Archive for October, 2009

لندن کی ایک کانفرنس

لندن کی ایک کانفرنس

لندن میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مختلف شعبوں ، اداروں اور تنظیموں کے افراد نے شرکت کی ، اس کانفرنس میں کئی اہم پہلو زیر غور آئے اور کئی تجاویز بھی پاس کی گئیں ، جو کئی اعتبار سے اہم ہیں ۔ اس لیے ہم قارئین کے لیے اس کانفرنس کی روداد پیش کر ر ہے ہیں ۔

 بلیک ڈے کانفرنس کا اعلان، قبائلی حملہ جموں و کشمیر کے خلاف بلا اشتعال جارحیت تھی 

18 اکتوبر 2009، لندن 

 

ویٹ فورڈ، انگلینڈ میں کشمیر نیشنل پارٹی کے ذریعے بلیک ڈے کانفرنس کے نام سے ایک انوکھی کانفرنس منعقد کی گئی، جس کا مقصد قبائلی حملہ کے رول کا جائزہ لینا تھا۔ 22 اکتو بر 1947 کو کیا گیا قبائلی حملہ ریاست کشمیر کے عوام کے خلاف ایک بلا اشتعال حملہ تھا جس کے ذریعہ کشمیری خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی۔گذشتہ برسوں میں کشمیری عوام سری نگر میں ہندوستانی فوج کی آمد کے خلاف یومِ سیاہ مناتے رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب ریاست جموں و کشمیر پر ہونے والے قبائلی حملہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 22 اکتوبر کو ایک کانفرنس منعقد کی گئی، اس حملہ نے ریاست کے حکمراں کو ہندوستان سے مدد مانگنے اور ساتھ ہی ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کیا تھا، حالانکہ یہ الحاق عارضی تھا اور عوام کے ذریعے اسے منظوری دی جانی باقی تھی۔

بلیک ڈے کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس نے متعلقہ فریقین کو پوری شدت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کانفرنس میں مختلف سیاسی نظریہ رکھنے والی برطانیہ کی تیرہ سیاسی پارٹیوں نے شرکت کی جنھوں نے یہ اعلان کیا کہ قبائلی حملہ کا مقصد جموں و کشمیر کے مہاراجہ کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے مجبور کرنا تھا۔ کشمیریوں کے علاوہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد جموں و کشمیر کے کاز کو اپنی حمایت دینے کے لیے اس کانفرنس میں موجود تھی۔

بلیک ڈے کانفرنس کا آغاز کے این پی چیئرمین عباس بٹ کے ابتدائی کلمات سے ہوا جنھوں نے تمام شرکا کا خیر مقدم کیا اور اس اہم بحث سے متعلق پروگرام کی تفصیلات اور ضوابط سے واقف کرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہماری جدوجہد پاکستان یا پاکستانی عوام کے خلاف نہیں ہے؛ یہ ہندوستان یا ہندوستانی عوام کے خلاف نہیں ہے۔ ہماری لڑائی ناانصافی اور پاکستان و ہندوستان کی غلط پالیسیوں کے خلاف ہے۔اگر ہندوستان اور پاکستان کشمیر سے متعلق اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے عوام کو ان کی حق خود ارادیت دی جاتی ہے تو ہم امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں اور خطہ کے لیے امن و استحکام کے لیے کام کر سکتے ہیں۔عباس بٹ نے کہا کہ ’ہم نے خصوصی طو ر پر اس کانفرنس کے لیے ایک کتابچہ تیار کیا ہے جس میں تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ تفصیل پیش کی گئی ہے کہ برطانوی راج کے خاتمہ کے بعد جموں و کشمیر ایک آزاد ریاست تھی؛ اور قبائلی حملہ پاکستانی حکام کی مدد سے کرایا گیا تھا جو کہ مہاراجہ حکومت اور حکومت پاکستان کے درمیان تکمیل پانے والے اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کی سراسر خلاف ورزی تھی۔کشمیر نیشنل پارٹی کے ترجمان، ڈاکٹر شبیر چودھری نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ ’قبائلی حملہ حکومت پاکستان کے منصوبہ کے تحت اور اس کی حمایت سے کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد جموں و کشمیر کے مہاراجہ کو سزا دینا تھا جنھوں نے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے سے منع کردیا تھا۔ اس الم ناک واقعہ نے ہماری تاریخ اور ہماری قسمت کے رخ کو موڑ دیا۔اس نے ہماری خودمختاری سے کھلواڑ کیا اور ہم سے ہماری آزادی سلب کرلی۔ ہمارے محبوب مادرِ وطن کو تقسیم کردیا اور خاندانوں اور قوم کو بانٹ دیا۔ اس نے بے گناہ کشمیری مرد و خواتین کو ہلاک کیا۔ کشمیری ذخائر کو لوٹ لیا۔ ہمارے موجودہ مصائب و آلام کا بنیادی سبب یہی ہے۔

