Archive for August, 2009

کیسے یقین کریں ؟؟

یقین نہیں آتا کہ کیا کوئی مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے ۔ لیکن کیا کریں انھیں کانوں نے یہ خبر بھی سنی ہے کہ جنازے کے جلوس پر بھی ان دہشت پسندوں نے حملہ کر کے مرنے والے کے ساتھ کئی افراد کو ہمسفر بنا دیا ۔ جب یہ خبت آئی تھی تب بھی کانوں پر یقین نہیں ہوا تھا اور آج اس خبر پر بھی یقین نہیں آرہاہے ،لیکن یہی تو تلخ حقائق ہیں جن کو ہم سنتے بھی ہیں ، دل کو ٹھیس بھی پہنچتی ہے لیکن پتھرائی آنکھوں سے ان مناظر کو دیکھنے پر مجبور بھی ہیں۔28 اگست  کی دل دہلا دینے والی اس خبر سے بھی ہم جیسے  لوگوں کو کافی تکلیف پہنچی ہے کہ رمضان کے متبرک مہینے میں بھی  دہشت پسندوں  نے  اسلام کے ماننے والے پر عین افطار کے وقت حملہ کیا اور کئی لوگوں کو ہلاک کیا اور تقریبا 22 لوگوں  کو ہلاک کر دیا  ۔ رمضان کا متبرک مہینہ جس میں شا م کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ روزہ کھولنے کا وقت ہوتا ہے ، یہ ایسا وقت ہوتا ہے  جب اللہ تبارک و تعالی روزہ داروں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔ دنیا میں ہر جگہ شام کے وقت  لوگ افطار کے انتظام و انصرام میں مصروف ہوتے ہیں ۔ رمضان کی شاموں کی رونق اور برکت کے بارے میں وہی لوگ جانتے ہیں جو روزہ دار ہوتے ہیں ۔ لیکن ان اسلام کے نعرہ زنوں کو  اس کی بھی پرواہ نہیں ہوئی اور انھوں نے  چیک پوسٹ پر اس وقت خود کش حملہ کیا جب سب فوجی افطار کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ پاکستان اخبار کے مطابق‘‘ پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں طورخم چیک پوسٹ پر خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں بائیس سرحدی محافظ جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق  حملہ آور پیدل تھا اور اس نے اپنے ہاتھوں میں پانی کا جگ اور دیگر مشروبات پکڑ رکھا تھا اسی لیے اس کے  آنے پہ کسی کو شک نہیں ہوا اور سب کے سب  روزہ افطار کرنے کی تیاری کر رہے تھے اور وہ اپنے بیرکوں کے سامنے جمع ہو رہے تھے کہ اس دوران حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس دھماکے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کی بلڈنگ تباہ ہوگئی۔ جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان  بھی پہنچا۔’’ افطار کے وقت اگر کسی کے ہاتھ میں پانی کا جگ ہو اور وہ  روزہ داروں کی جانب آرہا ہو تو  کوئی بھی اسے اپنے پاس آنے سے اس لیے نہیں روکے گا کہ شاید یہ بھی روزہ دار ہے ۔ شاید ان محافظوں نے بھی یہی سوچ کر کہ اسے بھی افطار میں شامل کر لیں گے ، قریب آنے دیا ہوگا ۔لیکن انھیں کیا معلوم تھا کہ  روزہ دار کی شکل میں یہ موت کا پیغام بن کر آرہا ہے۔

