Archive for March, 2010

ہندستان پر بے بنیاد الزامات ؛ پاکستان کی نئی حکمت عملی

ابھی کچھ ہی ہفتوں کی بات ہے کہ ہندستان کی کوششوں سے مذاکرات کا عمل از سر نو شروع ہوا۔ مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی پاکستان کے کئی حلقوں سے اس کی زوردا مخالفت شروع ہوگئی ۔کبھی اسے ہندستان کی شکست سے تعبیر کیا گیا تو کبھی اسے بے معنی بتانے کی کوشش کی گئی لیکن ان تمام مخالفتوں کے باوجود مذاکرات کے لیے آئے پاکستانی مہمانوں کا ہندستان نے استقبال کیا او ر اس عمل کو مستقبل میں جاری رکھنے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے لائحہ ¿ عمل مرتب کرنے پر زور دیا اور اب یہ امید کی جارہی ہے کہ مستقبل قریب میں اگر دونوں ممالک بالخصوص پاکستان نے سنجیدگی دیکھائی تو ضرور کو ئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد ہوگا۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی کوششوں کے دروان اس کو سبوتاژ کرنے کی پاکستانی مہم کیا رنگ لائے گی اس پر نظر رکھنی ضروری ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ صرف حکومتوں کے درمیان مذاکرات سے بات نہیں بنتی ہے جب تک کہ عوامی سطح پر اس کے لیے فضا ہموار نہ کی جائے ۔ اس سلسلے میں اگر ہندستانی پریس کا اندازہ لگائیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے پریس نے ان حالات پر تنقید وتجزیہ تو کیا ہے مگر کسی نے ان مذاکرات کی مخالفت نہیں کی ہے ، مگر اس کے برعکس پاکستانی میڈیا کا حال یہ ہے کہ اب بھی وہ ہندستان کے خلوص پر سوال اٹھا رہے ہیں اوربار بار اپنی پیٹھ ٹھوکتے ہوئے اسے ہندستان کی ناکامی پر محمول کر رہے ہیں۔ نہ معلوم انھیں پاکستان کی شکست سے کیا مل جائے گا؟اور یہ خیال خام ان کی کس انا کی تسکین کا سبب بنے گی؟ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کا ایک گروپ اور کچھ کالم نگار اس پسپائی کے سبب ہندستان کی جانب اپنی قلم کا رخ موڑ رہے ہیں کہ امریکہ نے حکومت پاکستان کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے اورجس طرح سے چاہ رہا ہے وہ موجودہ حکومت سے کام لے رہا ہے۔لیکن کوئی بھی سیاست داں اور صحافی کھل کرامریکہ کے خلاف بات نہیں کر سکتا اس لیے اپنا غصہ ہندستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر کر رہا ہے۔شبیرصاحب نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ:”بھارت اپنی بالا دستی علاقے میں قائم کرنیکی ہر ممکن جدوجہد میں مصروف نظر آتا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ ہر قیمت چکانے کیلئے تیار ہے۔مگر امگر اپنے عزائم کی تکمیل میں وہ پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ گر دانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کو کسی موقعے پر نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا ہے۔ اس حوالے سے کئی جنگیں وہ پاکستان پر مسلط کر چکا ہے۔ حد تو یہ ہے اس نے پا کستان کو دولخت کرنے سے بھی گریز نہ کیایہ کوئی معمولی دہشت گردی نہ تھی بلکہ انٹر نیشنل دہشت گردی تھی۔ جس کو دنیا کے ٹھیکیدراوں نے آج تک دہشت گرد اسٹیٹ نہیں کہا۔یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست ہے۔جو ناصرف اپنے لوگوں کے ساتھ دہشت گردی کر رہی ہے بلکہ نہتے کشمیریوں کا بھی لہو بہانے مین پیچھے نہیں ہے۔ پاکستان کے اٹوٹ حصے کو اس نے چالبازیوں سے گذشتہ 63 برسوں سے جہنم بنایا ہواہے۔ کشمیر کے حریت پسندوںکو اس نے ساری دنیا میں دہشت گرد مشہور کیا ہوا ہے۔