Archive for November, 2009

بے بنیاد الزام تراشی

بے بنیاد الزام تراشی

 

بے بنیاد الزام تراشی

ہندستان کے خلاف مسلسل الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھتےہوئے پاکستانی وزیر دفاع رحمان ملک نے پھر الزام لگایاہے کہ ہندستانی اسلحوں سے بھرے ہوئےچار ٹرک وزیرستان میں پکڑے گئےہیں ۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مخالف عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندستان پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔اس طرح کی الزام تراشی کا یہ پہلا موقع نہیں ہے مگر یہ ہمیشہ بے بنیاد ثات ہوئے ہیں۔ اس طرح کے نا مناسب الزامات کی تردید پاک سکیورٹی کے ترجمان اور میڈیا نے خود ہی کردیا ہے۔روزنامہ ڈان نے ایک سکیورٹی افسر کے حوالہ سے بتایا ہے کہ پکڑے گئے چاروں ٹرک غیر قانونی دھماکا خیز مواد لے جارہے تھے۔ اور وہ ایسے پرائیویٹ ڈیلروں کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں جو ان دھما کہ خیز اشیا کی تجارت میں ملوث ہیں۔

 ایک دوسری رپورٹ میں وزارت صنعت میں دھماکہ خیز اشیا کے شعبہ میں چیف انسپکٹر ہارون رحمان نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ ڈیرا غازی خان میں بھا ری مقدار میں دھماکا خیز اشیا بنانے والی ایک فیکٹری جس کالاٰٰیسنس پہلے معطل کردیا گیا تھا اسی کمپنی کی دھماکہ خیز اشیا کی رسد حال میں پکڑی گئ تھی۔ لیٰکن بیافو کمپنی جس کے ٹرک ضبط کیے گئے تھے اس کے ترجمان  کا کہنا ہےکہ انہیں وزارت صنعت، تجارت اوردفاعی پیداوار کی طرف سے  بلوچستان میں ساٰینداک کانکنی کے پروجکٹ کی لیے دھماکا خیز مواد کی سپلائی کی اجازت حاصل ہے۔ پکڑے گئے ٹرک جو 58500 کلوگرام دھماکا خیز مواد سے بھرے ہوئےتھے  وہ شمال مغربی سرحدی صوبہ میں ہری پور سےپنجاب ہوتے ہوئے بلوچستان میں ساٰینداک جا رہے تھے۔ ساٰینداک کی پیتل اور سونے کی کان جس پر ایک چینی حکومت کی ملکیت والی ایک کمپنی اکتوبر۲۰۰۲سےکام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیوں کے ذریعہ چلانے جانے والے دوسرے منصوبوں میں بلوچستان کے اندر دودار کی سیسے  کی کان اور سوندا جھرک کویلہ کی کان اور صوبہ سندھ میں بجلی پروجکٹ ہیں۔ افسران اس بات کا پتا لگا رہے ہیں کہ پیدا کار دھماکہ مواد کی پوری پیدوار کی خبر دے رہے ہیں یا ٹیکس اور دوسرے سرکاری تقاضوں سے بچنے کے لٰے کم مقدار کی رپورٹ کر رہے ہیں۔  اسی دوران صوبہ سرحد کےایک سینیر وزیر بشیر احمد بلور کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کانوں کو دھماکا خیز اشیا کی  سپلائی بند کرنے کو سوچ رہی ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ دہشت گردوں  کےہاتھ میں پڑ جاتے ہیں۔

            وزیر داخلہ اور دوسرے سینيرسیاسی لیڈران برابر اس طرح کے وحشیانہ الزامات لگا رہے ہیں کہ ہندستان پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ مگر اب تک کوئ بہی الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی میڈیا کو کوئی ثبوت پیش کیاگیا۔   بہت سارے الزامات تو خود انہیں کے سکیورٹی افسران نے مسترد کردیےاور معتبر اخبارات نے انہیں جہوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ محض  نیشن اور نواٰے وقت اردو جیسے اخبارات جن پر سرکاری ایجنسیوں اور اسلام پسند گروپوں کا قبضہ ہے ان کا مقصد ہی ہندستان کے خلاف اس قسم کے الزامات کا پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ ڈان اور جیو کی مذکورہ بالا رپورٹ سے وزیر داخلہ کی کذب بیانی ظاہر ہو جاتی ہے۔