        پاکستان کی صورت حال کے تناظر  میں یہ کوئی بڑی خبر نہیں ہے کیونکہ وہاں آج کل اس طرح کے حادثے معمول میں شامل ہیں ۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ  اس متبرک مہینے میں ا ور روزہ افطار کے وقت یہ حادثہ کر کے درا صل لوگوں کے اس عقیدے کو بھی ٹھیس پہنچایا ہے   کہ افطار  میں کسی کو شامل کرنا باعث خیر و برکت ہے اب شاید کوئی کسی مسافر کو ڈر سے اپنے یہاں افطار کے لیے مدعو کرتے ہوئے گھبرائے گا ۔ دہشت پسندوں کے حملوں کی تاریخ میں شاید یہ پہلا واقعہ ہے جو افطار کے وقت کیا گیا یہ  انتہائی  شرمناک اور غیر اسلامی ہے ۔ ظاہر ہے یہ ان کے وہ کرتوت ہیں جن کی وجہ سے وہ خود اپنے ملک میں بھی محفوظ نہیں اور حد تو یہ ہے کہ ان کا ملک  چاہے نہ چاہے امریکہ ان پر حملہ کر رہا ہے ۔ آج ان پر حملہ کر رہا ہے کیونکہ طالبان انھیں پسند نہیں ، کل کسی اور  کو امریکہ  نا پسند کرے گا ، تب بھی وہ حملہ کرے گا ، امریکہ کو اپنے ملک میں داخل ہونے کا راستہ تو در اصل ان طالبانیوں نے ہی  دیا ہے۔ اسی لیے رمضان میں بھی ڈرون حملے کی تباہ کاریاں بھی  جاری ہیں ۔تازہ ترین  اطلاعات کے مطابق امریکی ڈرون طیارے نے جنوبی وزیرستان کے علاقے کنی گورم میں ایک مکان کو نشانہ بناتے ہوئے تین میزائل داغے،جس کے نتیجے میں 8افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے طالبان کےخلاف آپریشن شروع کیے جانے کے بعد کنی گورم کے علاقے سے مقامی افراد نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک منتقل ہوچکے ہیں،جس کے باعث یہاں بیشتر مکان خالی ہیں اور ان پر طالبان قابض ہیں۔ ا س طرح پاکستان کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں سے اب تک نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے ۔ اب ذرا  غو رکریں کہ سال بھر کے انتظار کے بعد رمضان کا یہ متبرک مہینہ آتا ہے لیکن آج ان نقل مکانی کرنے والوں سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ ان کے روزے اور ان کی عید کیسے ہوگی ۔ اور مقامی طالبان کے رویے سے بھی یہ نہیں پتہ چلتا کہ آخر وہ کیا چاہتے ہیں اور دہشت کی اس انتہا سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا کوئی اس بات پر یقین کرے گا کہ کوئی مسلمان اس متبرک مہینے میں افطار کے وقت اپنے ہی بھائیوں کو خود کش حملے کا نشانہ بنائے گا۔؟؟

       

 

Jaswant Singh

 

 

جسونت سنگھ پر عتاب  : پس پردہ کون؟

بی جے پی یا آر ایس ایس

 

