یہ اہم ندیاں جن کا نقطہٴ آغاز جموں و کشمیر ہے ، ان کے نام ہیں ستلج، راوی، بیاس، جھیلم، چناب، نیلم وغیرہ۔ نیلم ندی کو ہندوستان میں کشن گنگا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر 1960 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جسے ’اندس واٹر ٹریٹی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کی رو سے ہندوستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کشن گنگا (نیلم) ندی کے پانی کا استعمال بجلی پیدا کرنے میں کر سکتا ہے۔ ہندوستان نے اپنے اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے 1994 میں کشن گنگا ہائڈروپاور پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا جس کے تحت اس کے پانی کو جموں و کشمیر کے سوپور ضلع میں واقع وولر جھیل میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اسے بعد میں بجلی پیدا کرنے کے کام میں استعمال کیا جاسکے۔ اس پروجیکٹ پر کام اب بھی جاری ہے اور 2016 تک اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے کی امید ہے۔ لیکن پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ ہندوستان کے ذریعے ایسا کرنے سے نیلم ندی کے پانی کی سطح میں کافی کمی آ جائے گی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے ان کھیتوں پر ہوگا جن کی فصل کا انحصار نیلم ندی کے پانی پر ہے۔ اپنے اس اعتراض کو صحیح ثابت کرنے کے لیے پاکستان بار بار ہندوستان پر پانی کی چوری کرنے اور پاکستان کے ایک بڑے علاقہ کو ریگستان میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ وہ بارہا ہندوستان کو یہ دھمکی بھی دے چکا ہے کہ اگر اس نے آبی مسئلہ کو حل نہیں کیا تو پاکستان اس کے لیے ورلڈ بینک کا رخ کرے گا۔ اندس آبی معاہدہ 1960 کی رو سے اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی آبی تنازع پیدا ہوتا ہے اور وہ باہمی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ کسی بیرونی معتدل ماہر کی مدد سے اس تنازع سے متعلق باہم تصفیہ کر سکتے ہیں، لیکن اگر اس سے بھی بات نہیں بنتی ہے تو پھر ایسے میں خود ورلڈ بینک اس میں مداخلت کرکے ایک معتدل ماہر کو منتخب کرسکتا ہے جس کی بات دونوں فریقین کو ماننی ہوگی۔ بگلیہار پروجیکٹ کے معاملے میں بھی پاکستان کے بار بار اعتراض کرنے کے بعد 2005 میں ورلڈ بینک نے مداخلت کرکے دونوں ممالک کے اس تنازع کو حل کیا، جس کے بعد ہندوستان نے بخوشی بگلیہار باندھ کی اونچائی کو کم کرنے پر اتفاق کر لیا۔ 1960 کی اندس واٹر ٹریٹی کے مطابق پاکستان کو 55 ہزار کیوسیکس پانی ملنا چاہیے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ کشن گنگا پروجیکٹ کی وجہ سے گذشتہ برس اسے سردیوں کے موسم میں صرف 13 ہزار کیوسیکس اور گرمیوں کے موسم میں 29 ہزار کیوسیکس پانی ملا، جس کی وجہ سے اس کے بہت سے کھیت سوکھ گئے۔ اس کے بدلے اس نے ہندوستان سے معاوضہ طلب کیا، لیکن ہندوستان نے پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے معاوضہ ادا کرنے سے منع کردیا۔ کشن گنا یا نیلم ندی کے پانی کی تقسیم سے متعلق تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک میں ’اندس کمیشن‘ نام سے ایک عملہ موجود ہے جو اس سلسلے میں اکثر باہم گفت و شنید بھی کیا کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کے اندس کمشنر سید جماعت علی شاہ کی ملاقات اورنگ ناتھن کی قیادت والی ہندوستانی ’پرماننٹ کمیشن آن اندس واٹرس ‘ کی تین رکنی ٹیم سے ہوئی تھی جس نے اس موضوع پر بات چیت کے لیے حال ہی میں پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کیا تھا۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ دونوں کمیشن اس سال مارچ اور پھر جون کے اخیر میں مزید دو ملاقاتیں کریں گے اور آبی تنازع کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اورنگ ناتھن نے ملک واپسی کے وقت لاہور اےئر پورٹ پر ہی یہ بات واضح کردی تھی کہ یہ آبی تنازع اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان کوئی جنگ کی نوبت آئے۔ لیکن پاکستانی میڈیا اب بھی یہ شور مچانے میں لگی ہوئی ہے کہ اگر ہندوستان نے اس تنازع کو جلد حل نہیں کیا تو پاکستان اس سے جنگ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے گا۔ دوسری جانب لشکر طیبہ کی ذیلی شاخ جماعت الدعوة اور اس قسم کی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیڈران بھی علی الاعلان ہندوستان کو یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر ہندوستان نے پاکستان کے پانی کو زبردستی روکنے کی کوشش کی تو اپنے خون کے آخری قطرہ تک اس کے لیے مسلح جدوجہد کریں گے اور ہندوستان پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس قسم کی دھمکیوں سے کوئی تنازع حل ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ جغرافیائی، فوجی اور اقتصادی ہر اعتبار سے ہندوستان پاکستان سے کافی بڑا ملک ہے۔ چند سر پھرے لوگوں کی دھمکیوں سے اس پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ان جیسے لوگوں کی زبان پر لگام لگائے کیوں کہ یہی وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے ہند و پاک کے درمیان امن کی ہر سعی ناکام ہو جایا کرتی ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اگر اس کی طرف سے پاکستان کو کوئی شکایت ہے تو وہ اسے سننے اور پھر اس کے حل پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ابھی حال ہی میں 25 فروری کو نئی دہلی میں پاکستان کے خارجہ سکریٹری، سلمان بشیر کو بات چیت کی دعوت دینا بھی ہندوستان کی اسی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا، بشرطیکہ اس میں نیک نیتی شامل ہو۔ لیکن پاکستان کا رویہ بالکل اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خارجہ سکریٹری سطح کی بات چیت کے بعد سلمان بشیر یہ کہتے نظر آئے کہ ہندوستانی خارجہ سکریٹری نروپما راوٴ نے ان سے بات چیت نہیں کی بلکہ انھیں فرمان سناتی نظر آئیں اور یہ کہ ہندوستان کی جانب سے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے خلاف جو اضافی معلومات سونپی گئیں وہ محض ایک ’لٹریچر‘ تھا۔ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ہندوستان کے ان عزائم کا یوں مذاق اڑانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی نیت صاف نہیں ہے اور وہ آسانی سے اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نہیں ہے۔