            نہیں معلوم پاکستانی  سیاسی لیڈران اور فوج کو بلا وجہ ہندستان پر الزام تراشی سے کیا ملتا ہے جب کہ ہندستان میں اسلام آباد کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا بار بار ثابت ہو چکا ہے۔ کیا وہ اپنے ناکارہ پن اور دہشت گرد تنظیموں پر عدم کنٹرول کو ہندستان پر الزام تراشی کر کے چھپانا چاہتے ہیں؟ یا پاکستان کا سدا بہار دوست چین پاکستانی اداروں کو اس سطح پر لے جانا چاھتا ہے جو ان کے سماج کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔

یہ بات پورے طور پر معلوم ہے کہ لال مسجد پر حملہ کرنے کے لئے مشرف کو چین نے ہی اکسایا تھا جو مساج پارلر چلانے والی ایک چینی عورت کو چھڑانا چاہتا تھا۔ اور دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک بہی چین کے ذریعہ کان کنی کئے جانے والی کانوں تک جا رہے تہے۔ تب پھر وزیر داخلہ رحمان ملک نے یہ الزام کیوں لگایا کہ ٹرک ہندستانی اوزار لے جا رہے تہے۔ کیاوہ چینیوں کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں جنہوں نے ان کو متنبہ کیا تھا کہ کانوں اور دیگر کمپنیوں میں چینی آجروں کی حفاظت کا وہ مناسب انتظام نہیں کر رہے ہیں۔

   جھوٹ کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے، نئے حقائق انہیں بے نقاب کر دیتے ہیں۔عام لوگ ہر وقت اپنے سیاسی اداروں کے اس طرح کے الزامات کو درست نہیں مان سکتے۔ ایک مرتبہ انہیں ان جہوٹے بیانات کے بارے میں معلوم ہو جائے تو سیاسی لیڈران اور فوج کا اعتبار ختم ہو جائےگا۔ تحفظ فراھم کرنے میں ناکامی پر لوگوں کے غصہ کا کوئی سامنا نہیں کرسکتا۔ جنرل مشرف(ریٹائرڈ) جو ابہی چند ماہ پہلے بھت مضبوط معلوم ہورھا تھا اسے بہی عوامی غصےکے آگے جھکنا پڑا۔دہشت گردی ایسی لعنت ہے جو پاکستان کے استحکام کو کھائے جارہی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں جنہیں فوج اور دوسرے سرکاری اداروں نے پروان چڑھایا تھا اب ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئی ہیں اور خود انہیں پر حملہ کررہی  ہیں۔  ہندستان اور پاکستان کی موجودہ رقابت سے قطع نظر ایک مضبوط ہندستان اور پاکستان کے مفاد میں برصغیر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کا تعاون کرسکتے ہیں۔

جوہری تنصیبات

جوہری تنصیبات

 