یہ جمہوری ممالک بھی کیا کیا تماشے دیکھاتے ہیں۔اکثر سچائی بولنے پر  پابندی عائد کی جاتی ہے اور سچ کو جھوٹ بنانے کی ترکیبیں بتائی جاتی ہیں۔لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ سچ کی وکالت کی جاتی ہے ۔ ہندستان میں تسلیمہ نسرین کو پناہ دینے اور اس کی قابل مذمت کتاب کی وکالت کرنے والی یہ بی جے پی جسونت سنگھ کی کتاب پر پابندی لگا کر اور انھیں پارٹی سے نکال کر دراصل آج اپنا اصل چہرہ لے کر عوام کے سامنے آئی ہے ، تسلیمہ نسرین کی کتاب پر  آزادی رائے کی وکالت کرنی والی اس پارٹی کو آج  کیا ہوا کہ اسی نے آزادی رائے پر قدغن لگا دیا۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر پارٹی اور عوام دونوں کوا لجھنوں کا سامنا ہے ۔سچائی ہمیشہ تلخ ہوتی ہے اور یہ بھی ایک کڑوی سچائی ہے ۔ آج کے جمہوری ممالک سیاست کے اسیر ہوتے جارہے ہیں اور کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست جمہوریت پر حاوی ہوتی جارہی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ سیاست اور جمہوریت کے مابین جو  ہلکی سی لکیر ہے اب اس میں بھی کوئی فرق رہے گا یا نہیں ۔ بات یہی ہے کہ ہندستان میں گذشتہ ایک دہائی سے مذہبی  شدت پسند حکومت پر حاوی رہے اور بی جے پی نام کی سیاسی پارٹی بنیادی طور شدت پسند ہند وتنظیم‘‘ آر ایس ایس ’’کے حکم پر چلتی ہے ،چنانچہ ان کی حکو مت کے آتے ہی ملک میں ہندو انتہا پسندوں کو شہہ ملی اور انھوں نے ہندستان جیسے سیکولر ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی سمت میں کوششیں تیز کردیں ، لیکن اسی درمیان پڑوسی ملک نیپال میں ہند وراج کا خاتمہ ہوگیا جو ان کے لیے بڑا دھچکا تھا کیونکہ دنیا میں یہی واحد ہندو ملک تھا۔ لیکن ان کے گرو ان کو  شہہ دیتے رہے اور پرگیہ ٹھاکر جیسی دہشت پسند سامنے آئی  جو مذہب کا لبادہ اوڑھے انسانیت کا خون کرنے لگی۔ اتفاق سے اس الیکشن میں انھیں کراری ہار کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔وہ بوکھلا گئے ، عام انتخابات میں بھی وہ بھوکھلاہٹ کے شکار تھے اسی لیے ورن گاندھی جیسے نوسیکھیئے نیتاوں نے بھی کھلے عام مسلمانوں کے ہاتھ کاٹ لینے کی بات کی ۔ اس وقت تو انھیں بڑا پسند آیا اور یہ سوچ کر خوش ہونے لگے کہ گاندھی فیملی سے ایسا شخص ملا ہے جو ہمارے زہر آمیز لب ولہجے میں بول سکتا ہے اس لیے شروع میں اسے ہوا بھی دینے کی کوشش کی لیکن  جلد ہی گو مگو کی کیفیت میں آگئے کہ کہیں یہ الیکشن میں الٹا اثر نہ کرے ۔ کچھ بڑے اور درمیانے نیتاوں  کو اس کا بھی ڈر تھا کہ ورون گاندھی کہیں ہیرو نہ بن جائے اور ہم سب پیچھے رہ جائیں  گے۔ بات یہ ہے کہ  یہاں ہندستان میں ایسی ہی اوچھی سیاست کرنے والے راتوں رات نیتا بن گئے ہیں ، خواہ وہ  مایا وتی کی بات کریں جو گاندھی جی کو گالیاں دے دے کر آج  وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھی ہیں ، خواہ وہ   اوما بھارتی ہو ں یا خود رتھ پر سوار ہو کر پورے ملک میں نفرت کی آگ بھڑکانے  والے لال کرشن  اڈوانی یہ سب کے سب اوچھی سیاست اور نفرت بھری تقریروں کے سہارے آگے کی صف میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔یہی حال مودی کا ہے وہ تو ان سب سے کئی قدم آگے نکل گئے ۔ پوری ریاست میں ان کی حکومت کے سائے تلے  مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے یہ کہا کہ پوری دنیا کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ۔ پتہ نہیں یہ بات وہ دل سے کہہ رہے تھے یا دل میں کچھ اور اور زبان پر کچھ اور تھا۔اگر وہ یہ مانتے تھے تو پھر یہ کیسے ممکن ہو سکا کہ مہینوں تک ریاست میں خون خرابہ ہوتا رہا اورملک  کے لیے شرمساری کی بات کرنے والے وزیر اعظم ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکے ، کاروائی تو دور کی بات ہے  گجرات میں  مسلمانوں کو تحفظ بھی فراہم نہیں کرسکے ۔ لیکن یہ اس ملک کی بد قسمتی دیکھئے کہ اسی  نریندر مودی کو اسی پارٹی نے اسٹار کمپینر بنا کر پیش کیا اور اس کے بعد ان کا  قداچانک آسمان  کی بلندی تک پہنچ گیا۔ یہ تو اس پارٹی کا نصب العین ہے ۔ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ آج سے کوئی دس برس قبل تک آر ایس ایس جو کھلے عام بات تک نہیں کرتی تھی ، آج وہی ہندو تنظیم ملک کی سب سے بڑی سماجی تنظیم بن گئی اور  بی جے پی اُس کی سیاسی پارٹی ۔ بہت دنوں تک لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش ہوتی رہی اور آج بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بی جے پی  کا  آر ایس ایس سےکوئی الحاق نہیں ہے ۔ مگر دورخہ پن دیکھئے کہ موہن بھاگوت کے اشارے پر وسوندھرا راجے سندھیا کو  راجستھان میں اپوزیشن کی کرسی چھوڑنی پڑی ۔ اس لیے یہ بات بالکل واضح ہے  کہ  بی جے پی آر ایس ایس کے اشارے پر چلنے والی پارٹی ہے ۔ اس میں موجود سید شہنواز جیسے نیتاوں کو اپنی  عاقبت کا خیال رکھنا چاہیئے اوران کو ووٹ دینے والے مسلمانوں کو بھی از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