حالانکہ یہ خود ہی کشمیریوں سے اقوام متحدہ میں یہ وعدہ کر کے بیٹھا ہے کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود اختیاری ہر حال میں دیدیگا۔تو دنیا بتائے کہ حریت کی جنگ لڑنے والے کس طرح دہشت گرد ہیں؟“ شبیر صاحب کو شاید دہشت گردی کے اعداد و شمار کا اندازہ نہیں ورنہ اگر وہ صرف اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار جان لیں تو ان کی رائے بدل جائے گی کہ دہشت گرد کون سا ملک ہے۔ لیکن جب باتیں آنکھ بند کر کے کہنی ہو تو ایسی ہی باتیں سامنے آتی ہیں۔ شبیر صاحب اپنے اسی کالم میں آگے لکھتے ہیں کہ :”سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف خاموشی سے ہر محاذ پرجارحانہ حکمت عملی پر کار بند ہے پاکستان میں بد امنی اور انتشارپیدا کرنے کے لئے بھارتی ایجنسیاں جگہ جگہ بم دھماکے کرا رہی ہیں۔گذشتہ قریباً چھ ماہ کے دوران پاکستان میں جس قسم کے خود کش اور پلانٹیڈ حملے ہو تے رہے ہیں،ان تمام سفاکا نہ کاروائیوں میں پاکستان کو معاشی سیاسی سماجی نقصان کا عنصر نمایاں ہے۔ ان تمام جانی و مالی نقصانات کے پیچھے بھارت ہے جو دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آزادی کے متوالوں کو ساری دنیا کے سامنے دہشتگرد کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جس کی معاونت آج امریکہ بھی کر رہا ہے۔عوامی مراکز، مسجدوں کھیلوں کے میدانوں
بازارو ں ، ایجنسیوں کے دفاتر، مساجدفوج و پولس کے مراکز اور فوجی کاروانوں پر حملے جس میں بے گناہ بچے خواتین فوجی جوان اور پولس کے سپاہیوں کو شہید کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں بھارت کا پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔اب یہ ناقابلِ یقین خبریں بھی آرہی ہیں کہ افغان طالبان اس کھیل میںبھارت کی مدد کر رہے ہیں۔ حالانکہ بہت مرتبہ طالبان کی طرف سے ان حملوں کی شدت کے ساتھ تر دیدیں آتی رہی ہیںمگر ہماری پا لیسیوں کی وجہ ہمارے ہمدرد بھی اب شائد دشمنوں کی صفوں کا رخ کر رہے ہیں۔ملا ضعیف جیسے لوگ بھی آج بھارت کی حمیت میں بول اٹھے ہیں۔جو ہماری داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی نا کا میوںکا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘ اب تک پاکستان میں جو بھی دہشت گردانہ واقعات رونما ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے ایسا ثبوت نہیں ملا ہے جس سے یہ یقین کے ساتھ کہا جائے کہ کہیں بھی ہندستان ان قابل نفریں واقعات میں ملوث ہو۔لیکن بلا وجہ بار بار اس طرح کی باتیں کرنی دراصل رائے عامہ کو متاثرکرنے کی دانستہ کوشش ہی ہے تاکہ پاکستان کی عوام میں ہندستان کے خلاف نفرت پیدا ہوسکے۔ اس لیے وقت کا یہ تقاضہ ہے کہ پاکستان خود اس طرح کی بیان بازیوں سے اپنے صحافیوں کو روکے کیونکہ اس پاکستان کی شبیہ ہی متاثر ہورہی ہے۔
رہی بات مذاکرات کی تو یہ ہندستان کی مجبوری نہیں ہے یہ تو ہندستان کی فراخدلی اور خطے میں امن کے قیام کی کوشش ہے۔ ورنہ ایسا کیا ہے کہ ہندستان پاکستان کے دباو ¿ میں آجائے یا امریکہ اس سلسلے میں پاکستان پر کوئی دباو ¿ڈالے۔لیکن اس بر عکس پاکستان کے صحافیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ جو کام پاکستان سے لینا چاہتا ہے اسے کسی بھی طرح لے لیتا ہے ۔ ابھی کل ہی امریکہ اپنی ایک اورحکمت عملی کی پیش رفت کرتے ہوئے نئے ہدف کا آغاز کر چکا ہے۔ابھی۴۲ تاریخ کو ہونےوالے مذاکرات بھی اسی سیاسی گرفت کا ایک حصہ ہیں ۔جس کی خبریں پاکستانی اخباروں میں اس طرح شائع ہوئی ہیں:”
امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے پاکستان و افغانستان رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ محض فوٹو سیشن نہیں، سنجیدہ اور بامعنی ہوں گے۔ پاکستان امریکہ اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات بھی جلد ہوں گے۔پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک مذاکرات میں پاک امریکہ تعلقات کے فروغ پر بات ہوگی۔ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا۔ پاک امریکہ تعلقات آگے بڑھانے کیلئے ورکنگ گروپس قائم کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور افغانستان کے درمیان بھی مذاکرات جلد ہوں گے۔مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدت حکمت عملی طے کی جائے گی۔ رچرڈ ہالبروک نے مذاکرات کیلئے جانے والے وفد میں جنرل کیانی کی شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہاکہ امریکہ پاکستان کیساتھ سٹریٹجک مذاکرات کرتا رہا ہے اور مذاکراتی وفد حکومت پاکستان نے تشکیل دیا ہے جس کے ممبران کا انتخاب حکومت پاکستان نے کیا۔ دریں اثناءوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے باہمی مشاورت سے ملک میں مفاہمتی عمل کا آغاز کیا اور اس میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تھری ڈی حکمت عملی متعارف کرائی تاہم دہشتگردوں کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر فوجی کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا، جسے حکومت نے مکمل اونر شپ دی اور اس میں کامیابی حاصل کی، جس پر امریکہ سمیت دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی کہ پاکستان کے عوام اور حکومت فوج کے ساتھ ہیں اور پاکستانی فوج دہشتگردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، جس کا مقصد اپنے نظریے کو طالبائزیشن سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں اور وہ اس لعنت کے خاتمے کیلئے آپ کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے فوجی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور کئی نئی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک نئی سوچ جنم لے رہی ہے، جس میں فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ سویلین کی مدد حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 تاریخ کو امریکہ پاکستان سٹریٹجک ڈائیلاگ میں دہشتگردی سمیت تمام اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس میں پاکستان اپنے موقف کی کھل کر ترجمانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عالمی برادری کو باور کرایا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور ہمیں اس مسئلے کے حل کیلئے اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان ایک
دوسرے کے حلیف ممالک ہیں اور آئندہ بھی حلیف رہیں گے۔“ اس خبر میں پنہاں امریکی خواہش اور اس کے عزم کے حوالے سے ابھی پاکستانی صحافی کوئی بات نہیں کر رہے ہیں ۔جبکہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس حوالے امریکہ پاکستان اورافغانستان میں کو کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کرے گا اور مذاکرات میں جمہوری طریقے سے اپنی مزید بالادستی کے قیام کی بھر پور کوشش کرے گا ۔ لیکن اس حکمت عملی کو سمجھنے کے بجائے پاکستانی میڈیا کی رائیگاں کوششیں ہندستان پر الزام تراشی کی ہے جو کسی بھی طرح سے فائدہ مند نہیں ہے۔

