Archive for January, 2010

کھیل سے سیاست تک

 

ہندو پاک رشتے- کھیل سے سیاست تک

 

          ہندو پاک کے امن پسند حضرات نے ابھی ’امن کی آشا‘ شروع ہی کی تھی کہ اس پر امریکہ کی نظر لگ گئی اور امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے دورہٴ ہند و پاک نے تو گویا آگ میں گھی کا کام کیا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب جب امریکہ کا کوئی سرکاری عہدیدار ہندوستان اور پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ کر جاتا ہے جس کی وجہ سے ہندو پاک کے درمیان تو تو میں میں ایک بار پھر شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ اس بار بھی ہوا۔ رابرٹ گیٹس نے ہندوستانی رہنماؤں کو خوش کرنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ اگر پاکستان 26/11 جیسا کوئی واقعہ ایک بار پھر دہراتا ہے تو ہندوستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور وہ پاکستان پر جوابی حملہ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے گا۔ پاکستان کو ایسا لگا کہ امریکہ ہندوستان کو اس بات کے لیے اکسا رہا ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کردے، لہٰذا انھوں نے رابرٹ گیٹس کے اس بیان کا سخت نوٹس لیا اور جب رابرٹ گیٹس پاکستان پہنچے تو انھیں بار بار یہ صفائی دینی پڑی کہ ان کے قول کو میڈیا نے غلط طریقے سے نقل کیا ہے اور ان کے کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ ہندوستان پاکستان پر کوئی حملہ کرے۔ لیکن پاکستان کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا، پاکستانی وزیر اعظم نے رابرٹ گیٹس کے سامنے ہی دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے تو بھلا ہندوستان کو یہ کیسے یقین دلا سکتے ہیں کہ اس پر 26/11 جیسا کوئی دوسرا حملہ نہیں ہوگا۔

          لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ رابرٹ گیٹس کو آخر یہ کہنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ دراصل گذشتہ چند دنوں سے ہندوستان اور پاکستان جس تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کی جانب دوستی کی راہ پر گامزن تھے اور سماجی اور سیاسی سطح پر جس طرح دونوں ممالک کے افراد کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلخی کم ہوتی ہے تو بھلا اس کے جنگی اسلحے کیسے فروخت ہوں گے۔ لہٰذا اس نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر ایک ایسا شگوفہ چھوڑ دیا کہ اب دونوں ملک اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان ایک نئی جنگ کی صورت حال پیدا ہو جائے۔

          اس کی شروعات آئی پی ایل میں پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کی نیلامی نہ ہونے سے ہوئی۔آئی پی ایل کے ذمہ داروں نے جو حرکت کی ہے وہ بھی افسوسناک ہے کیونکہ اس سے نی صرف پہلی دفعہ کھیل کو سیاست سے جوڑ دیا گیا بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی ان دیکھی کر کرے کرکٹ کی تاریخ کو شرمدہ کیا گیا ہے ۔لیکن  یہ بات  بھی سچ ہے کہ ہندوستانی حکومت کا آئی پی ایل جیسے کھیلوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جس کی وضاحت وزارتِ امورِ خارجہ نے کر بھی دی ہے لیکن آئی پی ایل کے ذمہ داران کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ ان کا اس قسم کا فیصلہ ہندو پاک کے موجودہ نرم ہوتے رشتوں پر بجلی بن کر گرے گا۔ اور ہوا بھی یہی۔ پاکستان نے پہلے تو اپنے ممبران پارلیمنٹ کو ہندوستان کا دورہ کرنے سے منع کردیا، اس کے بعد اس نے اپنے سابق چیف الیکشن کمشنر کو ہندوستانی الیکشن کمیشن کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب میں شریک ہونے سے روک دیا۔ ماضی میں ہمیشہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہندو پاک کے درمیان جب جب کشیدگی پیدا ہوئی ہے، کرکٹ کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کے ذریعے اس کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اب یہی کھیل کشیدگی کو دور کرنے کی بجائے مزید کشیدگی پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

          دوسری اہم بات جسے حکومت ہندو پاک کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ امریکہ پر بالکل انحصار نہ کیا جائے۔ ہندوستانی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو ممبئی دہشت گردانہ حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا جو لشکر طیبہ جیسی ہند مخالف دہشت گرد تنظیم میں شامل تھا اور جسے ممبئی حملوں کی سازش کا پہلے سے سارا علم تھا جو ظاہر ہے کہ اس نے امریکہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔ امریکہ اگر ہندوستان کا ہمدرد ہوتا تو یہ تمام جانکاریاں ہندوستان کو فراہم کرکے اس حملے کو روکنے میں اور بے گناہوں کا قتل عام ہونے سے بچا سکتا تھا، لیکن اس نے ہندوستان کو صرف اتنا بتایا تھا کہ بعض پاکستانی دہشت گرد تنظیمیں سمندری راستے سے ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ اس نے ہندوستان کو اس کی مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی اور بالآخر سیکڑوں لوگوں کا خون ممبئی میں دہشت گردوں نے بہایا۔ اب امریکہ ہیڈلی کو تو گرفتار کر چکا ہے لیکن اس نے ہندوستان کے تفتیشی اہل کاروں کو اس سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت دینے سے صاف منع کر دیا ہے۔ اسے ہم آخر کیا کہیں گے؟ یہی نہ کہ امریکہ کو ہندوستان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ وہ ہندوستان کو صرف اور صرف اپنے جنگی اسلحوں کا ایک بڑا خریدار تصور کرتا ہے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