ڈاکٹر قمر تبریز

پاکستانی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات

پاکستانی میڈیا میں آج کل ملک کی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات سے متعلق ایک امریکی صحافی کی تازہ ترین رپورٹ اور اس کے ذریعے کیی گئے سنسنی خیز خلاصے کو لے کر زور شور سے بحث چل رہی ہے۔ اس امریکی صحافی کا نام ہے سیمور ہرش جو اپنے کالم کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور جس نے گوانتا نامو جیل میں امریکی فوجیوں کے ذریعے کیی جانے والے مظالم کا پردہ فاش کرنے کے بعد عالمی سطح پر کافی شہرت حاصل کی تھی۔ امریکہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ’نیویارکر‘ میں چھپی اپنی اس تازہ رپورٹ میں ہرش نے پاکستان کے ایٹمی اسلحہ کے تحفظ، اس کے حوالے سے امریکی پالیسی، پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے اس موضوع پر بات چیت اور صدر زرداری کے بارے میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے توہین آمیز کلمات کا ذکر کیا ہے۔ کالم نگار نے پاک فوج میں بغاوت اور کسی بھی دیگر بحران کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے امریکی یونٹوں کی پاکستان آمد کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کا بھی ’’انکشاف‘‘ کیا ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے ان صورتوں کی تردید کی گئی ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر اخبارات یہ تاثر دینے میں لگے ہوئے ہیں کہ ہرش نے یہ رپورٹ ہندوستان، امریکہ اور اسرائیل کی پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک منظم سازش کے تحت شائع کی ہے۔ پاکستانی میڈیا کا ماننا ہے کہ چونکہ امریکہ کو افغانستان میں اپنی دہشت گردی مخالف جنگ میں شکست کا سامنا ہے اور اس کے لیی اسے پاکستانی فوج کی مزید مدد درکار ہے، لہٰذا اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوستان کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ تیار کیا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستانی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات کا پروپیگنڈہ کیا جائے کہ دہشت گرد ان جوہری اسلحوں کو حاصل کرکے پوری دنیا میں بھاری تباہی مچا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں پاکستان پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے یہ دبائو بڑھے گا کہ وہ اپنے جوہری اسلحوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ کسی بھی طرح دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگنے پائیں۔ ایسے میں امریکہ ان جوہری اسلحوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق اپنی امداد دینے کو پوری طرح تیار ہو جائے گا۔ لیکن اس کا اصل مقصد ہوگا ہندوستان سے جنگ کی حالت میں پاکستان کو اتنا کمزور کردینا کہ وہ ہندوستان کے خلاف اپنے جوہری اسلحوں کا استعمال نہ کرسکے۔ پاکستانی میڈیا سے وابستہ زیادہ تر افراد کی یہی رائے ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ پاکستان سے ہمدردی جتا کر اس کی مغربی محاذ یعنی ہندوستان سے ملحق سرحد پر تعینات فوج کو ہٹا کر اسے مشرقی محاذ یعنی افغانستان سے منسلک سرحد پر تعینات کرنا ہے تاکہ طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کو تعاون حاصل ہو سکے۔
            سیمور ہرش نے اپنی اس تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اہل کار پاکستان اور واشنگٹن میں بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی انتظامیہ پاکستانی فوج کے ساتھ نہایت حساس اور نازک مفاہمت کے لیے مذاکرات کرتی رہی ہے۔ ’’مفاہمت‘‘ کے مطابق کسی بحران کی صورت میں امریکی خصوصی تربیت یافتہ (فوجی) یونٹ پاکستان کے ایٹمی اسلحہ کے تحفظ میں امداد فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ ضروری اسلحہ وغیرہ خرید سکیں، پاکستانی فوج کے دستوں کو تربیت د ے سکیں اور ان کے لیے ضروری سہولتوں کی فراہمی بہتر بناسکیں۔ یہ ایسا ہدف یا مقصد ہے، جس کی ضرورت کا اظہار پاک آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کافی عرصہ قبل کیا تھا۔ جون 2009 میں امریکی کانگریس نے 40 کروڑ ڈالر کا ایک فنڈ منظور کیا تھا، جس کا مقصد امریکی انتظامیہ نے یہ بتایا کہ اس کا مقصد پاکستان کو کسی بھی خطر ے کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس فنڈ سے پاک فوج ضروری آلات خرید سکے گی، فوجیوں کو تربیت د ے سکے گی، انتظامات کو بہتر بناسکے گی اور ضروری تعمیرات کرسکے گی۔ اس ’’مفاہمت‘‘ کو خفیہ رکھنے کی وجہ بڑی اہم تھی، کیونکہ پاکستان میں امریکہ کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے۔ بیشتر پاکستانیوں کو یقین ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد پاکستان کے ایٹمی اسلحہ کا تحفظ نہیں، بلکہ اس میں تخفیف اور اسے تباہ کرنا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی ایٹمی اسلحہ کو قومی افتخار کا نشان اور ہندوستان کے حملہ کے خلاف مؤثر دفاع تصور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان سے نکلنے والے روزنامہ اوصاف کے ایک کالم نگار نوید مسعود ہاشمی ’پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو خطرہ! مگر کن سے؟‘ کے عنوان سے 17 نومبر، 2009 کو یوں لکھتے ہیں، ’’پاکستان کی قوم اگر آج اپنے آپ کو انڈیا کے مقابلے میں طاقتور سمجھتی ہے، اپنے ملک کی طاقت پر نازاں ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا ہے ۔ ۔ ۔ اگر آج بھارت اپنی تمام تر مکاریوں کے باوجود پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے سے گریزاں ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا ہے۔‘‘
لیکن سیمور ہرش کی رپورٹ ایک طرف اور پاکستانی میڈیا کی لن ترانی دوسری طرف، اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ حالیہ دنوں میں راولپنڈی میں واقع پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر اور کامرا اےئربیس (جہاں پر پاکستان کے بعض جوہری اسلحے رکھے ہوئے ہیں) کے باہر ہونے والے دہشت گردانہ حملے، اس شک میں مزید اضافہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اسلحے اب دہشت گردوں کی پہنچ سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ یہ بات تو جگ ظاہر ہے کہ پاکستانی فوج میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو انتہاپسندوں کے تئیں نرم گوشہ رکھتا ہے، لہٰذا کون شخص پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ فوج کا یہ حلقہ شدت پسندوں کو جوہری اسلحوں تک پہنچنے میں مدد نہیں کرے گا؟ دوسری بات یہ کہ خود پاکستان کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا ہے کہ طالبان کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور وہاں کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں برسرپیکار روسی فوج کے خلاف کھڑا کیا تھا۔ تو کیا آج یہی آئی ایس آئی طالبان کی خفیہ مدد نہیں کر رہی ہوگی؟ ساری دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج نے ہندوستان کے خلاف کھڑا کیا ہے، تو کیا مصیبت کی گھڑی میں یہ افراد ان دہشت گردوں کو جوہری اسلحہ فراہم نہیں کرسکتے؟ یہ تمام سوالات ایسے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تو ہندوستانی جوہری تنصیبات کو درپیش خطرات سے متعلق بھی خبریں آنے لگی ہیں۔ حالیہ تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بعض دہشت گرد ہندوستانی جوہری تنصیبات کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تو کیا ہم یہ مان لیں کہ اس میں پاکستانی حکومت کی کوئی سازش کام کر رہی ہے۔ حالانکہ اس سازش میں پاکستانی دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمیں ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے اس بات کی کوشش کرنی چاہیی کہ اگر واقعی اس قسم کا کوئی خطرہ موجود ہے تو پھر اس کا تدارک کیسے کیا جائے، کیوں کہ دہشت گردوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک۔ اگر پاکستان یہ سمجھ رہا ہے کہ جوہری اسلحے حاصل کر لینے کے بعد یہ دہشت گرد اسے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، تو یہ اس کی بہت بڑی خام خیالی ہے۔ پاکستان کو ہندوستان کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے ان دہشت گردوں کو ٹھکانہ لگانے کی کوشش کرنی چاہیی جنھوں نے ہندوستان کا خون کم لیکن پاکستان کا خون زیادہ بہایا  ہے۔