ڈاکٹر شبیر چودھری نے مزید کہا کہ ’اگر قبائلی حملہ نہیں ہوتا تو آج شاید کشمیر تنازع بھی نہیں ہوتا۔ اس تنازع کی عدم موجودگی میں شاید دونوں ممالک اپنے مسائل کو حل کرسکتے تھے اور باہم دوستانہ اور ہم آہنگ تعلقات استوار کرسکتے تھے؛ اور اس کے نتیجہ میں خطہ میں امن و استحکام پیدا ہوسکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’جہاد کے نام پر سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اکتوبر 1947 میں شدت پسندی اور نفرت کے جس جن کو چھوڑا گیا تھا، وہ اب بھی شدت پسندی اور نفرت کو پھیلانے میں لگا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے شدت پسندی کو فروغ دینے کا سلسلہ حال تک جاری رہا ہے، اور شدت پسندی اور نفرت پھیلانے والی قوتیں اپنی طاقت آپ بن چکی ہیں۔ ان لوگوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو پہلے ہی متاثر کر رکھا ہے۔ کسی بھی زندہ چیز کی طرح یہ بھی زندہ رہنا اور نشوونما کرنا چاہتی ہے؛ اور قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ فرینکینس ٹین دیو کی طرح یہ بھی اپنے خالق کے خلاف بغاوت کر چکی ہے، اسی لیے ہم پاکستان میں دہشت گردی، جہاد، حکومتی فرمان قائم کرنے کی آوازیں سن رہے ہیں، جن میں سے تمام کا دعویٰ ہے کہ وہ صحیح راستہ پر گامزن ہیں۔

یوکے پی این پی کے چےئرمین، سردار شوکت علی کشمیری نے اپنے کلیدی خطبہ میں بلیک ڈے کانفرنس کو منعقد کرنے کے کے این پی قیادت کے ہمت افزا قدم کی تعریف کی۔ ’یہ ایک نئی چیز ہے۔ یہ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اکتوبر 1947 میں کیا ہوا تھا۔ وہ کون سی قوتیں تھیں جنھوں نے ہمارے لیے اتنی ساری پریشانیاں کھڑی کیں؟ ہمیں اپنی جدوجہد کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے، اور ہمیں ان پرانے راستوں کو اختیار نہیں کرنا چاہیے جنھیں ان لوگوں نے دکھایا تھا جن کا کشمیر کے علاقہ میں مفاد پوشیدہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ’کشمیری جدوجہد کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی غلط تھی اور اسی لیے ہم گذشتہ 62 سالوں کے دوران کوئی پیش رفت نہیں کرسکے ہیں۔ ہمیں تنقید کا سامنا کرنے اور اپنی تاریخ کی تحقیق سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے جسے ان لوگوں نے توڑا مروڑا ہے جو ہم پر قابض ہیں۔ ہمیں اپنے حقائق کو درست کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر شبیر چودھری اور کے این پی نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جس کی تعریف تمام کشمیریوں کو کرنی چاہیے۔

پی این پی کے چیئرمین نے کہا کہ ’کشمیری جدوجہد ایک سیاسی جدوجہد ہے۔ یہ کسی مذہب یا کسی برادری کے خلاف لڑائی نہیں ہے۔ ہمارے مشترکہ مسائل ہیں اور ہمارا دشمن بھی ایک ہے اور وہ ہے ناخواندگی، غریبی، اور عسکریت۔پی این پی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ’ ایسا کیو ں ہے کہ نام نہاد آزاد کشمیر کے لوگوں کو پندرہ سال کی عمر میں اپنے آبائی گھر کو خداحافظ کہتے ہوئے ایک مہاجر بننا پڑتا ہے؟ ایسا اس لیے ہے کیو ں کہ ہم پر غاصبانہ حملہ کیا گیا تھا۔ ہم پر تسلط قائم کیا گیا اور ہماری ریاست کو زبردستی تقسیم کردیا گیا۔ ہمارے بیش بہا ذخائر کا استعمال وہ لوگ کر رہے ہیں جنھوں نے ہم پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اگر ہم اپنے ذخائر کے مالک خود ہوتے تو ہم بھی امیروں جیسی زندگی گزارتے۔