خیر بات کہیں اور چلی گئی سوال  یہ ہے  کہ جسونت سنگھ نے کون سا ایسا کام کیا کہ انھیں  پارٹی نے بغیر شو کاز نوٹس دئے پارٹی سے نکال دیا ۔انھوں نے جو لکھا ایک تاریخی صداقت ہے ، یہ ان کا خالص علمی کام ہے لیکن بی جے پی کو یہ کیسے گوارا ہو گا کہ سرادر پٹیل جن کے نام کا نعرہ لگاتے یہ پارٹی وجود میں آئی ہے ، ان کی تاریخی غلطیوں اور تعصبا ت کو طشت از بام کیا جائے ۔ لہٰذا آناً فاناً انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا ۔لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی کہ انھوں نے محمد علی جناح کی تعریف و توصیف کی ہے یا اس سچائی کو بیان کرنے کی کوشش کی جس جانب اکثر لوگ تعصب کا چشمہ لگا کر بغیر کچھ سوچے الزام تراشی کرتے ہیں ۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ، ہندستان کی تقسیم میں کسی ایک کا قصور نہیں ہوسکتا ، اس میں کئی دانشور شامل تھے اور ملک کی غیر فطری تقسیم  کر کے پورے خطے کو آج اس نوبت  تک پہنچا دیا ہے کہ کل کے بھائی آج ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں ۔

جسونت سنگھ نے جو لکھا اس سے اختلاف بھی ممکن ہے اور اختلاف کی گنجائش بھی نکل سکتی ہے ۔ لیکن کیا آزادی رائے کو یہ پارٹی برداشت نہیں کر سکتی یا اس پارٹی کے آقا آر ایس ایس کو برداشت نہیں ؟۔ بات یہ ہے کہ فرقہ پرست  پارٹیاں کبھی اپنی تنقید نہیں سن سکتیں۔اس پر طرہ یہ کہ نریندر مودی نے اپنی ریاست گجرات میں اس کتا ب پر پابندی عائد کردی ۔ سوال یہ ہے   کہ کسی کتاب پر  پابندی عائد  کرنے کا یہ کونسا طریقہ اپنا یا گیا کہ کسی کمیٹی کی رپورٹ کی بھی درکار نہیں  ہوئی اور کتاب پر پابندی لگا دی گئی ۔ حالانکہ اس قبل اسی گجرات میں اقلیتوں کے دل کو ٹھیس پہنچانے والی کئی کتابیں سامنے آئیں ، لیکن ہزار مطالبے کے بعد بھی ان پر پابندی نہیں لگائی گئی ۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ گجرات حکومت کافیصلہ نہیں بلکہ شملہ میں  بی جے پی کے  اجلاس کا فیصلہ ہے اور یہ سب کو معلو م ہے کہ یہاں لیے جانے والے فیصلے بی جے پی کے کم اور آر ایس ایس کے زیادہ ہیں ۔ جلد بازی میں لیے جانے والے ان فیصلوں کےپس پردہ کون ہے ؟ یہ اس سیاق و سباق سے واضح ہورہا ہے ۔

 