          دوسری جانب پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ امریکہ کی ایسی کسی بھی بات میں نہ آئے جس سے اس کے سب سے بڑے پڑوسی ہندوستان کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں۔ لیکن ساتھ ہی ہندوستان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو یہ گارنٹی تو ضرور دینی ہوگی کہ اس کی سرزمین پر ایسی کوئی بھی دہشت گرد تنظیم پنپنے نہ پائے جو ہندوستان یا پاکستان کے بے گناہ افراد کے خون کی پیاسی ہو۔ طالبان جیسی شدت پسند تنظیم کا اگر آج کوئی وجود ہے تو وہ امریکہ اور پاکستان کی دوستی کا ہی نتیجہ ہے جسے دونوں نے مل کر ماضی میں خوب پروان چڑھایا اور ان جنگجوؤں کا استعمال ماضی میں افغانستان میں بر سر پیکار روسی افواج کے خلاف کیا، لیکن سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ نے بڑی چالاکی سے ان جنگجوؤں سے کنارہ کشی اختیار کرلی جو بعد میں خود پاکستان کے لیے دردِ سر بن گئے اور آج وہ خود پاکستانی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں لگے ہوئے ہیں۔ امریکہ کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن پاکستان آج تباہی کے دہانے پر ضرور کھڑا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی ان شدت پسندوں کے خلاف چلائی جارہی فوجی مہم کامیاب ہو تاکہ ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے عوام امن و چین کی زندگی گزار سکیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ سے جتنی زیادہ دوری اختیار کی جاسکتی ہے وہ کی جائے۔ اسی میں اس خطے کے عوام کا امن و سکون پوشیدہ ہے۔ ورنہ امریکہ اپنے ہتھیار سپلائی کرتا رہے گا اور ہم یوں ہی ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں گے۔

###

 

