Archive for April, 2009

عہد حاضر کے تناظر میں تکنالوجی کی اہمیت

اردو کے حوالے سے

جدید تر ین ٹکنالوجی کو جب ہم اردو کے نقطہ ٴ نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ اکثر ٹکنالوجی اردو زبان سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں ۔ان تمام پہلوؤں پر الگ الگ گفتگو کرنے کی ضروت ہے ۔ظاہر ہے اس کے لیے وقت بھی درکار ہے ۔ لہٰذا یہاں ہم صرف انٹرنیٹ کی افادیت اور اردو زبان میں اس کو رواج دینے کی ضرورت پر گفتگو کریں گے۔
لیکن اس سے قبل ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں جو ‘ اردو زبان’ کے حوالے سے ہے ۔اکثر اردو زبان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ زبان اب مر رہی ہے اور اس کے امکانات محدود ہوتے جارہے ہیں ۔لیکن یہاں میں بی بی سی کی ایک رپورٹ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ بی بی سی کاخود مختار ادارہ ہے جو خبر رسانی کے سبب پوری دنیا میں اپنی شناخت اور اہمیت رکھتا ہے ، اس کے سائٹس پر Urdu learning کی سہولت بھی موجود ہے ۔لیکن اس سائٹس پر اردو سیکھنے کے عمل سے پہلے Home Page پر جو چند جملے اردو زبان کے حوالے سے لکھے گئے ہیں اُن پر غور خوض کرنا زیادہ مناسب ہے تاکہ ہم اردو زبان کی وسعت کا اندازہ بھی کرسکیں۔ملاحظہ فرمائیں:

Why learn Urdu?
1. ” It is a living language spoken by 490 million people around the world.
2.”The Urdu community in the UK numbers about one million speakers.
3 ” It is not just a practical language spoken on a daily basis, but one that produced scholarships and poetry.
www.bbc.uk/urdu. بحوالہ

پہلے جملے میں بی بی سی نے جو اعداد و شماردی ہے ،وہ قابل غور ہے کیونکہ ہر طرف اور کم از کم ہندستا ن میں باربار یہ بات کہی جاتی ہے کہ اردو زبان ختم ہو رہی ہے اور اس کا مستقبل بہت روشن نہیں۔آپ سب جانتے ہیں کہ زبان کے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بولنے والے کتنے ہیں ۔ہم اردو بولنے والے جب بھی اعداد و شمار کی بات کرتے ہیں تب یا تو سرحدوں کی لکیروں میں کھو جاتے ہیں یا اپنے ملک کے محدود رواج اور حکومت کی بے بنیاداعداد و شمار پر صبر وسکون کر لیتے ہیں۔حالانکہ حقیقت بالکل اس کے بر عکس ہے۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیامیں انگریزی کے بعد جس زبان نے وسیع علاقوں میں ہجرت کی ہے وہ اردو ہے ۔یعنی عالمی سطح پر اردو کو اس اعتبار سے دوسرا مقام حاصل ہے۔
قابل توجہ امر :
بی بی سی کے مطابق ارود بولنے والوں کی تعداداگر 490 million ہے تو اس میں سے ایک ڈیڑھ سو ملین ایسے ضرور ہوں گے جو رسم خط سے واقف نہیں ہیں ۔ایسے لوگوں کی تعداد ہندستان میں اور مغربی اور یوروپی ممالک میں زیادہ ہے ۔پاکستان کے بارے میں مجھے علم نہیں۔لیکن مغربی اور یوروپی ممالک میں نئی نسل کی ایک بڑی تعداد ہے جو اردو تو بولتی ہے مگر پڑھ لکھ نہیں سکتی۔یہ طبقہ جدید طرز تعلیم سے ہم آہنگ ہے ۔معمولی معلومات کے لیے بھی نئی نسل کے بچے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں ۔انٹرنیٹ ان کے تدریسی نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔اس صورت حال کو ذہن میں رکھیں اور سائبر اسپیس کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے انٹرنیٹ پر اردو میں اُتنا کچھ موجود نہیں جتنا کہ ضرورت ہے ۔ او ر اِ س سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم نہ صرف کمپیوٹر کو اپنے نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں بلکہ اسے ایک Basic tool کی حیثیت بھی دیں ۔کیونکہ یہ آج کے دور کی بڑی ضرورت اور اردو زبان کو فروغ دینے میں اس کا بڑ ارول ہو سکتا ہے ۔ یہ رول کیسا اور کس طرح ہوگااس پر ذیل میں ہم چند نکات کی جانب اشارہ کرنا چاہیں گے۔
آج کے دور میں علم کی وسعتیں بے کنار ہیں اور اس کی جہتیں بھی تبدیل ہوچکی ہیں ۔علم کے اس بحرِبے کنارکا تصور اب بدل چکا ہے۔یہاں میں علم کے اُس سمندر کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو زمین میں نہیں خلاوٴں میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔یہ سمندر آج کی دنیا کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اگر اس کی موجوں کے تلاطم سے کوئی تہذیب ،خطہ، ملک یاقوم آشنا نہ ہوئی تو اس گلوبل ولیج میں شاید اس کی حصہ داری نہ رہے۔جی ہاں! سٹیلائٹ کے نظام پر مبنی تیزی سے گامزن دنیا کی تمام تر معلومات اور تمام تر امکانات اسی سمندر کی گہرائیوں میں پنہاں ہیں ۔ اس سمندر سے موتی وہی چُن کر لائیں گے جو غوّاص اور شناور ہوں گے ہیں ۔عہد حاضر کی تمام ترقی اورتنزلی اسی سے منسوب ہے ۔لیکن گھبرانے کی بھی کوئی بات نہیں کیونکہ اس مضطرب اور تلاطم خیز سمندر تک رسائی آپ کی Finger Tips(انگشت کی پوروں) سے ہوسکتی ہے۔ کمپیوٹر کے Key Board پر انگشت رکھ کر دنیا اور دنیا کے تمام علوم و فنون اور ممکنہ معلومات آپ گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہی سائبر اسپیس ہے اور یہی خلاوٴں میں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمند ر ہے۔سائبر اسپیس کی جو تعریف کی گئی ہے وہ کچھ اس طرح ہے:

“Cyberspace” is a term coined by a science fiction writer to describe the place where data is stored, transformed and communicated. Its meaning has broadened to include the full array of computer-mediated communications and interactions.”


یعنی سائبراسپیس عہد حاضر کا وہ خزانہ ہے جہاں علوم و فنون اورمعلومات کا ذخیر ہ پنہاں ہے۔یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس سے ہم آہنگی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
انسانی زندگی ارتقاءکی منزلیں طئے کرتی ہوئی آج جس دور سے گزر رہی ہے اسے ہم (Cyber Age) کا نام دے سکتے ہیں۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرے میں ترسیل و ابلاغ کے ایک بالکل نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی معاشرے نے اس سے قبل بھی بہت ساری تبدیلیاں دیکھیں ہے، لیکن یہ تبدیلی جس قدر جلد رونما ہوئی اسی سرعت کے ساتھ اس نے انسانی سماج کے ہر شعبے میں خود کو ایستادہ کرلیا۔ ترسیل کے اس نئے زاویے سے دنیا سچ مچ واقعی ایک گلوب نظر آنے لگی اور دنیا کے ایک کنارے بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنے والے انسان سے نہ صرف ہمکلام ہونے لگا بلکہ اس کے ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے اس کے جذباتی تغیرات کے نشان چہرے پر تلاش بھی کرنے لگا۔ ہزاروں میل کی دوری کلیدی تختے پر انگلیوں کی ذرا سی جنبش کے ذریعے طئے ہونے لگی۔ اس طرح ٹکنالوجی کی اس انقلابی دنیا کو سائبر اسپیس کا نام دیا گیا۔ زبان اور ادب کا تعلق بھی اسی انسانی معاشرے سے ہے اور ان پر بھی اس تبدیلی کا ویسا ہی اثر ہوا جیسا کہ زندگی کے دوسرے شعبو ںپر ہوا ۔ ادب نے جب ڈیجیٹل اوتار لیا اور برقی تاروں اور مصنوعی سیاروں کے زریعے دور دراز کا سفر طئے کرتے ہوئے اپنی ایک الگ ڈیجیٹل دنیا تشکیل دی تو اسے ادبی سائبر اسپیس کے نام دیا گیا۔
آج جبکہ جدید ٹکنالوجی نے گلوبل گاﺅں اور آفاقی سماج کی بنیاد ڈالی ہے ، ادب اس سے کیسے الگ رہ سکتاہے۔ ادب بھی برقی لہروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو جدید ترین رجحانات کو اپنانے کی اپنی قدیم ترین روایت پر قائم رہے اور جدید ٹکنالوجی کو اپنے وسیع دامن میں جگہ دے۔ کیونکہ اب مسئلہ انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کے مفید اور غیر مفید ہونے کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آیا ہمارے اندر اس سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ادب کے اپنے قاری تک پہونچنے وسائل کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے اس معاشرے کو سمجھنا جس میں ہم رہ رہے ہیں اور آج کا معاشرہ صارفیت زدہ معاشرہ ہے۔ میں بھی اپنی بات بتانے کے لئے مارکیٹنگ کی ہی تھیوری کا استعمال کر رہا ہوں۔ معیشت کا ایک بہت ہی واضح اصول ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول ہے۔
عہد حاضر کو ہم تشہیری اور برقی یا ڈیجیٹل دور کہہ سکتے ہیں ۔
اس دور میں وہی قومیں ، نسلیں اور وہی تہذیب و تمدن زندہ رہیں گی جو وقت کے تقاضے اور مطالبے کو اپنائیں گی۔
موجودہ دور