تائیوان کوامریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر چین کا ردِ عمل

1

تائیوان کوامریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر چین کا ردِ عمل

***ٴٌٌٴٌٌٴٌٌٌٌ تحریر! محمد اکرم خان فریدی***

akramkhanfaridi@gmail.com

            امریکہ اور چین کے درمیان پہلے ہی حقوقِ انسانی کے تحفظ،تجارتی معاملات اور انٹرنیٹ کی سنسر شپ کے ایشوز پر کافی تناؤ چل رہا تھا کہ اوبامہ انتظامیہ نے اعلان کر دیا کہ امریکہ تائیوان کو 6.4بلین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرے گا۔ اکتوبر 2008ء میں بھی امریکہ کے صدر بش کی حکومت کی جانب سے تائیوان کو6.5بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل ہوئی تھی۔6.4بلین ڈالرز کی حالیہ ڈیل کے مطابق امریکہ کی جانب سے تائیوان کو جوہتھیار فروخت کئے جائیں گے اُن میں 2.81بلین ڈالرز کے 114پیٹریاٹ میزائل،3.1بلین ڈالرز کے 60بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز،340ملین ڈالرز کے مواصلاتی آلات(ریڈار ٹیکنالوجی،انفارمیشن ٹیکنالوجی،اندھیرے میں دیکھنے والے آلات)،105ملین ڈالرز کے 2 اوسپرے مائن ہنٹنگ شپس اور37ملین ڈالرز کے 12 ہارپون میزائل شامل ہیں جبکہ اس معاہدے میں F-16شامل نہیں ہوئے جن کی تائیوان کی فوج کو بڑی دیر سے خواہش تھی۔ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر چینی حکام نے اوبامہ انتظامیہ کو ذبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور تائیوان کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی کے عمل کو چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیاہے ۔چائنہ کے نائب وزیر خارجہ” مسٹر ہی یافی (HI Yafi)“نے بیجنگ میں امریکی سفیر ”جان ہینٹسمین “ کو تائیوان کو اسلحے کی فراہمی بارے چینی حکومت کے غم و غصے سے آگاہ کیا ہے ۔ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان کے بعد چین نے پینٹا گون کے ساتھ سکیورٹی کے تبادلہ کے فیصلہ کو بھی منسوخ کرنے کابھی عندیہ دیاہے۔جبکہ دوسری جانب واشنگٹن کا موقف ہے کہ چین کے پاس 1000کے قریب ایسے بلاسٹک میزائل ہیں جو اُس نے تائیوان کے قریبی سرحدی علاقوں میں تائیوان کو ٹارگٹ بنا کر نصب کر رکھے ہیں واشنگٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطہ میں پائیدار امن اور توازن قائم کرنے کے لئے تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی بہت ضروری ہے اور ہم ”تائیوان ریلیشن ایکٹ Taiwan Relation Act 1979“کے تحت تائیوان کو ہتھیار دینے کے پابند ہیں۔ امریکی ادارے ”ڈیفنس سکیورٹی اینڈ اینڈ کوآپریشن ایجنسی(DSCA )کا ہتھیاروں کی فروخت بارے کہنا ہے کہ

 ”The proposed sale will help improve the security of the recipient and assist in maintaining political stability, military balance and economic progress in the region,”.

 

2

جبکہ دو سپر پاوروں میں پھنسے ہوئے تائیوان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی پر ہمارے حوصلے بلند ہونگے۔36189مربع کلومیٹر چینی خطہ جو اِن دنوں تائیوان کے نام سے جانا جاتا ہے 1945ء سے قبل جاپان کے قبضے میں تھا جسے بعد میں جاپان کے قبضے سے واپس لے لیا گیا اور 1.3ملین چینی باشندوں ،سولجرز،بڑے زمینداروں اور اُس وقت کے اشرافیہ نے مل کر اِسے الگ مملکت بنا لیا جسے چین نے آج تک الگ مملکت کے طور پر قبول نہیں کیا ۔چین آج بھی تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتا ہے۔ہانگ کانگ میں الگ حکومت کے باوجود چین نے اِس پر دوبارہ اپنا کنٹرول کر لیا ہے لیکن تائیوان پر ابھی تک کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہے ۔واحد سپر پاور کے چینی خواب کو ملیا میٹ کرنے اور خطے میں اُسے بے سکون کرنے کی غرض سے 1979ء میں امریکی کانگریس نے تائیوان ریلیشن ایکٹ TRAپاس کیا جس کے تحت طے پایا کہ امریکہ تائیوان کی مختلف شعبوں میں مدد کرے گااور چین کی دھمکیوں کا جواب دینے کے لئے اُسے جدید ہتھیار فراہم کرے گا ۔آج جب2008ء کے بعد دوبارہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کئے جا رہے ہیں تو پیپلز لبریشن آرمی کے آفیسران میجر جنرل ”لویوآنLuo Yuan“میجر جنرل ”ذوچِنگوZhu Chenghu“اور سینئر کرنل” کی چن کائیو Ke chunqiao“نے کہا ہے کہ ہم تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر امریکہ کوایسی سزا دینگے جس سے امریکہ کی معیشت مزید زوال میں چلی جائے گی،امریکہ کا کروڑوں ڈالر کا چکن جوکہ چین کی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے ا ُس پر پابندی لگنے سے بھی امریکہ کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے ۔لیکن اِن تمام تر دھمکیوں اور ممکنہ پریشانیوں کی پرواہ کئے بغیر واشنگٹن خطے میں ہتھیار پھیلانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے ۔ دراصل تائیوان ریلیشن ایکٹTRA 1979ء چین اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔چین اور امریکہ مختلف ایشوز پر ایک دوسرے کی کھُل کر مخالفت کرنے لگے ہیں ،اسکی سب سے بڑی مثال کوپن ہیگن میں ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں ہونے والا اجلاس ہے جس میں امریکہ اور چین ایک دوسرے کے ذبردست مخالف نظر آئے جبکہ حال ہی میں ایران کے نیوکلےئر پروگرام کے خلاف چین نے امریکہ کی مخالفت کی ہے اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بھی چین امریکہ کی حمائیت نہیں کرے گا۔