پاکستان پر امریکی شکنجے کی نئی کوشش

پاکستان پر امریکی شکنجے کی نئی کوشش

          دو روز قبل  امریکی سینیٹرز کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا ۔ اس دورے کا مقصد بظاہر تو یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان  تعلقات کو مزید بہتر بنا یا جائے اور ڈرون حملے سبب پاکستان کی عوام کی بے چینی اور سیاسی انتشار کو کم کیا جائے ۔لیکن اس دورے میں وہ نہیں ہوا جو پاکستان کی موجودہ حکومت چاہتی تھی یا وہ بھی نہیں ہوا جس کے سبب سیاسی پارٹیوں میں اختلافات موجود تھے ۔ البتہ اس دورے میں جو بات نکل کر سامنے آئی وہ یہ تھی ہزار اختلافات کے باوجود  امریکہ نے وہی کیا اور وہی کہا جو اس کا منشا ہے ۔ اس دورے میں جو چونکانے والی بات تھی  وہ یہ کہ امریکہ نے پاکستان کےوزیر اعظم اور صدر کی بات سننے کے بعد بعداپنی موجودہ پالیسی میں کوئی نرمی دکھانے کےبجائے صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا اور ان کے کسی مطالبے کا بھی ان کی پریس کانفرنس میں ذکر نہیں آیا۔جبکہ پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ پاکستان ڈرون حملوں سے متاثر ہو رہا ہے، حملے بند کر کے ٹیکنالوجی پاکستان کو فراہم کی جائے۔انھوں نے یہ مطالبہ پاکستان کے دورے پر آئے سینیٹرز کے سامنے رکھا۔ملاقات میں خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس موقع وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرون حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان پایا جانے والا اتفاق رائے متاثر ہو رہا ہے۔ اس لئے فوری طور پر ڈرون حملے بند کئے جائیں اور پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا پینتیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ملک ہے۔ اس لئے اتحادی ممالک پاکستان کی مدد کریں۔ اس کے علاوہ صدر آصف زرداری نے بھی سیاسی دباؤ اور عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے کئی بار یہ کہا تھا کہ ڈرون حملے کے سبب جو بے قصور افراد مارے جارہے ہیں اس لیے کوئی منصوبہ طے کیا جائے گا اور ڈرون حملوں کا پاکستانی عوام کے لیے قہر نہیں بننے دیا جائے گا۔ لیکن یہ تمام بیانات محض بیانات ہی بن کر رہ گئے ۔ شاید حالات کی نزاکت کو امریکہ نے بھانپ لیا تھا اسی لیے ایک وفد روانہ کر کے اپنے اثر ورسوخ کو پاکستان پر مزید باور کرانے میں کامیاب بھی ہوا۔ پریس کانفرنس میں جو بات کہی  اسے ملاحظہ فرمائیں۔ تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ کس طرح پاکستان امریکہ کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ہے ۔’’امریکی ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں یا امریکی سفارت کاروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے ۔ ڈرون حملے ان چند ہتھیاروں میں سے ایک ہیں جنہیں دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا جانا چاہئے‘ مشکل اقتصادی حالات کے باوجود امریکہ نے پاکستان کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ امداد کی منظوری دی‘ کیری لوگر بل میں شرائط امریکی سینیٹ کمیٹی کے اطمینان کے لئے رکھی گئی ہیں۔ایسی ہی بعض شرائط امریکی فوج کے لئے بھی ہیں‘پاکستان اور افغانستان میں سرگرم طالبان کے درمیان کوئی فرق نہیں یہ امریکی ‘ پاکستانی اور افغان عوام کے لئے خطرہ ہیں دہشت گردوں کے حملوں سے امریکی شہریوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے ‘دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے ان کا پیچھا کریں گے‘پاکستان اور امریکہ کو انتہا پسند قوتوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہئے‘ پاکستان میں کامیابی حاصل ہونے تک افغانستان میں کامیابی ممکن نہیں۔’’ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دورے پر آئے امریکی ارکان سینٹ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ امریکی  سینیٹر جان مکین نے مزید یہ کہاکہ ‘‘پاکستان اور امریکہ کے درمیان تمام معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہے کیونکہ دوست تمام معاملات پر متفق نہیں رہا کرتے۔ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں کا معاملہ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کے دوران بھی زیرغور آیا ہے۔ اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے تاہم انہوں نے کہاکہ ہمارے حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملے ان چند ہتھیاروں میں سے ایک ہیں جنہیں دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں کے حوالہ سے مختلف آراء موجود ہیں لیکن اس حقیقی خطرے کو سمجھنا ضروری ہے جو پاکستان کی حکومت عوام‘ افغانستان اور امریکہ کو لاحق ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کا پیچھا کیاجائے۔ ’’ سینیٹر جان مکین نے کہاکہ یہ معاملہ پاکستانی قیادت کے ساتھ زیرغور لایا جائے گا اور اس حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بے گناہ شخص زخمی بھی نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں سے متعلق فیصلہ کئے جانے کے حوالے سے بہت زیادہ پیشرفت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں پر اختلاف رائے کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے وہ پوری کوشش کریں گے کہ پاکستان‘ امریکہ‘ افغانستان اور دیگر ممالک کی آزاد حیثیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ شراکت داری کے عمل میں کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اجازت ملنے پر افغانستان جا کر امریکیوں کو قتل کریں گے اور وہاں کی حکومت کو تباہ کردیں گے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کو امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لئے بیس کے طور پر استعمال کیاجا رہا ہے۔

          پاکستان کی جمہوری حکومت اور امریکہ کے درمیان جس طرح کے تعلقات حالیہ دنوں میں قائم ہیں ماضی میں نہیں رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے امریکہ اتنا سنجیدہ پہلے کبھی نہیں رہا جتنا آج ہے۔ امریکی ارکان سینیٹ نے کہاکہ امریکی عوام پاکستانی حکومت اور عوام سے قریبی تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ اقدار‘ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر قائم ہیں۔۔ پریس کانفرنس کے دوران امریکی ارکان سینیٹ نے کہاکہ امریکہ اور پاکستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں اور ہم دونوں کو ساتھ کھڑے ہونا چاہئے اور مل کر انتہا پسند قوتوں پر غلبہ حاصل کرناچاہئے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے۔ امریکی سینیٹرز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ وہ پاکستانی فوج کے عمدہ اقدامات پر شکرگزار ہیں۔

          اس تفصیل کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ امریکی وفد کے ارکان نے پاکستان کی شکایت سننے کے بجائے خود ان پر اپنے شرائط کو لادنے کی کوشش کی ۔ہر اعتبار سے پاکستان پر یہ بوار کر ادیا کہ پاکستان نہ صرف خطے کے لیے خطرہ بنا ہوا بلکہ امریکہ کے ساتھ پوری دنیا کے لیے و ہ خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ اس لیے وہ تمام کاروائی ہوگی جو امریکہ مناسب سمجھتا ہے ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ عراق کے وقت بھی امریکہ نے یہی بات دنیا پر واضح کرنے میں کامیاب ہوا تھا کہ عراق دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اب وہی خطر ے کے بادل پاکستا ن پر بھی منڈالانے لگا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