این ایل ایف کے صدر، محمود کشمیری نے کہا کہ ’ہم کے این پی کی قیادت کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں ایک ایسا موقع فراہم کیا کہ ہم اس گول میز کانفرنس میں آپس میں مل کر بیٹھ سکیں اور اس بات پر بحث کریں کہ 1947 میں ہمارے ساتھ کس نے کیا کیا۔ ہمیں اپنے تاریخی حقائق کو درست کرنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں۔

محمود کشمیری نے کہا کہ ’جو لوگ ہماری مذمت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں پر نظر نہیں کرنی چاہیے وہ غلط ہیں۔ ہمارے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ ہم کشمیری قیادت اور ہمارے اُن نام نہاد دوستوں کے ذریعے کی گئی ماضی کی غلطیوں کا محاسبہ کریں جو جموں و کشمیر کے عوام کے کاز کے لیے سنجیدہ رہے ہیں۔این ایل ایف کے صدر نے مزید کہا کہ ’یہی مناسب ہے کہ ہم ایل او سی کے اس جانب جدوجہد کریں؛ اور دیگر مقامات پر رہنے والے دوسرے کشمیری اپنے حالات اور اپنی حکمت عملی کے مطابق جدوجہد کریں۔محمود کشمیری نے کہا کہ ’یہ غلط پالیسی تھی کہ ہم سب سے پہلے سری نگر کو آزاد کرائیں اور اس کے بعد کشمیر کے اس جانب کو آزاد کرائیں‘۔ ’یہ اُس وقت بھی غلط تھا اور یہ اب بھی غلط ہے۔ ایل او سی کے اس جانب ہم مسائل سے دوچار ہیں اور ہمیں یہاں پر اپنے حالات کے مطابق جدوجہد کرنی ہے۔ اس کا کیامطلب ہوا کہ میرپور کے کمشنر کے خلاف اس وقت احتجاج کیا جائے جب مظفرآباد کے کمشنر کے ذریعے ناانصافی کی جارہی ہو۔

کے آئی این کے نمائندہ، علی عدالت نے کہا کہ ’ہم نے، یعنی جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنی غلط ترجیحات بنا رکھی ہیں۔ ہم اپنی شناخت کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ آیا ہم پاکستانی ہیں یا کشمیری۔ میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ پاکستانی انتظامیہ والے کشمیر میں اپنی آواز کو اٹھانے میں ان کے اوپر دباؤ ہوسکتا ہے، لیکن برطانیہ میں انھیں کیا دشواری ہے۔ وہ اپنے آپ کو کشمیری کے طور پر متعارف کرانے میں خوف زدہ کیوں ہیں جب کہ ہمیں بھی نسلی اقلیتی گروپ کا فائدہ مل رہا ہے۔علی عدالت نے کہا کہ ’یہ بات سچ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اقتصادی طور پر اور دوسرے طریقے سے ہمارا استحصال کیا ہے۔ ہم فرقہ پرستی اور شدت پسندی کا بھی شکار رہے ہیں۔ لیکن ہم اس بات کی پہل کیوں نہیں کرتے اور اس بات کو یقینی کیوں نہیں بناتے کہ برطانیہ میں ہمارے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم فیصلہ لینے کے عمل سے باہر نہیں ہیں، جیسا کہ ماضی میں ہمیں باہر کردیا گیا تھا، چاہے وہ 1947 میں ہو، اقوام متحدہ کی قرارداد میں ہو، تاشقند معاہدہ میں ہو، شملہ معاہدہ میں ہو، اور اس جیسے دیگر کئی معائدوں میں ۔انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق لینا ہوگا۔ میں مانتا ہوں کہ قبائلی حملہ ایک بڑی بھول تھی۔ اگر اس کا مقصد مسلمانوں کی مدد کرنا تھا تو پھر اس علاقہ پر حملہ کیوں جہاں مسلمانوں کی 95 فیصد آبادی رہتی تھی۔ جموں پر حملہ کیوں نہیں اور جموں کے مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کی گئی جہاں پر وہ اقلیت میں تھے اور جہاں پر انھیں قتل کیا جارہا تھا۔ انھوں نے سری نگر پر حملہ کیا، جو کہ 135 میل سے بھی زیادہ دور ہے، لیکن وہ لوگ جموں نہیں گئے جو کہ سیال کوٹ سے 20 میل سے بھی کم کے فاصلہ پر ہے۔