            امریکہ اور چین کا بڑھتا ہوا اختلاف ایشیائی ممالک کو خطرناک اشارے دے رہا ہے ۔چین ہی نہیں بلکہ پوری دُنیا جانتی ہے کہ امریکہ آنے والے 50سال کے بارے میں بھی اپنی منصوبہ بندیاں شروع کر دیتا ہے ۔شائد 1979ء میں جب امریکہ نے تائیوان

 ریلیشن ایکٹ پاس کیا تو پینٹا گون نے چین اور اس سے ملحقہ ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی شروع کر دی تھی ۔آج جب امریکہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کرکے چین کو پریشان کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اِس خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ کل چین بھی امریکہ مخالف طاقتوں کو ہتھیار فراہم کر سکتا ہے جسکی وجہ سے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بے حد متاثر ہو سکتی ہے ۔آج جب تائیوان کے صدر خوشی خوشی اِس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی سے تائیوان کا حوصلہ بلند ہو ا ہے لیکن شائد

 

3

وہ یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی بعض طاقتیں چین کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں اور اس مقصد کو پانے کے لئے وہ تائیوان کو ایک خطرناک جنگ میں دھکیل سکتی ہیں اسکے نتائج کتنے خطرناک ہونگے اسکا اندازہ وہ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔یہ تو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی کو ہتھیار لڑنے کے لئے دیا جاتا ہے نہ کہ صلح کروانے کے لئے ۔دوسری جانب چین کو آج سے تیس سال قبل جب امریکی کانگرس نے تائیوان ریلیشن ایکٹ کی منظوری دے دی تھی تب ہی آج کے حالات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کر لینی چاہئے تھی اور کوئی درمیانی راستہ نکال کر تائیوان اور اسکی عوام کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر لینے چاہئے تھے لیکن آج تیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد وہ امریکہ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے ۔اِن تیس سالوں میں چین نے امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت کرنے کے علاوہ کئی دوسرے معاہدے بھی کئے، نتیجتاً اُسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔اب جبکہ امریکہ کے پاس ایک انتہائی ٹھوس موقف ہے کہ وہ تائیوان ریلیشن ایکٹTRAکی پاسداری کر رہا ہے تو چین کو امریکہ کی بجائے تائیوان کے حکام پر زور دینا چاہئے کہ وہ چین کے مطالبہ پر غور کریں اور خطے میں قیامِ امن کی خاطر چین کے اشتراک سے ہانگ کانگ کی طرز پر ایک نیا سیٹ اَپ قائم کرلیں تاکہ چین اورتائیوان کا دیرینہ اختلاف خاتمے کو پہنچے اور کسی تیسری طاقت کے پاس خطے میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہ ہو ۔تائیوان کے صدر کو بھی یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ چین دنیا کی واحد سپر پاور بننے کی دوڑ میں شامل ہے اور اگر وہ اِس دوڑ میں کامیاب ہوتا ہے تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ ایشیائی ملکوں کو ہوگااِس لئے چین اور تائیوان کے حکام کو چاہئے کہ وہ فی الفورمذاکراتی عمل شروع کریں تاکہ خطہ ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے پاک ہو سکے۔

 محمد اکرم خان فریدی(کالم نگار)

36۔ مجاہد نگر،شیخوپورہ سٹی،پاکستان

فون نمبر 0302 4500098

Email: akramkhanfaridi@gmail.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ملکی حالات تشویشناک،مگر پاکستانی پولیس خوش…!

Jhakملکی حالات تشویشناک،مگر پاکستانی پولیس خوش…!