امن کی آشا

بہت دنوں کے بعد ہندو پاک کے عوام میں امید کی  ایک نئی کرن دیکھائی دی ہے ، درا صل اس طرح کی کوششیں بہت دنوں کے بعد میں دیکھنے میں آئی ہیں۔عا م طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے ہند وپاک کے مابین تلخی اور کشیدگی پیدا کرنے میں بڑا رول ادا کیا ہے ۔ اب اس بات میں کتنی صداقت ہے اس پہلو پر ابھی گفتگو نہیں کرو نگا ۔ لیکن اس پر کلی طور پر اعتبار بھی نہیں کرتا کیونکہ کسی ایک یا دو چینل کے کرتوت کے سبب تمام میڈیا کو بدنام کرنا میرے نزدیک دانشمندی نہیں ۔ کیونکہ یہی میڈیا ہے جس نے ان دونوں ممالک کو قریب لانے میں مدد بھی کی ہے ۔ جس کی تازہ ترین مثال ابھی حال ہی میں امن کی آشا کے پروجیکٹ کے تحت پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ جنگ اور جیو نے ہندستان کے میڈیا گروپ ٹائمس آف انڈیا کے اشتراک سے ایک سروے کرایا ہے جس میں سرحد پار کے  دونوں  طرف عوام سے تاثرات جاننے کے بعد اس نتیجے کو اخذ کیا ہے کہ دونوں جانب کی عوام یہ چاہتی ہے کہ دونوں ممالک میں امن بحال ہو اور عوا م کی جانب سے اس میں کبھی بھی کسی طرح کی روکاوٹ نہیں رہی ، البتہ حکمراں طبقے کی جانب سے ہمیشہ ہی مداخلت کی گئی اور کسی نہ کسی طرح کی روکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاکہ یہ تلخیاں برقرا ررہے ۔ اس رپورٹ میں دونوں ممالک کے عوام کی ساٹھ سے زیادہ فیصد لوگ امن کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ ممالک دوست بن کر رہیں ۔

          یہ ایک اچھی بات ہے کہ اس طرح کی کوششوں سے عوامی جذبات کا اظہار تو ہوتا ہے ۔ یہ ایک سروے رپورٹ ہی صحیح مگر اس سے یہ تو اندازہ ہوتاہے کہ بیوروکریسی کی اور کچھ منفی قوتوں کے سبب بار بار ایسی کوشش ہوتی ہے کہ امن کو تباہ برباد کیا جائے او ر خطے میں انتشار کو ہوا دی جائے ۔ اس سے فائد ہ تو چند لوگوں کو  ہوتا ہے مگر اس سے جتنا نقصان ہوتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اس لیے اب اس کی ضرورت ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ بنایا جائےجو ان منفی قوتوں کو بے نقاب کر سکے اور عوام کے سامنے لاکھڑا کیا جائے تاکہ عوام ان کا مواخذہ کرسکے ۔