این ایس ایف کے لیڈر آصف محمود نے کے این پی لیڈروں کی کوششوں کو خوب سراہا اور متحدہ اور آزاد جموں و کشمیر کے کاز کو اپنی پوری حمایت دینے کا اظہار کیا۔ آصف محمود نے کہا کہ ’جو لوگ ہم سے پہلے سری نگر کو آزاد کرانے کے لیے کہتے ہیں، وہ غلط ہیں ، وہ ہماری توجہ اور ہمارے ذخائر کو ہم سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ہم نے مذہب کے نام پر سیاست کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ ہم نے جہاد کے نام پر عسکریت پسندی کی مخالفت کی ہے، ایسے وقت میں بھی جب بہت سی تنظیموں نے اس کی تعریف کی اور اس کا حصہ بننے پر فخر کا اظہار کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنے آپ میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ریاست کو آزاد کرانے کے لیے اپنی حکمت عملی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جدوجہد ایل او سی کے اِس جانب ہے نہ کہ اس کے دوسری جانب۔

کشمیر پیس کمیٹی کے صدر، سریندر کول نے بلیک ڈے کانفرنس کی جم کر تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’تاریخی ریکارڈ کو درست کرنا ضروری ہے۔ بچپن میں میں نے اس قبائلی حملہ کو دیکھا تھا اور الم ناک حادثہ کی یادیں میرے ذہن میں اب بھی تازہ ہیں۔ یہ لوگ ہمیں آزاد کرانے یا کسی کی مدد کرنے کے لیے کشمیر نہیں آئے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’تقسیم شدہ جموں و کشمیر کے ہم لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا چاہیے اور آپس میں بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنی چاہیے۔ اس قسم کی کانفرنسوں کا انعقاد نہایت اہم ہے، لیکن میری خواہش ہے کہ کاش ہم ایسی کانفرنس سری نگر میں یا ریاست کے دوسرے مقامات پر منعقد کر پاتے۔

ورلڈ سندھی کانگریس کی نمائندگی کرنے والی، ثریہ مخدوم نے کہا کہ ’سندھ کے لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ یہ سندھ اسمبلی ہی تھی جس نے پاکستان کی حمایت میں ایک قرارداد پاس کیا تھا۔ لیکن پاکستان کا ایک حصہ بننے کے بعد ہم اب بھی اپنے مکمل جمہوری حقوق سے محروم ہیں۔ ہم اب بھی اپنے تعلیمی، لسانی اور ثقافتی حقوق کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔انھوں نے حق خود ارادیت کو حاصل کرنے کی کشمیری جدوجہد کی پوری حمایت کی، اور اپیل کی کہ ہمیں اس خطہ میں امن قائم کرنے اور یہاں کے لوگوں کو بنیادی حقوق دلانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

این اے پی لیڈر، اصغر ملک نے کہا کہ ’ہم نے متحدہ اور آزاد جموں و کشمیر کے کاز کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور آگے بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔‘ انھوں نے کے این پی قیادت کے ذریعے کیے گئے اس محنت کش کام کی تعریف کی اور سامعین کو یقین دلایا کہ ’ان کی پارٹی اتحاد کے کاز کی حمایت کرے گی اور متحدہ اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے کام کرے گی۔انھوں نے کہاکہ ’ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ ہمارا پیدائشی حق ہے کہ ہم اپنے بنیادی حقوق اور اپنے مادرِ وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں ۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مناسب عمل صرف یہی ہے کہ ہم ایل او سی کے اِس جانب جدوجہد کریں، لیکن دیگر علاقوں میں جدوجہد کر رہی دوسری پارٹیوں کے ساتھ بھی اپنا تعاون جاری رکھیں۔

یونائٹیڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (یو کے پی این پی) کے سکریٹری انفارمیشن، مجتبیٰ علی شاہ نے ’پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری پر اپنی سخت تشویش‘ کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’لشکر طیبہ اور دیگر جہادی گروپوں نے آزاد کشمیر میں اپنی مورچہ بندی قائم کر رکھی ہے اور آزاد کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستانی اور دیگر جہادیوں کومدرسوں اور حکومت کے ذریعے چلائے جانے والے اسکولوں میں پناہ دینے سمیت ان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔انھوں نے بتایا کہ ’وہ مظفرآباد میں لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کے ذریعے ایک نوجوان شیعہ طالب علم کے قتل کے گوا ہ ہیں جسے اس لیے قتل کردیا گیا کیوں کہ اس نے 2005 کے زلزلہ کے فوراً بعد لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