Supreme Court of Pakistan and action against General Musharraf

The politics of Pakistan is revolving around General Musharraf since last one month. Everyone in Pakistan is demanding action against former President. But various political parties are raising this issue just to take political benefit from it. This has been the history of Pakistan that the political parties raise issues withount fully considering it and just to take political benefit out of it. As such these issues become a mere political agenda. The fresh example of this is that even those people are supporting the move against Musharraf who have been loyal to Musharraf in the past. They include some people from the judiciary also, though in the past they were in favour of Chadhuary Iftekhar, who provided legal secuirty to Musharraf in the past. But at that time no one raised voice against Chadhuray. It is the tragedy of Pakistan that its people forget the realities very soon. Now, the fight is between Musharraf and his natural enemy Nawaz Sharif. How it is possible that any political crisis emerges in Pakistan and there is not US and British involvement? But the question is whether the time is perfect for taking action against Musharraf? Or is it an effort to divert the attention of Pak people and international community from the turbulent situation of Pakistan? It this is so then it will sure hamper the on-going military operation against Taliban and other extremists. People will forget poverty and other main problems of the country and indulge in anti-Musharraf slogans. But there is division between the Government and the opposition on this issue. Perhaps one of its reasons is that the government is under foreign pressure. And the other reason for this difference may be that as the Chief Justice appointed by Musharraf, who is illegal in the eyes of opposition, performed the oath of present President Asif Ali Zardari. Then how is it possible that the President, who took oath in the hands of illegal Chief Justice, is himself right and legal? The other hurdle is that Prime Minister Yusuf Reza Gilani has said that if Parliament decideds unanimously to take action against Musharraf then his government is ready to try him. But, it is not possible as some members of Pakistani National Assembly are the supporters of former President General Parwez Musharraf. Nawaz Sharif is not happy with the statement of Gialni and does not think Parliament’s interference into this matter necessary. He is of the opinion that every dictator has tried to violate the constitution of the country. Police has filed an F.I.R. against former military dictator on the instructions of a session court of Islamabad, for detaining judges including Iftekhar Chaudhury, after imposing emergency in the country on 3 November. But no report was filed against him on the charges of treason. Now, everyone is asking the same question that whether Musharraf will be tried under the charges of treason. America will try to save Musharraf, because he was the true friend and ally of America in its war against terror. Musharraf was the one who allowed US drone strike in Pakistan and facilitated to act against Taliban by every means.

000

ہم عصر مجلاتی صحافت

 

 

          اردو میں مجلاتی صحافت  کی ایک عظیم اور شاندار روایت رہی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اردو میں صحافت کے آغاز و ارتقا کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ  روزناموں کے مقابلے میں رسائل و جرائد نے زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ بلکہ اردو صحافت میں یہ رسائل و جرائد سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ عام طور پر یہ کہا جاتا  کہ اردو میں ۱۸۵۷ سے قبل نثر داستانوں کی دنیا کی سیر کر رہی تھی ۔ اس کے ذخیرے میں طلسماتی فضا کے علاوہ زندگی کے حقائق اور ہم عصر مسائل عنقا تھے۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اسی عہد میں نثر نے بلندیوں کا سفر بھی طے کیا۔یہی وہ عہد ہے جس میں نثر کا دامن رنگا رنگ اسالیب سے بھر گیا۔ایک طرف غالب نے نثر کو براہِ راست تخاطب اور سادگی کا جوہر عطا کیا تو دوسری جانب سر سید احمد خان نے اردو نثر کو سائنسی اور اور تکنیکی اظہار کا ذریعہ بنایا ۔  

            اردو میں مجلاتی صحافت کا ارتقا یہیں سے ہوتا ہے ۔ سر سید احمد خان نے پہلی دفعہ صحافت کی اہمیت کو بھانپ کر ’’ تہذیب الاخلاق ‘‘ جیسا ادبی ، تہذیبی اور تعلیمی رسالے کا آغاز کیا ۔ اس رسالے نے اردو قارئین کو پہلی دفعہ یہ بتایا کہ نثر کی طلسماتی فضا کے علاوہ بھی اور رنگ ہیں  اور  ایسے رنگ ہیں جن میں زندگی کی تصویروں کو بے حجاب دیکھ سکتے ہیں ۔یہ وہ نکتہ آغاز تھا کہ جس بعد نثر میں تنوع پیدا ہوتی ہے اور صحافت کے ذریعے ادب کا رشتہ زندگی سے استوار ہوتا ہے۔ مجلاتی صحافت میں اگر ابتدائی عہد کی بات کریں تو  پتہ چلتا ہے کہ اولاً ادب اور صحافت میں کوئی حد فاصل نہیں تھا بلکہ ادب کے ساتھ ہی صحافت کا نام لیا جاتا تھا۔مگر موجودہ عہد میں صحافت اور ادب کی سرحدیں جداگانہ ہی نہیں ان میں ایک واضح اور نمایاں فرق ہے ۔ آج ادب کچھ اور ہے۔  اور صحافت با لکل ہی الگ صنف اور شعبے کی حیثیت حاصل کر چکی ہے