          اسی طرح کی قابل تحسین کوشش دہلی میں ہوئی جہاں انڈو پا ک پیس کے دوروزہ مذاکرے میں ہندستان اور پاکستان کے دانشوروں کے علاوہ کچھ سیاست دانوں نے بھی شرکت کی ۔اس سے ایک بہتر فضا کی سماں بندی ہوتی ہے ، اس لیے ضروت ہے کہ ا س طرح کی مجلسیں باربا ر او ر مختلف مقامات پر منعقد کی جائیں ۔لیکن اس کے ساتھ اس کی بھی کوشش کی جانی چاہیے کہ اس حوالے سے جو منفی  رائے سامنے آتی ہے اس کو بھی کاؤنٹر کیا جائے ۔امن کی آشا کی رپورٹ کے بعد ہندو پاک میں کئی کالم لکھے گئے ۔بیشتر لوگوں نے اسے سراہا ہے لیکن میں یہاں ایک کالم کے چند اقتباسات پیش کرنا چانا چاہتا ہوں جو دراصل اس طرح کی کوششوں پر ضرب لگانے کی سعی کے مترادف ہیں ۔محمد احمدترازی نے آئن لائن اردو انڑنیشنل میں اپنے کالم میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’گذشتہ دنوں پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والے دو بڑے میڈیا گروپس نے پاکستان اور بھارت میں ”امن کی آشا“ کے عنوان سے سروے کرائے،اس سروے رپورٹ کے مطابق 72 فیصد پاکستانیوں اور 66 فیصد بھارتیوں نے پرامن تعلقات کے حق میں رائے دی، اس سروے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں مردوں،عورتوں،بچوں اور بڑوں سمیت سب کی رائے ایک سی ہے،جبکہ پاکستان میں خواتین کی نسبت مرد امن کے زیادہ حق میں ہیں،قابل غور بات یہ ہے کہ ”امن کی آشا“ پراجیکٹ کے تحت کیے گئے سروے کے دوران 64 فیصد پاکستانیوں کی رائے یہ تھی کہ” ذہن میں بھارت کا نام آتے ہی کشمیر کا خیال آتا ہے“،یوں تو امن کی آشا کا مطلب امن کی خواہش یا امن کی امیدہے،اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ خیال برا نہیں،لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس سروے میں شامل کتنے لوگ ایسے ہیں جن کو اس بات کا علم ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نزاعی معاملات کی اصل اور بنیادی نوعیت کیا ہے؟یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ اس سروے رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے صرف ایک دن پہلے پاکستان سمیت دنیا بھر کے اخبارات میں بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی وہ تقریر بھی شائع ہوئی،جو دہلی میں ایک سیمینار میں کی گئی تھی،اس سیمینار میں جنرل دیپک کپور نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بھارت،پاکستان اور چین کے ساتھ بیک وقت جنگ کرنے بلکہ جیتنے کے امکانات پر کام کر رہا ہے اور اس حوالے سے بنیادی ہوم ورک تیار کرلیا گیا ہے۔لیکن شایدوہ یہ بات بھول رہا ہے کہ جنگیں صرف اسلحے کے زور پر لڑی اور جیتی نہیں جاسکتیں،جنگ جیتنے کیلئے اُس جوش، جذبے اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل طارق مجید نے کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارتی افواج کیا کر سکتی ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ چین کی بات تو چھوڑیں،جنرل دیپک کپور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھارتی مسلح افواج کتنے پانی میں ہے اور ان کی مسلح افواج عسکری اعتبار سے کیا کر سکتی ہے،جنرل طارق مجید کی یہ بات دراصل پوری قوم کی آواز ہے کہ بھارتی چیف کو علم ہے کہ پاک فوج کیا کر سکتی ہے،جنرل طارق مجید کے اس بیان سے ہر کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ پاک فوج دشمن کے مقابلے کے لئے ہر قسم کے اسلحے اور جذبہ ایمانی سے لیس اور ہمہ وقت اپنے ملک و قوم کے دفاع کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے تیار ہے واضح رہے کہ اس سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اوراب جنرل طارق مجیدکا دشمن کیلئے منہ توڑ بیان قوم کے دلوں کی آرزو اور دشمن کیلئے موثر پیغام کا درجہ رکھتا ہے۔در حقیقت بھارت روز اول سے ہی پاکستان کے وجود کے خلاف اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے کوشاں ہے،اب چونکہ بھارت کو اس حوالے سے امریکہ کی مدد اور سرپرستی بھی حاصل ہے،اسی تناظر میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ سول ایٹمی معاہدہ کیا اور افغانستان میں امریکہ نے بھارت کو وہ کردار دیا ہے جس کا کسی بھی طرح کوئی جواز نہیں بنتا تھا،یوں بھارت نے افغانستان کی سرزمین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہر سطح پر سازشوں کا وہ جال بچھادیا ہے کہ آج پورا ملک دہشت گردی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے،بھارت ایک طرف جہاں کشمیر یوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف امریکی آشیرباد سے وہ ہمارے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں حالات خراب کرانے اور پاکستان مخالف جذبات پیدا کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہے،شایداپنی انہی سازشوں کی وجہ سے بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے لئے ترنوالہ ثابت ہوگا۔‘‘ اس طرح کی باتیں کر کے دراصل ان کوششوں کو سبوتاز کرنا ہی کہاجائے گا۔ ابھی لوگ نہ صرف ہندوپاک کی دوستی کی باتیں کر رہے ہیں بلکہ یہ خواب بھی دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل میں یوروپ کی طرح ہم بھی سارک ممالک کی متحدہ انجمن بنائیں گے اور ایک کرنسی ہوگی تاکہ نئی صدی کے چیلنجز کو ہم بھی ایک مضبوط طاقت بن کر مقابلہ کرسکیں ۔ترازی صاحب سے مودبانہ گذارش ہے کہ اس طرح کی باتیں کر کے ان کوششوں کو  ہدف نہ بنائیں بلکہ ہندستان پر الزام رکھنے سے قبل اپنے ملک کی بھی امریکی غلامی کو دیکھیں جس نے نہ صرف پاکستا ن کی حالت خراب کر رکھی ہے بلکہ اس کے دور رس اثرات پورے خطے پر مرتب ہورہے ہیں۔ابھی وقت ہے کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد مثبت فکر کے ساتھ آگے بڑھیں اور دونوں ملک کی بھلائی کے لیے کام کریں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روشن پاکستان ۔۔محمد افضل  خان