کے این پی برطانیہ ژون کے سکریٹری جنرل، نواز ماجد کشمیری نے کہا کہ ’قبائلی حملہ نے کشمیری سیاست کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا تھا جس میں ریاست کے عوام کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس غیر اشتعال حملہ نے مہاراجہ کو ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے پر مجبور کیا۔انھوں نے کہا کہ ’ہماری جدوجہد کسی الحاق کے لیے یا کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ہماری جدوجہد ایک سیکولر اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے ہے جہاں پر ریاست کی تمام نسلی اقلیتیں امن و رواداری کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔

یو کے پی این پی برطانیہ کے صدر، جمیل لطیف نے اپنی مختصر تقریر کے ذریعے سامعین کو یقین دلایا کہ ان کی پارٹی ’سچ بولنے اور اپنے عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہماری پارٹی وہ پہلی پارٹی تھی جس نے گلگت اور بلتستان کے لیے جاری کیے گئے نئے پیکج کے خلاف اور پاکستان کے ذریعے اس علاقہ پر قبضہ کرنے کے خلاف پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

فاروق پاپا کے جے کے ایل ایف گروپ کی نمائندگی کرنے والے، ایوب راٹھور نے کانفرنس کو اپنی پوری حمایت پیش کی اور سامعین کو یقین دلایا کہ ان کی پارٹی کشمیری پارٹیوں کے درمیان اتحاد کی حمایت کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم آپس میں یونہی بنٹے رہے اور اپنی ترجیحات کو ترتیب نہیں دیا تو ہمارے لیے آزادی کو حاصل کرپانا نہایت مشکل ہوگا۔

کے این پی برطانیہ ژون کے صدر، محمد نظم بھٹی نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس کانفرنس کے لیے اتنا شاندار انتظام کیا تھا اور کہا کہ ’ہم نے جموں و کشمیر کی آزادی اور یہاں کے لوگوں کے کاز کے فروغ میں ہمیشہ پہل کی ہے ۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’1977 میں جس وقت جے کے ایل ایف کا قیام عمل میں آیا تھا اس وقت میری عمر صرف پندرہ سال تھی اور میں اس کا سب سے کم عمر ممبر تھا۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح میں نے بھی سیکولر اور آزاد کشمیر کے کاز کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی پوری زندگی کام کیا ہے۔

مسلم کانفرنس کے، ارشد خان نے دوسرے مقررین سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’قبائلی لوگ کشمیر کے عوام کی مدد کرنے آئے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ برے لوگ بھی رہے ہوں جنھوں نے جرائم کیے۔ میری پارٹی کی یہ پالیسی ہے کہ ہمیں پاکستان کا حصہ بن جانا چاہیے، لیکن میں دوسرے مقررین کے ذریعے ظاہر کیے گئے خیالات کا احترام کرتا ہوں۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور تنقید کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔

یو کے پی این پی برطانیہ کے سکریٹری جنرل، عثمان کیانی نے کہا کہ ’اگر پاکستان کے لوگ پاکستان میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرسکتے ہیں اور کوئی بھی ان کی فرماں برداری پر سوال نہیں اٹھاتا اور کوئی انھیں غدار نہیں کہتا، تو پھر ہم بھی ان لوگوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے سے کیوں ڈریں جنھوں نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہماری وفاداری سب سے پہلے ہمارے مادرِ وطن کے ساتھ ہے نہ کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ، چاہے وہ ہمارے کتنے ہی اچھے پڑوسی کیوں نہ ہوں۔جے کے ایل ایف فاروق پاپا گروپ کے ممتاز راٹھور اور ایک دوسرے خطیب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سامعین کو کشمیری کاز کے لیے کام کرنے کا یقین دلایا۔

کانفرنس کے ذریعے درج ذیل قراردادیں پاس کی گئیں :

کشمیر نیشنل پارٹی کے ذریعے ویٹ فورڈ (انگلینڈ) میں 18 اکتوبر 2009 کو منعقد کی گئی بلیک ڈے کانفرنس میں پاس کی گئی قراردادیں

1 ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام کی حمایت اور پشت پناہی میں کرایا گیا قبائلی حملہ ریاست جموں و کشمیر کے خلاف جارحیت تھی۔ اس نے ریاست کی خودمختاری کی بے حرمتی کی جو اس بلا اشتعال جارحیت کے وقت ایک آزاد ریاست ہوا کرتی تھی؛