کیا ہند و پاک اچھے پڑوسی نہیں بن سکتے؟

کیا ہند و پاک اچھے پڑوسی نہیں بن سکتے؟

 

کیا ہند و پاک اچھے پڑوسی نہیں بن سکتے؟ 

            ہند وپاک کے درمیان رشتوں میں جو کڑواہٹ ہے اس کا اگر غور سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں جانب کے شہریوں کی بڑی تعداد وہ ہے جو اچھے رشتوں کے خواہاں ہیں لیکن چند اہل سیاست اور قیادت کے ایسے ہیں جو اپنے مفاد کے لیے میڈیا کا غلط استعمال کر کے جھوٹی افوہیں پھیلا کر عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔حالانکہ پاکستان میں ایسے صحافی بھی موجودہیں جو اس طرح کی کوششو ں کی مذمت کرتے ہیں ، لیکن ان کی آوازیں حکومت کی زیر سرپرستی چل رہی میڈیا کی آوازسے بلند نہیں ہوپاتی۔یہی المیہ ہے جس کے سبب دونوں ملکوں کے رشتوں کی بحالی کے لیے اب تک کوئی عوامی تحریک نہیں چل سکی ہے۔میں پاکستانی پریس کا مطالعہ پورے احتیاط کے ساتھ کرتا رہا ہوں اور بعض میڈیا چینلوں اور ان کے تجزیہ کاروں کے ذریعے گڑھی جانے والی کہانیوں کا ہمیشہ جواب دینا چاہتا ہوں۔ میں ان من گڑھت کہانیوں کا تجزیہ کرکے بعض حقائق اور اعداد و شمار پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں اور پاکستان میں ہندوستانی نظریہ کو ٹھیک ڈھنگ سے سمجھا جاسکے۔