تشہیری برقی
(۱)تشہیری : آج اسی کو اہمیت، تفوق،مقبولیت حاصل ہے جو اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہے۔
وگرنہ ہمیں جودستیاب ہیں اُن سے بھی بہت سی اچھی چیزیں موجود ہیں لیکن عدم تشہیر کے سبب اُن کو اِس صارفی دنیا میں اہمیت ، مقبولیت او ر تفوق حاصل نہیں ہے۔
اس زمرے میں مختلف اداروں ، اور تنظیموں کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں کہ جو صرف دکھاوے کے لیے موجود ہیں مگر تشہیر کے سبب دنیا ان کو تسلیم کرتی ہے اور جو تشہیر سے دور ہیں انھیں وہ لائق اعتنا نہیں ہیں ۔
(
۲)

انٹرنیٹ ٹیلی ویژن ریڈیو دیگر ذرائع

ویب سائٹس بلاگس ای میل گروپ میل چیٹینگ یوٹیوب بلاگس اورکوٹ فیس بُک آرکائیوز

ویب سائٹس :www. سے تمام Sites کُھلتے ہیں ۔جس کا مطلب ہے ۔Word Wide Web یعنی ایسا جال جس کے سہارے ساری دنیا میں رسائی ہو سکتی ہے۔اس منزل میں میں آپ کی خواہش اور جستجو کے مطابق تمام چیزیں دستیاب ہیں ۔شرط یہ ہےکہ آپ کو اس راہ کی نزاکتوں کا علم ہو۔
ای میل : اب شاید آنے والی نسلوں کو خطوط غالب یا غبار خاطر جیسی تحریریں پڑھنے کو نہ ملیں ۔
کیونکہ اب خطوط کا زمانہ رخصت ہوچکا ہے ۔آنے والا وقت شاید ای میل اور بلوگس کا زمانہ ہوگا۔
چیٹینگ : جی ہاں ! غالب کا یہ شعر بھی شاید آنے والی نسلوں کے لیے مہمل ہوجائے کہ :
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں کیا وہ لکھیں گے جواب میں
کیونکہ جدیدتکنالوجی کی موجودگی میں اب نئی نسل کے لیے کسی کو قاصد بنانے کی ضرورت لوگوں کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ اپنے پیغام کو اہتمام سے لکھیں ، اسے اہتمام سے پَیک کریں اور قاصد کے حوالے کریں ۔اب تو انگلیوں کی جنبش سے نہ صرف براہ راست گفتگو ہو سکتی ہے بلکہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں ۔
( (Messengerکے ذریعے۔
آرکائیوز: جو چیزیں ابھی ویب پہ دستیاب ہیں وہ کسی بھی وقت آپ دوبار ہ ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔ اس کے لیے نہ تو الماریوں کی ضرورت ہے اور نہ کتابوں کو دیمک سے بچانے کی فکر ہے۔
بلاگس: انٹرنیٹ پریہ ایساصفحہ ہے جس کوکوئی بھی آسانی سے اس کا استعمال کر سکتاہے ۔ دوسروں کی تحریریں بھی پڑھ سکتا ہے اور اپنی بھی تحریریں اس پر اَپ لوڈ کرسکتا ہے۔
یوٹیوب: یہ نیٹ ورکینگ سائٹ بنیادی طور پر ویڈیوز اَپ لوڈ کرنے کے لیے ہے۔ اس میں آپ کسی بھی موضوع پر موجودہ حالات و کوئف سے متعلق کسی بھی طرح کی ویڈیو کِلپینگ (Video clippings)کو دیکھ سکتے ہیں یا اپنے کسی پروگرام کی Video clippings اَپ لوڈ کر سکتے ہیں ۔ یہی وہ سائٹ ہے جس میں ‘ فتنہ ’ نامی فلم اَپ لوڈ کی گئی تھی ۔اس کا جواب بھی اسی سائٹ پر آیا تھا۔
گروپ میل: اجتماعی طور پر چھوٹے گروپ سے بیک وقت رابطے اور اظہار خیالات کے لیے اس طرح کے میل کو Create کیا جا سکتا ہے۔اس کے ذریعے ایک ہی پیشے یا ایک ہی طرح کے فرائض سے جُڑے ہوئے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو رابطے میں رکھ سکتے ہیں۔
اورکوٹ: نئی نسل کے لئے انٹرینٹ کا یہ نیا تحفہ ہے ۔یہ سوشل نیٹ ورکینگ سائٹ ہے۔ اس کے ذریعے اپنے آپ کو دوسروں سے متعارف کرانا ، دوسروں سے متعارف ہونا،اسکریپینگ(Scraping) وغیرہ اور بھی بہت کچھ۔( اس جیسے اور بھی سوشل نیٹ ورکِینگ سائٹ ہیں جیسے Perfspot, Pagii وغیرہ )
فیس بُک : یہ اورکوٹ سے بہتر ہے اس میں کسی سے آئن لائن چیٹینگ بھی کر سکتے ہیں اور اس میں اِ ن باکس (Inbox) کی سہولت بھی موجود ہے۔اس طرح کے نیٹ ورک دراصل نئی کو پسندبھی اور یہ انھیں طرح طرح کی سہولیات بھی مہیا کراتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ Interactive سائٹس ہیں ۔
دیگر ذرائع: موبائل ، فیکس اور دیگر ڈیجٹل ٹکنالوجی وغیرہ ۔