.2 ہم یہ مانتے ہیں کہ قبائلی حملہ حکومت جموں و کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان دستخط شدہ اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ کی واضح خلاف ورزی تھی؛

.3 ہم یہ جانتے ہیں کہ جہاد کے نام پر کرائی گئی اس جارحیت کا مقصد جموں و کشمیر کے مہاراجہ کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ بے گناہ کشمیریوں کی موت اور اذیت کی شکل میں سامنے آیا؛ اور اس نے ہماری تاریخ کے رخ کو موڑ دیا کیوں کہ مہاراجہ کو ہندوستان کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا اور وہ اپنی خواہش کے برخلاف ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور ہوئے؛

.4 ہم سمجھتے ہیں کہ یہ الحاق نوعیت کے اعتبار سے عارضی تھا جس کی تصدیق ریاست کے عوام کے ذریعے کی جانی تھی، لیکن انھیں اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا؛

.5 ہم مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں کیوں کہ کشمیر تنازع کو حل کرنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے؛ لیکن ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت یہاں کے عوام کو بھی اپنی آخری بات رکھنے کا موقع ضرور دیا جانا چاہیے؛

.6 ہم ریاست کے تمام شہریوں کے لیے امن، جمہوریت اور برابری کے کاز کو فروغ دینے کے ان کے عزم کا اظہار کرتے ہیں؛ اور شدت پسند اور نفرت آمیز قوتوں کی مخالفت کرتے ہیں؛

.7 ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی نے ریاست کے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے اور اس کی تمام شکلوں کی مخالفت کی جانی چاہیے؛

.8 ہم ان کے اس عزم کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان تمام طاقتوں کی مخالفت کی جانی چاہیے جو ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، کیوں کہ ریاست کا ایک سیاسی وجود ہے اور اسے یوں ہی رہنا چاہیے؛

.9 ہم ریاست کی وحدت اور آزادی کی ان کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں؛

.10 ہمارا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ریاست ہے؛ اور ہمارے معاشرہ اور کلچر کی اس شکل کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور اسے فروغ دیا جانا چاہیے۔

.11 ہم حکومت برطانیہ اور دیگر ممالک کی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو کشمیری کے طور پر تسلیم کریں اور ان کی درجہ بندی یا تشریح پاکستانی یا ہندوستانی کے طور پر نہ کریں۔

.12 ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کو، جنھیں ریاست میں ہونے والے ہنگاموں کے سبب دوسری جگہوں پر منتقل ہونے کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا، انھیں پوری عزت و وقار اور تحفظ کے ساتھ ان کے گھروں میں دوبارہ بسایا جائے۔

.13 ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست کے اندر نقل و حرکت کرنے کا حق ہمارا بنیادی حق ہے؛ اور سی بی ایم کی تشکیل کشمیری عوام کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی بی ایم کے ذریعے عائد کی گئی ان پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ریاست کے عوام اپنے ساتھی شہریوں کے ساتھ آسانی سے گھل مل سکیں۔

.14 ہم سندھی عوام کے جمہوری، اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور لسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔

ویٹ فورڈ (انگلینڈ) میں 18 اکتوبر 2009 کو کشمیر نیشنل پارٹی کے ذریعے منعقد کی گئی بلیک ڈے کانفرنس میں پاس کی گئی قراردادیں۔

 

 