ہر ملک میں جرم روکنے اور عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس نصب کی جاتی ہیں۔پولیس کا کام اپنے علاقہ میں ہونے والی غیر قانونی حرکات کو روکنا ، مجرموں کو پکڑنا اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوتا ہے۔تاکہ مجرم کو جرم کی سزا دِلائی جائے اور وہ آئندہ جرم سے پرہیز کرے۔ملکی حالات کے پیش نظر بڑے شہروں میں جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگائے جاتے ہیں۔عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے یہ ضروری بھی ہے کہ ان علاقوں میں مجرمانہ سرگرمیوں کی ذد میں آنے سے بچنے کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کیا جائے،لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکار گاڑیوں کے چیکنگ کرنے کے علاوہ غیر متعلقہ سوالات بھی کرتے ہیں۔اکثر وبیشتر ان کی بحث کا دائرہ کارکچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے۔اصل لائسنس کو بھی جعلی قرار دیتے ہوئے کُچھ پیسوں کا مطالبہ کر تے ہیں۔حالانکہ لائسنس چیک کرنا اور اس کی معیاد کے ختم ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ٹریفک پولیس سے ہے لیکن چیکنگ کے وقت وہ ہر اُس معاملے میں مداخلت کرنا شروع کر دیتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔اگر کسی شہری کو ایمرجنسی نوعیت کا معاملہ درپیش ہوتو وہ پولیس کی چیکنگ اور اس حوالے سے ان کے غیر متعلقہ سوالات سے پریشان دیکھائی دیتا ہے۔پولیس اہلکاروں کا سامنا اکثر موٹر سائیکل سواروں سے ہوتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پولیس اہلکار موٹرسائیکل کے کاغذات اور لائسنس دیکھائے جانے کو ناکافی سمجھتے ہوئے تلاشی لیتے ہیں، تلاشی سے بھی بات نہ بنے تو موٹر سائیکل کی لائیٹیں اور اِشارے تک جلا کر دیکھانے کو کہتے ہیں، اشارہ یا لائٹ خراب ہو نے پر جرمانہ وصول کرتے ہیں ہیں جس کی کوئی رسید نہیں ہوتی،پولیس والے لائیٹوں اور اِشاروں کے چلنے یا نہ چلنے کے بارہ میں ایسے پوچھتے ہیں جیسے پولیس اہلکار نہیں بلکہ موٹر سائیکل کے الیکٹریشن ہوں ۔آخر کار کسی نہ کسی بھانے چانے پانی کا خرچہ وصول کر ہی لیتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس صرف اور صرف اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرے ،اس طرح شہریوں کو تکلیف بھی نہیں ہوگی اور وہ اپنے کام یعنی مجرموں کو پکڑنے پر بھی بھرپور توجہ دے سکیں گے۔

پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ اُن کیلئے بڑی خوشخبری سے کم نہیں مگر جو مزاح اُنہیں چھین کر کھانے میں آتا ہے وہ شاید تنخوا ہ میں نہیں اس وجہ سے تنخواہوں میں اضافے کے باوجود عام شہروں کی جیبوں سے نکلوانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔لہٰذا اچھی تنخواہوں کے ساتھ چھینا جھپٹی جاری رہتی ہے۔مگر حیرت اس بات کی ہے کہ اُن کے گھروں میں پھر بھی پوری نہیں پڑتی۔اس کے علاوہ پاکستانی پولیس تشدد کے معاملے میں بھی پوری دنیا میں ایک پہچان رکھتی ہے۔اس بارہ میں تو ایک مشہور لطیفہ کُچھ اس طرح ہے،ایک ملک کے بادشاہ کا پالتو ہرن جنگل میں گُم گیا بہت تلاش کیا مگر نہیں مِلا آخر کار بادشاہ نے امریکی پولیس سے گزارش کی کہ وہ جنگل سے پالتو ہرن ڈونڈ دیں، کافی دن تلاش کتنے کے بعد جب امریکی پولیس بھی ڈھونڈنے میں ناکام رہی تو بادشاہ نے جاپان کی پولیس سے گزارش کی اور جب جاپان کی پولیس بھی بادشاہ کا ہرن نہ ڈھونڈ سکی تو بادشاہ کو ایک شخص نے مشورہ دیا کہ آپ پاکستانی پولیس سے گذارش کریں وہ اس معاملہ میں ضرور کامیاب ہوں گے۔بادشاہ نے پاکستانی پولیس سے گذارش کی اور پاکستانی پولیس کے جنگل میں داخل ہونے کے 1گھنٹہ بعد ہی بادشاہ کو خوشخبری دی گئی کہ ہرن مِل گیا۔بادشاہ بہت خوش ہوا اور جب ہرن دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بادشاہ کے سامنے ایک صحت مند ہاتھی لایا گیاجو بادشاہ سے عرض کر رہا تھا”جناب مجھے اور مت ماریں میں ہی آپکا ہرن ہوں“…!