ہماری آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جو حیران کن صلاحیتوں اور حوصلہ مندی سے بھرپور ہیں۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہمارا موجودہ معاشرہ ہر طرح سے اتتشار، خوف، بے چارگی، لاوارثی، جہالت اور افراتفری کی گرفت میں ہے۔ دہشت گردی اور لاقانونیت کی بنا پر پوری قوم کا مزاج اور رویہ درشت اور سفاک ہو گیا ہے۔ ہم حال سے خوفزدہ اور مستقبل سے بے گانہ ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی و لوٹ مار کسی بھی بڑی کارروائی کو ہم قسمت کا لکھا سمجھ کر چند روز میں چپ ہو جاتے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں ادھر ادھر منتقل کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملک مجرموں، قانون شکنوں، دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ان مٹھی بھر لوگوں نے 12 کروڑ عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ہمیں ایک گہرے گڑھے کی جانب دھکیل رہے ہیں اور ہم بھی بھیڑ بکریوں و غلاموں کی طرح سر جھکائے اسی جانب رواں دواں ہیں۔
مایوسی یقینا حرام ہے چونکہ مسائل بہت گمبھیر ہیں اس لئے تبدیلی کی کوشش بھی بہت ہنگامی بنیادوں پر کرنی ہو گی۔ اب ہمیں نئے سرے سے سارے معاملات کو دیکھنا ہوگا ہمت اور جرأت کے ساتھ۔
چند مسائل کی نشاندہی اور ان کے ممکنہ حل:۔-1 دہشت گردی کے خلاف جنگ (2) امن و امان کا معاملہ۔ (3) تعلیمی پسماندگی و جہالت۔ (4) فرقہ وارانہ کشیدگی۔ (5) معاشی بد حالی۔
قومی حلف برداری:
ان تمام مسائل پر روشنی ڈالنے سے پیشتر پوری قوم کو ذہنی طور پر آمادہ اور فعال ہونا چاہئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یکجہتی پر توجہ کو مرکوز کرنے کے لئے قومی سطح پر ایک دن صدر مملکت سے لیکرعام آدمی تک اپنے خدا، اپنے ضمیر اور اپنے پیاروں کو گواہ کرتے ہوئے عہد کریں کہ وہ خوف و لالچ سے بلند ہو کر، سیاسی وابستگیوں فرقہ وارانہ کشیدگیوں سے بلند ہو کر ، علاقائیت وصوبائیت سے بلند ہو کر نیک نیتی سے ہر جگہ ہر موقع پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ معاشرے کی تمام کالی بھیڑوں کا بائیکاٹ کریں گے چاہے وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں اور قانون کی پاسداری کریں گے۔
-1 دہشت گردی کے خلاف جنگ:۔ پرانی ذہنی ساخت اور خوف سے باہر نکل کر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری موجودہ بربادی کی بڑی وجہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے منسلک ہونا ہے ہم نے اپنی سرحدوں کے قریب امریکہ کو جنگ شروع کرنے میں مدد دی اس جنگ کا تمام تر ساز و سامان، اسلحہ بارود ہماری بندرگاہوں سے، ہماری فضائی حدود سے، ہماری سڑکوں سے ہوتا ہوا افغانستان پہنچتا ہے ۔ اپنی سر زمین کی آزادی و خود مختاری کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ڈرون حملوں کا تمام تر ریکارڈ اقوام متحدہ و عالمی عدالت انصاف میں لیکر جانا چاہئے اور ان سے تمام حملوں کا ہر جانہ طلب کرنا چاہئے۔ ابھی حال ہی میں عراق کی امریکہ کے زیر سایہ قائم پٹھو حکومت نے بلیک واٹر پر اپنے ملک میں اور امریکی عدالتوں میں مقدمہ دائر کردیا ہے کیا ہم ان سے بھی گئے گزرے ہیں؟ امریکن سفارت خانے کی تمام تر غیر سفارتی مراعات و آزادانہ نقل و حرکت کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ ہندوستان ہمارے جن علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث ہے اس کا اسی طرح شور و غوغا کیا جائے جیسا کہ وہ ممبئی حملوں کے بارے میں اب تک کر رہا ہے ہمارے علاقوں میں ہندوستانی کردار کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں
-2 امن و امان: ہمارے امن و امان قائم کرنے کے ادارے نہایت فرسودہ ہو چکے ہیں پولیس کو زیادہ تر سیاسی مقاصد کے لئے پروٹوکول ڈیوٹی کیلئے یا پھر خود پولیس کے اعلیٰ عہدیداران کی حفاظت کے لئے تعینات کیا جاتا ہے یہ معاشرے سے عوام الناس سے بالکل کٹ چکے ہیں پولیس کو بھی آزاد و خود مختار محکمہ بنایا جائے، سیاسی اثرات و اثر و رسوخ سے پاک کیا جائے اس کی ذمہ داری جرائم کی بیخ کنی اور امن و امان کا قیام ہو ہر علاقے اور ضلع میں وہاں کے مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے پھر ہر علاقے میں امن کمیٹیاں قائم کی جائیں جو پولیس کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہیں اور شہریوں کے ساتھ کوئی بھی ناانصافی نہ ہونے دیں۔