کشمیر میں ارود صحافت کاارتقا : تاریخ و تجزیہ

کشمیر میں ارود صحافت کاارتقا : تاریخ و تجزیہ

نصرت امین ، بانڈی پورا، سری نگر

ہندستان کے دوسرے صوبوں کی طرح جموں کشمیر میں بھی اردو زبان وادب کے ساتھ ساتھ اردو صحافت کو فروغ ملا ۔ کشمیر میں اردو سراکاری زبان ہے اس لیے یہاں اردو کے فروغ کے امکانات زیادہ رہے ہیں ۔ یہاں کے لوگ اگرچہ علاقائی زبانوں میں بھی روزمرہ گفتگو کرتے ہیں ۔ لیکن ہر کشمیری کو اردو ضرور آتی ہے یہ ان کی مجبوری بھی ہے کہ وہ اردو جانیں کیونکہ یہاں دفا تر میں اردو زبان ہی میں کام کاج کیاجاتاہے ۔کشمیری اور ڈوگری کے ساتھ ساتھ لوگ اردو کو بھی اسی طرح سیکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں اردو ادب کو کافروغ ملا ۔ ادب کی تما م اصناف میں کشمیریوں کی خدمات موجود ہیں ۔
جہاں تک ارود کی صحافت کی بات ہے تو اس میدان میں بھی کشمیر نے نمایاں خدمات انجام دیئے ہیں۔ کشمیر میں اردو زبان وا دب کے عروج وارتقا کی تاریخ پر جب نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی سے بہت پہلے سے ہی یہاں اردو کو مقبولیت حاصل تھی ، عوام علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو میں ادب تخلیق کرتے تھے اور کشمیر سے نکلنے والےرسالوں میں ان کی تخلیقات شائع ہوا کرتی تھیں ۔( جموں آرکائیو میں آج بھی اس عہد کی دستاویزات موجود ہیں جن میں سرکاری اعلانات اور احکامات جاری ہواکرتے تھے ، اور پرانے اخبارات کی کچھ فائلیں بھی موجود ہیں ) ۔جموں کشمیر میں اردو کی توسیع کے تعلق سے ڈوگر حکمرانوں کا کردار قابل ستائش ہے ۔ مہاراجہ گلاب سنگھ (۱۸۴۶۔ ۱۸۵۷) ار مہاراجہ رنبیر سنگھ ۱۸۵۷۔۱۸۸۵)کے زمانے میں فارسی ہی سرکاری زبان کے طور پر یہاں بھی استعمال ہوتی رہی ۔ لیکن وہ عوام کی زبان نہیں بن سکی ۔ عوام کے لیے دفاتر میں بھی جس زبان کو استعمال کیا گیا وہ اردو ہی تھی۔مہاراجہ رنبیر سنگھ کا دور حکومت اس سلسلے میں خصوصاً قابل ذکر ہے۔ اس بادشاہ نے نہ صرف ملک کے دوسرے علمی مراکز سے سنسکرت ، فارسی ،اردو۔ہندی اور انگریزی کے دانشور بلا کر متعدد کتابوں کے ترجمے اردو،ہندی ، ڈوگری اور پنجابی زبانوں میں کرائے بلکہ اردو ہندی میں مشترکہ طور پر شائع ہونے والا پہلا اخبار ‘‘ بدیا بلاس’’ ۱۸۶۷ میں جاری کیااسی بادشاہ کی کوششوں کی وجہ سے اردو زبان عوام میں مقبول ہوئی ۔مہارجہ رنبیر کے بعد جب عنان حکومت مہاراجہ پرتاب سنگھ نے سنبھالی تو اس نے تعلیمی اداروں میں اسے ذریعہ ٴ تعلیم کے طور پر متعارف کرایا ۔اور ۱۹۲۴ میں لالہ ملک راج صراف نے ریاست کا پہلا مکمل اردو اخبار ‘‘ رنبیر ’’ جاری کیا ۔ اس اخبار کے اجرا سے ایک بڑ افائدہ یہ ہوا کہ مقامی شاعروں اور ادیبوں کو نشر و اشاعت کا ایک وسیلہ ہاتھ آگیا ۔ اس لیے تمام ادیبوں نے اس اخبار کی حمایت کی اور اس کی ترقی کی کوششوں میں لگے رہے اور اس طرح ان کی تخلیقات اس میں شائع ہوئیں اور وہ عوام میں مقبول ہوئے ۔اس اخبار میں صرف ادبی تخلیقات ہی شائع نہیں ہوتے تھے بلکہ ملک کے سماجی اور معاشرتی حالات پر تبصرے بھی ہوتے تھے اور خبریں بھی شائع ہوا کرتی تھیں۔
مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ (۱۹۲۵۔۱۹۴۷)نے بھی اردو کی سر پرستی کی ۔ انھوں نے ادیبوں اور شاعروں کیی تخلیقات پر انعام و اکرام کا سلسلہ شروع کیا ، دوسری ‘‘رنبیر ’’کے اجرا سے عوام میں اردو کو مقبولیت حاصل ہوگئی تھی۔اس لیے رنبیر سے متاثر ہوکر بے شمار دوسرے اخبارات و رسائل جاری ہوئے ۔اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ رنبیر کے اجرا کے سبب ہی صحافت کو مقبولیت حاصل ہوئی اور دوسرے اور اس خطے میں اردو صحافت کو فروغ ملا ۔ملک راج نے ۱۹۳۴ میں رسالہ ‘‘رتن ’’ جاری کر کے اسے مزید تقویت دی۔رنبیر اور رتن کے بعد اردو صحافت کو فروغ دینےکا کام نرسنگھ داس نرگس نے ہفتہ وار اخبار ‘‘ چاند’’ ۱۹۳۷ اور ‘‘ پریم ’’ ۱۹۴۳ میں جاری کر کے کیا۔ اس کے علاوہ ڈوگر راج میں انگریزوں نے بھی اردو زبان میں دلچسپی دیکھائی یہ ان کی مجبوری بھی تھی ۔ ان کی سرپرستی میں اردو کے دو رسالے نکلے ۔ رسالہ ‘‘ خدمت ’’ اور ‘‘ آئینہ ’’ یہ رسالے اگرچہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خبری مواد سے خالی تھے مگر ان سے اردو صحافت کو فروغ ضرور ملا ۔ ان رسالوں میں صحت کے علاوہ معاشرتی مضامین ہوتے تھے۔پروفیسر ظہورالدین نے اپنی کتاب Development of Urdu language and literature in Jammu region میں لکھا ہے کہ آزادی سے قبل جموں کشمیر سے تقریباً سو اخبارات و رسائل نکلتے تھے ۔
آزادی کے بعد بھی اردو صحافت ارتقا پذیررہی ۔ تقسیم ہند کے المیے سے پورے معاشرے کو نقصان ہوا ۔ صحافت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے لیکن یہ سفر جاری رہا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ آزادی کے بعد سب سے پہلے ہم جس اخبار کا نام لے سکتے ہیں وہ ‘‘ آفتاب’’ ہے جو ۱۹۵۶ میں شروع ہو ا او ر آج تک اسی تزک و احتشام سے جاری ہے اور ابھی کشمیر کا سب سے زیادہ مقبول اخبار ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیر سے نکلنے والےاہم اخبارات کے نام اس طرح ہیں :
کشمیر عظمیٰ وادی کی آواز الصفا
ندائے عام روشنی سری نگر ٹائمس
کشمیر ریز تعمیل ارشاد چٹان
رہبر اور کئی ہفتہ وار ی ماہانہ رسائل بھی ہیں ۔