پاکستان کے حالات تشویشناک ہونے سے پاکستانی پولیس میں سے اکثراہلکاروں کو دُکھ نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہوتی ہے کیونکہ اُنہیں ناکوں پر کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ عام شہرویوں کی موٹر سائیکلوں،گاڑیوں چیکنگ کے ذریعے یا کسی بہانے سے پیسے بٹورنے کا موقع مِلتار ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چیکنگ وقت کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے،لیکن اس عمل کو پولیس ڈیپارٹمنٹ لوگوں کے تحفظ کے لئے استعمال کرے نہ کہ انہیں پریشان کرنے کیلئے،پولیس کا اولین فرض ہے کہ وہ وعوام کو تحفظ دے کر ان میں اعتماد پیدا کرے۔ہم تو متعلقہ محکمے سے عرض ہی کر سکتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں ایسا نظام وضع کریں جو مجرموں کی گرفت کی جانب تو پیش رفت ضرور ثابت ہو لیکن عوامی پریشانی کا باعث نہ بنے۔

اظہارِ بے شرمی کا دن

Jhakاظہارِ بے شرمی کا دن

دنیامیں روز بروز نئے سے نئے دن منائے جاتے ہیں جیسے بچوں کا عالمی دن،والدین کا عالمی دن،امن کا عالمی دن وغیرہ وغیرہ مگر 14فروری کو دنیا میں اظہار بے شرمی کا دن بھی منایا جاتا ہے یعنی ویلنٹائین ڈے۔اظہارِ بے شرمی صرف مسلمانوں کے لئے کیونکہ باقی مذاہب میں لڑکوں کا لڑکیوں سے مِلنا یا لڑکیوں کا لڑکوں سے مِلنا گُناہ نہیں مگر دین اسلام اس حرکت کو بڑا گُناہ قرار دیتا ہے۔مگر ہمارے ملک پاکستان میں ویلنٹائین ڈے بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے یہ رسم سرا سر ہماری مذہبی رویات کے خلاف ہے مگر ہمارے ملک کی عوام کسی قسم کی مذہبی روایات کو نہ مانتے ہوئے اس وا ہیات رسم کو گوروں کے ساتھ مناتے ہیں اورخصوصاً بڑے شہروں میں رہنے والے امیر زادوں کے والدین اپنے بچوں کو اس رسم کو منانے کے لئے خوب خراچ بھی دیتے ہیں اور خود بھی اس کا حصہ بنتے ہیں۔برصغیر پاک وہند سے انگریز حاکم تو چلے گئے مگر اپنی بد رسومات مسلمانوں اور ہندوں کو سونپ گئے۔اُس کے بعد 1947میں مسلمانوں کو اپنا ملک بھی مل گیا مگر مسلمانوں میں سے انگریزوں اور ہندوں کی بے حیاء رسمیں نہیں گئیں۔انگریزوں اور ہندؤں سے علیحدگی کے باوجود ہم اُن کی رسومات کو نہیں بھُلا پائے۔

ویلنٹائن ڈے کا مطلب اپنے Loverکو تحفہ دینا اور محبت نبھانے کا عہد کرناہے۔ویلنٹائن ڈے پر تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صدیوں پرانی رسم ہے۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ جدید شکل میں ہمارے سامنے ہے۔جب سے کمیونیکیشن نے فاصلے کم کرنے شروع کئے ہیں۔ایک علاقے کے رسم رواج دوسرے علاقوں میں تیزی سے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ٹی وی،ڈش،انٹرنیٹ نے اب گھر کا کوئی فرد ایسا نہیں چھوڑا جو دوسرے خِطوں کے رسم ورواج سے متاثر نہ ہوا ہے۔جیسے انڈیا کی شادیوں کا رواج پاکستانی شادیوں میں بھی نظر آتا ہے۔اب شادیوں میں لڑکیاں بندیا ں بھی لگاتی ہیں اور لڑکے لڑکیاں ڈانس بھی کرتے ہیں۔دلہن سے زیادہ دلہن کی سہلیاں سج دھج کے آتی ہیں۔لڑکے لڑکیوں کے ڈانس مقابلوں کا اہتمام اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح ہم انڈین فلم میں شادی کے مناظر دیکھتے۔موبائل فون نے تانک جھانک اور چوری چھپے پیغامات کے پرانے طریقوں کو ختم کر دیا ہے۔اب موبائل پر محبوب کو پیغام بھیجنا بہت آسان ہوگیا ہے۔کبھی کبھی تو میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر پرانے عاشق یعنی لیلیٰ مجنوں،ہیر رانجھا وغیرہ اگر دوبارہ اس دنیا میں واپس آجائیں تو اپنی محبت کی بازی اتنی آسانی سے جیت لیں کہ فلمسازوں کو تین گھنٹے کی فلم بنانے کا طریقہ ہی نہ آئے۔