            ان میں سے ایک من گڑھت کہانی جسے اکثر لکھا جاتا ہے وہ یہ کہ ہندوستان اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر پاکستان کو گھیرنا چاہتا ہے، اور اسی لیے وہ کمپوزٹ ڈائیلاگ سے بچ رہا ہے جسے ممبئی کے 26/11 دہشت گردانہ حملے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے لکھا ہے کہ شرم الشیخ میں مذاکرات کو شروع کرنے کے بارے میں وزرائے اعظم گیلانی اور منموہن سنگھ کے درمیان ہونے والے اتفاق کے باوجود اس پر سخت گیر ہندوستانی میڈیا اور بی جے پی کے دباؤ کی وجہ سے اب تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔

            ڈاکٹر منموہن سنگھ یا اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ امن کی بحالی سے متعلق ہندوستانی حکومت کے موقف پر کبھی بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ سابق وزیر اعظم واجپئی نے 1999 میں جب امن کے عمل کو شروع کرنے کے مقصد سے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور کا سفر کیا تھا، اس وقت پاکستانی فوج کرگل کی بلندیوں پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے فوجیوں کو پہلے ہی وہاں روانہ کر چکی تھی اور دراندازی کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ نواز شریف حکومتی سربراہ کے طور پر اس فوجی آپریشن سے واقف تھے یا نہیں؟ اب اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ انھیں آپریشن کی مکمل تفصیل بتائے بغیر کم از کم اس کے وسیع پس منظر کے بارے میں ضرور بریف کیا گیا ہوگا، اور ان کے پاس فوج کو متاثر کرنے کی کوئی طاقت موجود نہیں تھی، اس بات کو پوری طرح واضح کرتی ہے کہ سیاسی قیادت اپنی مضبوط انتخابی کامیابیوں کے باوجود ہندوستان کے ساتھ امن کو برقرار رکھنے کے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر پائے گی۔

            ممبئی کے دہشت گردانہ حملے کی شروعات سے ہی اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور وہ اس کے شہری ہیں اور اس پوری کارروائی کو لشکر طیبہ نے انجام دیا تھا۔ ایک لمبے وقت تک پاکستانی لیڈروں اور میڈیا کے ذریعے ان حقائق سے انکار نے ایک بار پھر پاکستانی حکومت اور اس کی مسلح افواج کی غیر سنجیدگی کو ثابت کردیا۔ پاکستانی فوج اور اس کی دہشت گردی ماہر انٹیلی جنس ایجنسی کو اس حادثہ کی خبر تھی یا نہیں، اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سابق صدر اور آرمی چیف مشرف نے سی این این کے ساتھ 9 نومبر کو اپنے تازہ انٹرویو میں یہ قبول کیا تھا کہ آئی ایس آئی کا ہر دہشت گرد گروپ پر اثر و رسوخ ہے اور وہ ان تنظیموں کو متاثر بھی کرتی رہی ہے۔ یہ کوئی بڑا انکشاف نہیں ہے کیوں کہ اس بات کے کافی دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ ان تمام دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل اسی ایجنسی نے کی ہے۔ اس عمل میں فوج کا بھی اتنا ہی رول رہا ہے جتنا کہ سیاسی قیادت کا کیوں کہ وہ ہندوستان سے 1971 میں مشرقی پاکستان میں ہوئی فوجی شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

ممبئی حملہ کو ایک سال پورا ہونے والا ہے اور اس کے قصورواروں کو قانون کے کٹگھرے تک لانے کے لیے پاکستانی حکومت نے اب تک کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا یا ہے۔ حالانکہ پاکستان کو کافی ثبوت دیے جاچکے ہیں لیکن پاکستانی لیڈران ہمیشہ سے یہ کہتے ہوئے انکار کرتے رہے ہیں کہ یہ ثبوت ناکافی ہیں۔ ماضی میں پاکستان کے ذریعے اس قسم کے دیگر معاملات میں جو کچھ کیا گیا اب بھی اسی کو دہرایا جارہا ہے، ان تمام پرانے معاملوں میں بھی ملزمین پاکستان میں چھپے ہوئے تھے اور ہندوستان کی جانب سے ثبوت دینے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔ پاکستان ہمیشہ انکار ہی کرتا رہا ہے اور وہاں کی میڈیا اسے بار بار دہراتی رہی ہے تاکہ وہاں کے لوگ اس پر یقین کرلیں۔ یہاں یہ بات درست لگتی ہے کہ جب ایک جھوٹ کو ہزار بار دہرایا جائے تو وہ سچ بن جاتی ہے۔