China-Pak combined controversy against India

China-Pak combined controversy against India

We generally see two types of war in the world, through direct battle and through propaganda. Pakistan has the expertise in propaganda war, mainly against India. The fresh example of this is a letter written by Pak leaders to China in regard to riots in Muslim majority Xinjiang province of China. Expressing solidarity with the Chinese Government over the recent communal conflict in Xinjiang, the Pakistan Muslim League-Quaid (PML-Q) has said that the unrest was an attempt to destabilize China, and suggested that it was fanned by ‘hidden hands’. In a joint letter to Chinese President Hu Jintao, PML-Q President Chaudhry Shujaat Hussain and Secretary General Mushahid Hussain said they are with the people of China and would stand by them in thick and thin. The PML-Q leaders said they supported the ruling Communist Party of China’s (CPC) view that the recent spate of violence in Xinjiang was the handy work of some foreign and home based forces. “The PML-Q agrees with the CPC leadership that certain forces at home and abroad – the forces of religious extremism, separatism and terrorism – are fearful of a peaceful and stable China, and this heinous violent crime was elaborately planned and organised by these forces to destabilise China,” the letter stated. It said the violence was targeted at destabilizing China and weakening Pakistan and South Asia, as ‘China’s positive role in foreign affairs is a source of strength and stability for the region.’ The PML-Q leadership backed the steps taken by Beijing in order to counter the Xinjiang insurgency, and added that it hoped the conspiracy behind the unrest would be revealed soon. “We are convinced that with the wise and just policies of the CPC, unity and harmony will prevail, and all these conspiracies against China will be foiled.”

The recent conflict between India and China can be seen in this perspective also. China is also trying to harass India by starting its projects in Pak occupied Kashmir (PoK) and giving controversial statements regarding Jammu and Kashmir and Arunachal Pradesh of India. Now, a new concern for India is the statement given by a powerful separatist leader of Assam, Prabal Niyogi, in which he has said that due to non-favorable environment of Myanmar and Bangladesh extremist ULFA rebels are trying to set up their training camps in China. Niyogi said this on the side line of a conference on October 7, 2009 in Goahati on the topic “Conflict Management and Transformation of Ethics Nationalists and Societal Conflicts”. If China gives these rebels a green signal to set up their training camps on its soil then it could create a major problem for India.

*****

Tribal invasion was unprovoked aggression against Jammu and Kashmir

Tribal invasion was unprovoked aggression against Jammu and Kashmir

Read the rest of this entry »