اب ہماری فلمیں آزادہیں اور چوری چھپے کے عشق اب ختم ہوچکے ہیں۔اب اکثر فلموں میں سرعام عشق ہوتا ہے ،معشوق کو ملنے کے نئے نئے طریقے سکھائے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کے لئے آسانی ہو،اکثر کہانی تین کرداروں پر گھومتی ہے یعنی ایک عاشق اور دو معشوقائیں یا ایک معشوق اور دو عاشق۔اب تو عرصہ ہوا ایسی فلم بنے جس میں محبت کی لازوال کہانی بیان کی گئی ہو۔ویلنٹائن ڈے بھی عاشقوں کے لئے ایک نعمت ہے مگر عزت دار لوگوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔کیونکہ شریف اور عزت دار لوگوں کے گھروں میں جب نئے نئے عاشق لڑکی کے لئے کارڈ یا پھول بھجتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ اگر کارڈ کا پھول اُس کے والدین تک پہنچے تو وہ کس قدر شرمندہ ہوں گے خواہ اس میں لڑکی کا قصور ہو یا نہیں مگروہ کارڈ یا پھول اُن کے والدین کے لئے تو شرمندگی سے کم نہیں۔ایسے عاشقوں کے لئے ویلنٹائن ڈے ایک قسمت کھلنے کا دن بھی ہے مثلاً آپ کسی سے محبت کرتے ہیں مگر اب تک اظہار کرنے کی جرات نہیں کر پائے تو اپنے محبوب کو صرف پھول یا اگر آپ غریب ہیں تو پھر ایک سستا سا کارڈ بھیج دینے سے دل کی آواز اُس تک پہنچا سکتے ہیں آگے آپ کے محبوب کی مرضی ہے کہ وہ بہت ساری آفروں میں سے کس کی آفر قبول کرے…!

پہلے زمانے میں عشق صرف یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کی وجہ سے پروان چڑھا کرتے تھے یا پھر محلوں میں لڑکیوں کا سکول اور کالج تک پیچھا کر کے محبت کی پینگیں بڑھائی جایا کرتی تھیں۔اب موبائل سے ٹیکسٹ یعنیSMSبھیجئے یا پھر نمبر گھمائیے اور محبت کی کہانی شروع کیجئے۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ویلنٹائن ڈے،بسنت اور ہندوانہ طرز کی شادی کی رسومات تو اپنا لی ہیں مگر یورپ اور ہندوستان کے اچھے اصولوں کو نہیں اپنایا۔کتنا اچھا ہوتا اگر ہم انڈیا کی نقل کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت قائم کرتے اور کبھی فوج کو سِول محکموں میں داخل نہ ہونے دیتے۔جہاں پر چھوٹے بڑے کو ایک ساتھ حاضر ہونا پڑتا ہے۔ہم امریکیوں کی طرح اپنے وطن سے پیار کرتے اور وطن کی مٹی کو ہر چیز سے مقدم سمجھتے ۔امریکی بچوں کی طرح اپنے سکول و کالجز کے اخراجات خود برداشت کرنے کے لئے نوکریاں کرتے۔پولیس،ٹیکس اور دوسرے سرکاری اداروں سے رشوت کا خاتمہ کرتے۔کاش ایسا ہوتا کہ ہم انگریزوں کے ان رسم ورواج جن میں ہمارا ہی نقصان ہے چھوڑ کر اُن کی اچھی عادتیں اپناتے جن کی وجہ سے آج یورپ ترقی یافتہ ہے اور ہم پسماندہ…!