            میرے خیال سے ایک دوسرا اہم موضوع ہے پاکستان میں کس سے بات کی جائے کیو ں کہ طاقت کے مختلف مراکز ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو کم تر دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر زرداری کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ پی پی پی کے بااثر لیڈر، وزیر اعظم گیلانی کھلے عام صدر زرداری کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پی ایم ایل (این) کے شریف برادران اور آرمی چیف جنرل کیانی کی ہی طرح اپنے پنجابی ہونے کا رعب و دبدبہ قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو کبھی بھی استقامت حاصل نہیں ہوئی ہے کیوں کہ باہم حریف سیاسی لیڈروں کی آپسی لڑائی کی وجہ سے فوج کو حکومت پر قابض ہونے کا موقع بار بار ملا ہے۔ کسی بھی ملک کے ذریعے سنجیدہ مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ پہلے یہ واضح کیا جائے کہ آخر طاقت کا اصلی مرکز کون ہے اور وہ اپنے ذریعے کیے گئے وعدوں کو کس حد تک پورا کرسکتا ہے۔

            وزیر اعظم گیلانی، وزیر خارجہ قریشی، وزیر داخلہ ملک اور فوج کے ترجمان بار بار یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ہندوستان طالبان شر پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اتنے بڑے اور سرکردہ لیڈروں کی جانب سے اس قسم کے بے بنیاد الزامات مذاق او رہنسی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ اگر حکومت کی یہ اعلیٰ قیادت ہی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے بیہودہ الزامات لگائے گی اور موجودہ مسائل سے منہ چرائے گی تو پھر ہندوستان یا بین الاقوامی برادری انھیں کیسے ڈائیلاگ اور امن کے پارٹنرس کے طور پر قبول کرسکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ہوش مندی پر مبنی کئی غور کرنے والی آوازیں بھی ہیں جو بار بار کے ان بے بنیاد الزامات پر سوالیہ نشان بھی کھڑے کرتی رہی ہیں لیکن ان کی آوازوں کو ’سرکاری بریف‘ کے قلم کاروں کی بھیڑ میں دبا دیا جاتا ہے۔

            میں پور ے وثوق کے ساتھ ہر ہندوستانی، مسلم اور ہندو دونوں کی جانب سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی پاکستان کا کچھ برا ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا کیوں کہ اس کے استحکام میں ہی ان کا مفاد پوشیدہ ہے۔ ، وہ پاکستان کی دہشت گردی مخالف جنگ میں اس کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں روزانہ ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام ایک طویل عرصے سے انہی باتوں پر یقین کرتے آئے ہیں جو وہاں کی سیاسی اور فوجی قیادت نے کہا ہے یا کیا ہے، لیکن اب وہ تمام معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے کیا صحیح اور درست ہے۔ ہم، ہندوستانی اور پاکستانی، بغیر کسی شک و شبہ کے ایک ہی لوگ ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھے پڑوسی کے طور پر زندگی گزار سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم اس بات کو لے کر سنجیدہ ہوں کہ ہم ایک دوسرے سے کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام جب تک اپنی فوج اور سیاسی قیادت کو اس بات کی اجازت دیتے رہیں گے کہ وہ ہندوستان میں خون خرابہ کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور پشت پناہی کرتے رہیں، تب تک وہ اس بات کی امید نہیں کرسکتے کہ نئی دہلی پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر ’کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ کے عمل کو شروع کرے گا۔

گھریلو مسائل کے لیے ہندوستان کو موردِ الزام ٹھہرانے سے کام نہیں چلے گا

گھریلو مسائل کے لیے ہندوستان کو موردِ الزام ٹھہرانے سے کام نہیں چلے گا

Attempts to accuse India for domestic problems will not help

It is quite amusing to read some of the Urdu papers in Pakistan.  They appear to believe, like many of their political leaders and army generals, that most of their domestic problems will wash away if they deflect them to a `whipping horse’, the next door neighbour to the east.