صوبہ سندھ میں رینجرز کو اب ایک مدت گزر گئی ہے اور ہمیں امن و امان میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی صرف سو دو سو آدمی پورے شہر کو مفلوج کر دیتے ہیں اور ہم کھڑے تماشا دیکھتے رہتے ہیں ۔اس کا کردار ہماری دوسری دفاعی لائن کا ہے جو شہروں میں طویل موجودگی کے باعث متاثر ہو چکا ہے مگر موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کو چاہئے کہ جس طرح دانشمندی سے انہوں نے فوج کو سیاست سے دور رکھا مختلف محکموں میں موجود فوجی افسران کو واپس بلوایا اسی طرح رینجرز کی واپسی کا اہتمام کریں اس کی دوبارہ محکمہ جاتی ٹریننگ و کردار پر توجہ دیں ۔
3۔تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے ہمیں پوری قوم کیلئے وسیع پیمانے پر جنگی بنیادوں پر تعلیم کا انتظام کرنا ہوگا اسکولوں کے لئے عمارتوں کا مسئلہ بڑی خوش اسلوبی سے مساجد سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ مساجد عموماً خالی یا چھوٹے موٹے مدرسوں کی صورت استعمال ہوتی ہیں جہاں جدید تعلیم مہیا نہیں کی جاتی تمام ملک کی مساجد کو مدرسوں و اسکولوں کا درجہ دیا جائے سب سے بہتر تو یہ ہے کہ موجودہ مسجد کمیٹیاں اپنے طور پر لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ بنیادی تعلیم کیلئے تعاون کریں اس کے ساتھ ساتھ حکومت ان مساجد کی کارکردگی اور طالب علموں کی تعداد کے لحاظ سے ان کے لئے رقم مختص کرے ہم امن و امان پر سالانہ جو اخراجات کرتے ہیں اس کے آدھے اخراجات اگر ہم تعلیم پراضافی خرچ کریں تو ایک مختصر عرصہ میں ہماری پوری قوم تعلیم یافتہ ہو جائے گی جس سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہو گی ہمیں ٹریفک سگنل پر بھی پولیس کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور لوگ معاشی سرگرمیوں میں بھی زیادہ فعال اور نتیجہ خیز ہو جائیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور ہرصوبہ میں موجود وسیع و عریض گورنر ہاؤس وزارت تعلیم کے حوالے کر دیئے جائیں اور یہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں صدر، وزیراعظم اورگورنر صاحبان اپنے پہلے سے موجود گھروں میں رہیں یا کوئی چھوٹا گھر سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال کریں اس سے اخراجات کی بھی بچت ہو گی۔اب ہمیں ان دکھاوؤں سے نکل کر نئے پاکستان کے لئے تیار ہونا ہے، روشن پاکستان کیلئے۔
-4 فرقہ وارانہ کشیدگی:۔ مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے کسی گروہ فرقے یا مسلک سے وابستہ نہیں یہ بات سمجھنا شاید اب ہمیں دشوار ہو کیونکہ فرقہ واریت ہمارے رگ و پے میں سرائیت کر چکی ہے ۔ہماری مجموعی نفسیات اور مذہبی رویّے کا حصہ بن چکی ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ اور مختلف واقعات کو دین کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا ہے جس سے ہماری صورت مسخ ہو گئی ہے، معاشرے کی تقسیم در تقسیم کا باعث ہو ہمیں اپنے معاشرے میں ہر چند کلو میٹر پر ایک نیا فرقہ نظر آتا ہے اس رجحان کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی اور دین کی صرف ایک تفہیم ہونی چاہئے۔
-5 معاشی بدحالی: ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہرطرح کا عطیہ موجود ہے وسیع و عریض سر زمین، بہترین جغرافیائی محل و وقوع، سمندر، ہر طرح کا موسم، بہترین پھل اور فصلیں، محنت کش عوام اگر کسی چیزکی کمی ہے تو وہ منصوبہ سازی اور ہمارا سیاسی و معاشی ڈھانچہ سودی نظام کی وجہ سے ہم ہر سال تقریباً 8 فیصد اپنے روپے کی قوت خرید کھو دیتے ہیں جس سے مہنگائی اوسطاً 8 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ جاتی ہے ہمارے یہاںآ ٹے چینی کیلئے لمبی لمبی قطاریں کسی قحط زدہ ملک کا منظر پیش کرتی ہیں غربت ایک بڑی بیماری ہے جو ہم پر جہالت اور تنگ نظری کی وجہ سے مسلط ہے ہمارے ارد گرد ہر طرح کے مواقع بکھرے ہوئے ہیں ہمیں ان سے فوائد حاصل کرنے کے لئے روایتی طرز فکر سے نکل کر جارحانہ منصوبہ سازی کرنی ہو گی ملک پر سے قرضوں کا بوجھ اتارنا ہوگا اور سرکاری اخراجات کم سے کم کرنا ہوں گے ۔ ہماری صنعتیں بجلی کی کمی اور آزادانہ درآمدی پالیسی کی وجہ سے کسمپرسی کی حالت میں ہیں زیادہ تر صنعتیں خاندانی ملکیتیں ہیں اور بڑے انڈسٹریل کمپلیکسز میں تبدیل نہیں ہو سکیں جس میں عوام کی شرکت سے روزا فزوں ترقی ممکن ہے۔ بہر حال ہمیں اپنا مجموعی جائزہ لیکر ایک بھرپور لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