حصہ دوم :
اب اہم سوال یہ ہے کہ ہم ان تمام ٹکنالوجی کو کس طرح ارود میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ اس کا بہت آسان اور سیدھا سادہ طریقہ ہے ۔اس کے لیے سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم کمپیوٹر کو اردو میں تبدیل کریں ۔ Exp اور Vista دونوں کو ہم پورے طور پر اردو میں استعمال کرسکتے ہیں ۔
تکنیکی ہدایات
یہ ہدایات ان لوگوں کے لیے ہے جو Windows XPیا Vista استعمال کرتے ہیں
اپنے کمپیو ٹر پر اردو لکھنے کے لیے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں،اس طرح آپ اپنے کمپیوٹر پر ان پیج کے علاوہ Word پر پربھی اردو میں سوالات لکھ سکتے ہیں۔اگر آپ کے کمپیوٹر میں بیک اپ فائل ہے تو Windows XP کی CD کی ضرورت نہیں،ورنہ Windows XP کی CD ڈالیں۔1۔ پہلے Start بٹن سے Control Panel میں جا کرRegional and Language Options پر کلک کریں2۔ لینگویج ٹیب کا انتخاب کریں اور انتخاب کرنے کے بعد Install Files for Complex Script and right –to-left languages(Including Thai) پر ٹک) (√کا نشان لگائیں۔3۔ پھر Apply بٹن کو کلک کریں ۔4۔ پھرDetails بٹن پر کلک کریں ۔5۔ اس کے بعد Add بٹن پر کلک کریں۔ پھر Input Language پر کلک کر کے Urdu کو منتخب کر لیں ۔اس کے بعد آپ باہر آجائیں ۔
اور Key Board layout /IME: پر کلک کر کے Phonetic کو منتخب کرلیں۔اس کے بعد OK بٹن کلک کر کے باہر آجائیں۔
اب آپ اردو فونٹ انسٹال کرلیں
فونٹ اور کی بورڈ کی دستیابی : نیو ایج میڈیا سینٹر ڈاٹ کوم یا روزنامہ جنگ یا اردو نیوز اردو ڈاٹ کوم کی سائٹ سے اردو فونٹ اور اردو فونیٹک کی بورڈ داؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔
( میں احتیاطاً یہ دونوں چیزیں ڈسٹینس ایجوکیشن کی ڈائریکٹر صاحبہ کو دے کر جا رہا ہوں جو صاحب اسے لینا چاہیں ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔یا میری موجودگی میں اگر آپ اپنے کمپیوٹر پر یہ سہولیات چاہتے ہیں تو میری خدمات حاضر ہیں )
نوٹ: ان ہدایات پر عمل کرنے کے بعد آپ کے کمپوٹر کے نیچے لائن میں Taskbar پر EN کا نشان بن کر آجائے گا۔اب آپ کوجب بھیWord میں اردو لکھنا ہو یا ای میل کرنا ہو یا کسی اور پروگرام پر کام کرنا ہو آپ بصد شوق پورے کمپیوٹر کو اردو میں استعمال کر سکتے ہیں ۔صرف اتنا کرنا ہے کہ Taskbar پر EN کو کلک کریں گے توکا نشان دکھے گا۔اس پر کلک کرکے براہ راست اردو میں لکھنا شروع کر دیں۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی دشواری ہو تو ہمیں میل کریں۔
khwajaekram@gmail.com
khwajaekram@yahoo.co.in
Ekramuddin@mail.jnu.ac.in
ظاہر ہے اس مختصر وقت میں اس سے زیادہ اور بات نہیں کی جا سکتی اس لیے باقی تمام ذرائع یا نیٹ ورک کا استعمال کیسے کیاجاسکتا ہے؟ یہ آپ کے شوق پر منحصر ہے۔ آپ کمپیوٹر پر Trail and error سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔

ہندستان کے عام انتخابات

سیکولر اور جمہوری جماعتوں کا اتحا د یا سیاسی فریب؟

             یہ پہلا موقع ہے کہ ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی سیاسی پارٹیوں میں ہلچل پید اہونے لگی تھی ۔ بہت کم وقت میں پُرانے دوست دشمن بن گئے اور پُرانے دشمن دوست ۔۱۲/مارچ کو اس سیاسی فریب کی ایک خوبصورت نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔منتظم کار ہندستان میں سیکولرزم کا نعرہ لگانے والی بائیں بازو کی پارٹی تھی۔ اس محاذ کی پہلی ریلی بنگلور میں منعقد کی گئی تھی۔ اس کا مقصد تھا ملک میں کانگریس اور بی جے پی کا متبادل ڈھونڈھنا ، چنانچہ بہت کم عرصے میں سیکولر پارٹیاں بھی ڈھونڈ لی گئیں ۔اس محاذ میں شامل وہی سیاسی پارٹیاں ہیں جو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی سیاسی اقدار کی پاسداری کی قائل نہیں ۔ان میں جو بڑے نام ہیں ان میں ایک چندر بابو نائیڈو کا ہے ۔یہ وہی سیاسی بازیگر ہیں کو جو کبھی سیکولر پارٹی کے اتحاد میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ لیکن جب این ڈے اے کی حکومت بنی تو اس میں رابطے کا کام انہی کے سپرد کیاگیا ۔ اور پورے پانچ سال تک حکومت میں رہنے والی بی جے پی کے قریبی رہے ۔یہ وہ دور تھ اجب چندر بابو نائیڈو کو این ڈے اور بی جے پی کا دست راست سمجھاجاتا تھا۔لیکن جب ۲۰۰۳کے انتخاب میں این ڈے کو ناکامی ملی تو یہ بھی سیاست کی میدان میں باؤنڈری پر آگئے ۔معاملہ یہ ہے کہ ابھی تک اوپر اٹھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے لہٰذا انھوں نے این ڈے سے اپنا رشتہ ختم کرکے کسی تیسرے متبادل کی تلاش میں نکل آئے ۔