A report on Pak Newspapers

پاکستانی اخبارات کی خبروں  پر مبنی تجزیہ

پاکستان کے بعض اردو اخباروں کو پڑھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے۔ زیادہ تر سیاسی لیڈروں اور فوجی جنرلس کی طرح وہ بھی یہی سوچتے ہیں کہ ان کے گھریلو مسائل اس وقت ختم ہو جائیں گے جب انھیں ایک ’تیز طرار گھوڑے‘ پر لاد کر مشرق میں واقع اپنے پڑوسی کی طرف دوڑا دیا جائے۔

زیادہ تر اردو اخبارات کا یہی حال ہے۔ آپ کسی بھی اردو اخبار کو کھولیں، خاص کر غیر معروف نوائے وقت کو، آپ دیکھیں گے کہ اس میں ہندوستانی آبی دہشت گردی اور جموں و کشمیر سے پاکستان میں بہنے والی ندیوں پر اس کے ذریعے بنائے جانے والے 62 باندھوں کا ذکر ہے۔ یہ صرف اردو اخبارات کا ہی معاملہ نہیں ہے۔ بہت سے ایسے سرکاری ترجمان بھی موجود ہیں جو اس قسم کی کہانیاں کہنے کے لیے اپنا نام پیش کرنے کو تیار ہیں۔ سندھ واٹر کونسل کے چےئرمین حافظ ظہورالحسن دہر کے حوالے سے 5 نومبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2013 تک ہندوستان پاکستانی ندیوں کے رخ کو اپنے کھیتوں کی طرف موڑ لے گا اور اس کے بعد پاکستان کو پینے تک کا پانی نصیب نہیں ہوگا اور اس کے کھیت خشک ہو جائیں گے۔

بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی باتیں مدلل ہوتی ہیں، لیکن ایسی آوازوں کو ہمیشہ دبا دیا جاتا ہے۔ 5 نومبر کو جسارت میں یہ رپورٹ شائع ہوئی – ”اندس واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ نے اپنے آن لائن ٹاک شو میں کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو ندیوں پر باندھ بنانے کی وجہ سے قحط سالی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ندیوں میں پانی کی سطح میں کمی موسم کے حالات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے ندیوں پر جو بھی ہائڈل پروجیکٹس بنائے ہیں وہ سب سندھ آبی معاہدہ کے تحت ہیں اور اس کی اسے منظوری دی گئی ہے۔ انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ہندوستان 50-60 باندھوں کی تعمیر کر رہا ہے۔“

اصل مدعا یہ ہے کہ آپ جموں و کشمیر میں 60 باندھ نہیں بنا سکتے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ان اخبارات کو یہ اطلاع کون فراہم کر رہا ہے، جو ایک ہی بات کو ہر روز دوہراتے رہتے ہیں۔

ابھی تک دو ہی بڑے باندھ بنائے گئے ہیں یا جن کو بنائے جانے کی تجویز ہے اور وہ ہیں بگلیہار اور کشن گنگا، اس کے علاوہ چند چھوٹے بیراج ہیں۔ یہ وہ تمام باندھ ہیں جن کی منظوری 1960 کے سندھ آبی معاہدہ کے تحت ہندوستان کو حاصل ہے۔ بگلیہار باندھ کی اونچائی کو لے کر ایک تنازع ضرور تھا جس کے لیے پاکستان نے ورلڈ بینک کے کسی ماہر کی مداخلت چاہی۔ بینک نے معمولی ٹیکنیکل ایڈجسٹمنٹ کے بعد اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھا دی۔ پاکستان نے کشن گنگا کے بارے میں بھی اعتراضات پیش کیے اور انڈس واٹر کمشنر جی رنگناتھن نے اپنے پاکستانی ہم منصب سید جماعت علی شاہ کو ایک خط لکھ کر اس مسئلہ پر بات چیت کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بالکل درست قدم ہے کہ وہ ہندوستان کے ذریعے بنائے جانے والے باندھوں کے سبب پانی میں آنے والی کمی اور جموں و کشمیر کی آبادی کو پانی کی عدم دستیابی سے متعلق اپنی فکرمندی ظاہر کرے، اور ہندوستانی حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان تشویشوں پر غور کرے۔ یہ معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے جس طرح چین پوری خاموشی کے ساتھ باندھوں کی تعمیر کر رہا ہے۔