             رسائل وجرائد کے موجودہ منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو اس میں  خوشگوار اضافے دیکھنے کو ملیں گے۔ اردو میں اب ہر طرح کے رسائل دستیاب ہیں ۔ اب تو موضوعاتی سطح پر بھی مختلف اداروں سے نکلنے والے رسائل کا جائزہ لیں تب بھی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے ۔ادبی، سیاسی ، تہذیبی، تعلیمی ، مذہبی اور تفریحی ہر طرح کے اردو رسائل بازار میں  موجود ہیں اور قارئین کا ایک بڑا حلقہ ہےجو اپنی اپنی پسند کے اعتبار سے ان رسالوں کو پڑھتا ہے۔ مذہبی رسائل کے حوالے سے ان دنوں ایک خوشگوا ر اضا فہ یہ ہوا ہے کہ پہلے عام طور پر اسے قدامت پسند کہا جاتا تھا اور ان پر تبصرے اور تجزیے بھی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن اب ضرورت ہے کہ جس طرح وہ وقت کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے اپنے مواد اور معیار میں تبدیلیاں لا رہے ہیں، انھیں بھی اس منظر نامے  میں جگہ ملنی چاہیے۔

            مثال میں دہلی سے نکلنے والا رسالہ ’’ جام نور ‘‘ کو دیکھیں ۔ ظاہری ساخت اور نوعیت کے اعتبار سے  یہ ایک مذہبی رسالے میں شمار کیا جاتا ہے مگر ایسا کہنا قطعی درست نہیں ہے کیونکہ اس رسالے کے مشمولات کو دیکھیں تو ان میں حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی موجود ہے اور مختلف دانشوروں کے خیالات بھی ہوتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ دانشور صرف مذہبی حلقے کے ہی ہوں ۔ بلکہ اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس میدان کے ماہرین کی رائے شامل کی جائے۔ اس کے مدیر اعلیٰ خوشتر نورانی ہیں جو نئی فکر کے حامل ہیں اور دینی تعلیم سے مزین بھی ہیں ۔ اس کی تصدیق ان کے اداریوں کو پڑھ کر کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں دینی اعتبار سے بین الاقوامی سطح پر جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی تفصیلات بھی اس رسالے میں موجود ہوتی ہیں۔ا ور اس ادارے نے کئی خصوصی نمبر بھی شائع کیے جن میں دینی مباحث کو نئے منظر نامے میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ ایک بڑی بات ہے کے اس طرح کے رسالوں نے اپنا کینواس کافی وسیع کیا ہے۔یقیناً یہ رسائل آنے والے دنوں میں مشعل راہ ثابت ہوں گے۔

            دہلی سے شائع ہونے والا ایک اہم سیاسی و سماجی رسالہ ‘‘ نیو ایج ویژن ’’ ہے ۔ یہ رسالہ ارد و صحافت میں ایکBreak through  ہے ۔ اب تک اردو میں اس نوع کا رسالہ  نہیں نکلا ہے ۔ اپنی پیشکش ،  طباعت اور زینت کے اعتبار سے یہ انگریزی کے کسی رسالے سے کم نہیں ہے ۔ اس میں تمام تر سیاسی و سماجی موضوعات   کو  جگی دی جاتی ہے اور  ہر شمارے میں کسی اہم شخصیت کا انٹرویو بھی شامل ہوتا ہے ۔  اس کے مدیر اعلیٰ بھی  خوشتر نورانی ہیں۔ اس رسالے نے اردو صحافت کے دیرینہ مفروضے کو ختم کیا ہے یعنی عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ اردو صحافت میں صرف مسلم تہذیب اور مسائل پر آنسو بہائے جاتے ہیں ، لیکن یہاں ملکی ، ملی ، عالمی اور عالم اسلام ، طب و صحت ، کھیل اور  اس طرح کی فلموں پر تبصرے  شامل ہوتے ہیں جو مسلم تہذیب پر لکھے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ دیکھنے کی کوشش ہوتی ہے کہ ان فلموں میں سچائیوں کو کتنا مسخ کیا گیا ہے اور کس طرح انھیں پیش کیاگیا ہے ۔ اس رسالے کی انھیں خوبیوں کی بنیاد پر اسے پورے ملک میں دیکھتے ہی دیکھتے شہرت مل گئی ۔