HOT AIR ON ‘COLD START’

HOT AIR ON ‘COLD START’

By SUSHANT SAREEN

Going by the over-the-top reaction, almost veering on the hysterical, in Pakistan to the statement of the Indian Army chief, Gen. Deepak Kapoor, who talked of possibility of a limited war under a nuclear overhang and of reworking the war doctrine to meet the challenges of a two-front war with China and Pakistan, the impression that one gets is that the Pakistan army has been somewhat rattled by the words of the Indian military chief. At one level, the Pakistanis have been quick to latch on to Gen Kapoor’s remarks and impress upon the international community of the threat that Pakistan faces from India. The India bogey is useful not only to ward off growing pressure to commit more troops in the fight against the Taliban, but also in putting international diplomatic pressure on India to make concessions to Pakistan. But at another level, there appears to be genuine concern and worry in Pakistan over the possibility of India actually executing its war doctrine at some point of time in the future in response to an unbearable and intolerable terrorist strike. The concept of limited war under a nuclear overhang has been on the table for nearly a decade now. It was first aired by the then chief of the Indian Army, Gen. VP Malik, who was, ironically enough, put wise to such a possibility by the Pakistan Army, which had launched precisely such an operation in Kargil in 1999. More than anyone else, the Pakistani generals know that Gen. Kapoor was not exactly being “outlandish in strategic postulations” (to quote the Pakistan army’s Chairman Joint Chiefs of Staff Committee, Gen. Tariq Majeed). That the top brass of the Pakistan army take the possibility of limited war and the ‘cold start’ strategy seriously was made amply clear after the 26/11 terror strike in Mumbai. At that time, the Pakistan army went into a state of high alert and half-expected some sort of punitive action on part of the Indian armed forces. The fact that no military action was taken after 26/11 was not because the Indian Army was not in a position to take such an action, but because the political clearance for such a cross-border military action was not given. Given that the Pakistan army keeps a hawk-eye on its Indian counterpart, it would be quite well aware of what the Indian army can and cannot do. The Pakistani side knows well that over the years, especially after the experience of the full mobilisation of the Indian army along the borders with Pakistan after the attack on the Indian Parliament in December 2001 when the Indian army took nearly a month to put in place its strike formations, the Indians have been working on being battle ready to launch in the shortest possible time. This is where the ‘Cold Start’ doctrine come in, a doctrine which the Indian army has been practising and fine-tuning in military exercises for quite some time now. To be sure, the Indians know that Pakistan army is not going to roll over and play dead to any Indian military manoeuvre against it. But the measures taken by the Pakistan army to counter any ‘cold start’ by the Indian army would already have been taken into account and catered for in the battle plans of the Indians. As of now, the Pakistan army has kept in place its security matrix on the eastern front with India. But what must be causing concern to the Pakistan army is the possibility of an expansion in operations on its western borderlands. This could force the Pakistan army to redeploy forces from the eastern front to the western front thereby creating gaps which they fear might be exploited by India. To the extent that the cold start doctrine reduces the time-lag for launching a military operation, it raises the spectre of the two armies being on a hair-trigger alert, which becomes even more dangerous against the backdrop of an ever present threat of a spectacular terrorist strike that could break the dam of tolerance. If it were left only to the Indian armed forces, they would have probably hit out at Pakistan long time back. But the Indian army cannot make any move without the nod of the government, which following Georges Clemenceau’s dictum of ‘war is too serious a business to be left to generals alone’, prefers a shouting match over a shooting match. The Indian politicians are wise enough and don’t really need Gen Ashfaq Kayani to tell them of the “unintended and uncontrollable consequences” of a military action against Pakistan. After all, it is one thing to war-game under controlled conditions and quite another to prosecute war, albeit ‘limited’, on another country. By definition, a ‘limited war’ initiated through ‘cold start’ has shallow objectives. Such a war is more in the nature of a punitive expedition which involves nothing more than a short but fierce border war. The problem, therefore, is not that such a war will immediately lead to a nuclear exchange. Unless the Pakistan army has either internalised or been inspired by the mindset of a suicide bomber, a nuclear exchange in response to a border war can be safely ruled out. After all, if the Pakistanis are going to launch nuclear weapons in response to a border war or skirmish, then perhaps it would save Pakistan a lot of money if the conventional army was to be disbanded! The problem with ‘limited war’ and ‘cold start’ really is that there is no certainty whether such an expedition will compel the Pakistanis to stop the export of jihadist terror to India. More importantly, there is always the danger of such an action putting the two countries on an escalation ladder which ultimately leads to a full-fledged war between them. The abundant caution displayed by the Indian political leadership as far as launching any limited war on Pakistan is concerned is therefore the result of it not being entirely convinced whether this strategy will achieve any major objective, except perhaps giving the Pakistanis a bloody nose. Only, bleeding noses don’t necessarily knock good sense in the heads of an adversary and could in fact lead to even greater deviant behaviour. At the same time, it must be said that although the Indian political leadership has displayed enormous restraint in retaliating to jihadist terrorism, there could come a time when the provocation is of a level that government throws all caution to the winds and gives the go-ahead to the Indian army. For the moment, however, the only war that the two sides are likely to indulge in is a war of words, which in the current case has ended in a stalemate. But in order to prevent the war of words from ever becoming a war on ground, it is important that Pakistan follow through on its commitments to not let its territory to be used for planning or exporting terrorist attacks on India. If Pakistan actually delivers on its international commitments, and Pakistani state agencies stop supporting and sponsoring and using terror groups as an instrument of state policy, then the ‘cold start’ doctrine will be consigned to the cold storage. Else, all bets are off the next time a terror strike in India has a Pakistani fingerprint on it. ********************************************************************* <1225 Words> 10th January, 2010 ********************************************************************