اب، سندھ واٹر کونسل کے چےئرمین اور ان کے ہم منصبوں کو آخر کس چیز نے اس بات کے لیے مشتعل کیا کہ وہ ہندوستان کی طرف انگلی اٹھائیں۔ اگر کوئی سندھی اخباروں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے کچھ سراغ مل جائے گا۔ مسئلہ کی جڑ ہے 1991 کے آبی معاہدہ کو متعدد صوبوں کے ذریعے نافذ نہ کرنا۔حقیقت یہ ہے کہ سندھ بلوچستان اور شمال مغربی صوبہ سرحد اور یہاں تک کہ پاک مقبوضہ کشمیر کی قیمت پر پنجاب میں زیادہ سے زیادہ پہنچانے کو منظوری دی جاری ہے۔

ادریس راجپوت نے کاوش میں لکھا کہ تمام صوبوں کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے 1991 میں ایک معاہدہ ہوا اور اس کے نفاذ پر نظر رکھنے کے لیے 1992 میں آئی آر ایس اے کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن 1993 اور 1994 میں پانی کی کمی کے سبب 1991 کے آبی معاہدہ کے تحت پانی کی تقسیم کو روک دیا گیا۔ اس کے بجائے 1977 سے 1982 کے درمیان پانی کے بٹوارے سے متعلق بنائے گئے قوانین کے مطابق پانی کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ 2003 میں آئی آر ایس اے نے تین مراحل پر مبنی پانی کی تقسیم کا ایک نظام قائم کیا جس کی وجہ سے شمال مغربی صوبہ سرحد اور بلوچستان کو جزوی طور پر فائدہ ہوا جب کہ سندھ صوبہ کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔

سندھ کے آبپاشی اور پلاننگ ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق، پنجاب اور شمال مغربی صوبہ سرحد میں 200 سے 250 چھوٹے باندھ تعمیر کیے جاچکے ہیں اور سندھ کی حکومت کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ ان باندھوں میں کتنا پانی جمع کیا جاتا ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ پنجاب سے جب بھی 1991 کے آبی معاہدہ کا احترام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کوئی نہ کہانی بہانہ بناکر اس میں رخنہ ڈال دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی جنرلس اور طاقت ور سیاسی لیڈروں کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہی دیگر صوبوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

کراچی میں موجود پاکستانی ذرائع کے مطابق، جب صدر نے سندھ میں پانی کی سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے تونسا – پنجال نہر کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 6 جون کو وزیر اعظم گیلانی کو ایک خط لکھ ڈالا۔ ان کے بھائی نواز شریف اور آرمی چیف جنرل کیانی کے ذریعے کافی دباؤ بنایا گیا۔ معاملہ طے ہوگیا اور گیلانی نے صدارتی حکم کو منسوخ کردیا۔

بلوچستان کے زیادہ تر مسائل بھی آبی ذخائر کی غیر منصفانہ تقسیم کو لے کر ہیں جس کا مطالبہ ہے کہ اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ پاک مقبوضہ کشمیر کے مطالبات بھی کچھ ایسے ہی ہیں لیکن پنجاب انھیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یہ گھریلو مسائل خود اپنے ہی ذریعے پیدا کیے گئے ہیں، جب کہ پنجابی غلبہ والے طاقت کے مراکز کا یہ الزام ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل ہندوستان کی وجہ سے ہیں۔ اس قسم کا انکار بہت سی آوازوں کو کچھ وقت کے لیے دبا سکتا ہے لیکن اس سے پاکستان کا بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ 1971 میں اس کی مغربی شاخ کے ساتھ کیا ہوا، اسے بھولنا نہیں چاہیے۔ مسائل پیدا کرنے کے لیے آپ کو باہری طاقت کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ عوام کو پیچھے دھکیلنے سے آج نہیں تو کل بغاوت ضرور ہو گی۔

پاکستان کے مختلف صوبوں کے ساتھ بہتر تال میل سے ایک صحت مند اور پر اعتماد ریاست کی تشکیل ہوگی، اور اسی سے بہتر پڑوس کے تعلقات برقرار رکھے جاسکتے ہیں۔