یہی حال سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا کا ہے ۔ یہ وہ صاحب ہیں جنھیں اتحاد کی مجبوری نے ملک کا وزیر اعظم بنایا ۔ان کے وزیر اعظم بننے کے پیچھے صرف یہی وجہ تھی کہ ملک کو فرقہ پرستوں سے بچانا ہے۔چنا نچہ وہ ملک کے وزیر اعظم بنے اور گمنام زندگی گزارنے والے راتوں رات ملک کے نقشے پر چھا گئے لیکن وزرات عظمیٰ کی کرسی ختم ہوتے ہی ان کی سیاسی شخصیت بھی غروب ہونے لگی۔ کسی طرح اپنی ساکھ بچاتے ہوئے کرناٹک میں اپنی پارٹی کو تھوڑی بہت کامیابی دلائی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بی جے پی کے ساتھ مل کرکرناٹک میں حکومت بنائی۔ اگر جنتا دل سیکولرنے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کیا ہوتا اور اسمبلی الیکشن میں سیکولر پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتے تو آج کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہوتی۔ سوال یہی ہے کہ جب ریاست میں اسبملی الیکشن ہوتا ہے تو اس وقت سیکولر پارٹیوں کا خیال نہیں آتا لیکن آج جب پارلیمانی انتخاب ہور ہاہے تو سیکولر جماعتوں کی یا د ستانے لگی ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پھر سیکولر پارٹیوں کو ہرانے کے لیے یہ سارے ڈرامے سیکولرزم کے نام پر کیے جارہے ہیں۔

            تیسری شخصیت مایاوتی کی ہے ۔ یہ مایا جی بھی سیاست کی مایا جال میں ایسی گھری ہوئی ہیں کہ انھیں وزرات عظمیٰ کی کرسی کے علاوہ کچھ پسند ہی نہیں ہے ۔ انھوں نے بھی اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے اور سیاسی فائدے اٹھانے کے لیے کبھی بھی بی جے پی سے ہاتھ ملانے میں کوئی تکلف نہیں کیا ۔لیکن اب سیکولر پارٹیوں کے اتحاد میں بھی شامل ہوکر خود سیکولر کہلانے اور سیکولر اتحاد کے ساتھ حکومت بنانے کا اعلان کرکے ملک کو فریب دینے میں یہ سب سے آگے نظر آرہی ہیں۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی انھوں نے اس محاذ میں شامل ہونے کی شرط بھی یہ رکھی ہے کہ انھیں وزیر اعظم بنایا جائے ۔ ان کی اس خواہش نے اس اتحاد میں ابھی سے درار ڈالنے کی ابتد اکر دی ہے کیونکہ کچھ پارٹیوں کو یہ گوار انہیں اور کچھ پارٹیاں بغض معاویہ میں سب کچھ کرنے کوتیار ہیں ۔

            یہ تو ان شخصیات کا حال ہے ۔ ا ب ذرا سیکولر زم کے چمپئنز کی بھی بات سنیں ۔ پرکا ش کرات، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری جو اس کے روح روان ہیں ۱۲/تاریخ کی ریلی میں محاذ تشکیل دیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سبھی جمہوری، سیکولر اور بائیں بازو جماعتوں کا تیسرے محاذ کے لیے ایک ساتھ ہونا ایک تاریخی موقع ہے۔جی ہاں تاریخی اس لیے کہ ان میں کوئی بھی سیکولر نہیں ہیں ، سب کے سب سیکولر زم کے نام پر ملک و قوم کو فریب دینے والے ہیں ۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ تیسرا محاذ عوام کے لیے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیکولرزم کی لڑائی کے لیے کھڑا رہے گا اور غریب طبقے کے لیے لڑے گا۔یہ آپ بھی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جس اتحاد میں ایسے لوگ شامل ہوں گے اس اتحاد کے لیے یہی پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ اگر انھیں موقع ملا تو سب سے پہلے بی جے پی سے یہی ہاتھ ملائیں گے۔

اب جیسے جیسے الیکشن قریب آر ہا ہے آپس کے اتحادی ایک دوسرے کے دشمن بنتے جارہے ہیں نجانے ان کی اخلاقیات کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور یہ کس مٹی کے بنے ہیں کہ تمام تر احسانات کو بھول کر لوگ ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں ۔

          اس رسہ کشی سے خطرہ اس بات کا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس کی قیادت لا ل کرشن اڈوانی کر رہے ہیں ،ان تمام جھگڑوں کا فائدہ انھیں کو ہوگا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک با ر پھر دہشت پسند جماعت ملک پر حکمرانی نہ کرے۔ پھر اس ملک کا بھی خدا ہی حافظ  

طالبان کا خوف

پاکستان اور ہندستان کے اخبارت میں آئے دن طالبان کے حوالے سے اس طرح کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں کہ کہیں سوات کے معاہے سے طالبان خود سر نہ ہوجائیں اور سوات کے بعد دیگر علاقوں پر بھی اس طرح قابض ہونے کی کوشش مہ کریں ۔ صحافیوں کے ان خد شات کے درمیان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کا یہ بیان کہ ‘‘ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اورطالبان سوات کے ساتھ متنازعہ امن معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی طالبان سوات کے بعد دیگر علاقوں پر بھی کنٹرول چاہتے ہیں، عسکر یت پسندی سے نمٹنے کیلئے اعتدال پسندطالبان سے مزاکرات ہونے چاہیں‘‘ نواز شریف صاحب نے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کا حل طاقت کا استعمال نہیں ۔بالکل درست لیکن اگر عسکری طاقت نہیں تو سیاسی طاقت کی ضرورت تو پڑے گی ! کیا اس کے لیے تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہو کر کوئی لائحہ ٴ عمل طے کر پائیں گی اور اگر ایسا نہیں ہوا تو یقیناً سوات کے بعد دیگر علاقوں میں بھی اس طرح کی کوششیں کی جائیں گی، سوال یہ نہیں ہے کہ شریعہ لا درست ہے یا نہیں ؟ یون بھی شریعت کے معاملے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ کیونکہ شریعت کا قانون سب سے اولیٰ ہے ۔لیکن بات اس کے نفاذ کی ہے اور یہ معاملہ  طریقہ کار سے تعلق رکھتا ہے ۔ ایک ہی خطے میں دو قانون کیسے چل سکتا ہے ؟ اور جس طرح سے ابھی ایک خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ساری دنیا میں اس کی مخالفت ہوئی اور پردے کے حامیوں نے ہی سر عام ایک لڑکی کو بے پردہ کیا اس کا جواز کیا ہے ؟ یہ بھی تو سوچنا پڑےگا۔ اس کے علاوہ اگر شریعہ لا لانا ہے تو اس کے لیے بھی سنجیدگی اور متانت سے کام ہو سکتا ہے ۔لیکن جس انداز سے سوات میں صوفی محمد صاحب اور سیاسی لوگوں کے درمیان خیالات کی غیر ہمواری ہے اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے ۔ سب کو معلوم ہے کہ اسلام اور جمہوریت میںٕ کوئی تضاد نہیں ۔ اسلام نے ہی جمہوریت کی راہ دیکھائی ہے ۔تو پھر جمہوریت اور شریعہ کے درمیا ن یہ تضاد کیوں ہے ؟

ان تمام اور اس جیسے اور بھی سوالوں کے جوابات ہمیں ڈھونڈ نے ہوں گے اور مثبت طرز پر بحث و مباحثے کو راہ دینی ہوگی تو شاید  رائے عامہ ہموار ہوسکے۔  

افغانستان بنتا ہند ستان

پوری دنیا میں افغانستان کو صرف اس لیے بدنام کیا جارہا ہے کیونکہ افغانستان میں موجود مذہبی گروپ اپنی شناخت او ر تہذیب پر قائم رہنے کے لیے عوام کو نئی تہذہب اور اس کی خامیوں سے دور رہنے کے لیے اپنے اپنے طور طاقت کا استعمال کرکے لوگوں کو قدیمی روایات پر قائم رہنے کی باتیں کرتے ہیں ۔مگر کون سی روایت اور کونسی تہذیب کو اپنایا جائے ؟اس کا میعار کیا ہو؟ کون سا پیمانہ ہو ! اس پر اجتماعی رائے کبھی نہیں بن سکی اس لیے تہذیبی تصادم ہوتے رہے اور ایک دن یہ بھی آیا کہ لوگ اسے طالبانی فرمان کے نام سے جاننے لگے۔عالمی میڈیا نے بھی طالبان کے انہیں منفی پہلوؤں کو طرح طرح سے اجگر کر کے انہیں بدنام کرنے میٕ کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔طالبانی تحریک کے نام پر   میڈیا میں جو بھی کلپینگس Clippings)  )دکھائی گیئیں وہ تقریبا ایک ہی جیس تھیں۔لیکن اتنی بات ضرورہے کہ انھوں نے اپنی عسکری قوت سے اپنے نظام کو لاگو کرنے کی پوری کوشش کی اور دنیا میں بدنام ہوئے ۔

 

          ہندستان بھی تقریبا اسی راہ پر چل رہا ہے ۔ہندستانی حکومت غیر ملکی تشدد اور دہشت گردی پر خوب چیختی چلاتی ہے مگر خود اپنے ملک میں جب مذہبی تشدد سر چڑھ کر بولتا ہے تو حکومت بالکل اسی طرح سے ان ہندو دہشت پسندوں اور تشدد پسند جماعتوں سے خوفزدہ رہتی ہے جیسے پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں۔پاکستان نے ایک عرصے تک وہاں کی شدت پسند تنظیموں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج پاکستانی حکومت ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے ۔ تقریبا یہی صورت حال ہندستان کا ہوتا جارہاہے۔ افغنستان میں ایک زمانے میں مذہب کے نام پر جو تشدد موجود تھا اب وہ ہندستا ن میں دیکھنے کو مل رہاہے ۔ ہندستان میں مذہب کے نام پر اور ہندستانی تہذیب و ثقافت کے نام پر ان کی جانب سے جو تشدد ہو رہا ہے ان کو ہندستان نے ہمیشہ نظر انداز کیا لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہے ہے تو فکر دامن گیر ہے۔ لیکن یہ فکر بھی حکومت کو عملی اقدامات کی طرف مائل نہیں کر رہی ہے۔اگر یہ رویہ رہاتو ہندستان کو بھی افغانستان بننے میں بہت دن نہیں لگیں گے۔

 

شیوسینا، رام سینا ،نو نرمان سینا، بجرنگ دل،ودیارتھی پریشد جیسی سخت گیر سیاسی اور نیم سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں نے ہندستانی تہذیب کا جو تصور پیش کیا ہے وہ ہامرے ملک کے کسی ادارے نے نہیں بنایا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی پیمانہ اور میعار ہے ۔ یہ تو ان کی خود ساختہ ہندستانی تہذیب ہے جس کی حمایت کرنے والے صرف اور صرف انہی تنظیموں کے افراد ہیں اور مخالفت میں پورا ہندستان ہے لیکن  ان تنظیموں کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہےکہ جب چاہیں اور جہان چاہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں ،ہندستان کو کوئی قانوں ، اور کوئی آئینی دستو ر آج تک ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکا ہے ۔اسی لیے ان کا حوصلہ دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے حد تو یہ ہے کہ ان کے خلاف بولنے والوں کوہی پولیس اور کورٹ کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔جنوری میں منگلور میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا جو واقعہ سامنے آیا وہ ابھی ذہنوں میں تازہ ہے۔پب میں اپنے دوستوں کے ساتھ رقص و سرود میں محولڑکے اور لڑکیوں کو جس طرح دوڑا دوڑ اکر رام سینا کے لوگوں نے مارا پیٹا اور ان کو بے عزت کیا ،اس پر مرکزی وزیر رینکا چوہدری نے انھیں ہندو طالبان کہا ،نہ صرف انھوں نے بلکہ الیکٹرانک میڈیا نے بھی انھیں ہندستانی طالبان کہا ۔اب صورت حال یہ ہےکہ ان پر ایف آئی آر درج کرایا گیا ہے کہ انھوں نے یہ قابل مذمت لفظ ان کے لیے کیوں استعمال کیا۔ان کے اس عمل سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی طاقتیں روز بروز کتنی بڑھتی جارہی ہیں اور اگر ایسا ہی رہا تو مسقتبل میں کیا ہوگا ؟ کیا اس کا امکان موجود نہیں کہ رفتہ رفتہ یہ بھی افغانستان کے طالبان کی طرح مضبوط ہوتے جائیں گے اور پورا معاشرہ ان کے خوف وہراس میں رہے گا،اور کیا اس طرح  کی سخت گیر ہند تنظیمیں ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ نہیں بنتی جارہی ہیں ۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر حکومت ہند کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

 

          14 فروری کو ملک بھر میں رام سینا ، شیو سینا ،بجرنگ دل جسی سخت گیر کہندو تنظیموں نے اس کے خلاف طوفان بدتمیزی۔ لیکن صرف یہی نہیں ہیں بلکہ کشمیر میں ڈختران ملت تنظیم کے کارکنوں نے ریستورانوں پر دھاوا بول کر ’عشقیہ ملاقاتوں‘ کے خلاف نوجوان جوڑوں کی سرزنش کی۔ ملک میں قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی یہ واردتیں کسی بھی طرح درست نہیں کیونکہ یہسب رویے ہندستان کو افغانستان میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہیں ۔